In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سیرۃو سوانح حضرت عمرؓ

تصنیف منصوراحمدنورالدین۔ شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

خطرناک وبا کا پھیلنا

؁ 17 ھ میں شام، مصر اورعراق کے علاقوں میں نہایت ہی خوفناک اور جان لیوا بیماری پھیلی جس نے تھوڑے ہی عرصہ میں کثیر تعداد میں لوگوں کو راہیٔ ملک عدم بنا دیا۔ حضرت عمرؓکو جب یہ خبر پہنچی تو اس کی تدبیر اور انتظام کے لئے خود روانہ ہوئے سرغ مقام پر پہنچ کرسپہ سالار حضرت ابو عبیدہؓ بن الجراح سے معلوم ہوا کہ بیماری کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے۔ مہاجرین وانصارکو بلایا اور رائے طلب کی مہاجرین نے یک زبان ہوکر کہا کہ آپ کا یہاں ٹھرنا مناسب نہیں ۔ حضرت عمرؓنے حضرت عباسؓ کو حکم دیا کہ پکار دے دیں کہ کل کوچ کے لئے تیار رہیں ۔ حضرت ابو عبیدہ ؓ چونکہ تقدیر کے مسئلہ پر نہایت سختی سے اعتقادرکھتے تھے اس لئے کہا کہ ’’اَفَرَارًا مِن قَدَرِ اﷲ‘‘۔

’’کیا آپ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بھاگتے ہیں ‘‘۔

حضرت عمرؓ نے جواب دیا۔ ’’نَعَمْ اَفِرُّمِنْ قَضَائِ اﷲِ اِلیٰ قَضَائِ اﷲِ‘‘۔

’’ہاں تقدیر الٰہی سے بھاگتا ہوں مگر بھاگتا بھی تقدیر الٰہی کی طرف ہوں ‘‘۔

مسلمانوں نے جابیہ میں جا کر قیام کیا۔ جو آب و ہوا کی خوبی میں مشہور تھا۔ جابیہ پہنچ کر ابو عبیدہ بیمار پڑے جب زیادہ شدت ہوئی تو لوگوں کو جمع کیا اور نہایت پر اثر الفاظ میں وصیت کی۔ معاذ بن جبل کو اپنا جانشین مقرر کیا اور چونکہ نماز کا وقت آ چکا تھا حکم دیا کہ وہی نماز پڑھائیں ۔ ادھر نماز ختم ہوئی ادھر انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ بیماری اسی طرح زوروں پر تھی اور فوج میں انتشار پھیلا ہوا تھا۔ دوسری طرف حضرت معاذؓ نے اپنے بیٹے کو بیمار پایا تو نہایت استقلال کے ساتھ کہا اے فرزند دیکھ یہ خدا کی طرف سے ہے، دیکھ شبہ میں نہ پڑنا۔ بیٹے نے جواب دیا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے یہ کہہ کر انتقال کیا۔ معاذ بیٹے کو دفنا کر آئے تو خود بیمار پڑے۔ عمروؓ بن العاص کو جانشین مقرر کیا اور اس خیال سے کہ زندگی خدا کے قرب کا حجاب تھی بڑے اطمینان اور مسرت سے جان دی۔

حضرت معاذؓ کی وفات کے بعد عمرو بن العاص نے مجمع عام میں خطبہ پڑھا اور کہا کہ وبا جب شروع ہوتی ہے تو آگ کی طرح پھیل جاتی ہے اس لئے تمام فوج کو یہاں سے اٹھ کر پہاڑوں پر جا رہنا چاہئے۔ فوج حضرت عمروؓ بن العاص کے حکم کے مطابق اِدھر اُدھر پہاڑوں پر پھیل گئی اور وبا کا خطرہ جاتا رہا لیکن یہ تدبیر اس وقت عمل میں آئی کہ 25 ہزار مسلمان جو آدھی دنیا کے فتح کرنے کے لئے کافی ہو سکتے تھے۔ موت کے مہمان ہو چکے تھے۔ ان میں ابوعبیدہ، معاذ بن جبل، یزید بن ابی سفیان، حارث بن ہشام، سہیل بن عمروؓ، عتبہ بن سہیل بڑے درجے کے لوگ تھے۔

حضرت عمرؓ کو ان حالات سے اِطلاع ہوتی رہتی تھی اور مناسب احکام بھیجتے رہتے تھے۔ یزید بن ابی سفیان اور معاذ کے مرنے کی خبر آئی تو معاویہ کو دمشق کا اور شرجیل کو اردن کا حاکم مقرر کیا۔ اس قیامت خیز وبا کی وجہ سے فتوحات اسلام کا سیلاب دفعتہ رک گیا۔ حضرت عمرؓ نے اِن حالات سے مطلع ہو کر شام کا قصد کیا۔ حضرت علیؓ کو مدینہ میں اپنا قائم مقام مقرر فرمایا اور خود ایلہ کو روانہ ہوئے۔ یرفا ان کا غلام اور بہت سے صحابہ ساتھ تھے ایلہ کے قریب پہنچے تو کسی مصلحت سے اپنی سواری غلام کو دی اور خود اس کے اونٹ پر سوار ہو لئے۔ راہ میں جو لوگ دیکھتے پوچھتے تھے کہ امیر المومنینؓ کہاں ہیں ۔ فرماتے کہ تمہارے آگے۔ اسی حیثیت سے ایلہ میں آئے اور یہاں دو ایک روز قیام کیا۔ کرتہ جو زیب بدن تھا کجاوے کی رگڑ کھا کر پیچھے سے پھٹ گیا تھا ایلہ کے پادری کے حوالہ کیا اس نے خود اپنے ہاتھ سے پیوند لگائے اور اس کے ساتھ ایک نیا کرتہ تیار کر کے پیش کیا۔ حضرت عمرؓ نے اپنا کرتہ پہن لیا اور کہا اس میں پسینہ خوب جذب ہوتا ہے۔ ایلہ سے دمشق آئے اور شام کے اکثر اضلاع میں دو دو چار چار دن قیام کر کے مناسب انتظام کئے۔ فوج کی تنخواہیں تقسیم کیں ۔ جو لوگ وبا میں ہلاک ہو گئے تھے ان کے دور و نزدیک کے وارثوں کو بلا کر ان کی میراث دلائی۔ سرحدی مقامات پر فوجی چھاؤنیاں قائم کیں ۔

صفحہ نمبر: 19 (کل صفحات: 25)