In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » خطبات » حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ » 2009ء »

اطمینان قلب کیلئے نیکیاں کرتے ہوئے اپنے اندر قناعت پیدا کریں

قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں خدا تعالیٰ کی صفت کافی کی عارفانہ تشریح، خدا تعالیٰ جس طرح پہلے ہمارے لئے کافی تھا ،وہ آج بھی ہے اور آئندہ بھی کافی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کوہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے ، سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ فرمودہ23؍جنوری 2009ء بمقام بیت الفتوح مورڈن لندن کاخلاصہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 23جنوری 2009ء کو بیت الفتوح مورڈن لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ جو کہ متعدد زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔

حضور انور نے خطبہ جمعہ کے آغاز میں سورۃ الزمر کی آیات 33تا38کی تلاوت کی اور فرمایا کہ ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ دو قسم کے لوگ ظالم ہوتے ہیں اور اپنی ہلاکت کے سامان کرتے ہیں ۔ ایک وہ جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتے ہیں اور غلط طریقے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اوردوسرے وہ لوگ ہیں جو سچائی کو جھٹلاتے ہیں ۔ یہ بنیادی اور اصولی بات ہے کہ جو بھی خد اتعالیٰ پر افتراء کرے گااور اسی طرح حق اور سچائی کو جھٹلانے والا گروہ بھی خد اتعالیٰ کی پکڑ میں آئے گا۔

حضور انور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود نے ہمارے سامنے دین حق کی خوبصورت تعلیم کو مزید نکھار کر ا ور چمکا کر پیش کیا۔ جس کے نتیجہ میں آپ کی قائم کردہ جماعت دن بدن بڑھتی چلی گئی اور بڑھ رہی ہے اور خاندانوں کے خاندان اور ملکوں میں گروہ در گروہ جماعت میں شامل ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں لیکن دنیاوی دولت اکٹھی ہو جانا یا ایک گروہ پیدا کرلینا کامیابی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم کا اس کے مقابلے پرلاکھوں گنا پھیلنا اور اس میں ترقی ہوتے چلے جانا یہ ہے اصل فلاح اور کامیابی ۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے روشن نشانات کے ساتھ آتے ہیں ،زمین و آسمان کی تائیدات ان کے ساتھ ہوتی ہیں اور یہ لوگ ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے اپنے ماننے والوں کو خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والے ہوتے ہیں۔

حضور انور نے فرمایاکہ مذکورہ بالا آیات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے برگزیدوں کو ماننے والے جو تقویٰ پر چلنے والے ہیں اپنے ربّ سے ہر وہ چیز پائیں گے جو وہ چاہیں گے۔ انہیں اطمینان قلب نصیب ہوگا، ان کے اندر قناعت پیدا ہو گی اور نیکیاں کرنے کی خواہش بھی پیدا ہو گی اور ان کی خواہش ہی اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوگا اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم دنیا میں بھی تمہارے دوست ہیں اور آخرت میں بھی تمہارے دوست رہیں گے۔

حضور انور نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے ان آیات میں یہ فرما کر ’’کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں‘‘ مزید تسلی دلائی کہ جھٹلانے والے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوؤں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ خدا تعالیٰ اس کا اور اسی طرح اس کے ماننے والوں کا مدد گار ہے۔ آنحضرت ﷺاور آپ ﷺکے صحابہؓ کی زندگی اس بات پر شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قدم پر آپؐ کی اور آپؐ کے ماننے والوں کی مدد اور نصرت فرمائی اور آج تک ہم دیکھ رہے ہیں کہ آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم پر مخالفین نہایت گھٹیاالزام لگاتے اور رقیق حملے کرتے ہیں لیکن دین حق کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے۔ مخالفین کی دھمکیاں نہ پہلے دین حق کا کچھ بگاڑ سکی تھیں اور نہ اب بگاڑ سکتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں ان کے لئے کافی ہوں اور اپنے بندے کو ان کے شر کے بد انجام سے ہمیشہ بچاؤں گا۔

حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو فرمایا کہ اپنے والد کی وفات کے بعد تجھے کسی قسم کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘ میں تیرے ساتھ ہوں اور پھر اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی فکر سے آپ کو ایسا آزاد کر دیا کہ آپ کے ہاتھوں سے ایک دنیا کو کھلایا اور آج تک کھلاتا چلا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مخالف کے ہر حملے پر، ہر کوشش اور ہر تکلیف سے آپ کو بچایا اور آپ کے لئے کافی ہوا ۔ حضور انور نے حضرت مسیح موعود کے ساتھ خدا تعالیٰ کے کافی ہونے کے نظارے واقعات کی صورت میں بیان کر کے فرمایا کہ اس کے نظارے اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دکھاتا ہے۔یہ نظارے دیکھ کر ہر احمدی کو اس پر غور کرتے ہوئے اپنے ایمان میں ترقی کرنی چاہئے ۔اللہ تعالیٰ ہمارے لئے جس طرح پہلے کافی تھا وہ آج بھی ہمارے لئے کافی ہے اور آئندہ بھی کافی ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ہمیشہ اپنی پناہ اور حفاظت میں رکھے اور مخالف کے شر سے بچائے۔

حضور انور نے مکرم سعید احمد صاحب ابن مکرم چوہدری غلام قادر صاحب اٹھوال آف کوٹری سندھ کے راہ مولا میں قربان ہونے اور مکرم رانا محمد خان صاحب ایڈووکیٹ سابق امیر ضلع بہاولنگر کی وفات پر ان کا ذکر خیر کیا اور نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ان دونوں احباب کی نماز جنازہ غائب پڑھانے کا بھی اعلان فرمایا۔