In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » خطبات » حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ » 2008ء »

ہماری منزل مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے

آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاﺅ گے جب سچ مچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔ ٹھٹھہ ، کینہ وری، گندہ زبانی ، جھوٹ ،لالچ اور تکبر سب چھوڑ دو، پھر راستبازوں کا معجزہ تمہیں آسمان سے ملے گا۔ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ فرمودہ 28 نومبر 2008ءبمقام کیرالہ انڈیا کاخلاصہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 28 نومبر 2008ءکو کیرالہ ، انڈیا میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ حضور انور کا یہ خطبہ جمعہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔

حضور انور نے فرمایا کہ اس بات پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے آج مجھے ہندوستان کے اس علاقے میں آنے کی توفیق دی اور آپ لوگوں سے ملنے اور آپ کے اخلاص و وفا کو دیکھنے کا موقع عطا فرمایا۔ آپ سمیت اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے ہر کونے میں بسنے والے احمدی کا اخلاص و وفا ناقابل مثال ہے کیونکہ ہر احمدی جانتا ہے کہ خلافت احمدیہ حضرت مسیح موعود کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے وہ رسی ہے جس کو پکڑ کے ہمیں آگے بڑھتے چلے جانا ہے اور اپنی منزل مقصود تک پہنچنا ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ ہماری منزل مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے وہ کام کرتے چلے جانا ہے جو اللہ کے رسول ﷺ کی کامل اطاعت کا حامل بنانے والے ہیں، وہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے جو حضرت مسیح موعود ہم میں پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ تم اپنے خدا سے صاف رابطہ پیدا کرو ہنسی ،ٹھٹھہ ، کینہ وری ، گندہ زبانی ، لالچ ، جھوٹ ، دنیا پرستی ، تکبر ، غرور ، خودپسندی ، شرارت اور کج بحثی سب چھوڑ دو ، پھر راستبازوں کا معجزہ تمہیں آسمان سے ملے گا۔ تم ابناءالسماءبنو نہ کہ ابناءالارض اور روشنی کے وارث بنو نہ کہ تاریکی کے عاشق تاکہ تم شیطان کی گزر گاہوں سے امن میں آجاﺅ ۔

حضور انور نے فرمایا کہ انسان کا مقصد پیدائش خدا تعالیٰ کی عبادت ہے۔ اگر اس مقصد کو اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہو کر حاصل کرنے کی کوشش ہم کرتے رہیں گے تو تمام قسم کے برے کاموں سے بچنے اور ان تمام قسم کے نیک کاموں کی ہمیں توفیق ملے گی جن کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے ۔ معاشرے کے حقوق ادا کرنے والے ہوں گے۔عبادت کے جو راستے یا طریق اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتائے ہیں اس میں سب سے اہم پانچ وقت نمازوں کی ادائیگی ہے۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں اے لوگو ں جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو، آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاﺅ گے جب سچ مچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے، سو اپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا کو دیکھتے ہو۔ پس اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد تقویٰ پر چلنے کی سب سے بڑی شرط نمازوں کی ادائیگی ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ ہم اپنے ماحول میں اپنے نیک اعمال کی وجہ سے دوسروں کو بھی اپنی طرف کھینچنے والے ہوں گے، ہماری عبادتوں کی وجہ سے ہماری دعوت الی اللہ کی کوشش بھی بارآور ہوگی۔ اپنے آپ کو ہرمخفی شرک سے بھی بچائیں اور بدعات اور بدرسومات سے ہمیشہ بچتے رہیں ۔ دینی تعلیم کا حصول آپ لوگوں کا ایک اہم مقصد ہونا چاہئے اورپھر اس دینی علم کو استعمال کر کے دعوت الی اللہ میں بھی اہم کردار ادا کرنے والے بنیں ۔ نیک اور سعید فطرت لوگوں کو دین حق کے جھنڈے تلے لانے کی کوشش کریں کہ اب دنیا کی اصل نجات آنحضرت ﷺ کو ماننے میں ہی ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پید اکرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے مد د مانگتے ہوئے ہمیں پہلے سے بڑھ کر اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ مجھے دعاﺅں کا ہتھیار دیا گیا ہے۔ حضور انور نے فرمایا اس لئے دعاﺅں کی طرف ہمیں بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہی چیز ہے جو ہماری کامیابی کا باعث بنے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین