حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
آپ کا نام عمرؓ تھا۔ آپ کا سلسلۂ نسب کچھ یوں ہے۔ عمرؓ بن خطاب بن نفیل۔ اہل عرب عموماً عدنان یا قحطان کی اولاد ہیں ۔ عدنان کی نسل سے حضرت عمرؓ پیدا ہوئے۔ اس طرح حضرت عمرؓ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت میں جا کر حضرت رسول کریمؐ کے ساتھ مل جاتا ہے۔ خانہ کعبہ کی تولیت کا کام جو کہ آپ کے خاندان یعنی قریش سے متعلق تھا۔ اس میں آپ کے آباء صیغہ سفارش کے افسر تھے یعنی قریش کو جب کسی قبیلے کے ساتھ کوئی ملکی معاملہ پیش آتا تو اس کے لئے صیغے کے نگران بن کر جایا کرتے۔
آپ کی والدہ جن کا نام حنتمۃ تھا ہشام بن المغیرہ کی بیٹی تھیں ۔ مغیرہ اس رتبہ کے آدمی تھے کہ جب قریش کسی قبیلہ سے لڑنے کے لئے جاتے تو فوج کا اہتمام کیا کرتے تھے گویا حضرت عمرؓ نجیب الطرفین تھے۔
ولادت
حضرت عمرؓ ہجرت نبوی سے 40 برس قبل پیدا ہوئے یعنی عام الفیل کے 10 سال بعد اس طرح آپ حضرت رسول کریمؐ سے 13 سال عمر میں چھوٹے تھے۔ (طبقات ابن سعد)
بچپن اور جوانی
اس زمانے میں شرفائے عرب جن چیزوں کی تربیت حاصل کرتے ان میں نسب دانی، سپہ گری، شہسواری، پہلوانی اور خطابت تھی۔ حضرت عمرؓ نے ان تمام کاموں میں کمال حاصل کیا۔ فن نسب دانی میں تو آپ کے والد اور دادا نفیل دونوں اپنے زمانے کے معروف ترین نساب تھے۔ اسی طرح حضرت عمرؓ نے اس موروثی فن کو بھی سیکھا۔ حضرت رسول کریمؐ کی بعثت کے وقت فن پہلوانی اور کشتی میں کمال مہارت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ عکاظ کے دنگل میں جہاں سال کے سال میلہ لگتا تھا اور اہل عرب کے تمام معروف ترین اور چوٹی کے اہل فن اپنے فنون کے جوہر دکھایا کرتے تھے۔ اس میلے میں حضرت عمرؓ بھی اپنی پہلوانی اور کشتی کے فن کا مظاہرہ کرتے تھے۔
اسی طرح آپ کو لکھنے پڑھنے کا بھی شغف تھا۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے حضرت رسول کریمؐ کی بعثت کے وقت قریش میں صرف 17 آدمی لکھنا جانتے تھے، ان میں ایک حضرت عمرؓ بن الخطاب تھے۔ (فتوح البلدان بلاذری صفحہ471)
عربوں میں اونٹ چَرانا بھی قومی روایات میں سے تھااور اس کو معیوب نہیں گردانا جاتا تھا۔ حضرت عمرؓ نے بھی اپنے والد کے حکم سے جوانی میں اونٹ چرائے۔ بعد میں خلافت کے زمانے میں ایک مرتبہ جب حضرت عمرؓ کا اس مقام (ضنجان) سے گزر ہوا تو آبدیدہ ہو کر فرمایا کہ ’’اللہ اکبر ایک وہ زمانہ تھا کہ میں نمدہ کا کرتہ پہنے ہوئے اونٹ چرایا کرتے تھا اور تھک کر بیٹھ جاتا تو باپ کے ہاتھ سے مار کھاتا۔ آج یہ دن ہے کہ خدا کے سوا میرے اوپر کوئی حاکم نہیں ‘‘۔ (طبقات ابن سعد)
سلسلۂ تجارت
عربوں میں تجارت کا پیشہ سب سے زیادہ معزز تھا، حضرت عمرؓ نے اسی معزز پیشے کو اختیار کیا اور تجارت کی غرض سے دور دراز ملکوں کا سفر اختیار کیا۔ گو کہ ان اسفار کے حالات پوری طرح تاریخ میں محفوظ نہیں ہیں ۔ لیکن آپ کی تجارتی دلچسپیوں کا ذکر تاریخوں میں ملتا ہے۔ عکاظ کے معرکوں اور تجارتی تجربوں نے آپ کو خود داری، تجربہ کاری، بلند حوصلگی اور معاملہ فہمی میں ماہر بنا دیا۔ انہی اوصاف کی بناء پر آپ کو قریش نے سفارت کے منصب پر مامور کر دیا۔ قبائل میں جب کوئی پر خطر معاملہ پیش آتا تو آپ ہی کو سفیر مقرر کیا جاتا۔
