In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » خطبات » حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ » 2008ء »

مساجد کی تعمیر کا سب سے بڑا مقصد تقویٰ کا قیام ہے

فرانس میں جماعت احمدیہ کی پہلی نئی مسجد کا افتتاح‘ عبادت کا حق ادا کرنے اور لباس التقویٰ کے حصول کیلئے ترغیب ، عبادتوں‘ اعلیٰ اخلاق اور دعوت الی اللہ کے معیار بلند کریں تاکہ سعید فطرت لوگوں کواللہ تعالیٰ کے جھنڈے تلے جلد لے آئیں، سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ فرمودہ 10 اکتوبر 2008ءبمقام بیت مبارک ‘ بیت السلام پیرس کاخلاصہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 10اکتوبر 2008ءکو مسجد مبارک ‘ بیت السلام پیرس میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ حضور انور کا یہ خطبہ جمعہ متعدد زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔

حضور انور نے خطبہ کے آغاز میں سورۃ الاعراف آیت 27کی تلاوت کی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ فرانس کو بھی پہلی مسجد بنانے کی توفیق عطا فرمائی ۔ اللہ کرے کہ یہ مسجد مزید مساجد کے لئے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہو۔ احباب جماعت کے اندر مساجد کی تعمیر کیلئے قربانیوں کا شوق مزید برھے اور وہ روح پیدا ہو جس سے وہ مساجد کی تعمیر کے مقاصد کوپور اکرنے والے ہوں ۔یہ جگہ جہاں یہ خوبصورت مسجد تعمیر کی گئی ہے فرانس کے اس علاقے کی ضرورت کے لحاظ سے کافی ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ اس کی شکر گزاری کا اظہار اس طرح ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف سے پہلے سے بڑھ کر توجہ ہو، تقویٰ میں ترقی کرنے والے ہوں کیونکہ مساجد کی تعمیر کا سب سے بڑا مقصد تو تقویٰ کا قیام ہی ہے جسے ہر احمدی کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے۔

حضور انور نے فرمایا کہ اس مسجد کی تعمیر کے ساتھ آپ کو تین چیلنجوں کا سامنا کرنا ہے ۔ خدا تعالیٰ کے لئے خالص ہو کر پانچ وقت کی نمازیں خدا کے گھر میں آ کر باجماعت ادا کرنے کی کوشش کرنی ہے اور یہ یاد رکھیں کہ حقیقی فلاح نمازوں سے ہی ملتی ہے۔ دوسرا چیلنج دعوت الی اللہ کا ہے۔ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ جہاں اسلام کو متعارف کروانا ہو اورجہاں ایک مرکز کی طرف لانے کی کوشش کرنی ہو وہاں مسجد بنا دو ۔ پس اس چیلنج کو قبول کرنے کے لئے بھی تیار ہو جائیں ۔ پھر تیسرا چیلنج یہ ہے کہ جب دنیا کی نظر ہم پر پڑے گی تو اپنے اعمال پر بھی ہمیں نظر رکھنا ہو گی کیونکہ جس کو دعوت الی اللہ کریں گے وہ ہمارے عمل بھی دیکھتا ہے۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ہماری جماعت کے لوگوں کو نمونہ بن کر دکھاناچاہئے۔

حضور انور نے فرمایا کہ جو آیت میں نے آغاز میں تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی طرف راہنمائی فرمائی ہے کہ انسان کو تقویٰ کو ہر چیز پر مقدم رکھنا چاہئے۔ خدا تعالیٰ نے لباس کی مثال دی ہے کہ اس کی دو خصوصیات ہیں اور وہ یہ کہ لباس تمہاری کمزوریوں کو ڈھانکتا ہے اور دوسری بات کہ یہ زینت کے طور پر ہے اور پھر تقویٰ کے لباس کو بہترین قرار دے کر توجہ دلائی کہ ظاہری لباس تو ان دو مقاصد کے لئے ہے لیکن تقویٰ سے دور چلے جانے کی وجہ سے یہ مقصد بھی تم پورے نہیں کرتے اس لئے دنیاوی لباسوں کو اس لباس سے مشروط ہونا چاہئے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے ۔ اس آیت میں لفظ ریش بھی استعمال ہوا ہے جس کے معنی پرندوں کے پر کے ہیں جنہوں نے ان کو ڈھانک کر خوبصورت بنایا ہوتا ہے۔ پھر اس کا مطلب خوبصورت لباس بھی ہے لیکن بدقسمتی سے آجکل خوبصورت لباس کی تعریف ننگا لباس کی جانے لگ گئی ہے۔ حضور انور نے خواتین کو حیادار لباس پہننے کی طرف ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا کہ ہر عورت کو اپنے تقدس کو قائم رکھنا چاہئے۔ اسی طرح ریش کا مطلب دولت اور زندگی گزارنے کے وسائل بھی ہے۔ زندگی کی سہولیات حاصل کرنے کے لئے غلط طریقے سے دولت نہیں کمانی ‘ ہمیشہ یاد رکھیں کہ لباس التقویٰ ہی اصل چیز ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ تمام احباب جماعت لباس التقویٰ کے حصول کیلئے حضرت مسیح موعود کے ساتھ کئے گئے عہد بیعت پر پوری طرح کاربند ہونے کی کوشش کریں۔ حضور انور نے دس شرائط بیعت میں سے ہر شرط بیعت کی تفصیل کے ساتھ وضاحت بیان فرمائی اور پھر فرمایا کہ یہ عہد بیعت تقویٰ کی شرط ہے اور تقویٰ میں بڑھنے کیلئے ضروری ہے اور اس عہد کی تکمیل کرتے ہوئے جب ہم عبادت کے لئے مساجد میں جائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والے بنیں گے۔

حضور انور نے فرمایا کہ آج فرائیڈے دی ٹینتھ ہے اور فرانس کی پہلی مسجد کا افتتاح ہو رہا ہے ۔ خدا کرے کہ وہ برکات جو فرائیڈے دی ٹینتھ کے ساتھ وابستہ ہیں ۔ وہ اس مسجد کے ساتھ بھی وابستہ ہوں اور یہ مسجد جماعت کی ترقی کے لئے اس ملک میں ایک سنگ میل ثابت ہو۔ پس اپنی عبادتوں ‘ اعلیٰ اخلاق اور دعوت الی اللہ کے معیار پہلے سے بہت بلند کریں تاکہ سعید فطرت لوگوں کو آنحضرت کے جھنڈے تلے جلد سے جلد لے آئیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

حضور انور نے خطبہ ثانیہ کے دوران جماعت احمدیہ کے دو واقفین زندگی مکرم بشیر احمد قمر صاحب ناظر تعلیم القرآن و وقف عارضی ربوہ پاکستان اور مکرم عبدالرشید رازی صاحب کی وفات کے ذکر کے ساتھ ان دونوں کی جماعتی خدمات کا بھی تذکرہ فرمایا اور نماز جمعہ کے بعد دونوں کی نماز جنازہ غائب پڑھنے کا بھی اعلان فرمایا۔