In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » خطبات » حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ » 2008ء »

آنکھوں کی ٹھنڈک تبھی حاصل ہو سکتی ہے جب تقویٰ پر چلنے والے ہوں گے

اللہ تعالیٰ کی صفت وھّاب کے لغوی معنی اور آیات کریمہ کی روشنی میں اس کی ایمان افروز اور پر معارف تشریح، حقیقی مومن کی یہی نشانی ہے کہ وہ تقویٰ پر قائم ہوتے ہوئے خدا تعالیٰ سے نیک صالح اور پاک اولادکی خواہش کرتا ہے، سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ فرمودہ 14 نومبر 2008ءبمقام بیت الفتوح مورڈن لندن کاخلاصہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 14نومبر2008ءکو بیت الفتوح مورڈن لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا ۔ حضور انور کا یہ خطبہ جمعہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔

حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ایک نام واھب یا وھّاب بھی ہے۔ وھاّب کا مطلب اہل لغت کے نزدیک اپنے بندوں پر انعام کرنے والا ہے۔ الھبۃ سے مراد ایسا عطیہ جو عوض میں کچھ لینے یا دیگر اغراض و مقاصد سے مبّرا ہو اور جب ایسی عطا بہت کثرت سے ہوتو اس عطا کرنے والے کو وھّاب کہتے ہیں ۔ یہ لفظ انسانوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے لیکن حقیقی وھّاب اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو اپنے بندوں کو مانگنے پربھی اوربغیر مانگنے کے بھی کثرت سے عطا کرتی ہے۔ ایک حقیقی مومن اگر غور کرے تو اللہ تعالیٰ کے وھّاب ہونے کے نظارے ہر وقت دیکھتا ہے اور یہی بات ہمیں ہمارے زندہ خدا کا پتہ دیتی ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مختلف حوالوں سے اس صفت کا استعمال فرمایا ہے ، انبیاءاور نیک لوگوں پر اپنی عطاﺅں کا بھی ذکر فرمایا ہے اور اپنی صفت کے حوالے سے دعاﺅں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے جس میں نیک اولاد کےلئے بھی دعائیں ہیں ، معاشرے کی نیکی کیلئے دعائیں ہیں ، تقویٰ میں بڑھنے اور ایمان میں مضبوطی کے لئے بھی دعائیں ہیں ۔

حضور انور نے قرآنی دعا کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنے جیون ساتھیوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر اور ہمیں متقیوں کا امام بنا، کے حوالے سے فرمایا کہ یہ ایک جامع دعا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے ان لامحدود فضلوں کی دعا مانگی گئی ہے جس کا انسان احاطہ نہیں کر سکتا۔ نہ صرف اس دنیا میں نیکیوں پر قدم مار کر میاں بیوی اور اولاد ایک دوسرے کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنتے ہیں بلکہ مرنے کے بعدبھی ان نیکیوں کی وجہ سے جو انسان دنیا میں کرتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے انعام سے نوازتا ہے واجعلنا للمتقین اماماکہہ کر یہ بتا دیا کہ آنکھوں کی ٹھنڈک تبھی ہو سکتی ہے کہ جب تم بھی تقویٰ پر چلنے والے ہو گے اور تمہاری اولادیں بھی۔ پس جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا اس دعا کے ساتھ ہم آپس میں حقوق کی ادائیگی کے لئے تقویٰ پر چل رہے ہیں ۔

حضور انور نے عبادت کے قیام کے بارے میں آنحضرت کی ایک حدیث بیان کر کے فرمایا کہ یہ میاں بیوی دونوں کا فرض ہے کہ اپنی عبادتوں کی طرف توجہ دیں تاکہ نسلوں سے بھی قرۃ العین حاصل ہو۔ آنحضرت نے فرمایا کہ اچھی تربیت سے بڑھ کرکوئی بہترین تحفہ نہیں جوباپ اپنی اولاد کو دے سکتا ہے اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب انسان کے اپنے اعمال اور عبادت کے معیار اچھے ہوں۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک تب ہی میسر آسکتی ہے کہ وہ فسق و فجور کی زندگی بسرنہ کرتے ہوں بلکہ عباد الرحمن کی زندگی بسر کرنے والے ہوں۔

حضور انورنے فرمایا کہ اولاد کے ضمن میں ایک اور بات بھی کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ بعض میاں بیوی کے تعلقات اس لئے بھی خراب ہوجاتے ہیں یا خاوند اپنی بیوی سے اس لئے ہر وقت ناراض رہتا ہے کہ لڑکے کیوں پیدا نہیں ہوتے ، صرف لڑکیاں کیوں پیدا ہوئیں ۔حالانکہ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ خد اتعالیٰ خود فرماتا ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے لڑکیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں دونوں ملا کر بھی دیتا ہے۔ فرمایا کہ اب جو بھی اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اس میں کسی پر الزام دینا یا اس بات پر بیویوں کی زندگی اجیرن کر دینا تقویٰ سے ہٹنے والی بات ہے۔ پس یہ جہالت کی باتیں ہیں اس سے ہر احمدی کو بچنا چاہئے۔

حضور انور نے فرمایا کہ بعض دفعہ لڑکیاں لڑکوں کی نسبت زیادہ ماں باپ کی خدمت کرنے والی ہوتی ہیں اور نیک ہوتی ہیں اور ماں باپ کے لئے نیک نامی کا باعث بنتی ہیں جبکہ لڑکے بعض اوقات بدنامی اور پریشانی کا باعث بن رہے ہوتے ہیں ۔ پس مومن کی یہی نشانی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے نیک اور صالح اولاد مانگے۔ حضرت مسیح موعود صالح کی تعریف میں فرماتے ہیں کہ صالحین کے اندر کسی قسم کی روحانی مرض نہیں ہوتی اور کوئی مادہ فساد کا نہیں ہوتا۔ پس یہ معیار ہے جس کے حصول کے لئے ہمیں اپنی اولاد کے لئے دعا مانگنی چاہئے اور خود بھی اس پر چلنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ پس اس معیار کو حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین