مولوی علی احمد بھاگلپوری کا واقعہ
مولوی احمد علی صاحب ایم اے بھاگلپوری بیان کرتے ہیں کہ میں جب پہلی مرتبہ دارالامان میں فروری ۱۹۰۸ء میں آیا ۔ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ التحیۃ والسلا م کا وجود باجود ہم میں موجود تھا۔ یوں تو حضرت اقدس کی مہمان نوازی اور اکرام ضیف کے قصے زبان زد خاص و عام ہیں لیکن میں اپنا ایک ذاتی تجربہ بیان کرتاہوں جس سے معلوم ہوگا کہ علاوہ خلیل اللہ جیسی مہمان نوازی کے حضور کو اپنے ان خدام کے وابستگان کا جن کو اس دارفانی سے رحلت کئے ایک عرصہ گزر گیا تھا کتنا خیال تھا اور ان کی دلجوئی حضور فرماتے تھے ۔ میں جس دن یہاں پہنچا تو ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر مبلغ اسلام متعینہ نائجیریا نے حضور کو ایک رقعہ کے ذریعہ مجھ جیسے ہیچمریزآدمی کے آنے کی اطلاع کی اور اس میں اس تعلق کو بھی بیان کیا جو مجھے حضرت مولانا حسن علی صاحب واعظ اسلام رضی اللہ عنہ سے تھا جن کی وفات فروری ۱۸۹۶ء میں واقع ہوئی تھی۔ میں نے بچشم خود دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا کہ حضور نے مہمان خانہ کے مہتمموں کو بلا کر سخت تاکید میر ی راحت رسانی کی فرمائی۔ وہ بیچارے کچھ ایسے پریشان سے ہو گئے۔ میں نے انہیں یہ کہہ کر کہ میں یہاں آرام اٹھانے اور مہمان داری کرانے کے لئے نہیں آیا ہوں میں ا س مقصد کے حصول کی کوشش میں آیا ہوں جس کولے کر حضور مبعوث ہوئے ہیں ان کو مطمئن کیا۔
حضرت مولوی حسن علی صاحبؓ کا واقعہ اور اعتراف مہمان نوازی
حضرت مولوی حسن علی صاحب بھاگلپوری پہلے اسلامی مشنری تھے جنہوں نے ۱۸۸۶ء میں ایک سکو ل کی ہیڈماسٹری سے استعفیٰ دے کر اسلام کی تبلیغ و اشاعت کااہم فریضہ اپنے ذمہ لیا۔ وہ ۱۸۸۷ء میں انجمن حمایت اسلام لاہور کے جلسہ پر تشریف لائے اور امرتسر میں بابو محکم الدین صاحب مختار عدالت اور دوسرے لوگوں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر سنا ۔ اس وقت آپ نے کوئی دعویٰ نہیں کیا تھا۔ اور نہ ابھی بیعت لیتے تھے البتہ براہین احمدیہ اور دوسری کتابیں شائع ہو چکی تھیں۔ اکثر نیک دل اور سلیم الفطرت لوگ آپ سے فیض پانے کے لئے قادیان بھی آتے رہتے تھے ۔ مولوی حسن علی صاحب مرحوم نے اپنے واقعہ کا خود اپنی قلم سے ذکر کیا جو ان کی کتاب تائید حق میں چھپاہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
’’جب میں امرتسر گیا تو ایک بزرگ کا نام سنا۔ جو مرزا غلا م احمد کہلاتے ہیں ضلع گورداسپور کے ایک گاؤں قادیان نامی میں رہتے ہیں اور عیسائیوں ،برہمو اور آریہ سماج والوں سے خوب مقابلہ کرتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ایک کتاب براہین احمدیہ نام بنائی ہے جس کا بڑاشہرہ ہے ۔ ان کا بہت بڑا دعویٰ یہ ہے کہ ان کو الہام ہوتاہے۔ مجھ کویہ دعویٰ معلوم کر کے تعجب نہ ہوا۔ گو میں ابھی تک اس الہام سے محروم ہوں جو نبی کے بعد محدث کو ہوتا رہاہے لیکن میں اس بات کو بہت ہی عجیب نہیں سمجھتا تھا۔ مجھ کو معلوم تھا کہ علاوہ نبی کے بہت سے بندگان خدا ایسے گزرے ہیں جو شرف مکالمہ الٰہیہ سے ممتاز ہوا کئے ہیں۔ غرض میرے دل میں جنا ب مرزا غلام احمد صاحب سے ملنے کی خواہش ہوئی۔ امرتسر کے دو ایک دوست میرے ساتھ چلنے کو مستعد ہوئے ۔ ریل پر سوار ہو کر بٹالہ پہنچا۔ ایک دن بٹالہ میں رہا پھر بٹالہ سے یکہ کی سواری ملتی ہے اس پر سوار ہو کر قادیان پہنچا ۔ مرزا صاحب مجھ سے بڑے تپاک اور محبت سے ملے۔ جناب مرزا صاحب کے مکان پر میرا وعظ ہوا ۔ انجمن حمایت اسلام لاہور کے لئے چندہ بھی ہوا۔ میرے ساتھ جو صاحب تشریف لے گئے وہ مرزا صاحب کے دعویٰ الہام کی وجہ سے سخت مخالف تھے اور مرزا صاحب کو فریبی اور مکار سمجھتے تھے ۔ لیکن مرزا صاحب سے مل کر ان کے سارے خیالات بدل گئے اور میرے سامنے انہوں نے جناب مرزا صاحب سے اپنی سابق کی بدگمانی کے لئے معذرت کی، مرزا صاحب کی مہمان نوازی کو دیکھ کر مجھ کو بہت تعجب سا گزرا ۔ ایک چھوٹی سی بات لکھتاہوں جس سے سامعین ان کی مہمان نوازی کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ مجھ کو پان کھانے کی بری عادت تھی ۔ امرتسر میں تو مجھے پان ملا۔ لیکن بٹالہ میں مجھ کو کہیں پان نہ ملا ناچار الائچی وغیرہ کھا کر صبر کیا۔ میرے امرتسر کے دوست نے کما ل کیاکہ حضرت مرزا صاحب سے نہ معلوم کس وقت میری اس بری عادت کا تذکرہ کر دیا ۔ جناب مرزا صاحب نے گورداسپور ایک آدمی روانہ کیا دوسرے دن گیارہ بجے دن کے جب کھانا کھا چکا تو پان موجود پایا۔ سولہ کوس سے پان میرے لئے منگوایا گیا تھا‘‘۔(تائید حق صفحہ ۵۵،۵۶)
یہ واقعہ اس شخص نے بیان کیا ہے جو اسلامی جوش تبلیغ اور اپنی قربانی کے لحاظ سے بے غرض اور صاف گو تھا اور واقعہ اس زمانہ کا ہے جب کہ آپ کا کوئی دعویٰ مسیحیت یا مہدویت کا نہ تھا اور نہ آپ بیعت لیتے تھے۔ ایک مہمان کی ضرورت سے واقف ہو کر اس قدر تردد اور کوشش کہ سولہ کوس کے فاصلہ سے پان منگوا یا گیا۔
مہمان نوازی کے اس وصف نے اس شخص کو جو ہندوستان کے تمام حصوں میں پھرچکا تھا اور بڑے بڑے آدمیوں کے ہاں مہمان رہ چکا تھا ، حیران کر دیا۔ اس کی سعادت اور خوش قسمتی تھی کہ اسے سات سال بعد ۱۸۹۴ء میں پھر قادیان لائی اور اس کو حضرت اقدس کی غلامی کی عزت بخشی جس پر وہ ساری عزتوں کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گیا ۔ غرض یہ واقعہ بھی اپنی نوعیت میں ایک عجیب روشنی آپ کے وصف مہمان نوازی پر ڈالتاہے۔
حضرت میر حامد شاہ صاحبؓ کا ایک واقعہ
حضرت میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی رضی اللہ عنہ نے ایک واقعہ اپنی ذات کے متعلق تحریر فرمایا کہ :
’’ ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے اور ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے حضور مرحوم و مغفور کی خدمت میں قادیان میں کچھ عرصہ قیام کے بعد رخصت حاصل کرنے کے واسطے عرض کیا ۔ حضور اندر تشریف رکھتے تھے اور چونکہ حضور کی رافت و رحمت بے پایاں نے خادموں کو اندر پیغام بھجوانے کاموقعہ دے رکھا تھا اس واسطے اس عاجز نے اجازت طلبی کے واسطے پیغام بھجوایا۔ حضور نے فرمایا کہ :
’وہ ٹھہریں ہم ابھی باہر آتے ہیں‘
یہ سن کر میں بیرونی میدان میں گول کمرہ کے ساتھ کی مشرقی گلی کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ اور باقی احباب بھی یہ سن کر کہ حضور باہر تشریف لاتے ہیں پروانوں کی طرح ادھر ادھر سے اس شمع انوار الٰہی پر جمع ہونے کے لئے آ گئے۔ یہاں تک کہ سیدنا مولانا نورالدین صاحب بھی تشریف لے آئے اور احباب کی جماعت اکٹھی ہو گئی۔ ہم سب کچھ دیر انتظار میں خم بر سرراہ رہے کہ حضور اندر سے برآمد ہوئے ۔ خلاف معمول کیا دیکھتا ہوں کہ حضور کے ہاتھ میں دودھ کا بھرا ہوا لوٹا ہے اور گلاس شاید حضرت میاں صاحب کے ہاتھ میں ہے اور مصری رومال میں ہے۔ حضور گول کمرہ کی مشرقی گلی سے برآمد ہوتے ہی فرماتے ہیں کہ شاہ صاحب کہاں ہیں؟میں سامنے حاضر تھا فی الفور آگے بڑھا اور عرض کیا حضور حاضر ہوں۔ حضور کھڑے ہو گئے اور مجھ کو فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ میں اسی وقت زمین پر بیٹھ گیا۔ گلا س میں دودھ ڈالا گیا اور مصری ملائی گئی۔ مجھے اس وقت یہ یاد نہیں رہا کہ حضرت محمود نے میرے ہاتھ میں گلاس دودھ بھرا دیا یا خود حضور نے (میں اس واقعہ کا دیکھنے والا ہوں خود حضرت نے گلاس اپنے ہاتھ سے دیا اور میری آنکھ اب تک اس موثر نظارے کو دیکھتی ہے گویا وہ بڑا گلاس حضرت کے ہاتھ سے میر صاحب کو دیا جا رہا ہے۔ ایڈیٹر) مگر یہ ضرور ہے کہ حضرت محمود اس کرم فرمائی میں شریک تھے۔ (صورت یہ تھی کہ حضرت نے مصری گھول کر لوٹے میں ڈالی اور اس کو ہلایا اور گلاس میں دودھ ڈال کر اچھی طرح سے ہلایا۔ پھر حضرت گلاس میں ڈالتے اور گلاس حضرت محمود کے ہاتھ میں ہوتا۔ پھر حضرت گلاس لے کر میر صاحب کو دیتے ۔ بعض دوستوں نے خود یہ کام کرنا چاہا مگر حضرت نے فرمایا نہیں نہیں کچھ حرج نہیں۔ ایڈیٹر)۔ میں نے جب وہ گلاس پی لیا تو پھر دوسرا گلاس پر کر کے عنایت فرمایا گیا میں نے وہ بھی پی لیا ۔ گلاس بڑاتھا میرا پیٹ بھر گیا۔ پھر اسی طر ح تیسرا گلاس بھراگیا میں نے بہت شرمگین ہو کر عرض کیا کہ حضور اب تو پیٹ بھر گیاہے ۔ فرمایا اور پی لو ۔ میں نے وہ تیسرا گلاس بھی پی لیا۔ پھر حضور نے اپنی جیب خاص سے چھوٹی چھوٹی بسکٹیں نکالیں اور فرمایا کہ جیب میں ڈا ل لو راستہ میں اگر بھوک لگی تو یہ کھا نا ۔ میں نے وہ جیب میں ڈال لیں ۔ حضرت محمود لوٹا اور گلاس لے کر اندر تشریف لے گئے۔ اور حضور نے فرمایا کہ چلو آ پ کو چھوڑ آئیں۔ میں نے عرض کیا کہ حضور اب میں سوار ہو جاتاہوں اور چلا جاؤں گا حضور تکلیف نہ فرمائیں مگر اللہ رے کرم و رحم کہ حضور مجھ کو ساتھ لے کر روانہ ہو پڑے۔
باقی احباب جو موجود تھے ساتھ ہو لئے اور یہ پاک مجمع اسی طرح اپنے آقا مسیح موعود کی محبت میں اس عاجز کے ہمراہ روانہ ہوا۔ حضور حسب عادت مختلف تقاریر فرماتے ہوئے آگے آگے چلتے رہے یہاں تک کہ بہت دور نکل گئے ۔ تقریر فرماتے تھے اور آگے بڑھتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ حضرت سیدناو مولانا مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ نے قریب آ کر مجھے کان میں فرمایا کہ:آگے ہو کر عرض کرو اور رخصت لو جب تک تم اجازت نہ مانگو گے حضور آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔ میں حسب ارشاد والا آگے بڑھا اور عرض کیا کہ حضور اب سوار ہوتاہوں حضور تشریف لے جائیں۔ اللہ اللہ ! کس لطف سے اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ :’’اچھا ہمارے سامنے سوار ہو جاؤ‘‘۔ میں یکہ میں بیٹھ گیااور سلام عرض کیا تو پھر حضور واپس ہوئے۔
مجھے یاد ہے کہ محمد شادی خان صاحب بھی اس وقت بٹالہ جانے کے واسطے میرے ساتھ سوار ہوئے تھے ۔ انہوں نے حضور کی اس کریمانہ عنایت خاص پر تعجب کیا اور دیر تک راستہ میں مجھ سے تذکرہ کرتے رہے اور ہم خوش ہو ہوکر آپ کے اخلاق کریمانہ کے ذکر سے مسرور ہوتے تھے ۔
’’اے خدا کے پیار ے اور محمد ؐکے دلارے مسیح موعود تجھ پر ہزاروں سلام ہوں کہ تو اپنے خادموں کے ساتھ کیسامہربان تھا۔ تیری محبت ہمارے ایمانوں کے لئے اکسیر تھی ۔ جس سے ہمارے مس خام کو کندن ہونے کا شرف حاصل ہے۔ تیرے اخلاق کریمانہ اب بھی یاد آ آ کر خدا تعالیٰ کے حضور میں ہمارے قرب کا موجب ہو رہے ہیں‘‘۔
حضرت میر حامد شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ خودراقم الحروف کی آنکھوں کے سامنے گزرا ہے ۔ نہ صرف یہ بلکہ ایسے بہت سے واقعات کا عینی شاہد اللہ کے فضل سے ہے۔ اس واقعہ کو پیش کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی اور سیرت کے میں صر ف اس اسوہ ہی کو پیش نہیں کر رہا ہوں جو مہمان نوازی، اکرام ضیف اور مشایعت مہمان کے پہلوؤں پر حاوی ہے بلکہ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضور کو اپنا کام آپ کرنے میں قطعاً تامل نہ ہوتا تھا اور معاً یہ واقعہ آپ کی صداقت کی بھی ایک زبردست دلیل ہے ۔ اگر تکلف اور تصنع کو آپ کے اخلاق کے ساتھ کوئی تعلق ہوتا تو آپ اپنے مخلص اور جانثار مریدوں کے درمیان اس طرح پرکھڑے ہو کر اپنے ایک خادم کو دودھ نہ پلاتے جیسے ایک خادم اپنے آقا کو پلاتاہے ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ محبت اور ہمدردی مخلوق کے اس مقام پر کھڑا تھا جہاں انسان باپ سے بھی زیادہ مہربان اور شفیق ہوتا ہے ۔ وہ اپنے خادموں کو غلام نہیں بلکہ اپنے معزز اور شریف بھائی سمجھتا تھا۔ ان کے اکرام و احترام سے وہ سبق دیتا تھا کہ ہم کوکس طرح پر اپنے بھائیوں سے سلوک کرنا چاہئے اور کس طرح ایک دوسرے سے احترام کے اصول پر کاربند ہو کر اس حقیقی عزت و احترام کا دائرہ وسیع کرنا چاہئے جو مومنین کا خاصہ ہے۔
کیا دنیا کے پیروں اور مرشدوں میں اس کی نظیر پائی جاتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ ہاں یہ نظیر اگر ملے گی تو اس جماعت میں جو انبیاء علیہم السلام کی جماعت ہے اور یاان لوگوں میں ملے گی جنہوں نے منہاج نبوت پر خدا تعالیٰ کی تجلیوں اور فیوض کوحاصل کیاہے۔
منشی عبدالحق نو مسلم کاواقعہ
منشی عبدالحق بی اے جو مولوی چراغ الدین صاحب قصوری مدرس مشن سکول لاہور کے فرزند رشید ہیں اور ایک زمانہ میں عیسائی ہو گئے تھے اور لاہورمشن کالج میں بی اے کلاس میں پڑھتے تھے۔ انہوں نے الحکم اور حضرت اقدس کی بعض تحریروں کو پڑھ کر حضرت اقدس کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا تھاکہ وہ اسلام کی حقانیت اور صداقت کوعملی رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس پر حضرت خلیفۃ اللہ نے ان کو لکھ بھیجا تھا کہ وہ کم از کم دوماہ کے لئے قادیان آ جائیں ۔ چنانچہ وہ ۲۳؍دسمبر ۱۹۰۱ء کو بعد دوپہر قادیان پہنچے۔ حضرت اقدس کی طبیعت ان ایام میں ناساز تھی مگر باوجود ناسازی مزاج کے آپ دوسرے مہمانوں اور اس حق جوُمہمان کے لئے باہر تشریف لے آئے اور سیر کو تشریف لے گئے۔ اور تمام راستہ میں آتی اور جاتی دفعہ برابر تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس تبلیغ کا نتیجہ تو آخر میں یہ ہواکہ یہ نوجوان مسلمان ہوگیا او ر برہان الحق ایک رسالہ بھی تالیف کیا اور بھی چھوٹے چھوٹے رسالے لکھے ۔ مگر میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کر رہاہوں وہ یہ ہے کہ باوجود ناسازی طبیعت آپ مہمان نوازی کے اعلیٰ مقام پر ہونے کے باعث باہر تشریف لائے اور یہ دیکھ کر کہ وقت کو غنیمت سمجھناچاہئے آپ نے پوری تبلیغ فرمائی اور آخر میں منشی عبدالحق صاحب کو فرمایا :
’’آپ ہمارے مہمان ہیں اور مہمان وہی آرام پا سکتا ہے جو بے تکلف ہو پس آپ کو چاہئے کہ جس چیز کی ضرورت ہو مجھے بلا تکلف کہہ دیں‘‘۔
پھر جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ:
’’دیکھو یہ ہمارے مہمان ہیں اور تم میں سے ہر ایک کو مناسب ہے کہ ان سے پورے اخلاق سے پیش آوے اور کوشش کرتا رہے کہ ا ن کوکسی قسم کی تکلیف نہ ہو ‘‘۔(اخبار الحکم ،۳۱؍جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ ۳،۴)
منشی عبدالحق صاحب پر تو جو اثر حضرت کی تبلیغ کا ہوا اس کو آپ کے اس خُلقِ مہمان نوازی نے اور بھی قوی کر دیا اور جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے منشی صاحب مسلمان ہو گئے ۔ اور اب تک مسلمان ہیں۔ انہوں نے میاں سراج الدین صاحب بی اے کابھی ذکر کیا ۔( یہ وہی سراج الدین ہے جس کے نام پر سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب شائع ہوا ہے)۔ اس نے حضرت اقدس کی اعلیٰ درجہ کی اخلاقی خوبی کو خدا جانے کس آنکھ سے دیکھا ۔ جب وہ یہاں سے گیا ہے تو حضرت اقدس اس کو چھوڑنے کے لئے تین میل تک چلے گئے تھے ۔اس کا ذکر اس نے منشی عبدالحق سے ان الفاظ میں کیا:
’’جب میں آیا تھا تو وہ تین میل تک مجھے چھوڑنے آئے تھے ‘‘۔
میں اس موقع پر سلیم الفطرت قلوب سے اپیل کروں گا کہ وہ غور کریں ۔ حضرت مسیح موعود ایک شخص کو (جو عیسائی ہو گیا تھا اور اس کے رشتہ دار وغیرہ اسے قادیان اس غرض سے لائے تھے کہ اسے کچھ فائدہ پہنچے۔ چونکہ وہ دراصل اپنے بعض مقاصد کو لے کر عیسائی ہوگیاتھا اس لئے کچھ فائدہ نہ اٹھا سکا) چھوڑنے جا رہے ہیں۔ کیا یہ کسی ذاتی غرض و مقصد کا نتیجہ ہے یا محض شفقت اور ہمدردی لئے جارہی تھی۔ آپ کی فطرت میں یہ جوش تھا کہ کسی نہ کسی طرح یہ روح بچ جاوے اور اس وقت اور موقع کو غنیمت سمجھ کر آ پ نے اکرام ضیف بھی کیا اور تبلیغ بھی کی مگر وہ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔
الغرض منشی عبدالحق صاحب جب تک یہاں رہے حضرت کی مہمان نوازی کے معترف رہے اور اس کا ان کے قلب پر خاص اثر تھا۔ میں نے ان ایام میں دیکھا کہ حضرت قریباً روزانہ منشی عبدالحق کو سیر سے واپس لوٹتے وقت یہ فرماتے کہ :
’’آپ مہمان ہیں ، آپ کو جس چیز کی تکلیف ہو مجھے بے تکلف کہیں کیونکہ میں تو اندر رہتاہوں اور نہیں معلوم ہوتاکہ کس کو کیاضرورت ہے۔ آج کل مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے بعض اوقات خادم بھی غفلت کر سکتے ہیں ۔ آپ اگر زبانی کہنا پسند نہ کریں تو مجھے لکھ کر بھیج دیا کریں۔ مہمان نوازی تو میرا فرض ہے‘‘۔(اخبار الحکم ،۷؍فروری ۱۹۰۲ء صفحہ ۵)
