In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » کتبِ سلسلہ » کتب خدام الاحمدیہ پاکستان » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

سوانح حضرت ابو بکرؓ

تصنیف مرزاغلام احمدایم اے، سید مبشراحمد ایاز۔ شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
+ فہرست مضامین

تواضع انکساری

ایک دِن حضرت ابوبکرؓ نے دیکھا ایک پرندہ درخت سے پھل کھا رہا ہے۔ کچھ نیچے گر رہا ہے توفرمایا:۔

"اے پرندے تجھے مبارک ہو توپھل کھاتاہے اور درختوں پربیٹھا ہے کاش میں بھی پھل ہوتا پرندہ آتا اور کھا لیتا۔ اے پرندے! اللہ کی قسم میں پسند کرتا ہوں میں رستہ کے ایک طرف درخت ہوتا وہاں سے اونٹ گزرتا مجھے منہ میں ڈال لیتا اور چبا لیتا"

ایک انگوٹھی بنوائی تو اس پر کندہ کروایا:

"خدائے بزرگ وعظیم کا حقیر غلام"

خلافت کے بعد سب سے پہلی تقریر بھی آپ کی تواضع و انکساری کی دلیل ہے جس میں آپ نے فرمایا:

" اے لوگو میں تمہارا والی بنایا گیا ہوں حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ پس اگر میں درست رہوں تو میری مدد کرنا اور اگر کج ہوجاؤں تو مجھے سیدھا کرنا"۔

خدمتِ خلق

خدا اور اس کے رسول سے بے انتہا محبت کے ساتھ ساتھ بنی نوع کی ہمدردی بھی آپ کی سیرت کا ایک درخشاں پہلو ہے۔

حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ کی ایک نابینا بڑھیا کی خبرگیری کرتا اور اسے پانی بھر کر لا دیتا۔ لیکن جب میں اس کے پاس اس غرض کے لیے جاتا تو مجھ سے پہلے کوئی شخص یہ کام کرکے جاچکا ہوتا۔ ایک دِن اسی ٹوہ میں رہا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ابوبکرؓ ہیں حالانکہ وہ خلیفہ تھے اور میں نے کہا میری عمر کی قسم یہ آپ ہی تھے جو ہر روز مجھ سے سبقت لے جاتے۔

جب آپ خلیفہ ہوئے تو جہاں آپ کی رہائش تھی پڑوس میں ایک یتیم بچی تھی جس کی بکریوں کا دودھ دوہ کر آپ دیا کرتے تھے۔ جب آپ خلیفہ بنے تو بچی کہنے لگی کہ اب میری بکریوں کا دودھ کون دوہ کردیاکرے گا۔ آپ نے فرمایا:

" میں دوہا کروں گا۔ اور میں چاہتا ہوں جو خُلق میرے تھے ان میں کوئی تغیر نہ ہوچنانچہ آپ خود اس کی بکریوں کا دودھ دوہ دیا کرتے "۔

ایک بڑھیا کا ذکر ہوا ہے۔ اور غالباً یہ وہی بڑھیا تھیں کہ حضرت ابوبکرؓ جب ایک روز اس کی خدمت کے لیے نہیں جا سکے تو اس کو یقین ہوگیا کہ ابوبکرؓ اس دنیا میں نہیں رہے۔ اس حیرت انگیز خدمتِ خلق کے واقعہ کو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے بیان فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں :

"حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے روز بغیر اس کے کہ اس کو کسی نے خبردی ہو خود بخود کہنے لگی کہ آج ابوبکرؓ مرگیا ہے لوگوں نے پوچھا کہ تجھ کو کس طرح سے معلوم ہوا اس نے کہا کہ ہر روز مجھ کو آپ حلوہ کھلایا کرتے تھے اور وہ وعدہ میں تخلف کرنے والے ہرگز نہیں تھے چونکہ آج وہ حلوہ کھلانے نہیں آئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ فوت ہوگئے ہیں ورنہ وہ ضرور مجھے حلوہ کھلانے آج بھی آتے"۔ (ملفوظات جلد4صفحہ290)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں :

"حضرت ابوبکرؓ نے انکساری اور غربت کا لباس اختیار کرلیا۔ آپ کو اپنے آقا محمدمصطفیؐ سے بڑا گہرا تعلق تھا اور آپ کی روح خیرالوریٰؐ کی روح کے ساتھ پیوست ہوچکی تھی"۔ (سرالخلافہ)

علامہ دِمْیرَی آپ کے متعلق لکھتے ہیں :۔

"حضرت ابوبکرؓ عظیم الشان انسان تھے۔ آپ زاہد، خشوع و خضوع رکھنے والے رہنما، بردبار، صاحب وقار، شجاع، صابر بہت شفقت کرنے والے اور تمام صحابہ میں بے نظیر تھے"۔

ازواج و اولاد

آپ نے مختلف اوقات میں مختلف شادیاں کیں ایک بیوی کا نام قتیلہ یا قتلہؓ تھا۔ جن کے بطن سے حضرت عبداللہؓ اور حضرت اسماءؓ پیدا ہوئے۔

دوسری بیوی ام رومان بنت عامر بن عویمر تھیں۔ جن سے عبدالرحمنؓ اور عائشہؓ پیداہوئے۔

تیسری بیوی اسماء بنت عمیس تھیں۔ ان سے محمدبن ابی بکر پیدا ہوئے۔

حضرت اسماء کی پہلے حضرت جعفرؓ سے شادی ہوئی تھی۔ ان کی شہادت کے بعد حضرت ابوبکرؓ سے شادی ہوئی۔ اور حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ سے ان کی شادی ہوئی۔

چوتھی بیوی حضرت حبیبہ بنت خارجہ تھیں۔

٭٭٭٭٭ تمّت بالخیر ٭٭٭٭٭
اگلا صفحہ
صفحہ نمبر: 15 (کل صفحات: 15)