تواضع
حضرت عمرؓ کی عظمت اور رعب کا یہ عالم تھا کہ قیصر و کسریٰ نام سن کر تھراتے تھے دوسری طرف تواضع کا یہ عالم تھا کہ کاندھے پر مشک رکھ کر بیوہ عورتوں کے لئے پانی بھرتے تھے۔ مجاہدین کی بیویوں کا بازار سے سودا سلف خرید کر لا دیتے تھے۔ پھر اس حالت میں تھک کر مسجد کے گوشہ میں لیٹ جاتے تھے۔
حضرت عمرؓ اکثر سفر پر نکلتے مگر کبھی بھی آپ کے ساتھ خیمہ نہ ہوا کرتا بلکہ درخت کے سایہ تلے زمین کے بستر پر آرام فرمالیا کرتے۔ سفر شام کے موقع پر مسلمانوں نے اس خیال سے کہ عیسائی امیر المومنینؓ کے معمولی لباس اور بے سروسامانی کو دیکھ کر اپنے دل میں کیا کہیں گے؟ سواری کے لئے ترکی گھوڑا اور پہننے کے لئے قیمتی لباس پیش کیا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ خدا نے ہم کو جو عزت دی ہے وہ اسلام کی عزت ہے اور ہمارے لئے یہی کافی ہے۔
ایک مرتبہ صدقہ کے اونٹوں کے بدن پر تیل مل رہے تھے ایک شخص نے کہا امیر المومنینؓ یہ کام کسی غلام سے لیا ہوتا۔ جواب دیا مجھ سے بڑھ کر کون غلام ہو سکتا ہے۔ جو شخص مسلمانوں کا والی ہے وہ ان کا غلام ہے۔ (کنزالعمال)
رحمدلی
18 ھ میں جب عرب میں قحط پڑا تو اس وقت حضرت عمرؓ کی بے قراری قابل دید تھی دور دراز ممالک سے غلہ منگوا کر تقسیم کیا۔ گوشت گھی اور دوسری مرغوب غذائیں اپنی ذات کے لئے ترک کر دیں ۔ (کنزالعمال)
خدمت خلق
حضرت عمرؓ اپنی غیر معمولی مصروفیات میں سے بھی مجبور اور بے کس اور اپاہج آدمیوں کی خدمت گزاری کے لئے وقت نکال لیا کرتے تھے۔ مدینے سے اکثر نابینا اور ضعیف اشخاص حضرت عمرؓ کی خدمت گزاری کے ممنون تھے۔ خلوص کا یہ عالم تھا کہ خود ان لوگوں کو خبر بھی نہ تھی کہ یہ فرشتہ رحمت کون ہے؟ حضرت طلحہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز علی الصبح امیر المومنین کو ایک جھونپڑے میں جاتے دیکھا۔ خیال ہوا حضرت عمرؓ کا یہاں کیا کام؟ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اس میں ایک نابینا ضعیفہ رہتی ہے اور وہ روزانہ اس کی خبرگیری کے لئے جایا کرتے ہیں ۔
اولیات عمرؓ
حضرت عمرؓ نے اپنے 10 سالہ دورِ خلافت میں عوام الناس کی فلاح و بہبود کے لئے بعض ایسے کام جاری کروائے جن کی نظیر پہلے نہیں ملتی اس لئے ان کو مؤرخین اولیات عمرؓ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔
٭ بیت المال یعنی خزانہ قائم کیا۔
٭ عدالتیں قائم کںئ اور قاضی مقرر کئے۔
٭ ہجری سنہ قائم کیا جو آج تک جاری ہے۔
٭ فوجی دفتر ترتیب دیا۔
٭ بیت المال قائم کیا۔
٭ شہروں کی پیمائش کروائی۔
٭ مردم شماری کرائی۔
٭ نہریں کھدوائیں ۔
٭ نئے شہر آباد کرائے یعنی کوفہ، بصرہ، فسطاط، موصل۔
٭ ممالک مقبوضہ کو صوبوں میں تقسیم کیا۔
٭ جیل خانہ قائم کیا۔
٭ راتوں کو گشت کر کے رعایا کے دریافت حال کا طریقہ نکالا۔
٭ پولیس کا محکمہ نکالا۔
٭ فوجی چھاؤنیاں قائم کیں ۔
٭ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ تک مسافروں کے آرام کے لئے مکانات بنوائے۔
٭ مختلف شہروں میں مہمان خانے تعمیر کرائے۔
٭ مکاتب قائم کئے۔
٭ معلموں اور مدرسوں کے روزینے مقرر کئے۔
٭ حضرت ابوبکرؓ کو اصرار کے ساتھ قرآن مجید کی ترتیب پر آمادہ کیا اور اپنے اہتمام سے اس کام کو پورا کیا۔
٭ قیاس کا اصول قائم کیا۔
٭ فجر کی نماز میں الصلوٰۃ خیر من النوم اضافہ کیا۔
٭ نماز تراویح جماعت سے قائم کی۔
٭ شراب کی حد کے لئے اسی کوڑے مقرر کئے۔
