In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ

تصنیف انجینئرمحمود مجیب اصغر۔ شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

اشاعت اسلام اور نومبایعین کی تعلیم وتربیت

شام کی فتح کے بعد شام کے باشندوں کو مسلمانوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوکر وہ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے۔ کسی ایک شخص کو بھی زبردستی مسلمان نہیں بنایا گیا۔

میں نے اس امر کا بھی خیال رکھاکہ اسلام کی اشاعت کے ساتھ ساتھ نومبایعین کی تعلیم و تربیت بھی ہوتی رہے۔

چنانچہ مفتوحہ شہروں میں درس قائم ہوئے جن میں نومبایعین کو قرآن کریم کی تعلیم دینے اور فقہ کے مسائل حل کرنے کا انتظام کیا گیا۔

عام الرّمادہ

سنہ18ھ میں مدینہ میں سخت قحط پھوٹ پڑا۔ یہ حضرت عمرؓ کی خلافت کا پانچواں سال تھا۔ حضرت عمرؓ نے بڑی حکمت سے اقدام کئے میں غلے سے لدے ہوئے چار ہزار اونٹ لے کر دربار خلافت میں جا حاضر ہوا۔ حضرت عمرؓ نے خوشنودی کا اظہار فرمایا۔

حضرت عمرؓ کی اپنی یہ حالت تھی کہ خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھانا کھلاتے تھے حتیٰ کہ یہ مصیبت ٹل گئی۔

طاعون عمواس

محرم سنہ 18ھ (مطابق جنوری 639ء) میں عمواس کے مقام پر طاعون کی وبا پھوٹ پڑی۔ عمواس فلسطین کا ایک قصبہ تھا۔ شام اور فلسطین کے علاقے اس کی زد میں آگئے۔

حضرت عمرؓ کو بہت تشویش ہوئی۔ وہ بذات خود شام تشریف لائے تا کہ مشورہ کرکے اس وبا سے بچنے کے لئے کوئی اقدامات کریں۔ آپ مقام سُرع پرپہنچے۔ ادھر وبا کا زور بڑھتا جا رہا تھا۔ آپ کو صحابہؓ نے واپس مدینے چلے جانے کا مشورہ دیا۔

حضرت عمرؓ نے مجھے طاعون زدہ علاقے کو چھوڑ کر مدینہ آنے کی اجازت دے دی لیکن میں نے اپنی افواج کے ساتھ ہی رہنا پسند کیا۔ مدینہ پہنچ کر آپ نے مجھے لشکر کو کسی کھلی فضا میں لے جانے کا ارشاد فرمایا۔ چنانچہ میں لشکر اسلام کو لے کر جابیہ کے مقام پر منتقل ہوگیا۔

"امین الامت" حضرت ابوعبیدہؓ بن الجراح کی وفات اور کردار

بچو!ابھی آپ نے امین الامت حضرت ابوعبیدہؓ بن الجراح کی آپ بیتی سنی۔ اب ہم ان کی وفات اور سیرت و کردار کے بارے میں آپ کو بتائیں گے۔ اگرچہ حضرت ابوعبیدہؓ بن الجراح اسلامی فوج کو لے کر جابیہ چلے آئے تھے لیکن وہ وبا جو عمواس سے شروع ہوئی تھی اس نے جابیہ تک ان کا پیچھا کیا۔ غالباً جتنا کام حضرت ابوعبیدہؓ بن الجراح اوران ابتدائی جاں نثارصحابہؓ رسول اللہﷺ کے مقدر میں تھا وہ احسن رنگ میں سرانجام پاچکا تھا اور اب ان کی واپسی کاوقت آگیا تھا۔

چنانچہ اسی بیماری کی زد میں آکر حضرت ابوعبیدہؓ بن الجراح کا سرزمین شام میں سنہ 18ھ (مطابق 638ء یا 639ء) میں انتقال ہوگیا اور انہیں شہادت کا رتبہ نصیب ہوا۔ وفات کے وقت ان کی عمر اٹھاون برس تھی۔ حضرت معاذؓ بن جبل نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور یوں گویا ہوئے:۔

"آج ہم میں سے ایک ایسا شخص اُٹھ گیا ہے جس سے زیادہ صاف دل، زیادہ بے کینہ، سیرچشم اور خلق خدا کے لئے زیادہ خیرخواہ خدا کی قسم! میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ آپ سب اس کے لئے رحم اور مغفرت کی دعا کریں۔" (اصابہ)

حضر ت ابوعبیدہؓ کے علاوہ اسلامی فوج کے ابتدائی سپہ سالاروں میں سے شُرَحْبیلؓ بن حسنہ، یزیدؓ بن ابی سفیان اورضرارؓ بن الازور بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ حضرت خالد بن ولید پہلے ہی فوج سے فارغ ہوچکے تھے۔ اس لئے اسلامی افواج کی قیادت عمروؓ بن العاص نے سنبھال لی۔ انہوں نے افواج کو شام اور فلسطین کی پہاڑیوں میں منتشر کردیا تا ہم اس وبا کے دوران 25ہزار مسلمان اس دارفانی سے رحلت کر گئے۔ تاہم ان میں سب سے زیادہ خوبیوں کے مالک حضرت ابوعبیدہؓ بن الجراح تھے۔

٭٭٭٭٭ ختم شد ٭٭٭٭٭
اگلا صفحہ
صفحہ نمبر: 17 (کل صفحات: 17)