حضرت عثمانؓ کی سیرت کے چندپہلو
تعلق باللہ
حضرت عثمانؓ نہایت متقی، پرہیز گار اور متوکل انسان تھے۔ آپ کی ساری عمر خدمت اسلام اور عبادات بجا لانے میں گزری۔ بعض اوقات ساری ساری رات آپ سجدہ میں گرے رہتے تھے اور اللہ سے رازو نیاز کرتے رہتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہادت کی خبر پہلے ہی دے دی تھی۔ آپ کی خوش خلقی، چہرے پر مسکراہٹ اور خوبصورتی بھی تعلق با للہ کے نتیجے میں تھی۔
نماز جمعہ کا آپ خاص اہتمام فرماتے تھے۔ روزے آخری عمر تک رکھتے رہے۔ حج باقاعدگی سے ادا کرتے اور زکوٰۃ ادا فرماتے۔
محبت رسولؐ
آپ ان خاص صحابہؓ میں سے تھے جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطور خاص محبت تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مرتبہ اپنی زندگی میں آپ سے راضی ہونے کا اظہار فرمایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیا ں یکے بعد دیگرے آپ کے نکاح میں آئیں اور آ پ کو ذوالنورین کا خطاب ملا۔ آپ نے اپنی عملی زندگی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر خواہش کو پورا کر کے دکھادیا۔ چنانچہ مسجد نبویؐ کی وسعت، بئر رومہ کی خریداری اور غزوہ تبوک پر خاص قربانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشق ومحبت کا ہی نتیجہ تھا۔
جب آپ کے گھر کا محاصرہ کیا گیا اور چند صحابہؓ اور ان کے بچوں نے آپ کی جان بچانا چاہی تو آپ نے سب کوغیر مسلح رہنے اور گھروں کو جانے کی ہدایت فرمائی کیونکہ آپ کوخواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بشارت دے چکے تھے کہ آج شام روزہ ہمارے ہاں افطار کرنا اور اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے درمیان کسی چیز کو حائل نہ ہونے دیا۔
عشق قر آن
حضرت عثمانؓ قر آن کریم کے سچے عاشق تھے۔ تلاوت قر آن کریم میں کثیر وقت صرف کر دیتے تھے۔ آپ کی سب سے بڑی خدمت اشاعت قرآن ہے جو آپ نے اپنی خلافت کے دوران سر انجام دی۔
آپ قرآن کریم کے ابتدائی اور بہترین حفاظ میں سے تھے۔ لکھا ہے کہ صحابہؓ میں کتاب اللہ کا حافظ آپ سے بہتر کوئی نہیں تھا۔
جودو سخا
خدمت دین اور خدا تعالیٰ کی مخلوق کے لیے آپ نے بہت مال خرچ کیا۔ کبھی کوئی سائل آپ کے دروازے سے خالی نہیں پھرا۔ ساری عمر خدا کے بندوں کے لیے بھی بے دریغ خرچ کیا۔ جب مدینہ میں قحط پڑا توآپ نے اپنے خرچ پر ایک عام لنگر جاری فرمایا جہاں سے ہزاروں لوگ مہینوں تک سہولت سے کھانا حاصل کرتے رہے۔ آپ جب حج کو جاتے تو آٹھویں تاریخ کو منیٰ میں حجاج کو اپنی طرف سے کھا نا کھلایا کرتے تھے۔
صبرو تحمل
ابتدا سے آپ میں بے حد صبرو تحمل تھا اور بردباری تھی اور طبیعت میں سادگی اور خوش اخلاقی تھی۔ اسلام لانے کے بعد آپ نے صبر اور استقامت سے مصائب کو برداشت کیا اور خاص طور پر آپ کے عہد خلافت کے آخری سالوں میں جس فتنہ نے سر اٹھایا اس میں تو آپ نے صبرو تحمل کی حد کردی۔ فتنہ کے انسداد کے لیے جب آپ کو بعض لوگوں نے سختی کرنے کا مشورہ دیا تو آپ نے فرمایا “جن امور میں شریعت نے مجھے کسی پر سختی کرنے کی اجازت نہیں دی ان پر ہرگز سختی کو روا نہیں رکھوں گا۔ خواہ اس میں میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔’’
آپ پر جھوٹ کے الزامات لگائے گئے۔ آپ کو نماز پڑھانے سے روک دیا گیا۔ آپ کاعصا جو دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھااور ہر خلیفہ کے ہاتھ میں رہا توڑ دیا گیا۔ گھر کا محاصرہ کر لیا گیا۔ کھانے پینے کی چیزیں گھر آنے سے روک دی گئیں اور گھر کو آگ لگا کر نوبت آپ کو قتل کرنے تک پہنچ گئی۔ آپ نے نہ صرف خود انتہائی صبروتحمل سے کام لیا بلکہ صحابہؓ کو بھی قسم دے کر واپس بھجوا دیا کہ ان باغیوں کا مقابلہ صبر سے کیا جائے اور اپنا معاملہ پورے طور پر خدا کے سپرد کر دیا اور بڑی ہی بہادری اور جرأت سے جام شہادت نوش فرمایا۔
حیا
حضرت عثمانؓ کی طبیعت میں حیا بہت تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے احساسات کا پورا خیال رکھتے تھے۔ روایتوں میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ لیٹے ہوئے تھے کہ حضرت ابو بکرؓ تشریف لائے اور آنحضرتؐ اسی طرح لیٹے رہے۔ پھر حضرت عمرؓ تشریف لائے تب بھی حضورؐ اسی طرح لیٹے رہے۔ پھر حضرت عثمانؓ تشریف لائے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جھٹ اپنے کپڑے سمیٹ کر درست کر لیے اور فرمایا کہ عثمان کی طبیعت میں حیا بہت ہے اس لیے میں اس کے جذبات کا خیال کر کے ایسا کرتا ہوں۔
یتیموں اور بیوگان کی خبر گیری
آپ بہت رحمدل اور نرم مزاج تھے۔ ساری عمر یتامیٰ اور بیوگان اور غریبوں کی دل کھول کر مددکر تے رہے۔ آخری وقت بھی آپ کے پاس یتامیٰ اور بیوگان کی امانتیں تھیں جو آپ نے ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کے سپرد کیں۔ اپنی جان سے بھی زیادہ آپ کو ان امانتوں کا فکر تھا۔
آپ ہر جمعہ ایک غلام آزاد کرتے تھے اور مدینہ کی ہر گلی میں آپ کا آزاد کردہ غلام چلتا پھرتا نظر آتا تھا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت مال ودولت عطا فرمایا لیکن آپ نے اس کا اکثر حصہ دین کے کاموں، یتامیٰ، بیوگان اور غریبوں کی خبر گیری میں خرچ کر دیا۔
بچو! ابھی آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کہانی سنی۔ انسان حیران ہوتا ہے کہ کس طرح آپ نے اسلام کی سر بلندی، اشاعت قرآن اور خلافت کے قیام کے لیے اپنا مال، جان، وقت اور عزت سب کچھ قربان کر دیا۔ بڑی وفا کے ساتھ اللہ کے کاموں میں لگے رہے اور فتنو ں کے وقت باوجود طاقت اور قدرت کے بدی کامقابلہ نہ کیا اور امن کا شہزادہ بن کر صبرکا ایسا نمونہ دکھایا کہ آنے والی نسلیں قیامت تک آپ کے پاک نمونہ سے سبق حاصل کرتی رہیں گی اور آپ پر درودو سلام بھیجتی رہیں گی۔ انشاء اللہ۔
