سوانح
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
تصنیف
محمودمجیب اصغر
شائع کردہ: مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
تصنیف
محمودمجیب اصغر
شائع کردہ: مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
دیباچہ
حدیبیہ کے مقام پر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے بیعت لی، جسے بیعتِرضوان کہا جاتا ہے، تو ایک سعادت جو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حصہ میں آئی وہ قابلِ رشک اور فخر تھی۔ جب سب صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرچکے تھے، وہ بیعت جس کے بارے میں قرآن کریم میں آیا ہے کہ لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤمِنِیْنَ اِذْیُبَا یِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ۔۔۔
اور وہ ہاتھ جس کے بارے میں فرمایا ‘‘یَدُاللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْہِمْ’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کے بارے میں فرمایا کہ یہ عثمانؓ کا ہاتھ ہے اور دوسرے ہاتھ کو اس کے اوپر رکھتے ہوئے حضرت عثمانؓ کو بھی اس عظیم الشان سعادت میں ایک قابلِ رشک طریق کے ساتھ شامل فرمایا۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جو عرب کے مالدار لوگوں میں سے ایک تھے اورجنہوں نے اسلام کی راہ میں بے دریغ اپنے اموال کو خرچ کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی ان کے ساتھ بیاہی ہوئی تھیں، ان کے انتقال کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری بیٹی کی شادی بھی حضرت عثمانؓ سے کردی جس کی وجہ سے ‘‘ذوالنورین’’ یعنی دو نوروں والا لقب ملا اور جب یہ بھی فوت ہوگئیں تو فرمایا کہ اگر میری اور بیٹی بھی ہوتی تو میں عثمانؓ سے اس کو بیاہ دیتا۔
خداتعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب، تیسرے خلیفۂ راشد، حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت و سوانح آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اخلاق و احسان کے رنگ سے ہماری زندگیوں کو بھی رنگین فرمادے۔ آمین
خاکسار
سیدمحموداحمد
صدرمجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
