سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 13فروری 2009ء کو بمقام بیت الفتوح مورڈن لندن خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ جس کو مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔
سورۃ فاتحہ میں صراط مستقیم کے حوالے سے حضرت مسیح موعود نے روحانی اورمادی ترقی کے لئے جو نکات بیان فرمائے ہیں، حضور انور نے ان میں سے چند ایک کا تذکرہ فرمایا تاکہ اندازہ ہو کہ اس دعا میں کتنی وسعت ہے اور حضرت مسیح موعود کو ماننے کے بعد ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں، کیا ہمارا مطمح نظر ہونا چاہئے، اپنی حالتوں کی درستگی اور ہر لحاظ سے ترقیات کے لئے کیا کچھ ہمیں کرنا چاہئے اور کس طرح ہمیں دعائیں مانگنی چاہئیں ۔
حضرت مصلح موعود نے ھدیٰ کے معنی بیان فرماتے ہوئے تین باتیں بتائیں ، راستہ دکھانا ‘ راستے تک پہنچانا اور آگے چل کر منزل مقصود تک پہنچانا۔ ہم اس حوالے سے دعا مانگتے ہیں اور مانگنی چاہئے کہ اے اللہ تو ہمیں ایسے راستے پر چلا اور اس طرح ہماری راہنمائی فرما جو اچھا راستہ بھی ہے، نیکی کی طرف لے جانے والا ہو اور پھر ہم اس پر چل کر نیکی کو حاصل بھی کر لیں اور اس کے بعد پھر مزید اگلے رستوں پر چلنا شروع کر دیں۔ بہرحال اس میں روحانی اور مادی دونوں طرح کی کوششوں کا ذکر ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ اس دعامیں رہبانیت کا بھی رد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دعا میں انسان کو اپنی پیداکردہ بیشمار نعمتوں کے حصول کیلئے کوشش کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے نہ کہ دنیا سے کٹ جایا جائے۔ پھر دنیاوی میدان کے علم و معرفت میں ترقی کرنے ، روحانی میدان میں آگے بڑھتے چلے جانے اور خداتعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرنے کی بھی یہ دعا ہے۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ صراط المستقیم کی دعا انسان کو ہر کجی سے نجات دیتی ، اس پر دین قویم کو واضح کر تی اور اس کو خیر وبرکت میں بڑھاتی ہے۔ ہر طبقے کے لو گ اس دعا سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ ہر ایک کے مرتبے کے لحاظ سے یہ دعا اس کو اگلی منزلوں کی طرف لے جاتی ہے بشرطیکہ نیک نیتی سے دعا مانگی جائے۔یہ وہ دعا ہے جو ہر خیر ، سلامتی ، پختگی اور استقامت پر مشتمل ہے اور اس دعا میں رب العالمین کی طرف سے بڑی بشارتیں ہیں ۔
حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ حقیقی نیکی پر قدم مارنا صراط مستقیم ہے۔ ہر کام کا اپنے موقع اورمحل پر کرنا ہی اعتدال اور میانہ روی ہے اور یہی اختیار کرنی چاہئے اور یہی چیز ہے جس کا نام صراط مستقیم ہے جس کی تحصیل کیلئے کوشش کرنا ہر ایک مومن پر فرض کیا گیا ہے کیونکہ یہ عمل انسان کو توحید پر قائم کرنے والا ہے۔
پھر فرماتے ہیں کہ صراط مستقیم ایسا لفظ ہے کہ جس میں حقیقی نیکی ، اخلاص باللہ اور تزکیہ نفس شامل ہیں۔ ان تینوں باتوں کا انحصار تین چیزوں علمی ، عملی اور حالی پر ہے۔ فرمایا کہ ان کی پھر آگے تین قسمیں ہیں ۔ علمی صراط مستقیم میں حق اللہ ، حق العباد اور حق النفس کا شناخت کرنا اور عملی صراط مستقیم میں ان حقوق کو بجالانا ہے ۔ عملی صراط مستقیم جو نفس کے لئے ہے اس سے انسان کا حال ظاہر ہو جاتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی پھر توحید حالی کا اظہار کر رہی ہوتی ہے۔ حضور انور نے ان تینوں باتوں کی بالتفصیل وضاحت کرنے کے بعد فرمایا کہ ان سب باتوں کو حقیقی طور پر سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کے ساتھ خدا تعالیٰ کی توحید اور وحدانیت کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔
حضور انور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود ہماری اس دعا کے کرنے کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تمام بنی نوع کو اس میں شریک رکھیں ، تمام مومنوں کو اپنی دعاؤں میں شریک رکھو اور ان حاضرین کو جو جماعت کے نظام میں داخل ہیں ۔ اس طرح کل نوع انسان اس میں داخل ہوں گے اور یہی منشاء خد اتعالیٰ کا ہے۔ پس اس دعا میں تمام بنی نوع انسان کی ہمدردی داخل ہے اور دین حق کا یہی اصول ہے کہ سب کا خیر خواہ ہو۔ پس یہ سب باتیں تقاضا کرتی ہیں کہ ہم دنیا کی ہدایت کے لئے بہت دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انسانیت کو تباہ ہونے سے بچائے۔