In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » اخلاقیات »

اسلام اور احترامِ میت

+ فہرست مضامین

(نوٹ :۔ ذیل کا مضمون محترم ملک سیف الرحمان صاحب (مرحوم) مفتی سلسلہ نے مکرم عبدالماجد صاحب طاہر اور مکرم عبدالسمیع خانصاحب کے تعاون اور مشورہ سے مرتب کیا تھا اور روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۳۔ اگست ؁۱۹۸۳ء میں شائع ہوا تھا۔ قارئین الفضل انٹرنیشنل کے افادہ کے لئے یہ مضمون الفضل ربوہ کے شکریہ کے ساتھ پیش ہے۔ )

(ادارہ)

مذہب کا مقصد تہذیب اور شائستگی، حوصلہ مندی اور بردباری، ہمدردی اور رواداری کے اخلاق پیدا کرنا ہے۔ انسان میں بوجہ حیوان ہونے کے ایک طبعی وحشت کا عنصر ہے۔ مذہب آ کر اس کی تہذیب کرتا ہے اور اسے ایک اعلیٰ خلق یعنی شجاعت میں بدل دیتا ہے

پر بنانا آدمی وحشی کو ہے ایک معجزہ

معنی رازِ نبوت ہے اسی سے آشکار

اسلام نے اپنے اولین مخاطبین میں اس تہذیب اور خلق کے وصف کو اتنے اعلیٰ معیارپر پہنچایا کہ وہ کائنات میں نمونے کے انسان قرار پائے اور اس آیت کریمہ کے مصداق بنے:

’’و کذٰلک جعلنٰکم امۃً وسطاً لتکونوا شھدآء علی الناس و یکون الرسول علیکم شھیداً‘‘ (البقرۃ:۱۴۴)

یعنی ہم نے تم کو ایک اعلیٰ معاشرہ پیش کرنے والی قوم بنایا جو دنیا کے لئے نمونہ اور بطور گواہ کے ہوں اور تمہارے رسول کو جو خلق عظیم پر قائم ہیں تمہارے لئے نمونہ اور اسوہ حسنہ بنایا ہے۔

فوت ہو جانے والے انسان کے جسد کا کیا کیا جائے؟

اس کے لئے مختلف مذاہب نے مختلف طریقہ ہائے احترام کی ہدایات دی ہیں لیکن احترام کا سب سے بہتر طبعی اور الہامی طریق وہ ہے جسے اسلام نے اپنایا اور فوت شدہ انسانوں کے جسد کو زمین میں دفنانے کی ہدایت دی۔ مردہ کو دفنانے کی یہ قدیم رسم اور وہ پہلی انسانی سوچ ہے جو تمثیلی زبان میں آدم کے دو بیٹوں کے واقعہ کی صورت میں انسانی علم کا حصہ بنی۔ آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ یہ ہے کہ جب ایک بھائی نے دوسرے بھائی کو جس کی قربانی مقبول ہوئی تھی اور اس کی محنت عمدہ پھل لائی تھی محض حسد کے ہاتھوں مغلوب ہوکر قتل کردیا تو جلد بعد وہ نادم ہوا اور اسے فکر دامنگیر ہوئی کہ وہ اپنے مقتول بھائی کی نعش کا کیا کرے اس پر اسے ایک نظارہ دکھایا گیا کہ ایک کوّے نے دوسرے کوّے کی نعش کو زمین میں گڑھا کھود کر دفن کیا ہے۔ اس پر اسے بھی یہ ترکیب سوجھی اور اس نے اپنے بھائی کی نعش کو زمین میں دفن کیا۔

احترام میت کے بارے میں جو اسلامی تعلیم ہے اس کا خلاصہ یہ ہے۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں:

’’لا تسبوا لأموات فانّھم قد افضوا الی ما قدموا‘‘ (المسقدرک۔ کتاب الجنائز باب النہی عن سب المیت)

’’تم وفات یافتہ لوگوں کو برا بھلا نہ کہو۔ ان سے برا سلوک نہ کرو کیونکہ وہ اپنے خدا کے حضورپہنچ چکے ہیں۔‘‘

خدا تعالیٰ جیسا چاہے گا ان سے سلوک کرے گا، تمہارے برا بھلا کہنے سے ان کا کچھ نہ بگڑے گا، تم صرف اپنی زبان ہی گندی کروگے۔

* اسی طرح حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن بیان کرتی ہیں کہ:

’’لعن رسول اللہ ﷺ المختفی والمختفیۃ یعنی نباش القبور‘‘ (موطا امام مالک ، جنائز،باب ما جاء فی الاختفاء وھوالنبش)

حضورﷺ نے قبروں کو بد نیتی اور بے حرمتی کے طور پر اکھیڑنے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔

* اسی طرح ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ جو شخص کسی مردے کی قبر بد نیتی سے اکھیڑتا ہے تو اسے قطع ید کی سزا دی جائے کیونکہ وہ ایک میت کے گھر میں داخل ہوا ہے۔(ابوداؤد کتاب الحدود باب فی قطع النباش)

*فقہاء نے بھی وضاحت کی ہے کہ مردوں کی بے حرمتی نہ کی جائے خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں چنانچہ فقہ کی مشہور کتاب بحرالرائق میں لکھا ہے کہ:

’’اگر قبر ننگی ہو جائے اور اس میں یہودی کی ہڈیاں نظر آ جائیں تو ان کی بے حرمتی نہ کی جائے کیونکہ ان ہڈیوں کی حرمت بھی وہی ہے جو مسلمانوں کی ہڈیوں کی ہے۔ نیز جب زندگی میں ان سے ظالمانہ سلوک کرنا اور ان کی بے حرمتی کرنا منع ہے تو ان کی وفات کے بعد بطریق اولی یہ ممانعت قائم ہے۔‘‘ (البحرالرائق شرح کنزالدقائق۔ الشیخ زین الدین الشھیر بابن نجیم الجزء الثانی صفحہ ۱۹۵۔ طبع فی المطبعۃ العربیۃ۔ لاہور)

*اسی طرح بدائع الصنائع میں لکھا ہے کہ:

’’توہین کی غرض سے قبر اکھیڑنا حرام ہے۔‘‘ (البحرالرائق شرح کنزالدقائق۔ الشیخ زین الدین الشھیر بابن نجیم الجزء الثانی صفحہ ۱۹۵۔ طبع فی المطبعۃ العربیۃ۔ لاہور)

صفحہ نمبر: 1 (کل صفحات: 3)
پچھلا صفحہ