سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 6فروری 2009ء کو بمقام بیت الفتوح مورڈن لندن خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ جس کو مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔
حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام اس کا الہادی ہے جس کے معنی ہیں وہ ذات جو اپنے بندوں کو اپنی معرفت اور پہچان کے طریق دکھائے یہاں تک کہ وہ اس کی ربوبیت کا اقرار کرنے لگیں اور پہچان کے طریق اس وقت بتاتا ہے جب بندے خدا تعالیٰ کی ربوبیت کے انکاری ہوتے ہیں ۔ انکار کے کئی طریق ہیں کبھی بندے کو خدا بنا لیا جاتا ہے ، کبھی انسان طاقت کے زور پر خود خدا اور رب بن جاتے ہیں یا پھر دنیا داری میں بڑی طاقتیں اپنے آپ کو لازوال قوتوں کا مالک سمجھتی ہیں اور اس لحاظ سے رب بنی بیٹھی ہیں ۔ غرض اس وقت دنیا میں ایک فساد کی حالت ہوتی ہے اس وقت پھر خدا تعالیٰ اپنی قدرت کا اظہار فرماتا ہے اور دنیا کو بتاتا ہے کہ وہ رب العالمین ہے۔
حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ جب اعتدا ل کو ترک کر نے کا عالم بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ زمین ظلم وجور سے بھرجاتی ہے اور لوگ خدائے ذوالجلال کے راستوں کو چھوڑدیتے ہیں ، نہ عبودیت کی حقیقت کو سمجھتے ہیں اور نہ ربوبیت کی حقیقت ادا کرتے ہیں زمانہ ایک تاریک رات کی طرح ہو جاتا ہے تب خدائے رحمن کی طرف سے ایک امام نازل ہوتا ہے۔ پس یہ ہے ہادی خدا جو ہدایت کے راستوں کی طرف لانے کے لئے اپنی صفت ربوبیت کو بھی حرکت میں لاتا ہے۔صراط مستقیم پانے کی دعا سکھلا کر خداتعالیٰ کی طرف سے انعام پانے اور پھر اس کے نتیجے میں ہدایت پانے کی طرف راہنمائی کی گئی ہے۔ حضور انور نے پاکستان میں احمدیوں کے کچھ حالات بیان کئے اور فرمایا کہ ہمیں تو حضرت مسیح موعود نے عشق رسول عربی ﷺ کے وہ راستے بتائے اور تعلیم دی ہے کہ جس تک کسی کی سوچ تک بھی نہیں پہنچ سکتی ۔
حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ نجات یافتہ کون ہے؟وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اور محمد ﷺ اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہیں اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم مرتبہ کوئی اور کتاب ہے اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ؐ ہمیشہ کے لئے زندہ ہے اور اس کے ہمیشہ زندہ رہنے کیلئے خدا نے یہ بنیاد ڈالی ہے کہ اس کا افاضہ تشریعی اور روحانی کو قیامت تک جاری رکھا اشارہ کرتی ہے۔ فرمایا کہ پس یہ ہے دین حق اور آنحضرت ؐ کا سب دینوں اور نبیوں میں سے افضل ثابت ہونا ۔
حضور انور نے فرمایا کہ صرا ط مستقیم کی دعامیں اشارہ ہے کہ جس طرح دنیاوی نظام ایک لیڈر ، بادشاہ یا حکومت کو چاہتا ہے اسی طرح ایک روحانی نظام ہے جس کے لئے یہ دعا سکھائی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ پس سوچنا چاہئے کہ یوں تو کوئی مومن بلکہ کوئی انسان بلکہ کوئی حیوان بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت سے خالی نہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ ان کی پیروی کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ حکم فرمایا ہے لہٰذا اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ جن لوگوں پر اکمل اور اتم طور پر نعمت روحانی کی بارش ہوئی ہے ان کی راہوں کی ہمیں توفیق بخش کہ تاہم ان کی پیروی کریں۔ پس یہ دعا ہر قو م و مذہب والے کی ہدایت کے لئے ہے بشرطیکہ نیک دل اور نیک نیت ہو کر اس کی طرف قدم بڑھائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے رستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشیں گے۔حضور انور نے خطبہ کے آخر پر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دنیا کو ہدایت کی طرف آنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں بھی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس منزل مقصود کی طرف چلتے رہیں جو خدا تعالیٰ کی رضا کی طرف لے جانے والی ہے۔
حضور انور نے آخر پر محترمہ خاتم النساء در د صاحبہ اہلیہ مولانا محمد شفیع اشرف صاحب مرحوم ، محترمہ سلیمہ بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر عبدالرحمن صدیقی صاحب مرحوم ، محترمہ عفیفہ صاحبہ اہلیہ مکرم سیوطی عزیز احمد صاحب کی وفات اورمکرم مرزا محمد اکرم صاحب ابن مکرم مرزامحمد اسلم صاحب آف نارووال کے راہ مولیٰ میں قربان ہونے پر ان تمام مرحومین کا ذکر خیر فرمایا اور نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ان کی نماز جنازہ غائب پڑھانے کا بھی اعلان فرمایا۔