سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 9جنوری 2009ء کو بیت الفتوح مورڈن لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ حضور انور کا یہ خطبہ جمعہ متعدد زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔
حضور انور نے فرمایا ہر قسم کی برکات اب درود شریف کے ساتھ وابستہ کر دی گئی ہیں اس لئے ہمارا یہ کام ہے کہ درود شریف کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے آنحضرت ﷺپر بہت زیادہ درود بھیجیں اور اس پر ہمیشہ عمل پیرا رہیں ۔ ہماری کامیابیوں اور ترقیات کا ذریعہ درود شریف اور دعا ئیں ہیں ۔
حضور انور نے فرمایا کہ وقف جدید کے مالی نظام کے نئے سال کا آغاز ہو گیا ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت اور برکات کے حوالے سے قرآن کریم کی رو سے بیان فرمایا کہ یقیناًصدقہ دینے والے مرد اور عورتیں اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں خرچ کیا تو ان کا مال ان کے لئے بڑھایا جائے گا اور انہیں عزت والا بدلا دیا جائے گا۔ پس مالی قربانی چاہے وہ کسی رنگ میں بھی ہو خد اتعالیٰ اس کی قدر کرتا ہے ۔ بشرطیکہ وہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لئے ہو۔
حضور انور نے فرمایا کہ آج دین حق کی تعلیم کے مطابق حقیقی رنگ میں من حیث الجماعت صرف جماعت احمدیہ ہی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کیلئے مال خرچ کرتی اور قربانیاں دیتی ہے۔ فرمایا کہ بدعات اور رسومات پر دنیا دار لوگ بے انتہا خرچ کرتے ہیں اگر ہم بھی دوسروں کے دیکھا دیکھی اپنے ماحول کے پیچھے چلتے رہے اور حضرت مسیح موعود کی بیعت کے مقصد کو بھول گئے تو پھر دنیا کی لہو ولعب کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو گااور پھر اجر کریم کے بھی حقدار نہیں ٹھہریں گے۔
حضور انورنے فرمایاکہ مومن کی یہ نشانی ہے کہ وہ اپنے رب کی مغفرت کی تلاش میں رہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں جنت کوحاصل کرنے والے اور اس کے وارث ٹھہرتے ہیں۔ مومن کے لئے جنت کی وسعت زمین و آسمان کی وسعت جتنی ہے اور جنت اصل میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔ جنت اور دوزخ د وجگہیں نہیں بلکہ دو حالتیں ہیں ۔ خدا کو بھولنے والوں کو جہاں دوزخ نظر آئے گی وہیں نیک اعمال والے جنت کے نظارے کر رہے ہوں گے۔ پس اگر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو گئی تو وہی ایک مومن کے لئے جنت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اس کے حصول کی کوشش کی طرف متوجہ رکھے۔
حضور انور نے فرمایا کہ ایمان کی مضبوطی اور اعمال پر قائم رہنے کے لئے یہ بھی دعا کرتے رہیں کہ ایمان اور ہدایت کے بعد اے اللہ تو ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا ، کبھی ہمیں یہ خیال نہ آئے کہ ہم بڑی قربانیاں کرنے والے ہیں،کبھی دنیا کی چمک دمک ہمیں راستے سے ہٹانے والی نہ بن جائے اور کبھی یہ خیال نہ آئے کہ جماعت کے متفرق چندے ہمارے اوپر ایک بوجھ ہے بلکہ ہمیشہ یہ سوچ رہے کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس زمانے میں ہمیں اللہ تعالیٰ اپنے دین کی خاطر قربانیوں کی توفیق دے رہا ہے۔ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ چندے دینے سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے اور یہ محبت اور اخلاص کا کام ہے۔ نومبائعین کو پوری طرح نظام میں شامل کر کے انہیں مالی قربانیوں کی طرف توجہ دلائیں ۔اسی طرح بچوں کو بھی زیادہ سے زیادہ کوشش کر کے مالی نظام میں ضرور شامل کرنا چاہئے۔
حضور انور نے وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ وقف جدید کا 51واں سال گزر گیا اور اب 52واں سال شروع ہو گیا ہے گزشتہ سال وقف جدید کے چند ے کی وصولی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیشہ کی طرح دنیا بھر کی جماعتوں میں سے پاکستان پہلی پوزیشن پر ہے دوسری پر امریکہ اور تیسرے نمبر پر برطانیہ ہے ۔ افریقہ کی جماعتوں میں نائیجیریا اس سال پہلی پوزیشن پر ہے۔ فرمایا کہ وقف جدید کے مالی نظام میں چندہ دینے والوں کی کل تعداد بفضل اللہ تعالیٰ 5لاکھ 37ہزار نفوس سے متجاوز ہے۔ حضور انور نے برطانیہ ، امریکہ ، پاکستان ، جرمنی اور کینیڈاکی اندرونی جماعتوں کا وقف جدید کے چندے کی وصولی کے لحاظ سے نمایاں پوزیشنز پر آنے والی جماعتوں کا بھی ترتیب وار ذکر کیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان تمام مالی قربانی کرنے والوں کے اموال و نفوس میں بے انتہا بر کت ڈالے اور جماعت کی ترقی کی صورت میں بھی اللہ تعالیٰ ان قربانیوں کو بے انتہا پھل عطا فرمائے اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہر احمدی کا مقصد اور مطمح نظر رہے۔