In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سوانح حضرت عثمان غنی ؓ

تصنیف انجینئرمحمود مجیب اصغر۔ شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

دعوت الی اللہ اور تعلیم وتربیت

فتوحات کے نتیجہ میں اسلامی ریاست میں غیر معمولی وسعت پیدا ہوگئی تھی۔ حضرت عثمانؓ نے پہلے خلفاء کی طرح دعوت الی اللہ کے کاموں میں اور اسلام میں داخل ہونے والے نئے لوگوں کی تعلیم وتربیت کے لیے کئی انتظامات کیے۔ ان کاموں میں نئی مساجد کی تعمیر اور درس و تدریس کا کام بطورخاص شامل ہے۔ جو جو منصوبے اشاعت دین حق اور مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے حضرت عمرؓ نے جاری فرمائے آپ نے ان کو آگے بڑھایا۔

مساجد کی تعمیر کے بعد ان میں آئمہ اور مؤذن مقرر فرمائے کیونکہ تعلیم وتربیت کا بہترین ذریعہ مسجد کو ہی سمجھا جاتا تھا جہاں با جماعت نمازوں کے ساتھ ساتھ درس وتدریس کا سلسلہ جاری تھا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہؓ مفتوحہ علاقوں میں آبادہوگئے۔ صوبوں کے اکثر حاکم صحابہؓ اور ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے اور قرآن و حدیث کے درس کا وہی اہتمام کرتے تھے۔ چنانچہ خادم رسولؐ حضرت انسؓ بصرہ میں آباد تھے۔ وہ قرآن اور حدیث کا درس دیا کرتے تھے جنہیں بڑی کثرت سے لوگ سنتے تھے اور تربیت حاصل کرتے تھے۔

حضرت عثمانؓ نے سارے عالم اسلام میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی کی طرف خاص توجہ دلائی اور نماز جمعہ سے پہلے دوسری اذان آپ کے زمانہ میں شروع ہوئی تاکہ لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا جاسکے کہ خطبہ شروع ہو چکا ہے۔ حج کے موقع پر تمام صوبوں سے لوگ بڑی کثرت سے شامل ہوتے تھے۔ حضرت عثما نؓ کاخطبہ سنتے تھے اور آپ سے شرف ملاقات حاصل کرتے تھے۔ مدینہ اور مسجد نبویؐ تعلیم وتربیت کے سب سے بڑے مراکز تھے جہاں دین سکھانے کا باقاعدہ انتظام تھا۔

غرض یہ کہ ہر صوبے میں دعوت الی اللہ اور تعلیم و تربیت کا کام جاری رہا۔ شریعت کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا ملتی تھی۔ تمام مذاہب کو آزادی حاصل تھی اور انہیں اپنے طریقے کے مطابق عبادت کی بھی مکمل آزادی حاصل تھی۔

اشاعت قرآن

قرآن کریم جب پورا نازل ہو چکا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق اس کی ترتیب فرمائی۔ حضرت ابوبکر خلیفہ ہوئے تو انھوں نے قرآن کریم کی وحی کو جو مختلف کاتبوں نے لکھی تھی اور مختلف رسم الحظ میں تھی اکٹھا کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی ترتیب کے مطابق کر کے محفوظ کردیا۔

پیارے بچو! عرب قبائل کے مختلف لہجے تھے جس میں ایک ہی لفظ کو مختلف طریق سے ادا کیا جاتا ہے۔ شروع میں قرآن شریف نازل ہواتو ان مختلف لہجوں میں اسے پڑھنے کی اجازت تھی۔ حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں جب قرآن شریف کے نسخے ساری دنیا میں بھجوانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو حضرت عثمانؓ نے اختلافات کے اندیشہ سے یہ فیصلہ فرمایا کہ ا ن نسخوں کو ایک لہجے پر لکھا جائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کا لہجہ تھا۔ چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور ایسے نسخے تیار کروا کر عالم اسلام میں بھجوا دیئے۔ آپ کی یہ خدمت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

مسجد نبویؐ کا پختہ کروانا

ابھی تک مسجد نبویؐ کا فرش کچا تھا اور چھت کھجور کی شاخوں اور لکڑی سے بنی ہوئی تھی۔ بارش کے ایام میں چھت ٹپکتی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں حضرت عثمانؓ نے مسجد نبویؐ کے ملحقہ مکانوں کو خرید کر مسجد نبویؐ کی توسیع کرنے کی نمایاں خدمت کی تھی۔ اپنی خلافت کے دوران آپ نے اپنے پاس سے پیسہ خرچ کر کے مسجد کا فرش، دیواریں اور چھت پختہ کروائی۔

تعمیرات کے منصوبے

حضرت عثمانؓ کے دور خلافت میں کئی نئی تعمیرات ہوئیں۔ وسیع تعمیرات کے منصوبے بنے اور رفاہ عامہ کے کام ہوئے۔ حضرت عثمانؓ نے کئی پبلک عمارات بنوائیں۔ سڑکیں، پل، مسافرخانے اور سرائیں تعمیر ہوئیں۔ کوفہ کی سرائے کو وسیع کیا گیا۔ مدینہ اور نجدکی راہ میں نئی سرائیں بنوائی گئیں۔ راستوں پر میٹھے پانی کے کنویں کھدوائے گئے۔ مرکز اسلام مدینہ کو سیلاب سے بچانے کے لیے ایک بند بنوایا گیا۔ ایک برساتی نہر کھود کر اس کا رخ تبدیل کیا گیا۔ ہرصوبے کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تعمیرات کے منصوبے بنائے گئے۔ غرض یہ کہ حضرت عثمانؓ کے دور خلافت میں ہر طرح سے وسعت پیدا ہوئی۔ آپ ذاتی دلچسپی لے کرا ن منصوبوں کو مکمل کروایا کرتے تھے۔ آپ کے عہد میں جو علاقے فتح ہوئے تھے ان میں فوجی چھاؤنیاں تعمیر کی گئیں۔ اسی طرح قومی چراگاہوں میں بھی اضافہ کیا گیا اور لوگوں کو پہلے کی نسبت زیادہ سہولتیں میسر آنے لگیں۔

صفحہ نمبر: 19 (کل صفحات: 21)