مہمان نوازی پر اجمالی نظر
آپ کی مہما ن نوازی کے واقعات اور مثالیں اس کثر ت سے ہیں کہ اگر ان سب کو جمع کیا جاوے تو بجائے خود ایک مستقل کتاب ہو سکتی ہے اللہ تعالیٰ جس کو توفیق دے گاوہ اس خصوص میں ایسا ذخیرہ جمع کردیگا۔
آپ کی عام خصوصیات مہمان نوازی میں یہ تھیں کہ :
(۱)۔۔۔ آپ مہمان کے آنے سے بہت خوش ہوتے تھے اور آ پ کی انتہائی کوشش ہوتی تھی کہ مہمان کو ہر ممکن آرام پہنچے ۔ اور آپ نے خدام لنگر خانہ کو ہدایت کی ہوئی تھی کہ فوراً آ پ کو اطلاع دی جائے ۔ اور یہ بھی ہدایت تھی کہ جس ملک اور مذاق کا مہمان ہو اس کے کھانے پینے کے لئے اسی قسم کا کھانا تیار کیاجاوے۔مثلاً اگر کوئی مدراسی، بنگالی یا کشمیری آ گیاہے توان کے لئے چاول تیار ہوتے تھے۔ ایسے موقعہ پر فرمایا کرتے تھے کہ اگر ان کی صحت ہی درست نہ رہی تو وہ دین کیا سیکھیں گے ۔
ایک مرتبہ سید محمد رضوی صاحب وکیل ہائی کورٹ حیدرآباد دکن حیدرآباد سے ایک جماعت لے کر آئے ۔ سید صاحب ان ایام میں ایک خاص جوش اور اخلاص رکھتے تھے ۔ حیدرآبادی لوگ عموماً ترش سالن کھانے کے عادی ہوتے ہیں ۔آپ نے خاص طور پر حکم دیا کہ ان کے لئے مختلف قسم کے کھٹے سالن تیار ہواکریں تاکہ ان کو تکلیف نہ ہو۔ ایسا ہی سیٹھ اسماعیل آدم بمبئی سے آئے تو ان کے لئے بلاناغہ دونوں وقت پلاؤ اور مختلف قسم کے چاول تیار ہوتے تھے۔ کیونکہ وہ عموماً چاول کھانے کے عادی تھے ۔ مخدومی حضرت سیٹھ عبدالرحمان صاحب مدراسی رضی اللہ عنہ بھی ان ایام میں قادیان میں ہی تھے ۔ غرض آپ اس امر کا التزام کیاکرتے تھے کہ مہمانوں کو کسی قسم کی تکلیف کھانے پینے میں نہ ہو۔
(۲)۔۔۔ یہ امر بھی آپ کی مہمان نوازی کے عام اصولوں میں داخل تھا کہ جس وقت کوئی مہمان آتا تھا اسی وقت اس کے لئے موسم کے لحاظ سے چاء لسی یا شربت مہیاکرتے ۔ اور اس کے بعد کھانے کافوری انتظام ہوتا تھا اور اگر جلد تیار نہ ہو سکتا ہو یا موجود نہ ہو تو دودھ ڈبل روٹی یا اور نرم غذا فواکہات غرض کچھ نہ کچھ فوراً موجو د کیا جاتا۔ اور اس کے لئے کوئی انتظار آ پ روانہ رکھتے۔ بعض اوقات دریافت فرما لیتے اور بعض اوقات کھانا ہی موجود کرتے ۔ ایسے واقعات ایک دو نہیں سینکڑوں سے گزر کر ہزاروں تک ان کا نمبر پہنچتاہے۔
جناب قاضی امیر حسین صاحب بھیروی جو عرصہ دراز سے ہجرت کر کے قادیان بیٹھے ہوئے تھے ایک زمانہ میں امرتسر کے مدرسۃ المسلمین میں ملازم تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں امرتسر سے قادیان میں آیا اور حضرت صاحب کو اطلاع دی ۔ آپ فوراً تشریف لائے اور شیخ حامد علی صاحب کو بلاکر حکم دیا کہ قاضی صاحب کے لئے جلد چائے لاؤ۔ یہ ایک واقعہ نہیں علی العموم ایساہی ہوتا تھا۔
(۳)۔۔۔ آپ کی مہمان نوازی کی تیسری خصوصیت یہ تھی کہ آپ مہمان کے جلدی واپس جانے سے خوش نہ ہوتے تھے بلکہ آپ کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ وہ زیادہ دیر تک رہے ۔ تا کہ پورے طور پر اس کے سفر کا مقصد پورا ہو اور آپ کی دعوت کی تبلیغ ہو سکے۔ اس لئے جلد اجازت نہ دیتے تھے۔ بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ ابھی کچھ دن اور رہو آ پ کے جو پرانے خدام ہوتے تھے ان کے ساتھ خصوصیت سے یہی برتاؤ ہوتاتھا۔
ایک مرتبہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی یہاں آئے وہ ا ن دنوں میں مجسٹریٹی کے ریڈرتھے وہ ایک دو دن کے لئے یونہی موقع نکال کر آئے تھے مگر جب اجازت مانگیں تو یہی ہوتارہا کہ چلے جانا ابھی کون سی جلدی ہے اور اس طرح پران کو ایک لمبا عرصہ یہاں ہی رکھا۔
اصل بات یہ ہے کہ آپ دل سے یہی چاہتے تھے کہ احباب زیادہ دیر تک ٹھہریں ۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ حضرت کی اس سیرت سے کہ بہت چاہتے ہیں کہ لوگ ان کے پاس رہیں ۔ یہ نتیجہ نکالا کرتا ہوں کہ یہ آپ کی صداقت کی بڑی بھاری دلیل ہے اور آپ کی روح کو کامل شعور ہے کہ آپ منجانب اللہ اور راست باز ہیں ۔ جھوٹا آدمی ایک دن میں گھبرا جاتاہے اور وہ دوسروں کو دھکے دے کر نکالتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اس کا پول کھل جائے۔
(۴)۔۔۔ آپ کی مہمان نوازی کی چوتھی خصوصیت یہ تھی کہ مہمان کے ساتھ تکلف کابرتاؤ نہیں ہوتاتھا۔ بلکہ آپ اس سے بالکل بے تکلفانہ برتاؤ کرتے تھے ۔ اور وہ یقین کرتا تھا کہ وہ اپنے عزیزوں اور غمگسار دوستوں میں ہے۔ اور اس طرح پر وہ تکلف کی تکلیف سے آزاد ہو جاتاتھا۔ حضرت خلیفہ نورالدین صاحب آف جموں (جو حضرت اقدس کے پرانے مخلصین میں سے ہیں اور جنہوں نے بعض اوقات سلسلہ کی خاص خدما ت کی ہیں جیسے قبر مسیح کی تحقیقات کے لئے انہوں نے کشمیر کا سفر کیا اور اپنے خرچ پر ایک عرصہ تک وہاں رہ کر تمام حالات کو دریافت کیا)۔ بیان کرتے ہیں کہ جن ایام میں حضرت مولانا نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ نواب صاحب کی درخواست پر مالیر کوٹلہ تشریف لے گئے تھے میں قادیان آیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معمول تھاکہ مجھے دونوں وقت کھانے کے لئے اوپر بلا لیتے اور میں اور آپ دونوں ہی مل کر کھانا کھاتے ۔اور بعض اوقات گھنٹہ گھنٹہ ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹہ بیٹھے رہتے او ر انوسینٹ ریکری ایشن (تفریح بے ضرر ) بھی ہوتی رہتی۔ ایک دن ایک چاء دانی چائے سے بھری ہوئی اٹھا لائے ۔ اور فرمایا کہ خلیفہ صاحب یہ تم نے پینی ہے یا میں نے ۔ خلیفہ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ حضور اس کا کیا مطلب ہے؟ فرمایا ہمارے گھر والوں پر حرام ہے اس سے اور بھی تعجب خلیفہ صاحب کو ہوا ۔ ان کو متعجب پا یا تو فرمایا یہ حرام طبی ہے شرعی نہیں۔ ان کی طبیعت اچھی نہیں اور چائے ان کے لئے مضر ہے۔ غرض یہ بظاہر ایک لطیفہ سمجھا جا سکتا ہے مگر آپ کی غرض اس واقعہ سے یہ بھی تھی کہ خلیفہ صاحب خوب سیر ہو کر پئیں کیونکہ گھر میں تو کسی نے چائے پینی نہ تھی اور حضرت کو یہ خیال تھا کہ خلیفہ صاحب بوجہ کشمیر میں رہنے کے چائے کے عادی سمجھے جاسکتے ہیں اور چائے بہت پیتے ہونگے۔ اس لئے آپ ان کی خاطر داری کے لئے بہت سی چائے بنوا کر لائے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ تم نے اورمیں نے ہی پینی ہے تا کہ ایک قسم کی مساوات کے خیال سے ان کو تکلف نہ رہے غرض مہمانوں میں کھانے پینے اور اپنی ضروریات کے متعلق بے تکلفی پیدا کر دیتے تھے تا کہ وہ اپنا گھر سمجھ کر آزادی اور آرام سے کھا پی لیں۔
اسی بے تکلفی پیدا کرنے کے لئے کبھی کبھی شہتوت بیدانہ کے ایام میں باغ میں جاکر ٹوکرے بھروا کر منگواتے اور مہمانوں کو ساتھ لے کر خود بھی انہی ٹوکروں میں سے سب کے ساتھ کھاتے۔ آہ ! وہ ایام کیا مبارک اور پیارے تھے ۔ ا ن کی یاد آتی ہے تو تڑپا جاتی ہے۔
بیٹھے بیٹھے ہمیں کیا جانئے کیا یاد آیا
سفر میں بھی جب کبھی ہوتے تو اپنے مہمانوں کا خاص خیال رکھتے ۔ جن ایام میں گورداسپور مقدمہ کی پیروی کے لئے گئے ہوئے تھے احباب کو معلوم ہے کہ کس طرح پر مہمانوں کی خاطر مدارات کا خیال رکھا جاتاتھا۔ آموں کے موسم میں آموں کے ٹوکرے منگوا کر اپنے خدام کے سامنے رکھتے۔
ایک مرتبہ خواجہ صاحب کے لئے آموں کا ایک بار خر خریدا گیا۔ احباب مذاق کرتے تھے کہ خواجہ صاحب آموں کا گدھا کھا گئے۔خواجہ صاحب کو کھانے پینے کا بہت شوق تھا اور حضرت اقدس ان کے احساسات کاخیال رکھتے تھے اس لئے ان کے لئے خاص طور پر اہتمام ہوتا ۔ اور خود خواجہ صاحب بھی شب دیگ وغیرہ پکاتے رہتے۔ میرا مطلب ا ن واقعات کے بیان کرنے سے یہ ہے کہ اپنے مہمانوں اور خادموں کے ساتھ بے تکلفی کا برتاؤ کیا کرتے تھے۔ ایسا ہی حضرت مولوی شیر علی صاحب کی روایت ہے حضرت صاحبزادہ صاحب نے سیرت المہدی میں ایک واقعہ لکھاہے کہ مولوی صاحب اور چند اور آدمی جن میں خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب بھی تھے حضرت اقد س کی ملاقات کو اندر مکان میں حاضر ہوئے۔ آ پ نے خربوزے کھانے کو دئے۔ اور مولوی صاحب کوایک موٹا سا خربوزہ دیا اور فرمایا کہ اسے کھا کر دیکھیں کیساہے؟پھر آپ ہی مسکرا کر فرمایا کہ موٹا آدمی منافق ہوتاہے پھیکا ہی ہوگا۔ چنانچہ وہ پھیکا ہی نکلا۔ یہ لطیفہ بھی بے تکلفی کی ایک شان اپنے اندر رکھتاہے۔
(۵)۔۔۔ آپؑ کی مہمان نوازی کی ایک یہ بھی خصوصیت تھی کہ آپ مہمانوں کے آرام کے لئے نہ صرف ہر قسم کی قربانی کرتے تھے بلکہ ہر ممکن خدمت سے کبھی مضائقہ نہ فرماتے تھے۔
حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ نے اپنا ایک واقعہ بیان کیاہے اور اسے شائع کیا ہے کہ چار برس (۱۸۹۶ء کا غالباً واقعہ ہے کیونکہ ۱۹۰۰ء میں آپ نے یہ بیان شائع کیا تھا ۔ عرفانی) کا عرصہ گزرتا ہے کہ آپ کے گھر کے لوگ لودہانہ گئے ہوئے تھے ۔ جون کا مہینہ تھا مکان نیا نیا بناتھا۔ میں دوپہر کے وقت وہاں چارپائی بچھی ہوئی تھی اس پر لیٹ گیا۔ حضرت ٹہل رہے تھے ۔ میں ایک دفعہ جاگا تو آپ فرش پر میری چارپائی کے نیچے لیٹے ہوئے تھے ۔ میں ادب سے گھبرا کر اٹھ بیٹھا آپ نے بڑی محبت سے پوچھا ۔ آپ کیوں اٹھے ۔ میں نے عرض کیا کہ آپ نیچے لیٹے ہوئے ہیں میں اوپر کیسے سو رہوں۔ مسکرا کر فرمایا،’’میں تو آپ کا پہرہ دے رہا تھا ۔ لڑکے شور کرتے تھے انہیں روکتا تھا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آوے‘‘۔ (’’سیرت مسیح موعود‘‘ مصنفہ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب صفحہ ۴۱)
یہ محبت یہ دلسوزی اور خیر خواہی ماں باپ میں بھی کم پائی جاتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ان لوگوں میں ہی ودیعت کی جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کی مخلوق کی ہدایت کے لئے مامور ہو کر آتے ہیں۔ اور اگریہ ہمدردی مخلوقِ الٰہی کے لئے ان کے دل میں نہ ہو تو وہ ان مشکلات کے پہاڑوں اور مصائب کے دریا ؤں سے نہ گزر سکیں جو تبلیغ حق کی راہ میں آتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی کریم ﷺ کی اس انتہائی دلسوزی اور غم خواری کا نقشہ قرآن مجید میں ان الفاظ میں بیان کیاہے:لَعَلٖکَ بَاخِعٌ نٖفْسَکَ اَلاٖ یَکُونُوا مُؤمِنِیْنَ۔ یعنی اس ہم و غم میں کہ لوگ کیوں خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور صراط مستقیم کو اختیار کر کے اس مقصد زندگی کو پورا نہیں کرتے جس کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے تو اپنے آپ کو ہلاک کر دے گا۔ یہ جوش مخلوق کی ہدایت کے لئے اور ان کی ہمدردی کے لئے خاصۂ انبیاء علیہم السلام ہے۔
میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مہمان نوازی کی خصوصیات بیان کر رہا تھا اور اس میں حضرت مولوی عبدالکریم رضی اللہ عنہ کے متعلق ایک واقعہ بیان کیاہے کہ کس طرح پر آ پ ان کے آرام کے لئے ایک پہرہ دار کی طرح کام کرتے تھے۔
(۶)۔۔۔ چھٹی خصوصیت آپ کی مہمان نوازی کی یہ تھی کہ حفظ مراتب کی ہدایت کے ساتھ عام سلوک اور تعلقات میں آپ مساوات کے برتاؤ کو کبھی نہیں چھوڑتے تھے ۔ اس بات کا بے شک لحاظ ہوتاتھا کہ مہمانوں کو ان کے مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے اتارا جاتااور یہ حضرت نبی کریم ﷺ کے ارشاد کی تعمیل تھی۔ مگر خبرگیری اور مہمان نوازی کے عام معاملات میں کوئی امتیاز نہیں ہوتاتھا۔ ۱۹۰۵ء کے سالانہ جلسہ پرکھانے وغیرہ کا انتظام میرے سپرد تھا اور میر ی مددکے لئے اور چند دوست ساتھ تھے ہم نے مولوی غلام حسین صاحب پشاوری اور ان کے ہمراہیوں کے لئے خاص طور پر چند کھانوں کا انتظام کرنا چاہا۔ حضرت اقدس تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد کیفیت طلب فرماتے تھے کہ کھانے کا کیاانتظام ہے،کس قدر تیار ہو گیا ، کس قدر باقی ہے ، کیا پکایاگیاہے اس سلسلہ میں یہ بھی میں نے عرض کیا کہ ان کے لئے خاص طورپر انتظام کر رہے ہیں ۔فرمایا کہ :
’’میرے لئے سب برابر ہیں اس موقع پر امتیاز اور تفریق نہیں ہو سکتی۔ سب کے لئے ایک ہی قسم کا کھاناہو نا چاہئے۔ یہاں کوئی چھوٹا بڑا نہیں۔ مولوی صاحب کے لئے الگ انتظام ا ن کی لڑکی کی طرف سے ہو سکتاہے اور وہ اس وقت میرے مہما ن ہیں اور سب مہمانوں کے ساتھ ہیں اس لئے سب کے لئے ایک ہی قسم کا کھانا تیار کیاجائے خبردار کوئی امتیاز کھانے میں نہ ہو‘‘۔
اور بھی بہت کچھ فرمایا اورغربائے جماعت کی خصوصیت سے تعریف کی اور فرمایا کہ :
’’جیسے ریل میں سب سے بڑی آمدنی تھرڈ کلاس والوں کی طرف سے ہوتی ہے اس سلسلہ کے اغراض و مقاصد کے پورا کرنے میں سب سے بڑا حصہ غرباء کے اموال کا ہے اور تقویٰ طہارت میں بھی یہی جماعت ترقی کر رہی ہے‘‘۔ غرض اس طرح نصیحت کی فَطُوبی لِلغُرَباء۔
آپ ہرگز عام برتاؤاور سلوک میں کوئی امتیاز نہیں رکھتے تھے گو منازل و مراتب مناسبہ کو بھی ہاتھ سے نہ دیتے تھے اور یہ حضرت نبی کریم ﷺ کے ارشاد کی تعمیل تھی۔
(۷)۔۔۔ ساتویں خصوصیت یہ تھی کہ آپ چاہتے تھے کہ ہمارے دوست خصوصاً کثرت سے آئیں اور بہت دیر تک ٹھہریں اگرچہ زیادہ دیر تک ٹھہرنا وہ سب کا پسند کرتے تھے ۔ غیروں کے لئے اس لئے کہ حق کھل جائے اور اپنوں کے لئے اس لئے کہ ترقی کریں۔ کثرت سے آنے جانے والوں کو ہمیشہ پسند فرمایا کرتے تھے۔ اس کی تہ میں جو غرض اور مقصود تھا و ہ یہی تھا کہ تا وہ اس مقصود کو حاصل کر لیں جس کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیاہے۔ حضرت مولاناعبدالکریم رضی اللہ عنہ نے آپ کی اس خصوصیت کے متعلق لکھا ہے کہ :
’’حضرت کبھی پسند نہیں کرتے تھے کہ خدام ان کے پاس سے جائیں۔ آنے پر بڑے خوش ہوتے ہیں اور جانے پر کرہ سے رخصت دیتے ہیں اور کثرت سے آنے جانے والوں کو بہت ہی پسند فرماتے ہیں ۔ اب کی دفعہ دسمبر میں (۱۸۹۹ء کاواقعہ ہے) بہت کم لوگ آئے اس پر بہت اظہار افسوس کیااور فرمایاہنوز لوگ ہمارے اغراض سے واقف نہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں کہ وہ کیا بن جائیں ۔ و ہ غرض جو ہم چاہتے ہیں اورجس کے لئے ہمیں خدا تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے وہ پوری نہیں ہو سکتی جب تک لوگ یہاں باربار نہ آئیں اور آنے سے ذرا بھی نہ اکتائیں اور فرمایا جو شخص ایسا خیال کرتاہے کہ آنے میں اس پر بوجھ پڑتاہے یاایسا سمجھتاہے کہ یہاں ٹھہرنے میں ہم پر بوجھ ہوگااسے ڈرنا چاہئے کہ شرک میں مبتلا ہے۔ ہمارا تو یہ اعتقاد ہے کہ اگر سارا جہان ہماراعیال ہو جاوے تو ہمارے مہمات کا متکفل خدا ہے ہم پر ذرا بھی بوجھ نہیں۔ ہمیں تو دوستوں کے وجود سے بڑی راحت پہنچتی ہے۔ یہ وسوسہ ہے جسے دلوں سے نکال دینا چاہئے۔ میں نے بعض کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہم یہاں بیٹھ کر کیوں حضرت کو تکلیف دیں۔ ہم تو نکمے ہیں یونہی بیٹھ کر روٹی کیوں توڑاکریں ۔ وہ یاد رکھیں یہ شیطانی وسوسہ ہے جو شیطان نے ان کے دلوں میں ڈالاہے کہ ان کے پیر یہاں جمنے نہ پائیں۔ ایک روز حکیم فضل الدین صاحب (رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا کہ حضور میں یہاں نکما بیٹھا کیا کرتاہوں مجھے حکم ہو تو بھیرہ چلا جاؤں وہاں درس قرآن ہی کروں گا۔ یہاں مجھے بڑی شرم آتی ہے کہ میں حضور کے کسی کام نہیں آتا اور شاید بیکار بیٹھنے میں کوئی معصیت ہو۔ فرمایا آ پ کایہاں بیکار بیٹھنا ہی جہادہے اور یہ بیکاری بڑا کام ہے ۔ غرض بڑے دردناک اور افسوس بھرے لفظوں میں نہ آنے والوں کی شکایت کی اور فرمایا یہ عذر کرنے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہﷺ کے حضور میں عذر کیا تھااِنٖ بُیُوتَنَا عَورَۃٌ اور خدا تعالیٰ نے ان کی تکذیب کردی’’ اِنْ یُرِیدُونَ اِلاٖ فِرَارًا‘‘۔ (سیرت مسیح موعود مصنفہ حضرت مولانا عبدالکریم ؓ صفحہ ۴۹،۵۰)
غرض آپ کو اپنے خدام کے متعلق خصوصیت سے یہ خواہش رہتی تھی کہ آپ بہت باربار آئیں اور کثرت سے آئیں اور ان کے قیام کی وجہ سے جو کچھ بھی اخراجات ہوں ان کو برداشت کرنے میں خوشی محسوس کرتے تھے ۔
(۸)۔۔۔ آٹھویں خصوصیت یہ تھی کہ مہمان نوازی کے لئے دوست دشمن کا امتیاز نہ تھا بلکہ بریں خوان یغماچہ دشمن چہ دوست کا مضمون آ پ کے دسترخوان پر نظر آتاتھا۔ جیسا کہ میں نے آپ کے اخلاق عفو و درگزر میں دکھایا ہے کہ یہ خلق خادموں اور دوستوں تک محدود نہ تھا اسی طرح مہمان نوازی بھی وسیع اورعام تھی ۔ کسی خاص قوم اور فرقہ تک محدود نہ تھی۔ بلکہ ہندو، مخالف الرائے مسلمان،عیسائی یا کسے باشد جو بھی آ جاتا اس کے ساتھ اسی محبت سے پیش آتے۔ چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت المہدی میں بروایت مولوی عبداللہ صاحب سنوری لکھا ہے کہ :
’’حضرت مسیح موعود بیت الفکر میں (مسجد مبارک کے ساتھ والا حجرہ جو حضرت صاحب کے مکان کا حصہ ہے) لیٹے ہوئے تھے اور میں پاؤں دبا رہا تھا کہ حجرہ کی کھڑکی پر لالہ شرمپت یا شاید لالہ ملاوا مل نے دستک دی ۔ میں اٹھ کر کھڑکی کھولنے لگامگر حضرت صاحب نے بڑی جلد ی اٹھ کر تیزی سے جا کر مجھ سے پہلے زنجیر کھول دی اور پھراپنی جگہ بیٹھ گئے اور فرمایا آپ ہمارے مہمان ہیں اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہئے۔ (جلد اول صفحہ ۷۲)
اسی طرح ایک مرتبہ بیگووال ریاست کپورتھلہ کا ایک ساہوکار اپنے کسی عزیز کے علاج کے لئے آیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اطلاع ہوئی۔ آپ نے فوراً اس کے لئے نہایت اعلیٰ پیمانہ پر قیام و طعام کا انتظام فرمایا اور نہایت شفقت اور محبت کے ساتھ ان کی بیماری کے متعلق دریافت کرتے رہے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کو خاص طور پر تاکید فرمائی۔ اس سلسلہ میں آ پ نے یہ بھی ذکر کیا کہ سکھوں کے زمانہ میں ہمارے بزرگوں کو ایک مرتبہ بیگووال جانا پڑا تھا ۔اس گاؤں کے ہم پر حقوق ہیں۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی وہاں آ جاتا تو آ پ ان کے ساتھ خصوصاً بہت محبت کا برتاؤ فرماتے ۔
ایک دفعہ مولوی عبدالحکیم جو نصیر آبادی کہلاتا تھا قادیان میں آیا۔ یہ بہت مخالف تھا اور وہی مولوی تھا جس نے لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ۱۸۹۲ء میں مباحثہ کیا تھا اور اس مباحثہ کے کاغذات لے کر چلا گیاتھا ،وہ قادیان آیا۔ حضرت کو اطلاع ہوئی۔ حضرت نواب صاحب نے اپنا مکان قادیان میں بنوا لیاتھا اور وہ اس وقت کچا تھا اس کے ایک عمدہ کمرہ میں اس کو اتارا گیا اور ہر طرح اس کی خاطر تواضع کے لئے آپ نے حکم دیا اور یہ بھی ہدایت کی کہ کوئی شخص اس سے کوئی ایسی بات نہ کرے جو اس کی دلشکنی کا موجب ہو ۔ وہ چونکہ مخالف ہے اگر کوئی ایسی بات بھی کرے جو رنج دہ او ردل آزاری کی ہو تو صبر کیا جاوے۔ چنانچہ و ہ رہا ۔ میں اس مباحثہ میں جو لاہور فروری ۱۸۹۲ء میں ہواتھا موجود تھا اور مجھے معلوم تھاکہ اس مباحثہ کے کاغذات وہ لے گیاتھااور واپس نہ کئے تھے ۔میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ جناب مجھے آپ کی بڑ ی تلاش تھی آپ کے پاس مباحثہ کے پرچے ہیں ۔ مہربانی کر کے مجھے دے دیں۔ آ پ کے کام کے نہیں اور اگر اپنا پرچہ نہ بھی دیں تو حرج نہیں مگر حضرت اقدس والے پرچے ضرور دیدیں۔
مولوی عبدالحکیم صاحب کو خیال تھا کہ شاید اسے اور کوئی نہیں جانتا اور حضرت صاحب نے تو اس مباحثہ کا ذکر بھی نہیں فرمانا تھا کہ اسے ندامت نہ ہو بلکہ اخلاق و مروت کا اعلیٰ برتاؤ فرماتے رہے۔ مولوی صاحب بڑے جوش سے آئے تھے کہ میں مباحثہ کروں گا اور وہ اپنے مکان پرمخالفت کرتے تھے اور بڑے جوش سے کرتے تھے ۔ ہم ان کی مخالفت کو سنتے اور جیسا کہ حکم تھا نہایت ادب اور محبت سے ان کی تواضع کرتے رہے آخر جب ان سے میں نے مباحثہ لاہور کے پرچے مانگے تو اس کے بعد وہ بہت جلد تشریف لے گئے اور وعدہ کر گئے کہ جاتے ہی بھیج دوں گا۔ ان کے ساتھ ہی وہ مباحثہ کے کاغذا ت ختم ہوئے باوجودیکہ وہ مخالفت پر اتر آیا تھا اور مخالفت کرتارہا مگر حضرت اقدس نے اس لئے کہ وہ مہمان تھا اس کے اکرام اور تواضع کے لئے ہم سب کو حکم دیا اور سب نے اس کی تعمیل کی ۔ اس نے مباحثہ وغیرہ تو کوئی نہ کیا اور چپکے سے چل دیا۔
بغدادی مولوی کا واقعہ
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابھی کوئی دعویٰ نہ کیا تھا ۔ آپ مجاہدات کر رہے تھے اور عام آدمیوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے۔ ایک مولوی آیا جو بغدادی مولوی کے نام سے مشہور تھا۔ خصوصیت سے وہ وہابیوں کا بہت دشمن تھا اور جہاں جاتا ان کی بہت مخالفت کرتا تھا۔ و ہ قادیان میں بھی آیا تھا باوجودیکہ وہ بہت گالیاں دیتاتھاحضرت اقدس نے اس کی بہت خدمت و تواضع کی اور اکرام مہمان کے شعار کو ہاتھ سے نہ دیا۔ وہ اپنے وعظ میں وہابیوں کو گالیاں دیتا رہا۔ بعد میں لوگوں نے کہاکہ جس کے گھر میں تم ٹھہرے ہوئے ہو وہ بھی تو وہابی ہے پھروہ چپ ہو گیا۔ حضرت اقدس نے اس واقعہ کو خود بیان کیاہے مگر اس کا نام نہیں لیا۔ احسان کے متعلق تقریر کرتے ہوئے فرمایا:
’’ایک عرب ہمارے ہاں آیا ۔ وہ وہابیوں کا سخت مخالف تھا یہاں تک کہ جب اس کے سامنے وہابیوں کا ذکر بھی کیا جاتا تو گالیوں پر اتر آتا ۔ اس نے یہاں آ کر بھی سخت گالیاں دینی شروع کیں۔ اور وہابیوں کو برا بھلا کہنے لگا ۔ ہم نے اس کی کچھ پرواہ نہ کرکے اس کی خدمت خوب کی اور اچھی طرح سے اس کی دعوت کی اور ایک دن جبکہ و ہ غصہ میں بھرا ہوا وہابیوں کو خوب گالیاں دے رہا تھا کسی شخص نے اسکو کہا کہ جس کے گھر تم مہمان ٹھہرے ہو وہ بھی تو وہابی ہے ۔ اس پر وہ خاموش ہو گیا۔ اس شخص کا مجھ کو وہابی کہنا غلط نہ تھا کیونکہ قرآن شریف کے بعد صحیح احادیث پر عمل کرنا ہی ضروری سمجھتا ہوں‘‘۔(بدر ۱۴؍جولائی ۱۹۰۷ء)
ڈاکٹر پینل کا واقعہ
بنوں کے ایک میڈیکل مشنری ڈاکٹر پینل تھے ۔ یہ شخص بڑا دولت مند اور آنریری طورپر کام کرتاتھا۔بنوں اور اس کے نواح میں اس نے اپنا دجل پھیلایا ۔ ایک مرتبہ وہ ہندوستان کے سفر پر بائیسکل پر نکلا اور اس نے اپنے ساتھ کچھ نہیں لیا تھا۔ ایک مسلمان لڑکا بھی اس کے ساتھ تھا ۔ وہ قادیان میں آیا اور یہاں ٹھہرا۔ حضرت اقدس نے باجودیکہ وہ عیسائی اور سلسلہ کا دشمن تھا۔ اس کی خاطر تواضع اور مہمان داری کے لئے متعلقین لنگر خانہ اور دوسرے احباب کو خاص طورپر تاکید فرمائی اور ہر طرح اس کی خاطر و مدارات ہوئی ۔ اس نے اپنے اخبار تحفہ سرحد بنوں میں غالباً اس کا ذکر بھی کیا تھا۔ او ر آپ کا یہ طریق تھا کہ آ پ مہمانوں کے آنے پر لنگر خانہ والوں کو خاص تاکید فرمایا کرتے تھے ۔چنانچہ ایک مرتبہ ۲۵؍دسمبر ۱۹۰۳ء کو جب کہ بہت سے مہمان بیرونجات سے آ گئے تھے میاں نجم الدین صاحب مہتمم لنگر خانہ کو بلا کر فرمایا کہ :
’’دیکھو بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں اس لئے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الاکرام جان کر تواضع کرو۔ سردی کا موسم ہے چائے پلاؤ اور تکلیف کسی کو نہ ہو۔ تم پر میرا حسن ظن ہے کہ مہمانوں کو آرام دیتے ہو ان سب کی خوب خدمت کرو ۔ اگر کسی گھر یامکا ن میں سردی ہو تو لکڑی یا کوئلہ کا انتظام کرو‘‘۔ (اخبار البدر ۸؍جنوری صفحہ ۳۔۴)
اور یہ ایک مرتبہ نہیں ہمیشہ ایسی تاکید کرتے رہتے۔ بعض وقت یہ بھی فرماتے کہ میں نے تم پر حجت پوری کر دی ہے ۔ اگر تم نے غفلت کی تواب خدا کے حضور تم جواب دہ ہوگے۔
ایسا ہی ایک مرتبہ ۲۲؍اکتوبر۱۹۰۴ء کو فرمایا:
’’لنگر خانہ کے مہتمم کو تاکید کردی جاوے کہ و ہ ہر ایک شخص کی احتیاج کو مدنظر رکھے مگر چونکہ وہ اکیلا آدمی ہے اورکام کی کثرت ہے ممکن ہے کہ اسے خیال نہ رہتاہو اس لئے کوئی دوسرا شخص یاد دلادیا کرے ۔کسی کے میلے کپڑے وغیرہ دیکھ کر اس کی تواضع سے دستکش نہ ہونا چاہئے کیونکہ مہمان تو سب یکساں ہی ہوتے ہیں اور جو نئے ناواقف آدمی ہیں تو ہمارا حق ہے کہ ان کی ہر ایک ضرورت کو مدنظر رکھیں۔ بعض وقت کسی کو بیت الخلاء کا ہی پتہ نہیں ہوتا تو اسے سخت تکلیف ہوتی ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ مہمانوں کی ضروریات کا بڑا خیال رکھا جاوے۔ میں تو اکثر بیمار رہتاہوں اس لئے معذور ہوں۔ مگر جن لوگوں کو ایسے کاموں کے لئے قائم مقام کیا ہے یہ ان کا فرض ہے کہ کسی قسم کی شکایت نہ ہونے دیں۔(اخبار الحکم ۲۴؍ نومبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۔۲)
(الفضل انٹرنیشنل ۳۱؍جولائی ۱۹۹۸ء تا۲۷؍اگست ۱۹۹۸ء)
