ایک ہندو سادھو کی تواضع
اکتوبر ۱۹۰۲ء میں ایک ہندوسادھو کوٹ کپورہ سے آیا اور حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ مسلمانوں کے لئے تو خاص تردد اور تکلیف نہیں ہو سکتی کیونکہ لنگر جاری تھا اور جاری ہے وہاں انتظام ہر وقت رہتاہے لیکن ایک ہندو مہمان کے لئے خصوصیت سے انتظام کرنا پڑتا ہے اور چونکہ وہ انتظام دوسروں کے ہاں کرانا ہوتا ہے اس لئے مشکلات ظاہر ہیں تاہم حضرت اقدس ہمیشہ ایسے موقعہ پر بھی پورا التزام مہمان نوازی کا فرماتے تھے ۔ ۶؍اکتوبر کی شام کو اس نے حضرت اقدس سے ملاقات کی ۔ آپ ؑ نے نہایت شفقت سے فرمایا کہ :
’’ یہ ہمارا مہمان ہے اس کے کھانے کا انتظام بہت جلد کر دینا چاہئے۔ ایک شخص کو خاص طورپر حکم دیا کہ ایک ہندو کے گھر اس کے لئے بندوبست کیا جاوے‘‘۔
چنانچہ فوراً یہ انتظام ہو گیا۔ آپ کے دسترخوان پر دوست دشمن کی کوئی خاص تمیز نہ تھی ۔ ہر شخص کے ساتھ جو آپ کے یہا ں مہمان آ جاتا آ پ پورے احترام اور فیاضی سے برتاؤ کرتے تھے۔ اور اکثرفرمایا کرتے تھے کہ مہمان کا دل شیشے سے بھی نازک ہوتاہے اس لئے بہت رعایت اور توجہ کی ضرورت ہے اور باربار لنگر خانہ کے خدام کو خود تاکید فرمایا کرتے تھے ۔ اور محض اسی خیال سے کہ مہمانوں کو کوئی تکلیف نہ ہو آپ نے اپنی حیات میں لنگر خانہ کا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا تاکہ بعض ضوابط اور قواعد کی پابندیاں کسی کے لئے تکلیف کا موجب نہ ہو جائیں۔ اور آپ کا یہ بھی معمول تھا کہ آپ ہرمہمان کے متعلق اس امر کا بھی التزام رکھتے تھے کہ وہ کس قسم کی عادات کھانے کے متعلق رکھتاہے ۔ مثلاً اگر حیدرآباد یاکشمیر سے کوئی مہمان آتا تو آپ اس کے کھانے میں چاول کا خاص طور پر التزام فرماتے کیونکہ وہاں کی عام غذا چاول ہے ۔ اور اس امر کی خاص تاکید کی جاتی اور کوشش یہ رہتی تھی کہ مہمان اپنے آپ کو اجنبی نہ سمجھے بلکہ وہ یہی سمجھے کہ اپنے گھر میں ہے ۔
حضرت اقدس کے معمولات میں یہ بات بھی تھی کہ جب وہ مہمانوں کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھتے تو ہمیشہ سب مہمانوں کے کھا چکنے کے بعد بھی بہت دیر تک کھاتے رہتے اور غرض یہ ہوتی تھی کہ کوئی شخص حجاب نہ کرے اور بھوکا نہ رہے اس لئے آپ بہت دیر تک کھانا کھاتے رہتے ۔ اگرچہ آپ کی خوراک بہت ہی کم تھی غرض آپ کی مہمان نوازی عدیم المثال تھی اور آپ کا دسترخوان بہت وسیع تھا۔
مولانا ابوالکلام آزاد کے بڑے بھائی ابونصر آہ مرحوم کاواقعہ
مولوی ابوالکلام آزاد (جو آج کل مسلمانوں کے سیاسی لیڈروں میں مشہورہیں) کے بڑے بھائی مولوی ابونصر آہ مرحوم ۳؍مئی ۱۹۰۵ء کو قادیان تشریف لائے تھے اور اخلاص و محبت سے آئے تھے ۔ حضرت اقدس نے ان سے خطاب کر کے ایک مختصر سی تقریر کی تھی۔ انہوں نے قادیان سے جانے کے بعد امرتسر کے اخبار وکیل میں اپنے سفر قادیان کاحال شائع کیاتھا۔
اگرچہ اس میں بعض دوسری باتوں کا بھی ذکر ہے اور اگر میں صرف اس حصہ کو یہاں درج کر دیتا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مہمان نوازی پر روشنی ڈالتاہے تو اس بات کے موضوع کے لحاظ سے مناسب تھا مگر اس مضمون کے ناتمام چھاپنے سے وہ اثر جوبھیئت مجموعی پڑتا ہے کم ہو جاتا ہے اس لئے میں ان خیالات کو پورا درج کر دیتاہوں۔ وہ فرماتے ہیں:
’’میں نے اورکیا دیکھا؟ قادیان دیکھا۔ مرزا صاحب سے ملاقات کی ، مہما ن رہا ۔ مرزا صاحب کے اخلاق اور توجہ کا مجھے شکریہ ادا کرناچاہئے۔ میرے منہ میں حرارت کی وجہ سے چھالے پڑ گئے تھے اور میں شور غذائیں کھا نہیں سکتا تھا۔ مرزا صاحب نے (جب کہ دفعتاً گھر سے باہر تشریف لے آئے تھے ) دودھ اور پاؤ روٹی تجویز فرمائی ‘‘۔
’’آج کل مرزا صاحب قادیان سے باہر ایک وسیع اور مناسب باغ (جو خود ان ہی کی ملکیت ہے) میں قیام پذیر ہیں ۔ بزرگان ملت بھی وہیں ہیں۔قادیان کی آبادی قریباً تین ہزار آدمیوں کی ہے ۔ مگر رونق اور چہل پہل بہت ہے ۔ نواب صاحب مالیر کوٹلہ کی شاندار اور بلند عمارت تمام بستی میں صرف ایک ہی عمارت ہے ۔ راستے کچے اور ناہموار ہیں بالخصوص وہ سڑک جو بٹالہ سے قادیان تک آتی ہے۔ یکہ میں مجھے جس قدر تکلیف ہوئی تھی نواب صاحب کے رتھ نے لوٹنے کے وقت نصف کی تخفیف کر دی‘‘۔
’’اگر مرزا صاحب کی ملاقات کا اشتیاق میرے دل میں موجزن نہ ہوتا تو شاید آٹھ میل تو کیا آٹھ قدم بھی میں آگے نہ بڑھ سکتا‘‘ ۔
اکرا م ضیف کی صفت خا ص اشخاص تک محدود نہ تھی ۔ چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک نے بھائی کا ساسلوک کیا۔ اور مولانا حاجی حکیم نورالدین صاحب جن کے اسم گرامی سے تمام انڈیا واقف ہے اور مولانا عبدالکریم صاحب جن کی تقریر کی پنجاب میں دھو م ہے ۔ مولوی مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بدر جن کی تحریروں سے کتنے انگریز یورپ میں مسلمان ہو گئے ہیں۔ جناب میر ناصر نواب صاحب دہلوی جو مرزا صاحب کے خسر ہیں۔ مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے ۔ ایل ۔ایل۔ بی ، ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز ، مولوی یعقوب علی صاحب تراب ایڈیٹر الحکم ۔ جناب شاہ سراج الحق صاحب وغیرہ وغیرہ پرلے درجہ کی شفقت اور نہایت محبت سے پیش آئے ۔افسوس کہ مجھے اور اشخاص کا نام یاد نہیں ورنہ میں ان کی مہربانیوں کا بھی شکر یہ ادا کرتا۔ مرزا صاحب کی صورت نہایت شاندارہے جس کا اثر بہت قوی ہوتاہے ۔آنکھوں میں ایک خاص طرح کی چمک اور کیفیت ہے اور باتوں میں ملائمت ہے ۔ طبیعت منکسر مگر حکومت خیز۔ مزاج ٹھنڈا مگر دلوں کو گرما دینے والا اور بردباری کی شان نے انکساری کیفیت میں اعتدال پیدا کر دیاہے۔ گفتگو ہمیشہ اس نرمی سے کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے گویا متبسم ہیں رنگ گورا ہے بالوں کوحنا کا رنگ دیتے ہیں ۔جسم مضبوط اور محنتی ہے سر پرپنجابی وضع کی سپید پگڑی باندھتے ہیں۔ سیاہ یا خاکی لمبا کوٹ زیب تن فرماتے ہیں پاؤں میں جراب اور دیسی جوتی ہوتی ہے ۔ عمر قریباً چھیاسٹھ سال کی ہے‘‘۔
’’مرزا صاحب کے مریدوں میں میں نے بڑی عقیدت دیکھی اور انہیں بہت خوش اعتقاد پایا۔ میری موجودگی میں بہت سے معزز مہمان آئے ہوئے تھے جن کی ارادت بڑے پایہ کی تھی۔ اور بے حد عقیدت مند تھے ‘‘۔
’’مرزا صاحب کی وسیع الاخلاقی کا یہ ادنیٰ نمونہ ہے کہ اثنائے قیام کی متواتر نوازشوں کے خاتمہ پر بایں الفاظ مجھے مشکور ہونے کا موقعہ دیا۔’’ہم آپ کو اس وعدہ پر اجازت دیتے ہیں کہ آپ پھرآئیں اور کم از کم دوہفتہ قیام کریں‘‘۔ (اس وقت کا تبسم ناک چہرہ اب تک میری آنکھوں میں ہے)۔
’’میں جس شوق کو لے کر گیا تھا ساتھ لایا۔ اور شاید وہی شوق مجھے دوبارہ لے جائے واقعی قادیان نے اس جملہ کو اچھی طرح سمجھا ہے حسن خُلقکَ وَلَو مَعَ الکُفٖار۔۔۔ میں نے اور کیا دیکھا بہت کچھ دیکھا مگر قلم بند کرنے کا موقع نہیں سٹیشن جانے کا وقت سر پر آ چلا ہے پھر کبھی بتاؤں گا کہ میں نے کیا دیکھا ۔راقم آہ دہلوی‘‘۔( الحکم ۲۴؍ مئی۱۹۰۵ء صفحہ ۱۰)
افسوس ہے کہ مولانا ابونصر آہ کو موت نے فرصت نہ دی ورنہ وہ دوبارہ قادیان میں آتے اور ضرور آتے اور جو وعدہ کر کے یہاں سے گئے تھے اسے پورا کرتے ۔ سلسلہ کے لئے ایک محبت اور اخلاص کی آگ ان کے سینہ میں سلگ چکی تھی اور ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کے اس اخلاص کا نیک بدلہ انہیں دے گا۔ مولانا ابونصر کی یہ تحریر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے شمائل و اخلاق کا ایک مختصر سا مرقع ہے۔
خاکسار مؤلف کا اپنا واقعہ
میں پہلی مرتبہ ۱۸۹۳ء کے مارچ مہینے کے اواخر میں قادیان آیا۔ راستہ سے ناواقف تھا اور بٹالہ گاڑی شام کے قریب آتی تھی۔ دن تھوڑا ساباقی تھا۔ میرے پاس کچھ سامان سبزی وغیرہ قسم کا تھا۔ مجھے یکہ کوئی نہ ملا۔ میں نے ایک مزدور جو بٹالہ میں جوتوں کی مرمت کیا کرتا تھا ساتھ لیا ۔ وہ بڈھا آدمی تھا اور اس کا گھر دوانی وال تھا۔راستہ میں جب وہ اپنے گاؤں کے قریب پہنچا تو اس نے کہا کہ میں گھر سے ہو آؤں اور گھر والوں کو اطلاع دے آؤں کہ قادیان جاتاہوں۔ اسے گھر میں اچھی خاصی دیر ہو گئی اور آفتاب غروب ہو گیا۔ میں نے بٹالہ میں راستہ کی کچھ تفصیلات معلوم کی تھیں کہ نہر آئے گی اس سے آگے ایک چھوٹی سے پُلی آئے گی وہاں سے قادیان کو راستہ جاتاہے۔ رات اندھیری تھی ہم دونوں چلے آئے مگر وہ بھی راستہ سے پورا واقف نہ تھا ۔ نہر پہنچے تو چونکہ نہر بند تھی ہمیں کچھ معلوم نہ ہواکہ نہر آ گئی ہے اور اس لئے آگے جو نشان بتایا گیا تھا اس کا بھی پتہ نہ لگا۔ اور ہم ہرچووال کی نہر پر جا پہنچے مگر سفر کی طوالت وقت کے زیادہ گزرنے سے معلوم ہوئی تھی گو شوق کی وجہ سے کچھ تکان نہ تھی۔ میں نے ا س بڈھے مزدور سے کہا کہ تم کہتے تھے میں راستہ سے واقف ہوں اور ہم کو بٹالہ سے چلے ہوئے بہت عرصہ ہو گیا ابھی تک وہ موڑ نہیں آتا یہ کیا بات ہے؟ اس نے کہاکچھ پتہ نہیں۔ الغرض جب ہم ہرچووال پہنچے تو جا کر معلوم ہوا کہ ہم راستہ بھول گئے ہیں۔ اتفاقاً وہاں ایک آدمی مل گیا اور اس نے ہم کو ہماری غلطی پر آگاہ کیا۔ اور ہم واپس ہوئے اور لیل کلاں کے قریب آ کر پھر بھولے مگر اس وقت دو تین آدمی لیل سے باہر نکل کر باہر جارہے تھے کہ انہوں نے ہم کو سیدھے راستہ پر ڈال دیا۔
اس پریشانی میں اس رفیق سفر پر بہت غصہ آتا تھا مگراس کا نتیجہ کچھ نہ تھا۔ آخر اس راستہ پر جو لیل سے قادیان کو آتا ہے ہم قادیان کے باغ کے قریب پہنچے۔ باغ کے پاس آئے تو آگے پانی تھا ۔ باغ کی طرف سے ہم نے آوازدی تو ایک شخص نے کہا چلے آؤ پانی پایاب ہے۔ غرض وہاں سے گزر کر مہمان خانہ پہنچے۔ رمضان کا آغاز تھا او ر لوگ اس وقت اٹھ رہے تھے مہمان خانہ کی کائنات صر ف دو کوٹھریاں ایک دالان تھا جو مطب والا ہے۔ باقی موجودہ مہمان خانہ تک پلیٹ فارم ہی تھا۔ حضرت حافظ حامد علی مرحوم کو خبر ہوئی کہ کوئی مہمان آیاہے۔ اس وقت مہمان خانہ کے مہتمم کہو، داروغہ کہو، خادم سمجھو سب کچھ وہی تھے۔ میرے وہ واقف وآشنا تھے۔جب وہ آ کر ملے تو محبت اور پیار سے انہوں نے مصافحہ اور معانقہ کیا اور حیرت سے پوچھا کہ اس وقت کہاں سے۔ میں نے جب واقعات بیان کئے تو بیچارے بہت حیران ہوئے ۔ میں نے وہ سبزی وغیرہ ان کے حوالے کی وہ لے کر اسی وقت اندر گئے ۔ اور حضرت صاحب کو اطلاع کی ۔ میرا خیال ہے کہ تین بجے کے قریب قریب وقت تھا ۔ حضرت صاحب نے اسی وقت مجھے گول کمرہ میں بلا لیا۔ اوروہاں پہنچنے تک پرتکلف کھانا بھی موجود تھا۔ میں اس ساعت کو اپنی عمر میں کبھی نہیں بھول سکتا کہ کس محبت اور شفقت سے باربار فرماتے تھے آپ کو بڑی تکلیف ہوئی ۔ میں عرض کرتا رہا نہیں حضور تکلیف تو کوئی نہیں ہوئی معلوم بھی نہیں ہوا۔ مگر آپ بار بار فرماتے ہیں راستہ بھول جانے کی پریشانی بہت ہوتی ہے۔ اور کھانا کھانے کے لئے تاکید فرمانے لگے۔ مجھے شرم آتی تھی کہ آپ کے حضور کس طرح کھاؤں میں نے تامّل کیا مگر آپ نے خود اپنے دست مبارک سے کھانا آگے کر کے فرمایا کہ کھاؤ ، بہت بھوک لگی ہوگی۔سفر میں تکان ہو جاتا ہے۔ آخر میں نے کھانا شروع کیا تو پھر فرمانے لگے کہ خوب سیر ہو کر کھاؤ شرم نہ کرو ۔ سفر کر کے آئے ہو۔
حضرت حامد علی صاحب بھی پاس ہی بیٹھے تھے اور آپ بھی تشریف فرما تھے میں نے عرض کیا کہ حضور آ پ آرام فرمائیں میں اب کھا لوں گا۔ حضرت اقدس نے اس وقت محسوس کیا کہ میں آپ کی موجودگی میں تکلف نہ کروں ۔ فرمایا ’’اچھا حامد علی تم اچھی طرح سے کھلاؤ اور یہاں ہی ان کے لئے بستر بچھا دو تا کہ یہ آرام کر لیں اور اچھی طرح سے سو جائیں‘‘۔ آ پ تشریف لے گئے مگر تھوڑی دیر بعد ایک بسترا لئے ہوئے پھر تشریف لے آئے ۔ میر ی حالت اس وقت عجیب تھی ایک طرف تو میں آپ کے اس سلوک پر نادم ہو رہا تھا کہ ایک واجب الاحترام ہستی اپنے ادنیٰ غلام کے لئے کس مدارات میں مصروف ہے ۔ میں نے عذر کیا کہ حضور کیوں تکلیف فرمائی ۔فرمایا ’’نہیں نہیں تکلیف کس بات کی آپ کو آج بہت تکلیف ہوئی ہے اچھی طرح آرام کر و‘‘۔
غرض آپ بسترا رکھ کر تشریف لے گئے اور حافظ حامد علی صاحب میرے پاس بیٹھے رہے ۔ انہوں نے محبت سے کھانا کھلایا اور بسترا بچھا دیا۔ میں لیٹ گیا تو مرحوم حافظ حامد علی نے میری چاپی کرنی چاہی تو میں نے بہت ہی عذر کیا تو وہ رکے مگر مجھے کہاکہ حضرت صاحب نے مجھے فرمایا تھا کہ ذرا دبا دینا بہت تھکے ہونگے ۔ ان کی یہ بات سنتے ہی میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل گئے کہ اللہ ! اللہ! کس شفقت اور محبت کے جذبات اس دل میں ہیں ۔ اپنے خادموں کے لئے وہ کس درد کا احساس رکھتا ہے۔فجر کی نماز کے بعد جب آپ تشریف فرما ہوئے تو پھر دریافت فرمایا کہ نیند اچھی طرح آگئی تھی ۔ اب تکان تونہیں۔غرض اس طرح پر اظہار شفقت فرمایا کہ مجھے مدت العمر یہ لطف اور سرو ر نہ بھولے گا۔ میں چند روز تک رہا اور ہر روز آپ کے لطف و کرم کو زیادہ محسوس کرتا تھا۔ جانے کے لئے اجازت چاہی تو فرمایا نوکر ی پر تو جانا نہیں اور دو چار روز رہو میں پھر ٹھہر گیا ۔ آخر آپ کی محبت و کرم فرمائی کے جذبات کا ایک خاص اثر لے کر گیا اور وہ کشش تھی کہ مجھے ملازمت چھڑا کر یہاں لائی اور پھر خدا تعالیٰ نے اپنا فضل کیا کہ مجھے اس آستانہ پر دھونی رما کر بیٹھ جانے کی توفیق عطا فرمائی۔ والحمدللہ علی ذالک۔
میں نے مختصراً اس واقعہ کو صاف اور سادہ الفاظ میں بیان کر دیا ہے ۔ میں اس وقت ایک غریب طالب علم تھا اور کسی حیثیت سے کوئی معروف درجہ نہ رکھتا تھا۔مگر حضرت اقدس کی مہما ن نوازی اور وسعت اخلاق سب کے لئے یکساں تھی۔ وہ ہر آنے والے کو سمجھتے تھے کہ یہ خدا کے مہمان ہیں۔ ان کی آسائش ، تالیف قلوب اور ہمدردی میں کوئی دقیقہ باقی نہ رکھتے تھے آپ کی پیاری پیاری باتوں اور آرام دہ برتاؤ کو دیکھ کر گھر بھی بھول جاتا تھا۔ ہر ملاقات میں پہلے سے زیادہ محبت اور شفقت کا اظہار پایا جاتا تھا۔ اور مخفی طور پر خادم مہمان خانہ کوہدایت ہوتی تھی کہ مہمانوں کے آرام کے لئے ہر طرح خیال رکھو۔ اور براہ راست انتظام اپنے ہاتھ میں اس لئے رکھا تھا کہ مہمانوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہونے پائے۔
میاں رحمت اللہ باغانوالہ کا واقعہ
میاں رحمت اللہ باغانوالہ سیکرٹری انجمن احمدیہ بنگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص خادموں میں سے ہیں اور بنگہ کی جماعت میں ان کے بعد خدا تعالیٰ نے بڑی برکت اور ترقی بخشی ۔ ۱۹۰۵ء میں جبکہ حضرت اقدس باغ میں تشریف فرما تھے ۔ میاں رحمت اللہ قادیان آئے ہوئے تھے اور وہ مہمان خانہ میں حسب معمول ٹھہرے ہوئے تھے ۔ میاں نجم الدین مرحوم لنگر خانہ کے داروغہ اور مہتمم تھے ۔ ان کی طبیعت کسی قدر اکھڑسی واقع ہوئی تھی۔ اگرچہ اخلاص میں وہ کسی سے کم نہ تھے۔ اور سلسلہ کی خدمت اور مہمانوں کے آرام کا اپنی طاقت اور سمجھ کے موافق بہت خیال رکھتے تھے۔ اور مجتہدانہ طبیعت پائی تھی۔ میاں رحمت اللہ صاحب نے کچھ تکلف سے کام لیا ۔ روٹی کچی ملی اور وہ بیمار ہو گئے ۔ مجھ کو خبر ہوئی میں نے ان سے وجہ دریافت کی تو بتایا کہ روٹی کچی تھی۔ اور تنور کی روٹی عام طور پر کھانے کی عاد ت نہیں مجھ ان کی تکلیف کااحساس ہوا۔ میری طبیعت بے دھڑک سی واقعہ ہوئی ہے ۔ میں سیدھا حضرت صاحب کے پاس گیا۔ اطلاع ہونے پر آ پ فوراً تشریف لے آئے ۔ اور باغ کی اس روش پر جومکان کے سامنے ہے ٹہلنے لگے ۔ اور دریافت فرمایا کہ میاں یعقوب علی کیابات ہے؟ میں نے واقعہ عرض کر کے کہا کہ حضور !یا تو مہمانوں کو سب لوگوں پر تقسیم کر دیاکرو اور یاپھر انتظام ہو کہ تکلیف نہ ہو۔ میں آج سمجھتاہوں اور اس احساس سے میرا دل بیٹھنے لگتا ہے۔ کہ میں نے خدا تعالیٰ کے مامور و مرسل کے حضور اس رنگ میں کیوں عرض کی؟ مگر اس رحم و کرم کے پیکر نے اس کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں کی کہ میں نے کس رنگ میں بات کی ہے فرمایا ،’’آپ نے بہت ہی اچھا کیا کہ مجھ کو خبر دی میں ابھی گھر سے چپاتیاں پکوانے کا انتظام کردوں گا۔ اورمیاں نجم الدین کو بھی تاکید کرتاہوں اسے بلا کر میرے پاس لاؤ۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ اگر کسی مہمان کو تکلیف ہو تو فوراً مجھے بتاؤ۔ لنگر خانہ والے نہیں بتاتے اور ان کو پتہ بھی نہیں لگ سکتا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ میاں رحمت اللہ کہا ں ہیں؟ وہ زیادہ بیمار تو نہیں ہو گئے اگر وہ آ سکتے ہیں تو ان کو بھی یہاں لے آؤ۔
میں نے واپس آ کر میاں رحمت اللہ صاحب سے ذکر کیا ۔ وہ بیچارے بہت محجوب ہوئے کہ آپ نے کیوں حضرت کو تکلیف دی۔ میری طبیعت اب اچھی ہے۔ خیر میں ان کو حضرت کے پاس لے گیا اور میاں نجم الدین صاحب کی بھی حاضری ہوئی۔ حضرت نے میاں رحمت اللہ صاحب سے بہت عذر کیا کہ بڑی غلطی ہو گئی۔ آپ کو تکلف نہیں کرنا چاہئے تھے۔ میں باغ میں تھا ورنہ تکلیف نہ ہوتی۔ اب انشاء اللہ انتظام ہو گیاہے۔ جس قدرحضرت عذر اور دلجوئی کریں میں او ر میاں رحمت اللہ اندر ہی اندر نادم ہوں اور پھر جتنے دن وہ رہے حضرت نے روزانہ مجھ سے دریافت فرمایا کہ تکلیف تونہیں۔ میاں نجم الدین صاحب کو بھی بہت تاکید اور وعظ فرمایا کہ یہ خدا تعالیٰ کے مہمان ہیں یہ خداکے لئے آتے ہیں اور گھروں کا آرام چھوڑ کر آتے ہیں۔ اگر ان کی صحت ہی درست نہ رہے تو یہ اس غرض کو کیونکر حاصل کر سکیں گے جس کے لئے یہاں آتے ہیں۔ بہت کچھ ان کو سمجھایا اور وہ اپنے طریق کے موافق عذر کرتے رہے۔
میرا مطلب اس سے یہ دکھانا ہے کہ اگر کسی مہمان کو ذرا سی بھی تکلیف ہو تو آ پ فوراً بے قرار ہو جاتے تھے اور جب تک اس کو اطمینان اور آرام کی حالت میں نہ دیکھ لیں آ پ صبر نہ کرتے تھے ۔
