حلیہ
قد میانہ، رنگ گندم گوں ، آنکھیں بڑی بڑی ، چہرہ پر رونق و خوبصورت ، سینہ چوڑا،بازو اور تمام بدن گٹھا ہوا، پیٹ بڑا اور نکلا ہوا۔ سر پربال بہت کم تھے اور شاید تمام عمر میں ایک مرتبہ بالوں میں مہندی کا خضاب کیا تھا۔
ازواج واولاد
حضرت فاطمۃؓ الزہرا کے بعد حضرت علیؓ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں اور ان سے بکثرت اولاد ہوئی۔ تفصیل حسب ذیل ہے۔
حضرت فاطمہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں ۔ ان سے بیٹوں میں حسنؓ حسینؓ محسنؓ اور لڑکیوں میں زینب کبریٰ اور اُمّ کلثوم کبرٰی پیدا ہوئیں ۔ محسن نے بچپن ہی میں وفات پائی۔
اُمّ النبین بنت حزام: ان سے عباس ، جعفر،عبداللہ،اور عثمان پیدا ہوئے۔ ان میں سے عباس کے علاوہ سب حضرت امام حسینؓ کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے۔
لیلیٰ بنت مسعود: انہوں نے عبیداللہ اور ابو بکر کو یاد گار چھوڑا۔ لیکن ایک روایت کے مطابق یہ دونوں بھی حضرت امام حسین ؓ کے ساتھ شہید ہوئے۔
اسماء بنت عمیس: ان سے یحییٰ اور محمد اصغر پیدا ہوئے۔
صہبا یااُمّ حبیب بنت ربیعہ: یہ اُمّ ولد تھیں ان سے عمر اور رقیہ پیدا ہوئیں ۔ عمر نے تقریباً پچاس برس کی عمر میں ینبوع میں وفات پائی۔
امامہ بنت ابی العاص: یہ حضرت زینب کی صاحبزادی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی تھیں ۔ ان سے محمد اوسط تو لّد ہوئے۔
خولہ بنت جعفر: محمد بن علی جو محمد بن حنیفہ کے نام سے مشہور ہیں ان ہی کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔
اُم سعید بنت عروہ: ان سے اُمّ الحسن اور رملہ کبریٰ پیدا ہوئیں ۔
محیاۃ بنت امراء القیس: ان سے ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی مگر بچپن ہی میں قضا کر گئی۔
متذ کرہ بالا بیویوں کے علاوہ لونڈیاں بھی تھیں اور ان سے حسب ذیل لڑکیاں پیدا ہوئی۔
اُمّ ہانی، میمونہ، زینب صغرٰی، رملہ صغرٰی، اُمّ کلثوم صغرٰی، فاطمہ، امامہ ،خدیجہ اُمّ الکرام، اُمّ سلمہ، اُمّ جعفر، جمانہ، نفیسہ۔
غرض حضرت علیؓ کے سترہ لڑکیاں اور چودہ لڑکے تھے۔ ان میں سے جن سے سلسلہ نسل جاری رہا۔ ان کے نام یہ ہیں ۔
امام حسنؓ ،امام حسینؓ،محمدؓ بن حنفیہ، عمرؓ۔
