سوانح
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
تصنیف
سید مبشر احمد ایاز
شائع کردہ: مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
دیباچہ
"میں عمر میں بہت چھوٹا ہوں ، میری آنکھیں بیماری کی وجہ سے دکھتی ہیں ۔ میری ٹانگیں دبلی پتلی ہیں مگر میں آپ کا ساتھ دینے کا وعدہ کرتا ہوں ۔ میں آپؐ کے کام میں آپ کی مدد کرتا ہوں "۔
یہ الفاظ تھے اس گیارہ سالہ بچے کے جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت کہے جب حضورؐ نے اپنے رشتہ داروں کو جمع کر کے انہیں اسلام کا پیغام پہنچایا۔ لیکن کسی نے بھی آپ کی حمایت نہیں کی، سوائے اس ایک دبلی پتلی ٹانگوں والے کمزور اور معصوم بچے کے۔ یہ بچہ کون تھا؟ یہ حضرت علی تھے رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جو شجاعت و جوانمردی میں ضرب المثل بنے اور “اسد اللہ” لقب پا کر شیرِ خدا کہلائے۔
میدان جنگ میں سب بہادروں سے بہادر اور شیروں کی طرح تلوار ہاتھ میں لے کر شمشیر و سنان کے حیرت انگیز کرشمے دکھائے۔ خدا کے آگے سرجھکایا تو زُہد و عبادت کا تاج سر پر سجایا۔
لوگوں سے کلام کرنے لگے تو فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دیئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب اور پیاروں میں سے ایک یہ حضرت علیؓ ہی تھے کہ جن کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی کہ اللّٰھُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاھُ وَعَادِ مَنْ عَادَاھُکہ اے میرے خدایا! تو ہر اُس شخص کو دوست بنانا جس کو علیؓ دوست بنائے اور ہر اُس شخص سے دشمنی رکھنا جو علی کا دشمن ہو۔
آسمانِ ہدایت کے یہ روشن ستارے ہی ہمارے ہیرو اور آئیڈیل ہیں ۔ ان کی سیرت و سوانح کا مطالعہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔
اللہ کرے کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ان کے ازدیادِ ایمان کا باعث ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہؓ سے پیار اور محبت میں اضافہ کا باعث بھی بنے۔ آمین
خاکسار
سیدمحموداحمد
صدرمجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
