In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » خطبات » حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ » 2008ء »

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا نگران ‘ محافظ اور خوف سے امن دینے والا ہے

خدا تعالیٰ کی صفت مھیمن کے لغوی واصطلاحی معنی اور حضرت مسیح موعود کے ارشادات و واقعات کی روشنی میں اس کی پر معارف تشریح، حضور نے اپنی ایک رؤیا بیان کر کے احباب جماعت کو دعاﺅں کی تحریک فرمائی، سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ فرمودہ 3 اکتوبر 2008ءبمقام بیت الفتوح مورڈن لندن کاخلاصہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 3اکتوبر 2008ءکو بیت الفتوح مورڈن لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا ۔ حضور انور کا یہ خطبہ جمعہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔

حضور انور نے فرمایا کہ چند خطبات پہلے میں نے اللہ تعالیٰ کی صفت مھیمن بیان کی تھی اور اس کی کسی قدر وضاحت اور معنی بھی بتائے تھے۔ عموماً اس کے معنی پناہ دینے والے کے لئے جاتے ہیں ‘اس کے معنی گواہ کے بھی کئے جاتے ہیں ‘ اس کے علاوہ مخلوق کے معاملات پر نگران اور محافظ اور اسی طرح خوف سے امن دینے والے کے بھی ہیں اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے والے سب سے پہلے انبیاءہوتے ہیں اور اس سے فیض اٹھانے والے بھی سب سے پہلے انبیاءہی ہوتے ہیں جن کے لئے خداتعالیٰ کی ہر صفت غیر معمولی طور پر حرکت میں آتے ہوئے ان کی سچائی ظاہر کرتی ہے تاکہ دنیا کو پتہ لگ سکے کہ یہ شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ پانچ موقعے آنحضرت کے لئے نہایت نازک پیش آئے تھے جن میں جان کا بچنا محالات میں سے معلوم ہوتا تھا۔ ایک تو وہ موقع تھا جب کفار قریش نے آنحضرت کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور قسمیں کھا لی تھیں کہ آج ہم ضرور قتل کریں گے‘ دوسراموقع وہ تھا کہ جب کافر لوگ اس غار میں مع ایک گروہ کثیر کے پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت مع حضرت ابوبکرؓ پناہ لئے ہوئے تھے ‘ تیسرا وہ نازک موقع تھا جبکہ احد کی لڑائی میں آنحضرت اکیلے رہ گئے تھے اور کافروں نے آپ کے گرد محاصرہ کر لیا تھا اور بہت سی تلواریں چلائیں مگر کوئی کارگر نہ ہوئی ‘ چوتھا موقع وہ تھا جبکہ ایک یہودیہ نے آپکو گوشت میں زہر دے دی تھی اور پانچواں وہ نہایت خطرناک موقع تھا جبکہ خسرو پرویز شاہ فارس نے آنحضرت کے قتل کیلئے مصمم ارادہ کیا تھا پس صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت کا ان تمام پُر خطر موقعوں سے نجات پانااور ان تمام دشمنوں پر آخر کار غالب ہو جانا ایک زبردست دلیل اس بات پر ہے کہ درحقیقت آپ صادق تھے اور خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ تھا۔

حضور انور نے حضرت مسیح موعود کی زندگی میں آپ پر آنے والے پانچ ایسے موقعوں کا ذکر فرمایا جن میں عزت اور جان نہایت خطرے میں پڑ گئی تھی اول وہ موقع تھا جب ڈاکٹر مارٹن کلارک نے آپ پر خون کا مقدمہ کیا تھا ۔ دوسرا وہ موقع جبکہ پولیس نے ایک فوجداری مقدمہ ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی کچہری میں آپ پر چلایا تھا ‘ تیسرے وہ فوجداری مقدمہ جو کرم الدین نام کے ایک شخص نے بمقام جہلم آپ پر کیا تھا۔ چوتھا وہ فوجداری مقدمہ جو اسی شخص نے گورداسپور میں آپ پر کیا تھا اور پانچواں وہ موقع تھا جب لیکھرام کے مارے جانے کے وقت آپ کے گھر کی تلاشی لی گئی تھی اور دشمنوں نے ناخنوں تک زور لگایا تھا کہ آپ کو قاتل قرار دیا جائے مگر و ہ تمام مقدمات میں نامراد رہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو تسلی دلانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے کئی الہامات اور رویا بھی دکھائے اور بتائے جن کا مختلف جگہوں پر ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا کہ میں ہر میدان میں تیرے ساتھ ہوں گا اور روح القدس سے میں تیری مدد کروں گا۔

حضور انور نے حضرت مسیح موعود کے خوف سے امن میں بدلنے والے نظاروں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو اپنے والد صاحب کی وفات پر یہ کہہ کر تسلی دی کہ کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں اور پھر خدا تعالیٰ نے آپ کو اپنے سایہ عاطفت کے نیچے ایسا لیا کہ ایک دنیا کو حیران کیا اور اس قدر خبر گیری کی اور اس قدر وہ آپ کا متولی اورمتکفل ہو گیا کہ پھر ہر ایک تکلیف اور حاجت سے آپ کو محفوظ رکھا۔ حضور انور نے جماعت کے بعض بزرگوں کے حوالے سے حضرت مسیح موعود کے لئے خدائی حفاظت کے واقعات تفصیل کے ساتھ پیش فرمائے۔ حضور انور نے فجی میں جماعت کے ایک مربی سلسلہ نور الحق انور صاحب کا خدائی مدد اور تائید کا ایک واقعہ پیش کر کے فرمایا کہ یہ نشانات ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کی خاطر دکھاتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صفت مھیمن کے تحت خوف سے امن دیتا ہے اپنے بندوں کے معاملات پر نگران اور محافظ ہے اور جو اس کی طرف آئے وہ اسے پناہ دیتا ہے۔ پس ہمیں ہر وقت اس کی پناہ تلاش کرنی چاہئے۔

حضور انور نے اپنی رﺅیا بیان کرتے ہوئے تمام جماعت کو رب کل شیئٍ خادمک رب فاحفظنی وانصرنی وارحمنی کی دعا کو بکثرت کرنے کا ارشاد فرمایا۔ حضرت مسیح موعو د فرماتے ہیں کہ انسان چاہتا ہے کہ ان بلاﺅں اور وباﺅں سے محفوظ رہے جو شامت اعمال کی وجہ سے آتی ہیں فرمایا کہ یہ ساری باتیں سچی توبہ سے حاصل ہوتی ہیں۔ وہ ہر ایک سچی توبہ کرنے والے کو بلاﺅں سے محفوظ رکھتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے ۔