امرتسر ضلع سے وارنٹ گرفتاری
عبدالحمید کے راضی ہونے پر ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک نے فوراً مارٹینو ڈپٹی کمشنر ضلع امرتسر کو جو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بھی تھے درخواست دی جنہوں نے عبدالحمید اور ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے بیانات لے کر دفعہ ۱۱۴ ضابطہ فوجداری کے تحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی گرفتاری کے لئے وارنٹ جاری کر دیا اور ساتھ حفظ امن کے لئے ایک سال کے واسطے ۲۰ ہزار روپے کا مچلکہ اور بیس بیس ہزار کی دو ضمانتیں بھی طلب کیں۔ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ضلع گورداسپورتھا اس لئے ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کو جو کیپٹن مانٹیگو ڈگلس تھے یہ وارنٹ وغیرہ بھجوا دئے کہ وہ اپنی ضلعی پولیس سے اس پر عمل کرا کے ملزم کو امرتسر بھجوا دیں۔ ادھر پادریوں نے اس خبر کو شہر میں پھیلا دیا اور ہر روز مخالفین نے امرتسر کے ریلوے سٹیشن پر جانا شروع کر دیا کہ وہ وارنٹ پر عملدرآمد خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ لیکن ایسا نہ ہوا بلکہ مارٹینو ڈپٹی کمشنر امرتسر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ ملزم نے جہاں اقدام قتل کا ارادہ کیا اور اپنے ایجنٹ کوقتل پر آمادہ کر کے روانہ کیا وہیں کے ضلع میں مقدمہ درج ہونا چاہئے اور کارروائی وہیں ہونی چاہئے نہ کہ کسی اور ضلع میں۔ اس لئے اس نے تار بھیجا کو جو وارنٹ گرفتاری گورداسپور بھجوایا گیا ہے اسکو منسوخ سمجھا جائے اور کارروائی کے لئے کیس گورداسپور بھیجا جا رہا ہے۔ تارملنے پر کیپٹن ڈگلس حیران ہوا کہ یہ کون سا وارنٹ ہے کہ ضلع گورداسپور کے دفتر میں پہنچا ہی نہیں۔ اور پھر بعد میں اس وارنٹ کا پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ گیا کہاں۔
اتفاق سے اس دن حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی حضرت چوہدری رستم علی صاحبؓ جو خود پراسیکیوٹر انسپیکٹر آف پولیس تھے گورداسپور آئے ہوئے تھے انہوں نے وارنٹ اور اس کی گمشدگی کے بارے میں سنا تو فوراً قادیان روانہ ہوگئے ا ور حضور اقدس کو اطلاع دی۔ جماعت قادیان کے احباب سخت پریشان ہو ئے کہ بہرحال آج نہ سہی کل پرسوں وارنٹ گرفتاری پہنچ جائے گا اور اس پر عمل بھی ہوگا۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام باہر تشریف لائے تو آپ بالکل مطمئن تھے اور ہشاش بشاش ۔ فرمایا کہ فکر کی کوئی بات نہیں بلکہ خوشی کی بات ہے کہ جو خبر ایک ہفتہ قبل خدا نے دی اس کے پورے ہونے کا وقت آ گیا ہے ۔ آپ لوگوں کو یاد ہوگا وہ الٰہی خبر یہ تھی:
مقدمہ سے متعلق پیشگوئی
’’ ۲۹؍ جولائی ۱۸۹۷ ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک صاعقہ ۔۔۔میرے مکان کی طرف چلی آتی ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی آواز ہے اور نہ اس نے کچھ نقصان کیا ہے بلکہ وہ ایک ستارہ روشن کی طرح آہستہ حرکت سے میرے مکان کی طرف متوجہ ہوئی ہے ۔۔۔ اور جبکہ وہ قریب پہنچی تومیرے دل میں تو یہی ہے کہ یہ صاعقہ ہے مگر میری آنکھوں نے صرف ایک چھوٹا سا ستارہ دیکھا ۔۔۔ اور مجھے الہام ہوا کہ ’’ ما ھذا الا تھدید الحکام ‘‘ یعنی یہ جو دیکھا اس کا بجز اس کے کچھ اثر نہیں کہ حکام کی طرف سے کچھ ڈرانے کی کاروائی ہوگی۔۔۔ پھر بعد اس کے الہام ہوا ’’ قد ابتلی المومنون یعنی مومنوں پر ایک ابتلا آیا ‘‘۔
اسی طرح فرمایا: ’’ پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا کہ مخالفوں میں پھوٹ اور ایک شخص متنافس کی ذلت اور اہانت اور ملامت خلق ( اور پھر اخیر حکم ابراء) یعنی بے قصور ٹھہرانا۔ پھر بعد اس کے الہام ہوا ’’و فیہ شی ء۔۔۔‘‘ پھر ساتھ اس کے یہ بھی الہام ہوا کہ’ بلجت آیاتی‘ کہ میرے نشان روشن ہونگے‘‘ (تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۳۴۱)
پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے احباب کو تسلی دی اور نصیحت فرمائی کہ اب دعاؤں کاوقت ہے کہ ایک حصہ پیشگوئی کا پورا ہوا کہ ایک ضلع میں حکام نے کارروائی کی ہے جو خوفناک تھی لیکن ابھی اس کا اثر ظاہر نہیں ہوا،آگے بھی یہ بے اثر ہی ثابت ہواور بجائے کسی رسوائی کے یہ ابتلا ہمارے لئے ایک نشان الٰہی بن جائے اور مخالفین کی شکست اور ناکامی کا موجب بنے۔
کیس واقعی بڑی سنگین نوعیت کا تھا ۔ اگر وارنٹ گرفتاری گورداسپور پہنچ جاتا اور ضابطہ کی کارروائی میں کسی کو غلطی کا خیال نہ آتا تو تعجب کی بات نہیں۔ ایک دفعہ عمل درآمد ہو جاتا تو اگر بعد میں اس کے خلاف کارروائی بدل بھی جاتی پھر بھی دشمنوں کو دو دن کے لئے ہی سہی خوشی کا موقع مل جاتا لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بھی نہ چاہا اور ان کو جھوٹی خوشی بھی میسر نہ ہوئی ۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک معجزہ تھا جو اس مقدمہ کے شروع میں ظاہر ہوا۔
کیس کیپٹن ڈگلس کی عدالت گورداسپور میں
دو دن بعد کیس تفصیل کے ساتھ گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے سامنے آیا ۔ اس اثناء میں ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بھی گورداسپور پہنچ گئے تا کہ کیپٹن ڈگلس پر بھی اپنا اثر و رسوخ اور اپنے چرچ کا اثر ڈالیں اور اپنی من پسند کارروائی کروائیں۔ لیکن کیپٹن ڈگلس ایک انصاف پسند حاکم تھے ۔ کیس کو دیکھتے ہی فیصلہ کیا کہ ساری کارروائی غلط ہوئی ہے۔ عبدالحمید جب اپنے ارادہ میں ناکام ہوا اور پادریوں نے اسے پکڑ لیا تو کیس پولیس کو جانا چاہئے تھا ۔ پھر مجسٹریٹ سے عبدالحمید کا ریمانڈ لیا جاتا۔ اور تفتیش پوری ہو کر کیس سیشن کے سپرد کیا جاتا ۔ نہ پولیس میں رپورٹ، نہ اقبالی ملزم کا ریمانڈ ، محض شبہ کی بنیاد پر ایک تیسرے شخص کی گرفتاری اور بیس ہزار کا مچلکہ اور بیس بیس ہزار کی د و ضمانتیں کیا نامعقول کارروائی ہے۔ انہوں نے کہا میں یہ کیس پولیس کو دیتا ہوں وہ تفتیش کی کارروائی کرے۔ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک نے کہا دراصل میں بیماری کی چھٹی پر جانا چاہتاہوں اس لئے میں چاہتاہوں کہ جتنی جلدی ہو سکے میرا ملزم جو قادیا ن کے مرزا صاحب ہیں گرفتار ہونا چاہئے۔ ڈگلس نے کہا اچھا تو میں مرزا صاحب کو اپنی عدالت میں بلاتا ہوں اور خود عبدالحمید اورمرزا صاحب کے بیانات سن کر فیصلہ کروں گا۔ اس کے لئے وارنٹ کی ضرورت نہیں صرف سمن کافی ہے اور امن قائم رکھنے کے لئے صرف ایک ہزار کامچلکہ اور ایک ہزار کی ضمانت مانگی جا سکتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے ۱۰؍ اگست ۱۸۹۷ ء کو بجائے گورداسپور کے بٹالہ تحصیل سب ڈسٹرکٹ میں حاضر ہونے کاسمن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نام مچلکہ اور ضمانت کے ساتھ جاری کیا۔ گویا یہ بھی الٰہی تصرف تھا کہاں گرفتاری اور بیس بیس ہزار کا مچلکہ اور دو ضمانتیں اور کہاں صرف سمن اور ایک ہزار کا مچلکہ ، ایک ہزار کی ایک ضمانت جس کے داخل کئے جانے کا فیصلہ بھی بہر حال بیانات کے بعد ہوگا۔
سماعت سے ایک روز قبل ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے ریڈر غلام حیدر صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مرید نہ تھے امرتسرسے واپس اپنے کام پر جانے کے لئے بٹالہ کی گاڑی میں بیٹھے تو دیکھا کہ اسی سیکنڈ کلاس کے ڈبے میں بیٹھنے کے لئے پادری ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک جن کو گورے رنگ اور وضع قطع سے (یاد رہے کہ ہنری کو ایک یورپین پادری نے انگریز بچوں کی طرح پالا تھا) لوگ یوروپین ہی سمجھتے تھے ایک اوریوروپین کے ساتھ داخل ہوئے ۔ اتنے میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی آگئے۔ چونکہ غلام حیدر صاحب، ڈاکٹر ہنری کلارک اور مولوی صاحب تینوں ایک دوسرے سے واقف تھے اس لئے باتیں شروع ہوئیں اور غلام حیدر صاحب کو پتہ چلا کہ دونوں کسی کام سے ایک ساتھ جا رہے ہیں اور مولوی صاحب کا ٹکٹ بھی پادری صاحب نے خریدا ہے۔ جب ان دونوں کو پتہ چلا کہ غلام حیدر ان دنوں ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے ریڈر ہیں تو دونوں نے خوش ہو کر کہا ’’ تب تو شیطان کا سر کچلنے کے لئے آپ بہت کارآمد ہونگے‘‘ ۔ غلام حیدر صاحب نے کہا ’’ میں سمجھا نہیں آپ کیا کہہ رہے ہیں‘‘ تب انہوں نے مقدمہ کے بارے میں بتایا۔ غلام حیدر صاحب کو بہت افسوس ہوا کہ مولوی صاحب دشمن اسلام کے ساتھ مل کر ایک ایسے شخص کے خلاف مقدمہ میں شریک ہیں جو عیسائیوں سے اسلام کے دفاع میں مقابلہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ عدالت کا معاملہ ہے میں اس میں مددنہیں دے سکتا ہاں اتنا کہہ سکتاہوں کہ جو شیطان ہے اس کا سر خود بخود کچلا جائے گا‘‘۔
دوسرے دن سماعت سے پہلے صبح نماز کے بعد غلام حیدر صاحب سیر کے لئے باہر نکلے تو مولوی فضل الدین صاحب وکیل بھی مل گئے ۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وکیل تھے۔ اگرچہ وہ ابھی احمدی نہ تھے ۔ دونوں باتیں کرتے کرتے اینگلیکن مشن کے پاس سے گزر ے جو ایک کوٹھی میں تھا جس میں گھاس کا لان تھا۔ گرمی کا موسم تھا اس لئے لوگ باہر ہوا میں بیٹھے تھے ۔دونوں کویہ دیکھ کرحیرت ہوئی کہ مولوی محمد حسین صاحب بھی پادریوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ اور لوگ تھے یہ سب ایک نوجوان کے ہاتھ پر پینسل سے کچھ نشانات لگا رہے تھے ۔ مولوی فضل الدین صاحب کو حیرت ہوئی کہ مولوی محمد حسین یہاں مرزا صاحب کے مقدمہ کے دن پادری صاحب کے پاس آئے ہیں اس پر غلام حید ر صاحب نے ان کو بتایا کہ کل یہ دونوں امرتسر سے ایک ساتھ آئے اور ٹکٹ بھی مولوی صاحب کا پادری صاحب نے خریدا۔ جو لوگ وہاں موجو د تھے ان میں مولوی فضل الدین صاحب نے لاہور کے ایک مشہور ہندو وکیل رام بھجدت کو بھی دیکھا گویا کہ عیسائی پادری ، آریہ وکیل اور مسلمان مولوی محمد حسین سب آپس میں مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف صف آرا تھے ۔ بعض پولیس والے بھی وہاں موجود تھے اس طرح کچھ پولیس کے اہلکار بھی ان کی مدد کر رہے تھے ۔
بٹالہ میں سماعت
وقت مقررہ سے ذرا پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مع اپنے خدام کے بٹالہ کی کچہری پہنچ گئے۔ دوسرے لوگ بھی آ گئے۔ کیپٹن ڈگلس جب احاطہ کچہری میں داخل ہوئے تو حضرت اقدس کو وہاں دیکھا۔ ضرور پتہ کیا ہوگا کہ یہ کون ہیں تو معلوم ہونے پر کہ یہی مرزا غلام احمد صاحب علاقہ کے رئیس ہیں ۔ دفتر کے کمرہ میں پہنچ کر انہوں نے اپنے اردلی سے حضور اقدس کو سلام بھجوایا (حیات احمد مصنفہ حضرت عرفانی صاحب)۔ گویا حضور کے پاکیزہ چہرہ کا ان کے دل پر ایک اثر ہوا۔ جب عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو حضور کو کرسی پر بیٹھنے کے لئے اشارہ کیا ۔ اس پر ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک نے مولوی محمد حسین صاحب کے لئے کرسی کی سفارش کی کہ وہ مسلمانوں کے فرقہ اہل حدیث کے سرغنہ ہیں اور میرے گواہ ہیں۔ اس پرڈپٹی کمشنر نے غلام حیدر صاحب ریڈر کو کرسی نشینوں کی فہرست دیکھنے کو کہا ، اس میں ان کا نام نہ تھا۔ البتہ غلا م حیدر صاحب نے کہا کہ جب کبھی مولوی صاحب کو حکام سے ملنے کاموقع ہوتا ہے تو وہ ان کو دفتر میں کرسی دے دیا کرتے ہیں۔ مولوی صاحب عدالت میں موجود تھے اور انہوں نے بھی کرسی کا مطالبہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ آ پ کانام ضلع کے کرسی نشینوں کی فہرست میں نہیں اس لئے کرسی پیش نہیں کی جاسکتی۔ اس پر مولوی صاحب نے کہا میں لاٹ صاحب یعنی گورنر پنجاب وغیرہ سے ملتا ہوں تو کرسی پر بٹھا کر بات کرتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا وہ نجی ملاقات ہوتی ہے یہ عدالت ہے۔ مولوی صاحب نے کچھ کہنا چاہا تو کیپٹن ڈگلس ڈی سی نے ڈانٹ کر کہا سیدھے کھڑے رہو اور زیادہ بک بک نہ کرو۔جوبیان مولوی صاحب نے دیا اس کا ذکر تو آئے گا لیکن وہ عدالت سے نکلے تو برآمدہ میں کرسی پر بیٹھ گئے ۔ چپراسی نے اس پر بھی نہ بیٹھنے دیا کہ کپتان صاحب پولیس کی اجازت نہیں۔ وہ وہاں سے اٹھے تو دیکھا کہ کچھ مسلمان چادر بچھا ئے بیٹھے تھے وہ اس کے ایک کونہ پر بیٹھ گئے ۔ جب ان مسلمانوں کو پتہ چلا کہ یہ مولوی صاحب مرزا صاحب کے خلاف پادریوں کے حق میں گواہی دینے آئے ہیں تو انہوں نے بھی اپنی چادر گھسیٹ لی اور کہا کہ مسلمانوں کے سرغنہ ہو کر جھوٹی گواہی دیتے ہو، ہمارے کپڑے کو ناپاک نہ کرو۔ اس پر غلام حیدر صاحب غیر احمدی کا بیان ہے کہ مولانا نورالدین صاحب نے مولوی صاحب کا ہاتھ پکڑ کر کہا ’’آپ یہاں ہمارے پاس بیٹھ جائیں۔ ہر چیز کی حد ہونی چاہئے ‘‘۔ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزت و توقیر باوجود الزام لگنے کے اللہ تعالیٰ خود دکھا رہا تھا اور پادری صاحب کی کوئی بات اپنی مرضی کے مطابق نہ ہو رہی تھی اور مولوی محمد حسین صاحب کو ذلت و رسوائی مل رہی تھی اور مقدمہ کے فیصلے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ کی بات پوری ہو رہی تھی کہ ایک شخص متنافس کی ذلت و ملامت خلق۔
بیانات شروع ہوئے عبدالحمید کا بیان وہی تھا کہ اس کو مرزا صاحب نے پادری ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کو مارنے کے لئے امرتسر بھیجا تھا لیکن اس کے بیان کی تفصیل میں اس بیان سے جو اس نے امرتسر میں وہاں کے ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مارٹینو کی عدالت میں دیا تھا بہت فرق تھا ۔ بلکہ جو بات اس نے ہنری مارٹن کلارک کو بتائی کہ بٹالہ کا پیدائشی ایک برہمن ہندو ہوں جس کو مرزا صاحب نے مسلمان کیا ۔ ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر مارٹینو کے سامنے نہ کہی بلکہ وہاں اس نے اپنے آپ کو سلطان محمود کا بیٹا جہلم کا رہنے والا بتایا۔ ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کیپٹن ڈگلس کے سامنے کہا میں پہلے مسلمان تھا اب میں عیسائی ہونا چاہتا ہوں جبکہ مارٹینو ڈپٹی کمشنر امرتسر کو کہا کہ میں ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے پاس اس کے قتل کرنے کے ارادے سے گیا تھا کیونکہ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ مسلمان کا عیسائی کو قتل کرنا جائز ہے۔ تو گویا جب ڈاکٹر کلارک کو کہا کہ میں عیسائی ہونا چاہتا ہوں تو وہ دھوکہ دہی کے لئے تھا لیکن اب کیپٹن ڈگلس ڈپٹی کمشنر کے سامنے متلاشی عیسائی کیوں کہا ۔ مارٹینو کے سامنے بیان میں کہا کہ مرزا صاحب نے مجھ سے کہا تھا کہ ’’ ڈاکٹر کلارک کو قتل کرنے کے بعد قادیان چلے آنا تم بالکل محفوظ رہو گے‘‘۔ جبکہ کیپٹن ڈگلس کے سامنے کہا کہ ’’ امرتسر میں ایک شخص قطب الدین مرید مرزا صاحب کاہے۔ مرزا صاحب نے بتلایا تھا کہ تم اس کے پاس جانا وہ تمہیں قادیان پہنچا دے گا‘‘۔ کیا تضاد ہے ۔ پہلے ایک دم قادیان چلے آنا کہیں نہ جانا۔ دوسری دفعہ قطب الدین کا نام لیا کہ اس کے پاس جانا۔ قادیان موقع مصلحت کے مطابق پہنچانا اس کا کام ہوگا۔ تو یہ بات پہلے کیوں نہ کہی۔ کہیں اپنے باپ کا نام سلطان محمود بتایا اور کہیں لقمان بتایا ۔
غلام حیدر صاحب کا بیان ہے کہ چونکہ مولوی فضل الدین وکیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ۱۰؍ اگست کی صبح کو بٹالہ میں عبدالحمید کو اینگلیکن مشن ہاؤس میں دیکھ چکے تھے جہاں ا س کے ہاتھ پر پنسل سے کچھ لکھا جا رہا تھا یا نشان لگائے جا رہے تھے اس لئے جب انہوں نے عدالت میں عبدالحمید سے مشن ہاؤس میں اور رام بھجدت وکیل اور بعض پولیس والوں کے ساتھ ہونے کے بارے میں سوال کیا تو عبدالحمیدنے اس کوتسلیم کیا۔ اسی طرح مولوی فضل الدین صاحب یہ بات بھی عدالت کے نوٹس میں لائے کہ عبدالحمید کے ہاتھ پر پنسل سے اس کی یادداشت کے لئے کچھ اشارے بھی اسی دن صبح بنائے گئے جس سے پتہ چلتا ہے کہ بیان خود اس کا نہیں بلکہ اس کو سکھایا پڑھایا گیا کہ تم مرزا صاحب کے خلاف اقدام قتل کا الزام لگاؤ کہ انہوں نے تمہیں پادری ہنری مارٹن کلارک کو مارنے کے لئے بھیجا تھا ۔
ا س کے بعد ڈاکٹر پادری ہنری مارٹن کلارک کا بیان ہوا۔ اس میں امرتسر والے بیان سے بعض باتیں مختلف تھیں بلکہ عبداللہ آتھم کو نفسیاتی طور پر خوف میں گھوڑے سوار اور ہتھیار بند لوگ نظر آتے یا سانپ بچھو نظر آتے ۔ یہ سب انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کئے کہ آپ انہیں بھیجتے تھے جو کمال ہوشیاری سے آتھم کو ڈرا کر اس کے پہرہ داروں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہوئے بھاگ جاتے تھے( حالانکہ آخری دو ماہ تو وہ پولیس کی حفاظت میں تھے )۔ خود انہوں نے اپنے بارے میں کہا کہ مجھ کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ میرے بارے میں بھی پیشگوئی کی گئی ہے ۔مجھ کو ڈسنے کے لئے سانپ بھی بھیجا گیا جو مارڈ الا گیا وغیرہ ۔ انہوں نے لیکھرام کے قتل کے بارے میں پیشگوئی کا ذکر کر کے اس کے قتل کا ذمہ دار بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ٹھہرایا (حالانکہ اس کے لئے پولیس تفتیش ہوئی ۔ آریوں نے جس جس پر شک کیا اس سے پوچھ گچھ ہوئی لیکن پھر بھی کسی کے ہاتھ کچھ نہ آیا) ۔ وکیل مولوی فضل الدین صاحب نے ان پر سوال کر کے خود ان کی زبان سے کہلوایا کہ رام بھجدت نے ان سے کوئی فیس نہیں لی۔ گویا وہ بھی لیکھرام کے انتقام میں اس سازش میں شریک تھے۔
اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیان ہوا جو سادہ الفاظ میں مختصر تھا ۔ فرمایا :
’’ ہم نے کبھی پیشگوئی نہیں کی کہ کلارک صاحب مر جائیں گے ۔ ہر گز ہمارا منشاء کسی لفظ سے یہ نہ تھا کہ صاحب موصوف مرجاویں گے۔ عبداللہ آتھم کی بابت ہم نے شرطیہ پیشگوئی کی تھی کہ اگر رجوع بحق نہ کرے گا تو مر جاوے گا۔ عبداللہ آتھم صاحب کی درخواست پر پیشگوئی صرف اس کے واسطے کی تھی ۔ کل متعلقین مباحثہ کی بابت پیشگوئی نہ کی تھی ۔ لیکھرام کی درخواست پر اس کے واسطے بھی پیشگوئی کی گئی تھی۔ ہم نے کی تھی چنانچہ پوری ہوئی‘‘۔
اس کے علاوہ ایک بیان ۲۰؍ اگست کو بھی ہوا وہ ذرا تفصیل سے تھا ۔ اس میں یہی باتیں دہرائیں البتہ عبدالحمید کا ذکر بھی تھا۔ فرمایا :
’’ عبدالحمید کو ایک دفعہ میں نے مسجد میں دیکھا تھا کسی شخص نے ذکر کیا تھا ۔ یہ شخص عیسائی ہو گیا تھا اب یہاں آیا ہے۔ میرے ساتھ اس کی کوئی گفتگو نہ ہوئی تھی۔ مجھے نہیں معلوم کس نے اس کو مزدوری کا کام دیا تھا۔ میں نے کوئی کام نہیں دیا تھا۔ میں نے سنا تھا کہ عبدالحمید اچھے چال چلن کا لڑ کا نہیں ہے۔ اس لئے میں نے گھر سے رقعہ لکھ کر بھیج دیا تھا کہ اس کو نکال دینا چاہئے ۔ مجھے پھر خبر نہیں کہاں چلا گیا تھا ۔ میں نے ایک پیسہ تک اس کو جاتے ہوئے نہیں دیا۔ نہ امرتسر بھیجا ‘‘۔ (کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۲۰۶)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ آپ کی طرف سے حضرت مولانا نورالدین ( خلیفۃ المسیح الاول) رضی اللہ عنہ اور جناب شیخ رحمت اللہ صاحب کے بیانات ہوئے جو سادہ اور بے لاگ تھے ۔ عبدالحمید کے قادیان جانے کا ذکر تھا۔ عبدالحمید کا حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے مولوی برہان الدین صاحب کا بھتیجا ہونے کے سبب علاج کیا ۔ بیعت کی درخواست منظور نہیں ہوئی ۔ مولوی برہان الدین صاحب نے بتایا کہ نکما ہے۔ اس کو نکال دو یہ تکلیف کا باعث بنے گا۔ میں نے اس کو دو آنے دئے تھے۔ مرز اصاحب نے اس کو کچھ نہیں دیا تھا ۔ سنا تھا کہ لڑ کر گیا ہے۔ وغیرہ ۔
شیخ رحمت اللہ صاحب نے بھی بتایا کہ مجھ سے میری دوکان پر ملا تھا۔ کہتا تھا مولوی برہان الدین صاحب کا بھتیجا ہوں پہلے عیسائی ہو گیا تھا اب پھر مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ قادیان جانے کیلئے کرایہ مانگا ۔ میں نے آٹھ آنے دئے ۔ سنا تھا کہ قادیان گیاتھا۔ اس کے بعد میں نے نہیں دیکھا۔ دونوں نے بتایا کہ مرزا صاحب گھر کے اندر کسی سے نہیں ملتے۔ مسجد میں آتے ہیں یا سیر کو جاتے ہیں۔ یہ بات اس لئے کہی کہ عبدالحمید کا بیان تھا کہ اس کو مرزا صاحب گھر کے اندر بلایا کرتے تھے اور وہ آپ کو دبایا کرتا تھا۔ اور کلارک کو قتل کرنے کی بات بھی گھرمیں کہی تھی۔ یہ گھڑی ہوئی بات تھی۔
غلام حید ر صاحب کہتے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر ڈگلس نے مولانا نورالدین کی سادہ باوقار شخصیت اور بے لاگ بیان سے نیک اثر لیا اور آپ کو حضرت عیسیٰ کے مشابہ قرار دیا ۔ دراصل یہ بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوت قدسیہ کا بالواسطہ اعتراف تھا جو اللہ تعالیٰ نے ڈگلس کی زبان سے کرایا ۔ آخر وہ عیسوی جھلک جو انہو ں نے دیکھی کہاں سے آئی۔ حقیقت یہی ہے کہ’’ جمال ہم نشیں در من ا ثر کرد۔۔۔ ‘‘ کا کرشمہ تھا ۔ اگر ایسی بات کرسی عدالت پر بیٹھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں ان کے منہ سے نکلتی تو ایسے اظہار سے ان کے انصاف پر حرف آ جاتا ۔
بٹالہ میں سماعت تین دن ہوئی ۔ استغاثہ کے کئی گواہ آئے جو سب پادری کلارک کے ماتحت عملہ کے آدمی تھے۔ اس لئے ان کی گواہیاں مشتبہ رہیں۔ وہ موقع کے گواہ تو تھے لیکن یہی بات زیر بحث تھی کہ سازش امرتسر میں بنی یا قادیان میں۔ موقع کا گواہ قادیان کا ہوتا تو بات بنتی۔ جس سے عبدالحمید کے بیان کی تائید ہوتی۔ بقول عبدالرحیم پادری وہ قادیان گیا تھا لیکن اس کے بیان میں بھی قادیان کے ذکر سے کوئی بات وہاں سازش کے بنائے جانے کے حق میں نہ ملی۔ پادری عبدالرحیم کی قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ا لگ اکیلے میں ملاقات بنائی ہوئی بات تھی۔
ان گواہوں کے علاوہ ایک گواہ پادری صا حب کے حق میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی تھے جن کے کرسی کے مطالبہ کا ذکر پہلے آ چکا ہے ۔ انہوں نے پادری صاحب کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اپنے مخالفین کے مرنے کی پیشگوئیوں کا الزام لگایا ۔ اور کہا کہ یہ باتیں جھوٹی بھی نکلیں اور جو سچی ہوتی ہیں وہ دراصل یہ قتل کرا دیتے ہیں جیسے لیکھرام کے ساتھ ہوا۔ ( اس طرح مولوی صاحب نے ایک دشمن اسلام کے مرنے پر واویلا مچایا اور ہندوؤں کی ہمنوائی کی)۔ اب یہ پادری ہنری مارٹن کلارک کو قتل کر ا کے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں کہ میری پیشگوئی پوری ہو گئی وغیرہ ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مولوی صاحب کو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے بارے میں عیسائیوں کی گندہ دہنی پر کوئی غیرت نہ تھی۔ اس پر کیپٹن ڈگلس نے لکھا:
( کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۲۵۴)
یعنی میرے خیال میں مرزا صاحب کے خلاف گواہ کی عداوت کے بارے میں کافی شہادت قلمبند ہو چکی ہے اور مقدمہ کی اصل کاروائی سے ہٹنے کی اب چنداں ضرور ت نہیں۔
غلام حیدر صاحب ریڈر ڈپٹی مجسٹریٹ کے بیان کے مطابق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے وکیل مولوی فضل الدین صاحب نے مولوی محمد حسین صاحب پر جرح کے دوران سوال کیا کہ کیا آج صبح آپ پادری کلارک کے ساتھ ان کے مشن ہاؤس میں نہیں تھے؟ یہ سوال اس لئے پوچھا کہ مولوی صاحب نے بیان میں کہا کہ وہ پادری صاحب سے آخری بار ۱۸۹۵ ء میں ملے تھے ۔ مولوی صاحب نے جواب انکار میں دیا۔ اس پر غلام حیدر صاحب چونک پڑے۔ کیپٹن ڈگلس نے چونکنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے پادری صاحب کی طرف اشارہ کیا۔ کیپٹن صاحب نے ان سے پوچھا تو انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر وکیل فضل الدین صاحب نے سوال کیا کہ آپ امرتسر سے بٹالہ پادری صاحب کے ساتھ آئے اور آپ کا ریل کا ٹکٹ بھی پادری صاحب نے خریدا۔ مولوی صاحب نے پھر انکار کیا ۔ اس پر غلام حیدر صاحب کی زبان سے نکلا یہ جھوٹ ہے۔ ڈگلس صاحب نے پھر پادری صاحب سے پوچھا تو انہوں نے اقرار کیا ۔ مولوی محمد حسین صاحب تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جھوٹا کہہ رہے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی پردہ دری کر دی اور خود ان کے منہ سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت کر دیا لیکن جس کو وہ جھوٹا کہہ رہے تھے اس کے اخلاق کریمانہ کا سکہ وہیں عدالت میں سب کے دلوں پر بٹھا دیا۔ ہوا یوں کہ مولوی فضل الدین صاحب وکیل نے مولوی صاحب سے معذرت کے ساتھ ایک ایسا سوال کرنا چاہا جس کی زد مولوی صاحب کے اخلاقی کردار پر پڑتی تھی۔ غلام حیدر صاحب کہتے ہیں کہ مرزا صاحب اپنی کرسی سے اٹھے اور فضل الدین صاحب کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور فرمایا کہ’’ میری طرف سے یہ سوال کرنے کی نہ ہدایت ہے نہ اجازت ۔ آپ اپنی مرضی سے بہ اجازت عدالت اگر پوچھنا چاہیں تو آپ کو اختیار ہے‘‘ ۔ ڈگلس صاحب نے اجازت تو نہ دی لیکن ان کو یہ دلچسپی ضرور ہوئی کہ یہ کیا بات ہے۔ انہوں نے ریڈر غلام حیدر صاحب سے عدالت بر خاست کرنے کے بعد پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں معلو م کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ انہوں نے جناب شیخ رحمت اللہ صاحب کے ذریعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کرایا تو غلام حیدر صاحب لکھتے ہیں کہ حضور نے نہایت افسوس کے ساتھ فرمایا ’’ مولوی محمد حسین صاحب کے والد کا ایک خط ہمارے قبضہ میں ہے جس میں کچھ نکاح کے حالات ہیں اور مولوی محمد حسین صاحب کی بدسلوکیوں کے قصے ہیں جو نہایت قابل اعتراض ہیں۔ ہم ہر گز نہیں چاہتے کہ اس قصہ کا ذکر مسل پر لایا جائے یا ڈپٹی کمشنر صاحب اس سے متاثر ہو کر کوئی رائے قائم کریں‘‘۔
پھر غلام حیدر صاحب نے لنچ والے کمرہ میں جا کر کیپٹن ڈگلس کو سارا ماجرا کہہ سنایا ۔ اس وقت ڈاکٹر پادری ہنری مارٹن کلارک بھی موجود تھے ۔ پادری صاحب تو بہت ہنسے ۔ ڈگلس صاحب نے کہا یہ امر توہمارے اختیار میں ہے کہ ہم اس ماجرے کو قلمبند نہ کریں مگر یہ بات ہمارے اختیار سے باہر ہے کہ ہمارے دل پر اثر نہ ہو۔ (ڈاکٹربشارت احمد، مجدد اعظم صفخہ ۵۴۱ تا ۵۴۴)
ایک بات یہ بھی ظاہر ہے کہ پادری ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کو حکومت میں اتنا اثر حاصل تھا کہ ڈپٹی کمشنر بھی باوجود ان کے فریق مقدمہ ہونے کے ان کو اپنے ساتھ لنچ کرنے سے انکار نہ کر سکے۔ پھر کیوں نہ ان کو زعم ہوتا کہ وہ اقدام قتل کی جھوٹی سازش کریں تب بھی مقدمہ میں وہ کامیاب ہونگے۔