In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » خطبات » حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ » 2008ء »

اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والے خدا کے گھروں کوآ باد کرتے ہیں

لجنہ اماءاللّٰہ کی قربانیوں سے تعمیر ہونے والی مسجد خدیجہ برلن جرمنی کا افتتاح، تمام قسم کی اخلاقی کمزوریاں ہم سے دور ہوں گی تو ہم بیوت الذکر کا حق ادا کرنے والے اور حقیقی مومن کہلانے والے ہوں گے، سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ فرمودہ 17 اکتوبر 2008ءبمقام بیت خدیجہ برلن جرمنی کاخلاصہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 17اکتوبر 2008ءکو مسجد خدیجہ برلن جرمنی میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ حضور انور کا یہ خطبہ جمعہ متعدد زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔

حضور انور نے خطبہ جمعہ کے آغاز میں سورۃ التوبہ کی آیات نمبر 18اور 71کی تلاوت کی اور پھر فرمایا کہ خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے جماعت احمدیہ پر اپنے فضل کی بارش کا ایک اور قطرہ آج اس مسجد کی صورت میں ہم پر گرایا ہے۔ ملک کے مشرقی حصے میں یہ ہماری پہلی مسجد ہے۔ جرمنی اور خاص طور پر اس برلن شہر میں جماعت احمدیہ کے ذریعے اسلام کا حقیقی پیغام پہنچنے کی تاریخ 86سال پرانی ہے۔ حضور انور نے خلیفۃ المسیح الثانی کے دور خلافت میں 1922ءمیں یہاں مشن ہاﺅس کے قیام‘ یہاں متعین کئے گئے ابتدائی مربیان محترم مبارک علی صاحب اور محترم ملک غلام فرید صاحب ایم اے کی کاوشوں اور یہاں پر مسجد کے سنگ بنیاد کے کچھ احوال بیان کر کے قادیان اور ہندوستان کی خواتین کی برلن شہر میں مسجد کیلئے دی گئی مالی قربانیوں کا بطور خاص تذکرہ کیا۔

حضور انور نے فرمایا کہ اس مسجد خدیجہ کی تعمیر پر کل 17لاکھ یوروخرچ ہوئے جس میں بڑا حصہ یہاں جرمنی کی لجنہ اماءاللہ اور کچھ حصہ یو۔کے کی لجنہ کا ہے۔ پس آج یہ قربانی کرنے والیاں جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں توفیق دی کہ یہ مسجد تعمیر کر سکیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سب قربانی کرنے والیوں کو بے انتہا جزا دے۔

حضور انور نے فرمایا کہ جو آیات میں نے آغاز میں تلاوت کی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے گھروں کو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ‘ نماز قائم کرے ‘ زکوٰۃ دے اور اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کھائے ۔پھر دوسری آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے اور بری باتوں سے روکتے ہیں ‘ نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے ساتھ اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں ۔ پس اس مسجد کی تعمیر کے بعد مرد بھی اور عورتیں بھی اس انتہائی اہم کام کی طرف متوجہ ہوجائیں کہ اپنا بھی تعلق مسجد کے ساتھ جوڑیں اور اپنی اولادوں کا بھی کیونکہ اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والوں کی یہی نشانی ہے۔

حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں اور جو اپنے خدا اور اس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں اور تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں کو خدا کے لئے اختیار کرتے ہیں اور اس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں ۔ اعمال فاسقانہ یا غفلت اور کسل سے اپنے تئیں دور تر لے جاتے ہیں ۔ پس ایک احمدی کو ہر قسم کے حقوق کی ادائیگی کیلئے ہر وقت اپنے جائزے لیتے رہنا چاہئے۔

حضور انور نے فرمایا کہ دوسری آیت جو میں نے تلاوت کی اس میں خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق اداکرنے والے اور آپس میں ایسے رشتے قائم کرنے والے ہوتے ہیں جن کی بنیاد تقدس پر ہواور ایک دوسرے کے لئے قربانی دینے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ ایک مومن میں جن اخلاق کا پایا جانا ضروری ہے اس میں آپس کے تعلقات میں محبت وپیار اور بھائی چارے کو بڑھانا‘ ادنیٰ سے ادنیٰ نیکی بھی کرنے کی کوشش کرنا ‘ہر قسم کی برائی سے بچنا ‘ رشتوں کے حق ادا کرنے کی بھی بھرپور کوشش کرنا‘ غریبوں کی مدد کرنا اورامانتوں کے حق ادا کرناشامل ہیں ۔

حضور انور نے فرمایا کہ بدظنیوں کے خلاف جہاد کی صورت ہر ایک میں نظر آنی چاہئے سچائی کے وہ معیار حاصل کریں کہ سچائی ہر جگہ اور ہر موقع پر ہمارا طرہء امتیاز ہو جائے۔ عفو و درگزر ہمارا شیوہ بن جانا چاہئے۔ عدل وانصاف کے اعلیٰ معیا رقائم کریں اور اپنے وعدوں کی پابندی ہمارا وہ خاصہ ہو جو ہماری پہچان بن جائے۔ اپنے اور ایک دوسرے کے تقدس ‘ عصمت اور عزت کی حفاظت ہمارے ہر وقت پیش نظر رہے۔ مرد وعورت میں غضِ بصر کی عادت ہو اوریہ چیزیں ہر احمدی اپنے کردار کا حصہ بنا لیں ۔ احمدی عورتیں اپنے لباس ‘ پردے اور حجاب میں پوری پابندی کرنے والی ہوں پس تمام قسم کی اخلاقی کمزوریاں ہم سے دور ہوں گی تو ہم مساجد کا حق ادا کرنے والے اور عملی طور پر مومن کہلانے والے ہوں گے۔ فرمایا کہ جو مومن بندے آیات میں مذکور باتوں کے پابند ہیں وہ خدا تعالیٰ کا رحم حاصل کرنے والے ہوں گے۔ اللہ کرے کہ ہم میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے رحم میں سے حصہ لیتا چلاجائے ‘ مسجد کا حق ادا کرنے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین