سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 16جنوری 2009ء کو بیت الفتوح مورڈن لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ حضور انور کا یہ خطبہ جمعہ متعدد زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔
حضور انور نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت کافی بھی ہے۔ جس کا ذکر ایک مومن کسی نہ کسی حوالے سے کرتا رہتا ہے۔ایک حقیقی مومن جس کو اللہ تعالیٰ کی صفات کا ادراک ہے جب بھی کسی صفت کا اظہار کرتا ہے تو اس صفت کی گہرائی کو جانتے ہوئے کرتا ہے۔ صفت کافی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سی آیات میں مختلف سورتوں میں مختلف مضامین اور حوالوں کے تحت فرمایا ہے۔ حضور انور نے لغات کے حوالے سے صفت کافی کے معنی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ کسی چیز کا کافی ہونا کسی شئے یا کسی ذات پر قناعت کرنا یا تسلی پانا اس کے معنی ہیں ۔اگر دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے زیادہ کون سی ایسی ہستی ہے جو انسان کے لئے کافی ہے یا تسلی دینے والی ہے یا جس کے انعاموں پر انسان ہر وقت انحصار کرسکتا ہے۔ پھر اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ کسی چیز کو کسی سے دور کر کے اسے بچانا اورمحفوظ رکھنا۔ فرمایا کہ ایک حدیث کے حوالے سے اس کے یہ معنی بیان کئے گئے ہیں کہ جس نے رات کے وقت میں سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھیں تو وہ اس کے لئے کافی ہوں گی۔ بعض نے اس کے یہ معنی کئے کہ یہ دونوں آیات شر کے مقابلے میں کافی ہیں اورمکروہات سے بچاتی ہیں۔
حضور انو رنے سورۃبقرہ کی ان آخری دوآیات کی وضاحت میں فرمایا کہ ان میں دعائیں بھی ہیں او رشر سے بچنے اور ایمان میں پختگی کے راستے بھی بتائے گئے ہیں ۔ تزکیہ نفس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ، فرشتوں ، کتابوں اور رسولوں پر ایمان رکھو کیونکہ یہ ایمان میں کامل ہونے کا ذریعہ ہیں اور یہ ایمان صرف زبانی اقرار نہیں بلکہ عقیدے اور عمل کے لحاظ سے بھی ضروری ہے۔ پھر ان آیات میں بتایا گیا کہ خدا تعالیٰ کے احکامات انسانی وسعت کے اندر ہیں۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ہمیں حکم ہے کہ تمام احکام میں ، اخلاق میں ‘ عبادات میں آنحضرت ؐکی پیروی کریں۔ پس اگر ہماری فطرت کو وہ قوتیں نہ دی جاتیں جو آنحضرت ؐ کے کمالات کو اپنے اندر جذب کر سکتیں تو یہ حکم ہمیں ہرگز نہ ہوتا کہ ایسے بزرگ نبی کی پیروی کرو۔ کیونکہ خدا تعالیٰ فوق الطاقت کوئی تکلیف نہیں دیتا۔ پس یہ جو فرمایا گیا کہ یہ دو آخری آیات کافی ہیں ، یہ صرف پڑھ لینے سے نہیں بلکہ ان پر غور کرنے اور ان پر عمل کرنے کے لحاظ سے ہے۔ فرمایا کہ اصرکے ایک معنی عہد اور معاہدہ کے بھی ہیں ۔ اس لحاظ سے اس میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی گئی ہے کہ ہم نے جو تیرے سے عہد کئے ہیں انہیں ہم کبھی بھی توڑنے والے نہ بنیں جس طرح کہ پہلے لوگوں نے توڑے اور پھر انہیں تیری سزا کا سامنا کرنا پڑا۔
حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بعض دفعہ دنیاوی امتحانوں کے ذریعہ بھی بندوں کو آزماتا ہے تو یہاں اس حوالے سے بھی یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی قسم کے دنیاوی امتحان اور ابتلاء سے ہمیں بچائے اور ایسا نہ ہو کہ کوئی بھی پیش آنے والا امتحان ہماری طاقت سے باہر ہو۔ فرمایا کہ غفرکے معنی ڈھانکنے، معاملے کو درست کرنے اور اصلاح کرنے اور مٹا دینے کے بھی ہیں ۔ گویا یہ دعا ہے کہ اے اللہ ہمارے تمام ایسے کام جو تیرے نزدیک غلط ہیں ہماری خطا معاف کرتے ہوئے ان کے بداثرات کو مٹا دے اور آئندہ ہمیں اپنے معاملے درست رکھنے اور ہمیشہ اصلاح کی طرف مائل رہنے کی توفیق بھی عطا فرما۔ تو ہماراآقا اور مولیٰ ہے اور تیرے علاوہ کوئی نہیں جو ہمارے سے رحم ، مغفرت اور عفوکا سلوک کرے۔ فرمایا کہ یہ آیات اس لئے کافی ہیں کہ ایک مکمل جائزہ انسان کا اپنے سامنے آجاتا ہے اور جب ایک مومن بندہ اپنا جائزہ اور محاسبہ کرتے ہوئے اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر ایسے شخص کے لئے آنحضرت ؐ نے ضمانت دی ہے کہ ان آیات کا نازل کرنے والا اس بندے کے لئے کافی ہو جاتا ہے، اس کو برائیوں سے بچاتا ہے، نیکیوں کی توفیق دیتا ہے، اس میں قناعت پیدا کرتا ہے، اس کے ہم و غم میں اسے تسلی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میں ان آیات کو سمجھتے ہوئے اس کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
حضور انور نے فلسطینیوں پر اسرائیل کی طرف سے ہونے والے ظلم وستم اور بربریت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور حالات کا ذکر کرکے ان کے لئے دعا اور مالی امداد کی تحریک فرمائی۔