احترام میت کے بعض واقعات
علاوہ ازیں مندرجہ ذیل واقعات احترام میت کی ضرورت پر کھلی روشنی ڈالتے ہیں:
* ’’مر علی رسول اللہ ﷺ بجنازۃٍ فقام فقیل لہ انہ یھودی فقال ألیست نفساً‘‘ (سنن نسائی۔ کتاب الجنائز باب القیام الجنازۃ اھل الشرک)
کہ ایک دفعہ حضور ﷺ تشریف فرما تھے کہ ایک جنازہ گزرا۔ آپؐ اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ کسی نے کہا یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے ۔ آپ ؐ نے فرمایا کیا ہوا، انسان تو ہے۔
گویا انسانیت کا احترام آپؐ کو اس حد تک تھا کہ آپؐ کسی جنازے کے احترام کے لئے بھی کھڑے ہو جاتے تھے۔
* جنگ احزاب میں ایک کافر سردار خندق میں گر کر ہلاک ہوگیا اور نعش پر مسلمانوں نے قبضہ کرلیا۔ کفار نے پیشکش کی کہ دس ہزار درھم لے لیں اور یہ نعش ان کے حوالے کردی جائے۔ آپؐ نے فرمایا ہم مردہ فروش نہیں ، ہم اس کی دیت نہیں لیں گے اور پھر بلامعاوضہ اس نعش کو واپس کردیا۔ (شرح الامام العلامہ محمد بن عبدالباقی الزرقانی المالکی علی المواھب اللدنیۃ للعلامۃ القسطلانی۔ الجزء الثانی صفحہ ۱۱۴، الطبعۃ الاولیٰ بالمطبعۃ الازھریۃ المصریۃ) (السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، الجزء الثالث صفحہ ۱۵۵، دارالجیل بیروت لبنان)
* اسی طرح حضور ﷺ کا یہ طرز عمل تھا کہ اگر میدانِ جنگ میں یا اس قسم کے حالات میں آپؐ کو کوئی نعش پڑی ملتی تو آپؐ اس کی تدفین کا حکم دیتے اور اسے اپنی نگرانی میں دفن کراتے اور یہ نہ پوچھتے کہ یہ مومن کی نعش ہے یا کافر کی۔ (السیرۃ الحلبیۃ۔ تالیف علی ابن برھان الدین الحلبی الشافعی۔ الجزء الثانی صفحہ ۱۹۰، مطبعۃ محمد علی صبیح و اولادہ بمیدان الازھر بمصر ۱۹۳۵ء)
* جنگ بدر میں اور جنگ احد میں آپؐ نے کفار کی نعشوں کی تدفین کروائی اور ایک ہی میدان میں مسلمانوں اور کافروں کی تدفین ہوئی، وقت کی تنگی کی وجہ سے جس طرح کئی مسلمان شہداء کو ایک ہی قبر میں دفن کروایا گیا اسی طرح کفار کی نعشوں کو بھی ایک ہی جگہ دفن کروایا۔(السیرۃ الحلبیۃ۔ تالیف علی ابن برھان الدین الحلبی الشافعی۔ الجزء الثانی صفحہ ۱۹۰، مطبعۃ محمد علی صبیح و اولادہ بمیدان الازھر بمصر ۱۹۳۵ء)
* حضورﷺ کا حکم تھا کہ کسی مخالف کی نعش کا مثلہ نہ کیا جائے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو وحشت مذہب سے دور لوگوں میں پائی جاتی ہے آنحضورﷺ مسلمانوں میں اس کو مٹانا چاہتے تھے۔ اور سب کو تہذیب کے دائرہ میں رکھنا آپؐ کا منصب خاص تھا۔
اسی طرح بنو قریظہ کو جب ان کی سرکشی کی سزا دی گئی تو ان کی نعشوں کو خندقیں کھدوا کر دفن کیا گیا۔(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، الجزء الثالث صفحہ ۱۵۶، دارالجیل بیروت لبنان)
* آنحضرت ﷺ نے اپنے چچا اور حضرت علیؓ کے والد ابو طالب کی وفات پر حضرت علیؓ کو ارشاد فرمایا کہ ’’آپ اپنے والد کی تجہیز و تکفین کریں اور غسل دیں پھر ان کو دفنائیں‘‘ (السیرۃ الحلبیۃ۔ تالیف علی ابن برھان الدین الحلبی الشافعی۔ الجزء الثانی صفحہ ۱۹۰، مطبعۃ محمد علی صبیح و اولادہ بمیدان الازھر بمصر ۱۹۳۵ء)
ایک قبرستان میں مسلموں اور غیرمسلموں کی تدفین
جہاں تک ایک قبرستان میں مسلمانوں اور غیرمسلموں کی تدفین کا تعلق ہے کئی واقعات ملتے ہیں کہ مسلمانوں اور غیرمسلموں کے قبرستان بعض اوقات اکٹھے ہوتے تھے۔
حضرت خدیجہؓ اور دوسرے صحابہؓ کی تدفین اس قبرستان میں ہوئی جو مکہ کا پرانا حضورﷺ کا خاندانی قبرستان تھا اور اس میں مکہ کے وہ لوگ بھی دفن ہوا کرتے تھے جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ یہی جگہ بعد میں جنت المعلی کہلائی۔
الرحلۃ الحجازیۃ کے مصنف محمد اللبیب ، مکہ کی تاریخ لکھتے ہوئے رقمطراز ہیں:
’’جنت المعلی مکی قبرستان ہے۔ اس میں حضرت خدیجہؓ کا مزار مبارک ہے۔ حضرت خدیجہؓ کی قبر کے پاس ہی مکہ کے سولہ سرداروں کی قبریں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق حضرت خدیجہؓ کی قبر کے پاس حضورﷺ کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ کا مزار بھی ہے۔ قریب ہی ابوطالب کا مزار ہے۔‘‘(الرحلۃ الحجازیہ صفحہ ۵۵۔۵۶)
اسی طرح ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایک یہودیہ فوت ہوئی تو حضرت عمرؓ کی اجازت سے اس کی تدفین مسلمانوں کے قبرستان میں ہوئی۔ (السنن الکبریٰ، کتاب الجنائز باب النصرانیۃ تموت وفی بطہنا و نومسلم)
خلافت عباسیہ کے دور میں جب بغداد کی بنیاد رکھی گئی تو وہاں ایک پرانا مجوسیوں کا قبرستان تھا۔ اسی قبرستان میں مسلمانوں کی تدفین بھی ہوا کرتی تھی اور پہلی مسلمان خاتون جس کی اس قبرستان میں تدفین ہوئی وہ بانوقۃ تھی۔ نیز اس قبرستان میں بعد میں بڑے بڑے بزرگ مثلاً حضرت امام ابو حنیفہؒ ، حضرت امام محمد بن اسحاقؒ ، حسن بن زید، ہشام بن عروہ اور خیزدان دفن ہوئے۔ اس طرح بعد میں یہ مسلمانوں کا قبرستان بن گیا۔(تاریخ بغداد اَو مدینۃ السلام۔ حافظ ابوبکر احمد بن علی الخطیب البغدادی۔ الجزء الاول۔ صفحہ ۱۲۵۔ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
انگلستان اور یورپ میں جو مسلمان فوت ہوتے ہیں بالعموم ان کی تدفین ایسے ہی قبرستان میں ہوتی ہے جن میں عیسائی بھی دفن ہوتے ہیں۔ اس پر نہ کبھی عیسائیوں نے اعتراض کیا اور نہ مسلمانوں نے۔ لاہور کے مشہور میانی قبرستان کے بارے میں یہی روایت آتی ہے کہ اس کے دو حصے ہیں ایک میں عیسائی دفن ہوتے ہیں اور ایک میں مسلمان اور کوئی حد فاصل نہیں ہے۔
اسی طرح لاہور کا قبرستان جس کا نام ’’بدھو دا آوا‘‘ ہے اس میں بھی مسلمان عیسائی اور چوہڑے ایک ساتھ دفن ہوا کرتے تھے۔ پہلے عیسائیوں اور مسلمانوں کی قبروں کے درمیان ایک دیوار حد بندی کرتی تھی۔ لیکن پارٹیشن کے بعد وہ حد بندی بھی ختم ہوگئی۔ اب ان کی قبروں میں کوئی امتیاز نہیں اب بھی مسلمان اس میں دفن ہوتے ہیں۔
مُردوں کی بے حرمتی کی تاریخ
یہ عجیب بات ہے اور شروع سے ہی ایسی صورت حال چلی آ رہی ہے کہ ابتدائی تربیت اور انوار نبوت سے فیض یافتہ بندگان خدا کے گزر جانے کے کچھ عرصے بعد لوگ اصلی تعلیم کو بھول جاتے ہیں اور بعض انسانوں کی طبعی وحشت اور بربریت دوبارہ واپس لوٹ آتی ہے اور انسان بے حوصلہ ہو کر آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور زندہ تو کیا وہ مردہ تک کی توہین میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتا۔ یہی کیفیت بعض اوقات مذہبی اختلاف کی بناء پر پیدا ہو جاتی ہے اور مردہ انسانوں کی حرمت تک کا خیال نہیں کیا جاتا اور اس کے احترام کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلام کا حکم یہ ہے کہ تم مرنے والوں کو برا بھلا تک نہ کہو وہ اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے حضور پیش ہوچکے ہیں۔ خداوند تعالیٰ جیسا چاہے گا ان سے سلوک فرمائے گا۔ خلافت راشدہ کے بعد یہ بھیانک سلسلہ شروع ہوا اور اب بھی بعض ایسے طبقات دنیا میں موجود ہیں جنہوں نے مذہبی اختلاف کی بناء پر مردوں کی بے حرمتی کی ، ان کی قبروں کو اکھیڑا اور ان کی نعشوں کو گلیوں میں گھسیٹا۔ وہ سب کچھ کیا جو کفار مکہ نے بعض صحابہؓ کی شہادت کے بعد ان سے روا رکھا تھا۔
حضرت خبیبؓ بن عدی کے تاریخی اشعار
جہاں تک انسانی میت کی توہین و تذلیل کا تعلق ہے تو اس سے فوت ہو جانے والے کا کچھ نہیں بگڑتا۔ صرف ظالمانہ حرکت کرنے والے ایسے انسان اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں اور اپنے مغلوب الغضب اور وحشی ہونے کا ثبوت مہیا کرتے ہیں۔ اگر فوت ہو جانے والا انسان اپنے مولا کے ہاں مقبول ہے اور اس کا آسمانی آقا اس سے راضی ہے تو پھر دنیا والوں کی طرف سے کوئی توہین آمیز سلوک اس کے درجات کے اور بلند ہونے کا باعث بن جاتا ہے وہ جنت النعیم کا مکین ہے، خوش و خرم اور مطمئن کہ اس کی روح کو کسی پریشانی سے دوچار نہیں ہونا پڑا بلکہ اس کے ذریعہ
’’و ما نقموا منھم الآ ان یؤمنوا باللہ العزیز الحمید‘‘(بروج:۹) سے متعلق سنت ابرار میں ایک اور مثال کا اضافہ ہوا ہے بالکل اسی طرح جس طرح حضرت خبیبؓ بن عدی کی قربانیوں کی مثال تاریخ مظلومیت کا ایک سنہری باب بن گئی۔ انہوں نے یہ قربانی دیتے ہوئے جو اشعار اس موقع کی مناسبت سے پڑھے وہ بقائے دوام حاصل کرکے دوسرے مظلوموں کے لئے اسوہ بن گئے۔ جب ظالم دشمن ان کی شہادت کے درپے تھا تو انہوں نے کہا
علی ای شق کان للہ مصرعی
و ذالک فی ذات الالہ وان یشا
یبارک علی اوصال شلو ممزّع
(بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الرجیع)
اگر میں مسلمان ہونے کے جرم میں قتل کیا جا رہا ہوں تو زھے قسمت مجھے اس کی کیا پرواہ کہ دشمن کے وار سے کس پہلو گرتا ہوں۔ اگر یہ ساری مصیبتیں اور یہ ساری قربانیاں اللہ تعالیٰ کی خاطر ہیں تو پھر میرے جسم کے کچلے ہوئے ٹکڑوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہزاروں برکات نازل ہو رہی ہوں گی کیونکہ یہ کچلے ہوئے ٹکڑے لاکھوں کروڑوں مظلوموں کی زندگی اور ان کی کامیابی اور سلامتی کا پیش خیمہ بن جائیں گے۔