In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » خطبات » حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ » 2008ء »

قرآنی تعلیمات ہی عالمی معاشی و اقتصادی بحرانوں کا حل ہے

خدا تعالیٰ کی صفت رزاق کا بیان نیز سودی قرضے اور سودی کاروبار سے اجتناب کے لئے ہدایات۔ اگر ہر شخص میں قناعت پیدا ہو جائے تو پھر دوسروں کی چیز کو دیکھ کر لالچ یا حرص پیدا نہیں ہوتا۔ سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ فرمودہ 31 اکتوبر 2008ءبمقام بیت الفتوح مورڈن لندن کاخلاصہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 31اکتوبر 2008ءکو بیت الفتوح مورڈن لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ حضور انور کا یہ خطبہ جمعہ متعدد زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔

حضور انور نے خطبہ جمعہ کے آغاز میں سورۃ الروم کی آیات 38تا41کی تلاوت کی (30:38) اور پھر فرمایا کہ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رزّاق ہونے کا اعلان فرمایا ہے کہ وہی ہے جو رزق میں کشائش بھی پیدا کرتا ہے اور وہی رزق میں تنگی بھی پیدا کرتا ہے۔ حقیقی مومن کو اللہ تعالیٰ کی صفت رزاق بہت سے نشان دکھاتی ہے۔ آجکل جو عالمی سطح پر دنیا ایک سنگین اقتصادی بحران سے دوچار ہے اس کی وجہ سب قدرتوں کے مالک اور رزاق خدا کو حقیقی طور پر نہ ماننا یا ماننے کا حق ادا نہ کرنا ہے جس کے نتیجے میں ایک تو زمینی وآسمانی آفات نے اپنے اثرات دکھائے اور دوسرے جب معیشت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کام کئے گئے تو اس نے بھی اپنا اثر دکھایا۔ اس وقت ہم احمدیوں کی ذمہ داری ہے کہ دنیا کو اس بات سے ہوشیار کریں کہ ان سب آفتوں اور بحرانوں کی اصل وجہ خدا تعالیٰ سے دوری ہے بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف عدم توجہ ہے، دوسروں کے وسائل پر حریصانہ نظر رکھنا ہے ۔ پس اگر مستقل حل چاہتے ہیں تو ان چیزوں کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ خد اتعالیٰ نے جب اپنے رزاق ہونے کا ذکر فرمایا تو مومنوں کو نصیحت فرمائی کہ اپنے قریبی کو، مسکین کو اور مسافر کو اس کا حق دو۔ ان حقوق کو ادا کرنے کی وجہ سے تم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرو گے اور پھر دین و دنیا میں کامیابیاں حاصل کرو گے ۔ امیر ممالک کو غریب ملکوں کی ترقی کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ ہر صاحب استطاعت اور مالی فراخی رکھنے والے شخص کو اپنے کمزور بھائیوں کی مدد کرنی چاہئے اور ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنی چاہئے۔

حضور انور نے فرمایا کہ غیر پیداواری مقاصد کیلئے قرض لینے والا یہ نہیں سوچتا کہ اس پر شرح سود کتنی ہے اور کتنا عرصہ تک دیتا چلا جاﺅں گا۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ اس قرض کی ادائیگی کا متحمل نہیں ہو سکتا اور پھر سود پر قرض کے بوجھ بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔ جب ایک حد کو پہنچ کر لوگوں کی قرض کی واپسی کی طاقت ختم ہوئی تو بینکوں کو ہوش آیا اور پھر انہوں نے نہ صرف غیر پیداواری بلکہ پیداواری مقاصد کیلئے بھی قرضے دینے بند کر دئیے، اس کانتیجہ یہ نکلا کہ پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوگئی ۔

حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سود پر انحصار کرنے والے یا اس کا کاروبار کرنے والے ایسے لوگ ہیں جیسے شیطان نے انہیں حواس باختہ کر دیا ہو۔ حضور انور نے فرمایا کہ اب جب حالات بدلے ہیں تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، دنیا کی اکثریت جو اس میں ملوث تھی ، مخبوط الحواس ہو چکی ہے اور پھر جب ایسی حالت ہو تو ڈپریشن بھی بڑھتا ہے اور ایک ابتری معاشرے میں پیدا ہو جاتی ہے ۔ پس اب بھی اگر دنیا عقل سے کام لے تو اس سودی نظام سے جان چھڑانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ وہ تجارت کریں جسے اللہ تعالیٰ نے جائز قرار دیا ہے۔ قرآنی تعلیمات ہی ان تمام مالی ، معاشی ، اقتصادی بحرانوں کا حل ہے اللہ تعالیٰ ہی ہے جو تمہیں رزق عطا کرتا ہے اس لئے تمہارا فرض ہے کہ تم اس کے حکموں پر چلنے کی کوشش کرو۔ موت کے بعدزندہ کر کے تمہیں اپنے سامنے حاضر بھی وہ کرے گا، سوال و جواب بھی ہوں گے، اس لئے نہ ظاہری شرک کرو اور نہ ہلکا سا بھی اس کے حکموں سے انحراف کرنے کی کوشش کرو۔

حضور انور نے فرمایا کہ دوسروں کے وسائل پر نظر ہونا بھی دنیا کا امن برباد کرنے کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کی طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر نہ دیکھو، ہم نے انہیں عارضی دنیا کا سامان دیا ہے۔ پس دنیا کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اپنے وسائل کے اندر رہیں ، چاہے وہ گھریلو سطح پر ہوں ، معاشرے کی سطح پر ہوں ، ملکی سطح پر ہوں یا بین الاقوامی سطح پر ہوں۔گھریلو سطح پر اگر ہر شخص میں قناعت پیدا ہو جائے تو پھر دوسروں کی چیزوں کو دیکھ کرحرص یا لالچ نہیں ہوتا۔

حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ اس وقت لو گ روحانی پانی کو چاہتے ہیں ، اس زمانے میں اخلاقی اور عملی کمزوریوں میں ہر چھوٹا بڑا مبتلا ہے، خدا پرستی اور خدا شناسی کا نام و نشان مٹا ہوا نظر آتا ہے۔ خدا تعالیٰ کا شکر کرو کہ اس نے اپنے فضل سے اس نور کو نازل کیا ہے مگر تھوڑے ہیں جو اس نور سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ حضور انور نے فرمایا اللہ کرے کہ دنیا اس اہم بنیادی اصول اور نکتے کو پہچان لے۔ خطبہ ثانیہ کے دوران حضور انور نے اپنی خالہ زاد محترمہ صاحبزادی امۃ المجیب بیگم صاحبہ اہلیہ محترم نواب مصطفے ٰ احمد خان صاحب کی وفات کا ذکر کیا اور نمازوں کی ادائیگی کے بعد ان کی نماز جنازہ غائب پڑھانے کابھی اعلان فرمایا۔