حقیقت کا اظہار
مقدمہ کی کارروائی کے بعد ڈپٹی کمشنر ڈگلس بہت پریشان تھے۔ ان کی پریشانی اتنی عیاں تھی کہ ان کے ریڈر غلام حیدر صاحب نے پوچھ ہی لیا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ اتنے پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرزا صاحب اپنی شکل سے معصوم نظر آتے ہیں۔ ایسا شخص ایسے جرم کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔عبدالحمید کا بیان جگہ جگہ بدلا ہوا ہے۔ امرتسر میں اور پھر یہا ں بھی اس نے کئی بیان دیے ان میں فرق ہے لیکن ہر بیان میں وہ کہتا ہے کہ مرزا صاحب نے اسے پادری ہنری کلارک کوقتل کرنے کے لئے بھیجا۔ ا س پر ریڈر صاحب نے کہا کہ عجیب بات ہے کہ وہ قتل کے ارادے سے پادری صاحب کے پاس جانے کا اقراری ہے پھر بھی انہی کے پاس رہ رہا ہے اس کو تو پولیس کی کسٹوڈی میں ہونا چاہئے ۔ یہ بات ڈگلس صاحب کی سمجھ میں آ گئی ۔ جب عبدالحمید نے اپنا پہلا بیان ڈگلس صاحب کی عدالت میں قلمبند کروایا تو آخر میں کہا کہ ’’ اس کو جان کا خطرہ ہے‘‘۔ ڈاکٹر صاحب نے اس پر کہا کہ وہ اپنی حفاظت میں رکھنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ مسل پر ڈگلس صاحب نے لکھا ’’ گواہ کو اجازت ڈاکٹر صاحب کے پاس رہنے کی دی گئی‘‘۔(کتاب البریہ صفحہ۲۱۱)۔
اب ڈگلس صاحب ان کی چال سمجھ گئے فوراً ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (DSP) لی مارچنڈ کو بلایا اور سارا قصہ سنا کر مشورہ کیا ۔ انہوں نے کہا آپ اپنا پہلا حکم عارضی طور پر منسوخ کردیں اور لڑکے کو ہمیں اپنے پاس لانے دیں۔ اگر ضرور ت ہوئی تو پھر ہم آپ سے ریمانڈ لے لیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اب عبدالحمید پولیس کے پاس لایا گیا ۔ مگر ڈی ایس پی اس وقت مصروف تھے انہوں نے انسپیکٹر جلال الدین سے کہا کہ اس سے پوچھ گچھ کرو۔ ان کو تو وہ دو گھنٹہ تک وہی پرانی بات دہراتا رہا آخر انہوں نے ڈی ایس پی سے کہا کہ یہ کچھ اور نہیں بتاتا وہی پرانی کہانی سناتا ہے ۔ اگر کہیں تو اس کو واپس چھوڑ آئیں۔ اب ڈی ایس پی لی مارچنڈفارغ تھے ۔ انہوں نے کہا اس کو میرے پاس لاؤ۔ ان کو بھی دو صفحے پرانا قصہ لکھواتا رہا۔ اس پر انہوں نے کہا دیکھو یہ بات تو پہلے سنا چکے ہو۔ تمہارے پہلے بیانات میں اختلافات ہیں۔ اگر اصل مجرم نہ پکڑا گیا تب بھی تم تو اقراری ہو کہ قتل کی نیت سے ڈاکٹر پادری صاحب کے پاس گئے تم کو سزا ہوجائے گی۔ بہتر ہے حقیقت بتا دو ۔ اس پر وہ روتے ہوئے ان کے قدموں میں گر پڑا اور کہا صاحب مجھ کو بچا لو۔ اصل میں تو میں مسلمان پیدا ہوا ہوں۔ کئی مذہب بدلے پھر دوبارہ مسلمان ہوا۔ اور اس کے بعد قادیان گیا وہاں مرزا صاحب نے میری بیعت قبول نہ کی اس لئے اب پھر عیسائی ہونے کے لئے پہلے امرتسر میں امریکی مشن گیا۔ وہاں پادری گرے صاحب نے مجھ کو قابل اعتبار نہ سمجھا اور اپنے ماتحت پادری نور دین کے سپرد کیا کہ اپنے خرچ پر ہم سے عیسائیت کی تعلیم لے تو رکھ لو ورنہ چلتا کرو۔ انہوں نے مجھ کو پادری ہنری مارٹن کلارک کے پاس بھیج دیا کہ وہ تم کو مفت رکھیں گے ، کھانا کپڑا دیں گے اور دوسرے اخراجات کے لئے بھی مدد کریں گے۔ میں ان کے پاس گیا اور کہا کہ عیسا ئی ہونا چاہتا ہوں۔ قادیان سے آیا ہوں ۔ انہوں نے فوراً اپنے شفا خانہ میں کام کرنے کے لئے مجھ کوپادری عبدالرحیم کے سپرد کیا ۔ یہاں عبدالرحیم نے مجھ کو ورغلایا اور کہا کہ تم یہاں قتل کرنے آئے ہو اور مجھ کو ڈاکٹر پادری ہنری مارٹن کلارک کے پاس لے گیا۔ وہ میرے ساتھ ہنسی مذاق کرتے رہے اور فوٹو کھینچ لیا اور پھر بیاس بھیج دیا ۔ ہاں پادری عبدالرحیم ، وارث دین اور پریم داس نے مجھے بہلایا پھسلایا۔ جب میں قتل کے ارادہ سے آنے کا بیان دینے پر راضی نہ ہوا تو انہوں نے ڈرایا کہ اب تو تمہارا فوٹو بھی لے لیا ہے کہا ں بھاگ کر جاؤ گے۔ پولیس فوٹو کی مدد سے پھر گرفتار کر لے گی۔ اگر تم ابھی بیان دے دو کہ تم کو مرزا صاحب نے ڈاکٹر پادری صاحب کو مارنے کے لئے بھیجا ہے تو چونکہ ڈاکٹر صاحب کا حکومت میں بڑا اثر و رسوخ ہے وہ تم کو بچا لیں گے اور اصل مجرم مرزا صاحب قرار پائیں گے۔ تم عیش سے ہمارے ساتھ رہنا ۔
وہ تو تھا ہی لالچی وہ راضی ہوگیا۔اس کے راضی ہونے پر جلد باز ی سے کام لیتے ہوئے اس کو امرتسر میں ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مارٹینو کے سامنے پیش کیا گیا اور مقدمہ درج کر کے مرزا صاحب کے وارنٹ گرفتاری جار ی کر دئے ۔ عبدالحمید نے مزید کہا کہ اس کے بعد ان لوگوں نے رام بھجدت وکیل کو لاہور سے بلایا اور میرا وہ بیان تیار کیا گیا جو بٹالہ میں پہلی بار دیا۔ اس میں مجھ کو بتایا گیا کہ مرزا صاحب کا مرید قطب الدین امرتسر میں ہے تم کہنا کہ مرزا صاحب نے اس کے پاس چھپنے کے لئے کہا تھا ۔ رام بھجدت نے کہا تم پرندے نہیں ہو کہ اڑ کر پہنچ جاؤ قطب الدین کے گھر کا راستہ تم کو معلوم ہونا چاہئے۔ چنانچہ بٹالہ میں میرے ہاتھ پر قطب الدین کا نام پتہ اور اس کے نشانات بنائے گئے۔ ہر روز مجھ کو نئے سے نیا بیا ن سکھایا جاتا ۔ چنانچہ یہاں بتایا کہ میں کہوں کہ مرزا صاحب نے گھر میں ایک کمرہ میں لے جا کر ہنری کو قتل کرنے کو کہا اور کہا کہ اب تم قادیان مولوی نورالدین کو خط لکھ دو کہ تم امرتسر میں ہو اور اب تم عیسائی ہو رہے ہو۔ اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میں کہوں کہ میں نے اپنا ارادہ اس لئے بدلا کہ میرا وہا ں قادیان میں جھگڑاہو گیا اور میں مرزا صاحب کو گالیاں دے کر آ گیا۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ دو آدمیوں سے تکرار ضرور ہوئی تھی۔ میں نے مرزا صاحب کو گالیاں نہیں دی تھیں۔ یہ سب بیان انہوں نے مجھ سے دلوائے۔ انہوں نے بٹالہ میں میرے بیان میں یہ بھی اضافہ کیا کہ میں اندر گھر میں جا کر مرزا صاحب کو دبایا کرتا تھا۔ حالانکہ میں کبھی ان کے مکان میں نہیں گیا۔ صرف ایک بار مسجد میں ان کو دیکھا تھا ۔ انہوں نے مجھے ڈاکٹر پادری ہنری مارٹن کلارک کو قتل کرنے کے لئے نہیں کہا۔
چونکہ عبدالحمید نے امریکن مشن جانے کا ذکر کیا تھا اس لئے لی مارچنڈ، ڈی ایس پی نے پادری گرے سے تحریری بیان لے کر عدالت میں پیش کر دیا جس میں پادری گرے نے یہ تسلیم کیا کہ وہ یعنی عبدالحمید ا ن کے پاس آیا تھا۔ اور عیسائی ہونے کو کہتا تھا ۔ میں نے کہا پہلے میں اس کو عیسائیت کی تعلیم دلواؤں گا چاہے وہ رو زانہ آئے یا ہفتہ میں ایک دو دن۔ لیکن اس نے دریافت کیا کہ گذارہ کی کیا صورت ہوگی ۔ اس پر میں نے کہا میں ایک پیسہ بھی گذارہ کے لئے نہیں دونگا۔ اس بات سے ان کو خیال ہوا کہ وہ ایک نکمااور مفتری آدمی ہے جو ان سے روپیہ یا خوراک کا گزارہ چاہتا ہے۔ ڈی ایس پی لی مارچنڈ نے عبدالحمید کاریمانڈ لے کر اس کو پولیس کی نگرانی میں آئندہ سماعت کو گودارسپور میں پیش کیا ۔ اسی طرح پادری نورالدین نے ۲۲؍اگست کو عدالت میں یہ بیان دیا کہ گرے صاحب نے عبدالحمید کو عیسائیت کی تعلیم دینے کے لئے ان کے پاس بھیجا لیکن چونکہ ہمارے ہاں اس کو روٹی کپڑا نہیں ملتا تھا عبدالحمید نے پھر دوسرے مشنوں کے بارے میں پوچھا تھا ۔ پادری نورالدین نے کہا کہ شاید ڈاکٹر کلارک صاحب کے مشن کا ذکر بھی ہوا۔ مگر ڈاکٹر صاحب کا صریح ذکر نہیں ہوا تھا۔ مجھ سے اس نے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ مرزا صاحب کی طرف سے آیا ہے مگر کہا کہ وہ مرزا صاحب کا شاگرد ہے۔ اپنے پہلے ہندو ہونے کا ذکر بھی کیا تھا۔
ایسا معلوم ہوتا ہے پادری نورالدین محتاط بیان دے رہے تھے یہ اقراری ہیں کہ عبدالحمید نے دوسرے مشنوں کے بارے میں پوچھا۔ یہ بھی مانتے ہیں کہ ڈاکٹر کلارک کے مشن کا ذکر ہوا پھر ایک دم وہ خود پادری ہوتے ہوئے ڈاکٹر کلارک کا صریح ذکر ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ ایک طرف کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کی طرف سے آنے کا ذکر نہیں کیا پھرکہتے ہیں کہ اس نے کہا کہ وہ مرز ا صاحب کا شاگرد ہے۔گویا سچی بات بھی ان کو معلوم ہے۔ لیکن سچ کو چھپانا بھی چاہتے ہیں۔ لیکن یہ ثابت ہے کہ دونو ں امریکن مشن سے متعلق پادری صاحبان اس کو ایک مفتری اور نکما سمجھتے تھے جو پیسے اور گذارہ کے لئے ان کے پاس گیا تھا بلکہ حضرت یعقوب علی عرفانی رضی اللہ عنہ ایڈیٹر الحکم نے اپنے صحافتی ذرائع سے معلوم کیا کہ نورالدین نے اس کو ہنری کا تحفہ کہہ کر اینگلیکن مشن میں بھیجا تھا۔ (حیات احمد مصنفہ عرفانی صاحب)
فیصلہ
اب کیپٹن ڈگلس ڈپٹی کمشنر اور دسٹرکٹ مجسٹریٹ کے لئے کسی نتیجہ پر پہنچنا آسان ہوگیا۔ چنانچہ ۲۳؍ اگست ۱۸۹۷ ء کو فیصلہ لکھا :’’ جہاں تک ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ سے تعلق ہے ہم کوئی وجہ نہیں دیکھتے کہ غلام احمد سے حفظ امن کے لئے ضمانت لی جائے یا یہ کہ مقدمہ پولیس کے سپرد کیا جائے ۔ لہذا وہ بری کئے جاتے ہیں‘‘۔
(کتاب البریہ روحانی خزائن ایڈیشن ۱۹۸۴ء جلد ۱۳ صفحہ ۳۰۰ ۔ ۳۰۱)
انہوں نے اپنے فیصلے کی مندرجہ ذیل وجوہات لکھیں:
۱۔ خود عبدالحمید ایسی جانبازی اورذمہ داری کے کام کے لائق نہیں وہ ۔۔۔ ایک کمزور دل کا نوجوان ہے ۔۔۔۔
۲۔ یہ تسلیم کیا گیا کہ غلام احمد نے صرف اس کو قریب دو ہفتے کے دیکھا ۔ بڑے سے بڑا وقت یہی ہے۔ وہ ایسے تھوڑے عرصہ میں کافی طور سے ایسی واقفیت پیدا نہیں کر سکتے تھے کہ ایسے نازک کام کے لئے اس پر بھروسہ کرتے ۔نہ یہ بات ہے کہ وہ اس پر کوئی بڑا اثر پیدا کر سکے ہوں۔
۳۔ جس طریق سے عبدالحمید نے اس کام کو بیان کیا ہے اس کی تدبیر بھی بالکل بھونڈی اور احمقانہ معلوم ہوئی ہے۔ یہ امر قرین قیاس نہیں ہے کہ عبدالحمید کواس بات کے کہنے کی تعلیم دی گئی ہو کہ وہ بٹالہ کا ایک ہندو تھا ۔ اور یہ ایسا بیان ہے جس کی تکذیب ڈاکٹر کلارک د و ایک گھنٹے میں کر سکتا۔ غلام احمد کے ۲۵؍ جولائی کے اس اقبال کے بعد کہ وہ نوجوان قادیان میں آیاتھا ۔ اگر ڈاکٹر کلارک پر کوئی حادثہ پڑ تا تو یہ یقینی امر تھا کہ مرزا صاحب کے خلاف اس کی جان کے بدلے میں کوئی عدالتی کارروائی کی جاتی۔ اور اس امر کی نسبت خو د مرزا صاحب بھی قبل از وقت پیش بینی کر سکتے تھے ۔ یہ بات کسی طرح بھی باور نہیں ہو سکتی کہ مرزا صاحب نے اپنے آپ کو ایسے خطرہ میں ڈالا ہو۔
۴۔ یہ ثابت ہے کہ وہ نوجوان اوّل ڈاکٹر گرے کے پاس امرتسر میں گیا اور اگر وہ اس کو کھانے پینے اور مکان کا وعدہ کرتے تو وہ اس کے پاس رہتا ۔ اگر فی الاصل ڈاکٹر کلارک کے پاس بھیجا گیا تھا تو پھر اس امر کی کوئی دلیل نہیں کہ مسٹر گرے امریکن مشن کے عیسائی کے پاس وہ کیوں چلا گیا۔ یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ وہ محض اتفاق سے ڈاکٹر کلارک کی طرف رستہ بتلایا گیا ۔
۵۔ اس نے نورالدین عیسائی امریکن مشن کو کہا تھا کہ وہ قادیان سے آیا ہے اور کہ وہ فی الاصل ہندو تھا۔ اور ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس کا یہ بیان کرنا نہ تو مرزا صاحب کی سا زش ہے اور نہ لیکھرام کے قاتل کے فعل سے مشابہت کے لئے ہے بلکہ بقول اس کے بیان کے اس واسطے ہے کہ مشنریوں سے اس امر واقعہ کو پوشیدہ رکھے کہ وہ گجرات مشن سے نکالا گیا تھا۔(عبدالحمید ایک بار پہلے بھی گجرات میں عیسائی ہوا تھا اور بدچلنی کی بنا پر وہاں سے نکالاگیا تھا۔ ناقل) اسی وجہ سے اس نے عبدالحمید کی بجائے جھوٹا نام عبدالمجید بیا ن کیا ۔
۶۔ اگر عبدالحمید کا بیان جو بمقام بیاس اس نے کیا ہے سچا ہوتا تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ کیوں اس نے بعد تسلیم کر لینے اس ضروری امر کے کہ وہ ڈاکٹر مارٹن کلارک کے مارنے کے لئے آیا ہے، تفصیلات کے بیان کرنے سے رکا رہا۔ یہ بات ظاہر ہے کہ بہت سی تفصیلات اس وقت ظاہر ہوئیں جبکہ وہ نوجوان وارث الدین اور پریم داس اور عبدالرحیم کی حفاظت میں بٹالہ تھا۔ لہذا ہماری یہ رائے ہے کہ عبدالرحیم اور وارث الدین اور پریم داس ہی صرف اس پہلی کہانی کے جوابدہ ہیں اور غالباً وہی اس کو تمام وقت ورغلاتے رہے۔ (کتاب البریہ روحانی خزائن ایڈیشن ۸۴ء جلد ۱۳ صفحہ ۲۹۵، ۲۹۷)
دوران مقدمہ عبدالحمید کی اصل شہادت ہو جانے کے معاً بعد جس میں اس نے تسلیم کیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو ڈاکٹر کلارک کے قتل کرنے کے لئے نہیں بھیجا تھا بلکہ وہ محض عیسائی ہونے کے لئے ڈاکٹر کلارک کے پاس امریکن مشن کے پادری نورالدین کے کہنے پر آیا تھا مگر یہاں پادری عبدالرحیم ، پادری وارث دین اور پادری پریم داس نے اس کو ورغلا کر یہ بیان دلوایا کہ ا سکو ڈاکٹر کلارک کو مارنے کے لئے قادیان سے بھیجا گیا ہے تو ڈاکٹر کلارک کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا اور اپنی جان بچانے کی خاطر فوراً عدالت میں یہ بیان دیا جس کو کیپٹن ڈگلس ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے مسل پر درج کر دیا :
اور ۲۳؍اگست ۱۸۹۷ ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو باعزت طورر پر بری کر دیا۔ اور زبانی فرمایا کہ اگر آپ چاہیں تو اب ان لوگوں کے خلاف عدالتی کارروائی کر سکتے ہیں۔ حضر ت اقدس علیہ السلام نے فرمایا ’’ میرا مقدمہ زمین پر نہیں آسمان میں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں ہے‘‘۔(حیات احمد مصنفہ حضرت یعقوب علی صاحب عرفانیؓ)
مقدمہ کی سنگینی اور نصرت الٰہی
مقدمہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے نہایت سنگین تھا ۔ استغاثہ کے گواہان نہایت بااثر لوگ تھے ۔ پادری ڈاکٹر ہنری مارٹن کلار ک عیسائی مذہب کے ایک میڈیکل مشن کے انچارج تھے جو انگلستان کے سرکاری مذہب اینگلیکن کی چرچ مشنری سوسائٹی چلا رہی تھی اور خود ڈاکٹر ہنری کلارک ہندوستانی نژاد ہوتے ہوئے اپنے سفید رنگ اور ایک انگریز سینئر پادری رابرٹ کلارک کے لے پالک ہونے کی وجہ سے اپنی حیثیت میں کسی انگریز پادری سے اثر و رسوخ میں کم نہیں تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بزرگ جلیل القدر صحابی حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ نے ۱۹۳۶ ء میں احمدیہ مسجد فضل لندن کی ایک تقریب میں جس میں مسٹر مانٹیگو ڈگلس جو ترقی کر کے کرنل کے مرتبہ پر پہنچ کر چیف کمشنر جزائر اینڈیمان کے عہدے سے ریٹائر ہو چکے تھے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شامل تھے بیان فرمایا کہ ڈگلس صاحب نے حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد رضی اللہ عنہ کو ( کہ وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے) جو اس وقت لندن مسجد کے امام تھے بتایا تھا کہ خود گورنر پنجاب چرچ مشنری سوسائٹی کا ممبر تھا جبکہ یہ بھی سننے میں آیا تھا کہ کسی اہم شخصیت کی طرف سے
(Maulana Dard, Life of Ahmad)
یعنی پبلک پراسیکیوٹر کو ہدایت ملی تھی کہ وہ اس مقدمے کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں۔
مسٹر ڈگلس نے حضرت مولانا شیر علی صاحب کی تقریر میں یہ بات سن کر انکار نہیں کیا۔ اگر و ہ اہم شخصیت گورنر پنجاب خود نہ تھے تب بھی ایسی ہدایت دینے والا اہم شخص یہ جان کر ہی ہدایت دینے کی جرات کر سکتا تھا کہ چرچ مشنری سوسائٹی کو گورنر پنجاب کی ممبر شپ کی پشت پناہی حاصل تھی۔ نیز یہ بات تو پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک اپنے اور مشن کے حکومت میں اثر و رسوخ کو پور ی طرح استعمال کر رہے تھے ۔
مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بھی حکومت میں اتنا اثر و رسوخ بڑھا لیا ہوا تھا کہ حکومت انگلشیہ کی طرف سے ان کو چار مربع زمین عطا ہوئی تھی۔ (مولوی صاحب کا اپنا اخبار اشاعت السنۃ نمبر ۱ جلد ۹ صفحہ ۱) اور خود انہوں نے کرسی نشینی کے استحقاق کے لئے کہا تھا کہ لاٹ صاحب گورنر پنجاب مجھ کو گورنر ہاؤس میں عزت سے اپنے پاس کرسی پر بٹھاکر باتیں کرتے ہیں۔ (معلوم ہوا کہ مولوی صاحب حکومت کی نظر میں اس کے خاص آدمی تھے جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کبھی کسی گورنر کو ملنے نہیں گئے، نہ انہوں نے آپ کو بلایا ، اور نہ آپ کو کوئی زمین حکومت کی طرف سے عطا ہوئی۔ آپکے پاس اپنے آباء و اجداد کی اپنے علاقہ میں قضا کی خدمات کے صلہ میں سلطنت مغلیہ کی عطا کی ہوئی وسیع رقبہ زمین کا تھوڑا سا باقی بچا ہوا حصہ تھا کیونکہ پہلے سکھوں نے پھر انگریز حکومت نے بہت بڑے حصہ پر قبضہ کر لیاتھا)۔ مولوی محمد حسین جیسے لوگوں کی گواہیاں بھی بعض اوقات قابل اعتماد سمجھ لی جاتی ہیں اور شاید اسی زعم میں وہ ایک غیر متعلقہ گواہی دینے آ گئے تھے۔
عبدالحمید کو امرتسر سے بیاس لے جانے والے حصہ کو نکال بھی دیا جائے کہ اس کا علم تو بعد کے بیان سے ہوا تو موقع کے گواہ توامرتسر کے پادری وارث دین ، عبدالرحیم اور پریمداس ہی تھے ۔ مزید برآں مقدمہ پولیس کی ایف آئی آر پر زیر غور نہ تھا بلکہ خود انگریز ڈپٹی کمشنر مسٹر مارٹینو نے مزعومہ قاتل سے بیان لے کر کیس تیار کر کے ڈپٹی کمشنر گورداسپور کیپٹن ڈگلس کے پاس بھیجا تھا۔ ان باتوں کو کیپٹن ڈگلس کے لئے نظر انداز کرنا آسان بات نہ تھی۔ نیز خودعیسائی حکومت میں پادریوں کی حمایت کر کے اپنے سے اوپر کے ذمہ دار افسروں کو خوش کرنے میں ذاتی منفعت بھی پیش نظر ہو سکتی تھی۔ لیکن کیپٹن ڈگلس نے ان باتوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور انصاف سے کام لیا۔
مسٹر ڈگلس صرف ایک رعایت ڈاکٹر کلارک سے کر سکے اور غالباً وہ بھی اس لئے کہ حکومت برطانیہ کا سرکاری مذہب کا مشن بدنام نہ ہو ۔ ویسے ڈاکٹر کلارک نے ہوشیاری سے عبدالحمید کو مزعومہ قاتل بنانے کا کام عبدالرحیم ، وارث دین اور پریم داس کے سپرد کر دیا تھا ۔ البتہ ایک جگہ عبدالحمید نے اپنے اصل بیا ن میں بتایا کہ جب بیان یاد کرنے کی غرض سے اس نے لکھا کہ مرزا صاحب نے مجھ کو کہا کہ امرتسر جا اور ڈاکٹر کو مار ڈال تو ڈاکٹر صاحب نے سب کے ساتھ مل کر کہا ’’ ہمارے دل کی مراد پوری ہو گئی ہے ‘‘۔ مگرڈگلس صاحب نے اس سازش کی ذمہ داری ان تینوں دیسی پادریوں پر ڈال دی اور غالباً اس کی جسارت بھی ان کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق فاضلہ سے ہوئی جس کا مظاہرہ وہ مولوی محمد حسین صاحب کے بارہ میں کر چکے تھے ۔چنانچہ فیصلہ میں ڈاکٹر صاحب کو سازش سے بری الذمہ قرار دینے سے قبل انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رجوع کرنا ضروری سمجھا اور پھر فیصلہ میں حضور کی تعریف کے ساتھ یوں لکھا :’’ یہ بات بھی لکھنے کے قابل ہے کہ مرزا غلام احمد نے اس امر کو کشادہ پیشانی سے مان لیا ہے او ر عدالت میں ڈاکٹر کلارک کو ہر ایک قسم کی شمولیت سے مبرا قرار دیا ہے‘‘۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رضامندی حاصل کرنا ہی ثابت کرتا ہے کہ ڈاکٹر کلارک کو یہ رعایت دینا بھی کیپٹن ڈگلس کا ایک احسان تھا ورنہ اگر یہ رعایت نہ دی جاتی تب بھی انصاف کی خلاف ورزی نہ ہوتی۔ اور کیپٹن ڈگلس نے اس احسان کا کریڈٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دے کر آپ کے اخلاق فاضلہ کو عدالت میں ریکارڈ کر دیا۔ گویا یہ احسان وہ نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے دشمن پر کر رہے ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب دئے جانے کے بارے میں رومن مجسٹریٹ پیلاطوس پر صرف یہودی رعایا کا دباؤ تھا یاپھر اس کی بیوی کی اپنے ایک خواب کی بنا پر سفارش تھی ۔ وہ خواب یقیناًایک ا لٰہی تصرف تھا جو پیلاطوس پر بالواسطہ پہنچا۔ لیکن یہاں الٰہی تصرف خود ڈگلس پر کار فرما تھا۔ اس نے اپنے پر اپنے مذہب کے اثر کی پرواہ نہ کی۔ گورنر کے چرچ مشنری سوسائٹی کی ممبرشپ کی پرواہ نہ کی۔ پبلک پراسیکیوٹر پر کسی اعلیٰ منصب دار کی ہدایت کی پروا ہ نہ کی۔ گواہان کے گزارے جانے کے بعد جو اضطرابی کیفیت اس پر طاری ہوئی بجائے خود ایک الٰہی تصرف تھا۔ اس کا اپنا ریڈر سے کہنا کہ مرزا صاحب کی شکل مجھ کو معصوم نظرآتی ہے بتاتا ہے کہ چہرہ کی وہ معصومیت اس کی آنکھ سے اوجھل نہیں ہو رہی تھی۔ چنانچہ غلام حیدر کا وہ بیان جو انہوں نے جناب ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مصنف مجدد اعظم کو اپنی مرض الموت میں دیا جبکہ انسان کو سب سے زیادہ خشیۃ اللہ ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں ڈگلس نے ان کو بتایا کہ وہ شکل میرے سامنے آتی ہے اور کہتی ہے میں بے قصور ہوں تو ایسا ہونا ہر گز بعید نہیں۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ اپنے اس اضطراب کا ذکر اپنے ریڈر سے کرتے ہیں ۔ انہوں نے ذرا بھی باک محسوس نہ کیا اور اپنے ماتحت کے مشورہ پر کہ عبدالحمید پادریوں کے پاس کیوں ہے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو بلا کر عبدالحمید کو حوالات میں لینے کا حکم دیا۔
ڈپٹی کمشنر ڈگلس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چہرہ صرف عدالت میں ہی معصوم نظر نہیں آ رہا تھا جہاں بہر حال حضور کے حق میں بعض گواہیاں تھیں اور آپ کے وکیل صاحب بھی بحث کر رہے تھے بلکہ اس چہرہ مبارک کی پاکیزگی کے تووہ احاطہ عدالت میں آتے ہی شکار ہو گئے جبکہ انہیں معلوم بھی نہ تھا کہ یہی وہ مرزا صاحب ہیں جن کا کیس ان کے سامنے پیش ہونا ہے۔ تب ہی تو انہوں نے کیس کے سنے جانے سے قبل آپ کو سلام بھجوایاتھا ۔ پھر جو بات ہر شریف النفس پر اثر کرتی ہے وہ آپ کا اخلاق کریمانہ تھا جو مولوی محمد حسین بٹالوی جیسے جانی دشمن کی عزت کا محافظ بن کر اس عدالت میں ظاہر ہوا جہاں مولوی صاحب آپ کو اقدام قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا دلوانے آئے تھے ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے تو مولوی صاحب کی عزت کی حفاظت فرمائی لیکن ان کی بے عزتی کے اس اثر کو جو مسٹر ڈگلس کے دل و دماغ پر ہونا لازمی تھا الٰہی تصرف نے خود قائم کر دیا۔
اس میں شک نہیں کہ یہ دو شرافتوں کا آپس میں ملاپ تھا جو اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طورپر یکجا کر دیا ۔ ایک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق کی پاکیزگی کی شرافت اور چہر ہ پر روحانی معصومیت کی شرافت ۔ جب وہ ڈگلس کی فطرت صحیحہ پر پڑی تو ان کی شرافت نفس بھی اس سے چمک اٹھی۔ اوراسی شرافت کا اعتراف ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف کتاب البریہ کے نام سے اس واقعہ پر تحریر فرمائی اور دیگر کتابوں میں اس کا ذکر کے ڈگلس کے نام کوزندہ جاوید بنا دیا۔ چنانچہ اپنی ایک کتاب کشتی نوح میں فرماتے ہیں:
الفضل انٹرنیشنل۲۶؍ستمبر ۱۹۹۷ء تا۲؍اکتوبر ۱۹۹۷ء