In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » خطبات » حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ » 2008ء »

مساجد کی تعمیر کا مقصد خدا تعالیٰ کی عبادت اور تقویٰ کے ساتھ اس کی رضا کا حصول ہے

بیت المہدی بریڈ فورڈ یو۔کے کے شاندار افتتاح کے ساتھ تحریک جدید کے نئے اور75ویں سال کے آغاز کا اعلان،تحریک جدید کے شاملین کی تعداد 5لاکھ سے بڑھ گئی ہے مالی قربانی میں پاکستان اول رہا، سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ فرمودہ 7 نومبر 2008ءبمقام بیت المہدی بریڈ فورڈ یو۔کے کاخلاصہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 7نومبر2008ءکو بریڈ فورڈیو۔کے میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا ۔ حضور انور کا یہ خطبہ جمعہ متعدد زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔

حضور انور نے خطبہ کے آغاز میں سورۃ ابراہیم آیت 32کی تلاوت کی اور پھر فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ آج بریڈ فورڈ کی جماعت کو بھی مسجد بنانے کی توفیق ملی۔ اس علاقے میں تعمیر ہونے والی جماعت احمدیہ کی یہ پہلی مسجد ہے‘ یہ مسجد شہر کی کافی اونچائی پہ واقع ہے جہاں سے سارا شہر نظر آتا ہے۔ اس لحاظ سے اس مسجد کی ایک نمایاں حیثیت ہو گئی ہے۔ حضور انور نے بریڈ فورڈ کی اس مسجد کے بارے میں بعض کوائف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی تعمیر پر 23لاکھ پاﺅنڈ خرچ ہوئے ہیں اور تقریباً600مردوں اور 600خواتین کی گنجائش کے دو بڑے بڑے ہال ہیں ۔ لجنہ اماءاللہ اور خدام الاحمدیہ یوکے نے بھی اس کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر چندے دئیے اور پھر لوکل بریڈ فورڈ کی جماعت نے بھی کافی قربانی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزاءدے۔

حضورانور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لئے اس گھر کی تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے‘ وہ مقصد پورا کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اس خدا کے لئے وہ خالص دل پیدا کرنا ضروری ہے جس میں اس کی رضا کے حصول کا مقصد کوٹ کوٹ کر بھرا ہو اور جس میں خالصتاً للہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا جذبہ بھی موجزن ہو، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو دنیا میں خدا تعالیٰ کا گھر بنائے گا ، خدا تعالیٰ اس کے بدلے جنت میں اس کے لئے ایک گھر بناد ے گا۔

حضور انور نے فرمایا کہ ہماری مساجد اس تعلیم کا پرچار کرنے والی ہیں جو پیار ومحبت اور حلم کی بنیاد ڈالنے والی ہے ، ہم تو ہر حال میں صلح کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے دنیا کو امن دینے کے خواہشمند ہیں ۔ ہماری مساجد تو صرف خدائے واحدکی عبادت کا حق اداکرنے کیلئے بنائی جاتی ہیں۔ ہم میں سے ہر احمدی کے قول وعمل سے اس بات کا اظہار ہونا چاہئے کہ وہ محبتوں کا علمبردار ہے، دلوں کو جوڑنے والا ہے، فتنہ و فساد کو دنیا سے عمومی طور پر ختم کرنے والا اور رحماءبینھم کا عملی اظہار کرنے والا ہے، تبھی یہ مسجد ہمارے اس مقصد کو پورا کرنے والی ہو گی جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے اور تبھی ہماری دعوت الی اللہ دوسروں کے دلوں پر اثر کرنے والی ہو گی۔

حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے اوراس کو راضی کرنے کے لئے جو شخص ایک بدی سے بچتا ہے اس کو متقی کہتے ہیں ۔ قرآن کریم تقویٰ کی تعلیم دیتا ہے اور یہی اس کی علت غائی ہے۔ پس ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے کہ اس مسجد کی تعمیر کے ساتھ تقویٰ کے ساتھ خالص اللہ تعالیٰ کا ہو کر اپنی نمازوں کی ادائیگی کی کوشش کرے اورآپس میں پہلے سے بڑھ کر پیار محبت اور بھائی چارے کے تعلقات پیدا کرے۔

حضور انور نے فرمایا جو آیت شروع میں میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کیلئے دو اہم حکم عطا فرمائے ہیں ۔ ان میں سے پہلا حکم نمازوں کا قیام ہے اور دوسرا حکم خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنا ہے۔ عجیب تصرف الٰہی ہے کہ ہارٹلے پول کی مسجد کا جب افتتاح ہوا تو اس وقت بھی تحریک جدید کے نئے سال کا آغاز ہو رہا تھا۔ تحریک جدید کے منصوبے سے احمدیت کی دعوت پہلے سے زیادہ بڑھ کر اور شان کے ساتھ ہندوستان سے باہر کے ممالک میں پھیلی۔ آج تمام دنیا میں جماعتی ترقیات اصل میں اسی تحریک کا ثمرہ ہیں ۔ پس آج آپ کو ایک جوش کے ساتھ دعوت الی اللہ اور مالی قربانیاں کرنے کی ضرورت ہے اور یہی حقیقی شکرانہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود کی جماعت کو ہمیشہ ایسی قربانی کرنے والی عورتیں ، مرد ، بچے اور بوڑھے عطا فرماتا چلا جائے جو دنیا کی بجائے آخرت پر نظر رکھتے ہوں ۔

حضور انور نے تحریک جدید کے ختم ہونے والے سال کا موازنہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ تحریک جدید کا 74واں سال ختم ہو اہے اور اب 75واں سال شروع ہو گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس سال خدا تعالیٰ کے فضل سے مجموعی طور پر جماعت کو تحریک جدید میں پہلے سے بڑھ کر مالی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے چندہ ادا کرنے والوں کی تعداد 5لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ حضور نے فرمایاکہ امسال وصولی کے لحاظ سے پاکستان اول امریکہ دوم اور برطانیہ سوم ہے۔ اسی طرح پاکستان سمیت بعض دیگر ممالک کی اندرونی جماعتوں کی ادائیگی کے لحاظ سے نمایاں پوزیشن پر آنے والی جماعتوں کی فہرست پیش کی اور پھر فرمایا اللہ تعالیٰ ان سب قربانی کرنے والوں کو جزاءدے اور ان کے اموال ونفوس میں برکت ڈالے اور آئندہ بھی یہ اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے مالی قربانی کی روح کو قائم کرتے ہوئے مالی قربانی کرتے چلے جائیں اور اپنی عبادتوں کے معیار بڑھاتے چلے جانے والے ہوں۔