In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » احمدیت یعنی حقیقی اسلام » صداقت کے نشان »

تعلیم و تربیت کاآسمانی نظام۔ ایم ٹی اے کا پس منظر اور برکات

عبدالسمیع خان ۔ ایڈیٹر روزنامہ الفضل ربوہ

میں خاک تھا اسی نے ثریابنا دیا

۱۹۰۰ ؁ء میں جب بیسویں صدی عیسوی کا آغاز ہوا تو جماعت احمدیہ کی عمر ۱۱سال تھی ۔ ہندوستان میں چنیدہ سعید روحوں نے حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے ہاتھوں پر بیعت کر لی تھی اور ہندوستان سے باہر کئی ممالک میں آپؑ کا پیغام پہنچ چکا تھا۔ کئی احمدی بھی موجود تھے مگر کہیں بھی کوئی تنظیمی ڈھانچہ وجود میں نہیں آیاتھا۔

مرکز احمدیت قادیان کی کل آبادی ۴۰،۵۰ گھرانوں پر مشتمل تھی ۔ جن میں سے اکثریت خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سخت معاند اور جانی دشمن تھے ۔ قادیان پہنچنا کاردارد تھا۔ سعید روحیں گڑھوں بھرے راستوں سے گزر کر درِحبیب پر آتی رہیں مگر یہ تعداد بہر حال محدود تھی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنے خدام سے رابطہ قادیان آنے والے زائرین سے بالمشافہ ملاقاتوں کے علاوہ مندرجہ ذیل طریق پر تھا۔

۱۔ حضور کے اسفار۔

۲۔ حضور کی کتب، اشتہارات اور خطوط۔

۳۔ سلسلہ کا اخبار الحکم جو ۱۸۹۸ ؁ء سے قادیا ن سے شائع ہونا شروع ہوا اور بالکل بچپن کی حالت میں تھا۔ اس وقت قادیان میں صرف ایک پریس تھا جس کی بنیاد ۱۸۹۵ ؁ء میں ڈالی گئی تھی او ر اس کی حالت بھی ناگفتہ بہ تھی۔

اس زمانہ کے ہندوستان میں رسل و رسائل کا نظام بھی بہت کمزور تھا۔ اس لئے نہ صرف یہ کہ حضور کی کتب و اشتہارات کی اشاعت بھی بہت محدود تھی ان کاہر احمدی تک پہنچنا ممکن نہیں تھا۔ بلکہ اردو ،عربی اور فارسی زبانوں سے نابلد دنیا کی فہم سے بھی بالاتھا۔

ان سب مشکلات پر مستزاد یہ کہ حضرت مسیح موعود کی مخالفت زبانی دعووں سے گزر کر پرُتشدّد دَور میں داخل ہو چکی تھی۔

۱۹۰۰ ؁ء میں حضور کے گھر اور مسجد مبارک کو ملانے والا راستہ مخالفین نے دیوار کھینچ کر بند کر دیا جو کئی ماہ کی عدالتی کارروائیوں کے بعد کھولا گیا۔

۱۹۰۱ ؁ء میں کابل میں حضرت مولوی عبدالرحمن صاحبؓ کو شہید کر دیا گیا اور دو سال بعد ۱۹۰۳ ؁ء میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحبؓ کی شہادت کاالمناک حادثہ رونماہوا۔

اس پس منظر میں کون کہہ سکتاتھاکہ تحریک احمدیت نہ صرف زندہ رہے گی بلکہ اس کا زندگی بخش پیغام ایک عالم کی حیاتِ نو کا نقیب بن جائے گا۔ دنیا تو ہر لمحہ احمدیت کو موت کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ رہی تھی مگر آسمان کا خدا کہہ رہاتھا:

’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘

’’ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پئے گی‘‘

’’خدا تعالیٰ چاہتاہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں ہیں کیا یورپ اور کیاایشیا ان سب کو جونیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور دین واحد پر جمع کرے‘‘۔

اورآ ج جبکہ ہم اکیسویں صدی کے دہانے پرکھڑے ہیں تاریخ کی آنکھ جماعت احمدیہ کو ایک بالکل مختلف تناظر میں دیکھ رہی ہے۔ مسیح موعود ؑ کا پیغام زمین کے کناروں تک گونج رہاہے۔ دنیاکے ۱۵۳ سے زائد ملکوں میں اس کا پرچم لہرا تاہے۔ (اب تو یہ تعداد ۱۹۰ سے بھی زائد ہے ۔ ناقل)

جماعت احمدیہ ہرملک میں سینکڑوں مضبوط جماعتوں کی شکل میں قائم ہے اس کامالی نظام طوعی، رضاکارانہ مگر مستحکم بنیادوں پر استوار ہے ۔ یہ تمام اسلامی فرقوں میں سب سے زیادہ منظم فرقہ ہے ۔ ہر سال لاکھوں افراد بیعت کرکے اس میں شامل ہورہے ہیں ۔ اس کے عالمی مواصلاتی نظام کے ذریعہ ساری جماعت ایک ہاتھ پر جمع ہے۔ اس کے امام اور عام فرد میں کوئی فاصلہ نہیں رہا۔ ہر احمدی اپنے امام کی تازہ ترین ہدایات اور تحریکات سے ہمہ وقت آگاہ رہ سکتاہے۔

اسی مضمو ن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یوں بیان فرمایا ہے ؂

اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا

میں خاک تھا اسی نے ثریا بنا دیا

جماعت احمدیہ کی زندگی کے یہ دو تناظر مذہب کے طالبعلم کے لئے دلچسپ موازنے کا گہرا سامان اپنے اندر رکھتے ہیں۔

پہلادورگویااحمدیت کے تخم کوزمین میں بونے کا دور تھا اور آج اس تناور اور بلند وبالا درخت کے فضاؤں میں بلند تر ہونے کادور ہے۔ اسی دور کوہم احمدیت کے فضائی دور کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اور اس دور کا سہراایم ٹی اے (MTA)کے سر ہے۔

ایم ٹی اے کی ضرورت

ایم ٹی اے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ضرورت بھی خود ہی پیدا کی اور خود ہی اسے پورا کرنے کے سامان ظاہر فرمائے۔ یوں تو جماعت کافی دیر سے عالمی رابطہ کی ضرورت محسوس کر رہی تھی مگراس کی طلب میں اس وقت بے پناہ اضافہ ہو گیاجب خلافت رابعہ کے دورمیں جماعت ترقی کے نئے سنگ میل نصب کرنے لگی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ ماموریت کے ٹھیک سو سال بعد حضرت مرزا طاہر احمد ؒنے ۱۹۸۲ ؁ء میں خلیفۃ المسیح الرابع کے طور پر حلف اٹھایا۔ اس وقت جماعت احمدیہ دنیا کے قریباً ۸۰ ملکوں میں قائم تھی۔ ۱۹۸۳ ؁ء کے شروع میں ہی آپ نے دعوت الی اللہ کی سکیم کا ازسرنواحیاء کیا اور تمام احمدیوں کو داعی الی اللہ بننے کا ارشاد فرمایا۔

پھر آ پ نے اس مضمون پرمسلسل خطبات ارشاد فرماکر جماعت میں بے پناہ جوش و جذبہ پیدا کر دیا جس کے نتیجہ میں مخالفین کی نیند یں حرام ہو گئیں۔

امام جماعت احمدیہ سے ملنے کے لئے آنے والے ہجوم درہجوم لوگوں کو دیکھ کر حکومت پریشان ہو گئی۔ اور ۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ ؁ء کو و ہ کالا ظالمانہ آرڈیننس نافذ کیاگیاجس کے تحت جماعت احمدیہ کے سربراہ کی پاکستان میں موجودگی ناممکن بنا دی گئی۔ چنانچہ الٰہی اشاروں اور بشارتوں کے تابع حضور انورانگلستان تشریف لے گئے۔

یہ واقعہ احمدیت کی تاریخ میں ناقابل بیان صدمات لے کر آیا۔ مگر اسی تاریکی سے نور کے وہ سوتے پھوٹے جنہوں نے کل عالم کے لئے روشنی کے سورج چڑھا دئے۔

حضور کے سفر ہجرت کی وجہ سے پاکستان کاہر احمدی گھرانہ ایک مذبح خانہ کا منظر پیش کررہا تھا۔ شمع اور پروانوں کے مابین ناقابل عبور فاصلے حائل ہوچکے تھے۔ احمدی اپنے امام کی براہ راست رہنمائی سے محروم ہو چکے تھے ۔ وہ موہنی صورت آنکھوں میں بسائے ہوئے آنسوؤں کی راہ سے پگھل رہے تھے۔

مگراس عُسر کے ساتھ یُسر کے وسیع دور مقدر تھے۔ حضور کے یورپ میں پہنچتے ہی اسلام کا سورج مغرب کی طرف چڑھتا دکھائی دینے لگا۔

بیعتیں جو پہلے چند سو سالانہ تھیں سینکڑوں میں داخل ہو گئیں ۔ ہزاروں میں تبدیل ہوئیں اور پھر لاکھوں کے عدد عبور کر گئیں۔ اس میں بیسیوں اقوام اور بیسیوں ممالک کے سینکڑوں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ تھے ۔ ان سب کی تربیت اور اصلاح ایک بہت بڑے اوروسیع نظام کا تقاضاکر رہی تھی جس کے ذریعہ وہ خداکے خلیفہ کاحتی المقدور قرب حاصل کر سکیں۔

جماعت کی نئی نسل خصوصاً واقفینِ نَو مستقبل کے مبلغ اور خدام دین اپنے امام کی براہ راست توجہ اور رہنمائی کے محتاج تھے ۔ جماعت کے لٹریچر پرپابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔ ان کی اشاعت اور ابلاغ ایک اور بہت بڑا چیلنج تھا جوجماعت کو درپیش تھا۔

احمدیت کے خلاف جھوٹ پرمشتمل جوعالمی پروپیگنڈہ کیا جا رہاتھا اس کا جواب دینے کے لئے احمدیوں کو اجازت نہیں تھی ۔ ایسے زہریلے مواد کا توڑ بھی وقت کی اہم ضرورت تھا۔ خصوصاً ایسے ممالک جہاں احمدیت کے پیغام کی اشاعت پر مکمل پابندی ہے اور وہاں داخلے کے تمام زمینی ذرائع بند ہیں وہا ں صرف کوئی آسمانی حربہ ہی کام دے سکتا تھا۔

کیسٹس کا نظام

خلافت کے ساتھ جماعت کے براہ راست رابطہ کوزندہ رکھنے کے لئے حضور کے خطبات کی کیسٹس بھجوانے کا طریقہ شروع کیا گیا۔ مگربے پناہ محنت اوربے تحاشا خرچ کے باوجود یہ کیسٹس جماعت کے صرف ایک حصہ تک پہنچ پاتی تھیں۔ پھر مختلف زبانوں میں ان کے تراجم شروع ہوئے مگر ان تراجم میں خلیفہ وقت کا پیغام پوری شوکت کے ساتھ نہیں پہنچ سکتا تھا اس لئے ایک راہ توتھی مگر اطمینان نہیں تھا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ اس نظام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’عرصہ دس سال کا گزر رہاہے کہ جماعت احمدیہ کیسٹس کے ذریعہ سے خلیفہ وقت کا تمام دنیا کے احمدیوں تک پیغام پہنچانے کی کوشش کررہی ہے ۔ پہلے صرف آڈیو کیسٹس کے ذریعہ یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ پھرویڈیو کیسٹ بیچ میں شامل ہو گئیں۔ لیکن بے حد محنت کے باوجود بہت ہی جانکاہی کے ساتھ کام کرنے کے باوجود بہت ہی معمولی ،کم حصہ تھا جماعت کا جس تک یہ آوازپہنچ سکی۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کئی ممالک میں بعض رضاکار خدمت کرنے والوں کی ٹیمیں ہیں جو بہت وقت خرچ کرتی ہیں اور ایک کیسٹ سے آگے کیسٹس بنانا ، اس بات کا خیال رکھنا کہ کوالٹی اچھی ہو ۔ پھر مختلف پتوں پر ان کو بھجوانا ۔ ان کے حسابات رکھنا بڑالمبا محنت کاکام ہے۔ لیکن جماعت کرتی رہی۔ پھر بھی بہت ہی تھوڑی تعداد ہے احباب جماعت کی جن تک یہ پیغام براہ راست خلیفہ وقت کی زبان میں پہنچتے تھے ۔ وجہ اس کوشش کی یہ تھی کہ میرا تجربہ ہے کہ جو بات خلیفہ وقت کی طرف سے کوئی پہنچاتاہے اس کا اتنا اثر نہیں ہوتا جتنابراہ راست خلیفۂ وقت سے کوئی بات سنی جائے۔میرااپنا زندگی کا لمبا عرصہ دوسرے خلفاء کے تابع ان کی ہدایت کے مطابق چلنے کی کوشش میں صرف ہوا ہے اور میں جانتاہوں کہ کوئی پیغام پہنچائے کہ فلاں خطبہ میں خلیفہ وقت نے یہ بات کہی تھی اور خطبے میں خودحاضر ہو کر وہ بات سننا ، ان دونوں باتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اطاعت تو پھر بھی کی جاتی ہے خواہ پیغام کسی کے ذریعہ پہنچے لیکن پیغام کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ پیغام پہنچانے والے میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ جس جذبے کے ساتھ، جن باتوں کوابھار کر، نمایاں کر کے ، پیغام دینے والا پیغام دے رہا ہے بعینہ اس پیغام کو اس طر ح آگے پہنچائے کہ اس کے جذبات اس کے زیر وبم تمام کے تمام پیغام کے ساتھ دوسرے شخص تک منتقل ہوتے جائیں ۔کوالٹی کا بیچ میں ضائع ہونا یعنی اس کے مزاج کا بیچ میں ضائع ہو جانا ایک ایسی طبعی بات ہے کہ انسان کی یادداشت توزیادہ بھولتی ہے لیکن الیکٹرانکس کی یادداشت کے ذریعے جو پیغام کیسٹ سے کیسٹ میں منتقل کئے جاتے ہیں تیسر ی ، چوتھی ، پانچویں جنریشن(Generation) میں جاکے کیسٹ کا مزاج ہی بدل جاتاہے اور وہ بات ہی نہیں رہتی جوپہلی کیسٹ میں تھی اس لئے مدر کیسٹ (Mother Cassette) کو ہمیشہ سنبھال کر رکھا جاتا ہے تاکہ اس سے آگے باربار اسی سے آگے دوسری کیسٹ تیار کی جائیں ۔یہ مشکل تھی جس کی وجہ سے جماعت نے کوشش کی کہ کیسٹ کے ذریعہ پیغام پہنچے تو براہ راست ، براہ راست تو نہیں کہہ سکتے کیسٹ کے واسطے سے پوراپیغام احباب جماعت خود سنیں لیکن جیساکہ میں نے بیان کیاہے بہت محنت کے باوجود وہ مقصد حاصل نہیں ہوسکا۔بعض جماعتوں کے متعلق میں جانتا ہوں کہ وہاں اگر دس ہزار آبادی ہے تو بمشکل دو یا چارسو ایسے احمد ی ہیں جو استفادہ کر سکتے تھے یاکرتے رہے۔ اور باقی کے متعلق محض رپورٹ ہی ملتی رہی کہ کیسٹس بھجوائی جا رہی ہیں‘‘ ۔(خطبہ جمعہ ۸؍جنوری ۱۹۹۳ ؁ء)

ان حالات میں امام اور جماعت کے درمیا ن ایک ایسے رابطے کی ضرورت تھے جس میں کوئی دوسرا وجود حائل نہ ہو۔ اور اگر زبان سمجھ نہ بھی آئے اور ترجمہ سن رہے ہوں تب بھی امام کے دلی تاثرات آنکھوں کی راہ سے دلوں میں اتر یں اور ہیجان پیدا کریں۔

یہ ضرورت تھی جو خدا نے ایم ٹی اے کے ذریعہ خود پوری فرمائی اور تمام ممکنہ ضمنی فوائد سے بھی متمتع فرما دیا۔؂

خدا نے روک ظلمت کی اٹھا دی

فسبحان الذی اخزی الاعادی

(درثمین)

ہوا کے دوش پہ لاکھوں گھروں میں در آیا

نکل گیا تھا جو گھر سے کبھی خدا کے لئے

یہ کارہائے غریب الدیار بھی دیکھیں

جو منتظر ہیں دم عیسیٰ و عصا کے لئے

چراغ راہ

ایم ٹی اے کے پس منظر کا ایک بہت بڑا پہلو جماعت احمدیہ کا وہ جہاد ہے جو اس نے دجالی طاقتوں کے خلاف جاری کیاہواہے ۔ٹیلی ویژن ایک بہت مفید ایجاد ہے جس سے دنیا کواخلاق اور امن کے سبق دے کر جنت نظیر بنایا جاسکتاہے۔ مگرعیسائی اور لامذہب طاقتوں نے اس کو بے حیائی اور بدکرداری پھیلانے کے لئے سب سے مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے اور سیٹلائٹ کے دور میں تو یہ کیفیت ایک زہریلے سمندرکی مثال اختیار کر گئی ہے جس نے ایمان اور فطرت کا ہر خرمن اور خوشہ جلاکر راکھ کر دیاہے۔

صرف پاکستان کی مثال لیں ۔ پاکستان میں ۱۳۶چینلز کو مختلف ڈشوں سے دیکھا جا تاہے۔ ان میں انڈیا کے ۳۶ ، برطانیہ کے ۹، فرانس کے ۵ اور چین کے ۱۷ چینل ہیں۔ ایک ہفتے میں سات چینلز کے ذریعہ قریباً ۱۰۰ بھارتی فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔ اور یہ فلمیں سراسر گندسے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔ اوپر سے نیچے تک گندی ،کھوکھلی اور روزمرہ کے مذاق کو برباد کرنے والی۔ نہ ادب کا کچھ رہنے دیتی ہیں ، نہ شعریت کا۔ محض بے ہودہ اور پھر ایسے توہمات میں مبتلا کرنے والی جو انسان کوجانوروں سے بھی گر ا دے۔

اس خطرناک اور تباہ کن صورت حال میں خدا کے مسیح اور اسکی جماعت نے ہی انسان کو ایک روشنی اور سچائی کا رستہ دکھایا ۔ دنیا کی تاریخ میں ٹیلی ویژن کو پہلی دفعہ اعلیٰ روحانی اقدار کے لئے استعمال کیا گیا جو موت کے منہ سے انسان کوکھینچ کر لے آیاہے۔ اور یہ بات بالکل سچ ہے کہ ؂

یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی

محبت کا تو اک دریارواں ہے

اس سیٹلائٹ نظام نے خلافت کے ساتھ محبت اور پیار کے دریا کناروں سے اچھال دئے ہیں اور اس تعلق میں روز بروز اضافہ ہو رہاہے اور خلافت احمدیہ حقیقی معنوں میں کُل عالم کے دلوں پر حکمرانی کررہی ہے۔

ایسا نور، ایسی سچائی اور ایسی صداقت ہے کہ جی بھر کے دیکھنے کے باوجود جی نہیں بھرتا بلکہ پیاس بڑھتی چلی جاتی ہے جو ہر نئے گھونٹ کے ساتھ محبت کے نئے جام پلا دیتی ہے۔ پھر یہی محبت امام وقت کے وجود سے سورج کی طرح پھوٹتی اور سب دنیا میں جلوے دکھاتی ہے۔ اس برکت کا ذکرکرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ فرماتے ہیں:

’’جماعت احمدیہ عالم اسلام میں ایک ہی جماعت ہے جو ایک ہاتھ پر اکٹھی ہے ۔ جماعت احمدیہ عالم اسلام میں ایک ہی جماعت ہے جو ایک سو چالیس ملکوں میں پھیلی ہونے کے باوجود پھر بھی ایک جمعیت رکھتی ہے۔ ایک مرکز رکھتی ہے اور دور دور پھیلے ہوئے احمدی احباب کے دل آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ ایک تکلیف کسی احمدی کو خواہ پاکستان میں پہنچے ، خواہ بنگلہ دیش میں ، ہندوستان میں یا کسی او ر ملک میں اس تکلیف کی جب بھی خبر دنیا میں پھیلتی ہے جماعت احمدیہ خواہ دنیا کے کسی ملک سے تعلق رکھتی ہو یوں محسوس کرتی ہے کہ ہماری ہی تکلیف ہے ۔ اور عجیب اتفاق ہے ، اتفاق تونہیں یعنی خدا کی تقدیر کا ایک حصہ ہے کہ جیسے میں آپ کے لئے غمگین ہوتاہوں جماعت میرے لئے غمگین ہوتی ہے کہ اس غم سے مجھے زیادہ تکلیف نہ پہنچے۔ اور ہر ایسے موقعہ پر تعزیت کا اظہار کیاجاتاہے اور ایسی سادگی اور بھولے پن سے جیسے اس بات پر مقرر کئے گئے ہیں کہ میری دلداری کریں۔ چنانچہ اسیران راہ مولا کے معاملے میں مسلسل ، ہمیشہ دنیا کے کونے کونے سے لوگ مجھ سے ہمدردی کرتے رہے ، فکر کا اظہار کرتے رہے۔ یہاں تک کہ مائیں اپنے بچوں کے حوالے سے لکھتی رہیں کہ جب آپ ان کا ذکرکرتے ہیں اورآپ کی آنکھوں میں نمی آ جاتی ہے تو ہمارے بچے بے چین ہو جاتے ہیں ۔ ایک ماں نے لکھا کہ بچہ روپڑا،اس نے رومال نکالا ، دوڑا دوڑاگیا ، میرا ذکر کرکے کہ ان کے آنسو پونچھوں۔ اب یہ جو واقعہ ہے یہ اللہ کے اعجاز کے سواممکن نہیں ہے۔ اس مادہ پرست دنیا میں کوئی ہے تو دکھا ئے کہاں ایسی باتیں ہیں۔ یہ حضرت محمدﷺ ہی کا اعجازہے‘‘۔(خطبہ جمعہ ۲۴؍ جون ۱۹۹۴ ؁ء)

؂

اس کنبے میں سب کی خوشیاں سانجھی ہیں

ایک ہو خوش تو لاکھوں چہرے کھلتے ہیں

بانٹتے ہیں ہم سارے غم اک دوجے کے

ایک کو دکھ ہو لاکھوں کے دل دکھتے ہیں

حضور پرنور نے جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۲ ؁ء کے لئے لندن سے بذریعہ سیٹلائٹ خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

’’آج ہماری تصویریں جیسے آج ہم یہاں سے دکھائی دے رہے ہیں ۔ اہل قادیان ہی نہیں تمام دنیا کے دوسرے ممالک میں احمدی اوردیگر مہمان دیکھ رہے ہیں۔ اور میری چشم تصور مختلف جگہوں پر گھومتے ہوئے مختلف نظارے دیکھ رہی ہے مجھے اہل ربوہ بھی دکھائی دے رہے ہیں ، مجھے پاکستان کی جماعتوں میں کراچی کی جماعت بھی دکھائی دے رہی ہے ، لاہور کی بھی ، شیخوپورہ کی بھی اور سرگودھا کی بھی اور سیالکوٹ کی وہ جماعتیں بھی جن کے گاؤں میں رہنے والے ایسے معمراحمدی جو زندگی کے آخری دموں تک پہنچے ہوئے ہیں ۔ کبھی یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ دوبارہ مجھے دیکھ سکیں گے لیکن خدا تعالیٰ نے مواصلاتی سیارے کے ذریعے جو انتظام فرمائے اس کے ذریعے ایک قسم کی ملاقات ان سے ہو گئی‘‘۔ (روزنامہ الفضل ربوہ ،۱۱؍جنوری ۱۹۹۳ ؁ء)

احباب جماعت نے اپنے خطوں میں جس طرح والہانہ محبت کا اظہار کیاہے اس کا تذکرہ حضور نے متعدد خطبات میں فرمایاہے ۔ فرمایا:

’’ایک دوست لکھتے ہیں ۔ آپ سے ملاقات کاایک عجیب سا موسم شروع ہے ۔ مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ان معنوں میں بہت پیارے انداز میں ’’موسم ہوتے ہیں لوگوں کے آنے کے بھی اور جانے کے بھی‘‘ فرمایا ہے۔ آپ زیادہ پڑھے لکھے دوست نہیں ہیں جن کا یہ خط ملا مگر دیکھیں کیسے پیارا فقرہ لکھا ہے۔ آپ سے ملاقات کا ایک عجیب موسم شروع ہواہے ۔ جس میں جو سرُور ہوتا ہے وہ بیان سے باہر ہے۔

ایک لاہور کے نوجوان لکھتے ہیں عالمی بیعت کے وقت آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں اور جسم پر کپکپاہٹ طاری تھی یوں لگتاتھا جیسے اللہ تعالیٰ حجاب توڑ کر ہمارے جلسے میں شریک ہے۔ اس دن پوری دنیا گنگ تھی اور صرف خدائی بول رہی تھی۔ اس روز پروردگار نے ہماری پیاسی روحوں کی پیاس کو بجھادیا ۔

اور بعض لکھتے ہیں کہ ،بجھا دیا اور بھڑکا بھی دیا۔ آپ کا خطبہ ختم ہوتے ہی بجھی ہوئی پیاس بھڑک اٹھتی ہے اور اگلے جمعہ کا انتظار شروع ہو جاتاہے‘‘۔

ایک دوست لکھتے ہیں ، ’’ڈش انٹینا کے ذریعے خطبات سن کر اپنے اندر بہت تبدیلی محسوس کر رہا ہوں۔ پہلے میں نمازوں میں سست تھا اب باقاعدگی سے توفیق مل رہی ہے ۔ دینی کاموں میں بھی حصہ لینے لگا ہوں۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے گم شدہ چراغ مل گیا ہو‘‘۔ماشاء اللہ ، کیا شان ہے۔ ایک چھوٹے سے قصبہ سندھ کے قصبے سے خط آیا ہے اور زبان دیکھیں ایمان اور محبت کے اثر سے زبان زندہ ہو گئی ہے ۔

ایک صاحبہ لکھتی ہیں ۔ ہر جمعہ بچوں کو لے کر خطبہ سننے جاتی ہوں ۔ یہ جمعہ کا دن سب پروگراموں پر بھاری ہے۔ میں جو جمعہ کے دن ٹی وی ڈرامہ دیکھنے کے لئے بیتاب ہواکرتی تھی اب تو دل صرف خطبہ سننے کے لئے بیتاب رہتاہے۔

ایک اور خاتون لکھتی ہیں ہم ٹی وی پرآپ کو دیکھتے ہیں تو ایسے لگتا ہے کہ آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ میرے خیال میں اس ڈش انٹینا نے ہم لوگوں پر سب سے بڑا احسان کیاہے اور معصوم بچوں پر خصوصی طور پر۔ جمہ کو ہم آقا سے ملاقات کروانے کے لئے ترستے رہتے تھے ۔ اب یہ حضور اقد س کو دیکھ کر خاموشی سے بیٹھ جاتے ہیں۔ ذرا شور نہیں کرتے اور مصروف عورتیں جو دن میں کئی مجبوریوں کی وجہ سے مسجد میں نہیں آ سکتی تھیں وہ بھی رات کو مسجد میں باقاعدگی سے آتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے جو ابھی اتنے سمجھدار نہیں ہیں وہ حضور کو دیکھتے دیکھتے سو جاتے ہیں۔ اور خطبات لوری کاکام دیتے ہیں۔ جو میٹھی نیند سلا دیتے ہیں اور مائیں پرسکون ہوکر خلیفۂ وقت کے خطبات سے مستفید ہوتی ہیں۔مسجدیں پررونق ہو گئی ہیں۔ اور کیامرد، کیابچے، کیا عورتیں، کیا بزرگ ایک نئے ولولے سے زندہ ہو کر آنکھوں میں ایک نئی چمک لے کر واپس جاتے ہیں۔ ساراہفتہ منتظر رہتے ہیں۔

واللہ کیسا پھل ملا ہے ہماری صبرآزما گھڑیوں کا۔ قریبی گاؤں کی عورتیں اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں ۔ قافلے کی صورت میں احمدی آتے ہیں ۔ کیا بتائیں ایک نئی روح پیدا ہو گئی ہے۔ میرے چھوٹے بیٹے پر بھی خطبات دیکھنے کیوجہ سے آپ کی محبت کا ایک عجیب رنگ چڑھ گیاہے۔ ہر وقت آپ سے ملنے کی تمنا ہوتی ہے۔ روزپوچھے گا آج جمعرات ہے؟ مطلب یہ ہوتاہے کہ کل جمعہ ہوگا؟‘‘۔(رونامہ الفضل ربوہ ۲۰؍مارچ ۱۹۹۳ ؁ء)

پھرفرمایا:’’ جو خطوط مل رہے ہیں ان کی ساری باتیں تو آپ کے سامنے نہیں رکھ سکتا لیکن اتنے پیارے خطوط ہیں ،ایسے عمدہ رنگ میں جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ہر جمعہ پہ دل چاہتاہے کہ کچھ نہ کچھ ان میں آپ کوبھی یعنی سننے والوں کو شریک کروں۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک احمدی رسالے میں ایک نوجوان احمدی شاعر کا ایک شعر پڑھا تھا ۔ عبدالکریم قدسی صاحب ان کا نام ہے۔ ان کا مقطع تھاوہ مجھے بہت ہی پسند آیا۔ وہ شعر یہ تھا؂

آ تیرے بعد گلے ملنا ہی بھول گیا

آ قدسی کو سینے سے لگا پہلے کی طرح

اب تو یہ ایک قدسی کے دل کی آواز نہیں رہی اب تو لاکھوں دلوں سے یہی آواز اٹھ رہی ہے کہ ؂

آ تیرے بعد گلے ملنا ہی بھول گئے

آ ہم سب کو سینے سے لگا پہلے کی طرح

تو دعا کریں کہ واقعۃً سینے سے لگنے اور سینے سے لگانے کے سامان ہوں اور روحانی لحاظ سے تو جو آثار ظاہر ہو رہے ہیں یوں لگتا ہے کہ انشاء اللہ تمام احمدیوں کے دل ایک دوسرے سے مل جائیں گے ۔ تمام احمدیوں کے سینے ایک دوسرے سے مل جائیں گے‘‘۔ (روزنامہ الفضل ربوہ،۲۵؍جنوری ۱۹۹۳ ؁ء)

’’بعض جگہوں سے خبریں ملیں کہ ایک گاؤں چھوڑ کر جہاں بجلی بند ہو گئی تھی مرد، عورتیں اور بچے پیدل بھاگے ہیں دوسرے گاؤں کہ شاید وہاں بجلی ہو اور ہم دیکھ سکیں‘‘۔(روزنامہ الفضل ربوہ ۱۴؍جون ۱۹۹۵ ؁ء)

احمدیہ نقطۂ نظر کی ماسٹرکاپی

خلافت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جو نورفراست اور عرفان نصیب کیا ہے خلافت اس کے ذریعہ نہ صرف عالم احمدیت کی بلکہ تمام عالم کی رہنمائی کرتی ہے۔ اور اس طرح منبر خلافت سے جو آواز اٹھتی ہے وہ جماعت احمدیہ کے موقف کی ماسٹر کاپی ہے جس سے تمام دنیا کے احمدیوں کو ایم ٹی اے کے ذریعہ بلا تاخیر اطلاع ہو جاتی ہے۔ اور وہ اس کی روشنی آگے پھیلانے لگتے ہیں۔

عالمی سیاسیات، اقتصادیات او ر دیگر سماجی اور معاشرتی مسائل پر خلافت احمدیہ کاموقف سننے کے لئے اب دانشور منتظر رہتے ہیں اور اس سے استفادہ کرتے ہیں۔

خلیفہ ٔوقت کی تحریکات

اسی ایم ٹی اے کے ذریعہ خلافت احمدیہ کی نئی تحریکات تمام احمدی خلیفۂ وقت کی زبا ن مبارک سے سنتے ہیں او ر علم و عمل کی نئی راہیں متعین ہوتی ہیں۔

حضور کے وہ خطبات جو ایم ٹی اے کے قیام سے پہلے کے ہیں وہ بھی دوبارہ نشر کئے جا رہے ہیں اور تازہ خطبات بھی وقفے وقفے سے دہرائے جاتے ہیں تاکہ امام کا کوئی پیغام متبعین سے اوجھل نہ رہے۔ حضور نے فرمایا:

’’چونکہ اب یہ خطبے براہ راست سنائے جاتے ہیں اس لئے اب و ہ فکر نہیں رہی کہ منتظمین بات سنیں اور آگے پہنچائیں۔ اور پانی کھیتوں تک پہنچنے کے بجائے کھالیں ٹوٹ ٹوٹ کر بہہ جائے۔ اب تو خدا کے فضل سے ایک ایک پودا نظر کے سامنے ہے اور میں ان کو اپنی ایمان اور محبت کی آنکھوں سے دیکھ رہاہوں۔ اور وہ مجھے براہ راست اپنی جسمانی آنکھوں سے بھی دیکھ رہے ہیں تواس کی بڑی برکت ہے۔ اتنی جلدی دنیا سے جواب آتے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتاہے۔ ایک تحریک شروع ہوئی اور فوراً دنیاکے کونے کونے سے فیکسز آنی شروع ہو گئیں۔ ہماری طرف سے یہ حاضرہے، یہ حاضر ہے۔ اب یہ پروگرام بنا رہے ہیں۔ اس سے پہلے مہینوں لگ جایا کرتے تھے۔ اور اس کے باوجود بھی تسلی نہیں ہوتی تھی ۔ بھاری اکثریت ایسی تھی جس سے واقعۃً خلافت کارابطہ کٹاہوا تھا اور اب جب رابطہ قائم ہو رہا ہے تو حیرت انگیز پاک تبدیلیاں ہور ہی ہیں‘‘۔(روزنامہ الفضل ربوہ،۲۰؍ مارچ ۱۹۹۳ ؁ء)

؂

سایہ سایہ ایک پرچم دل پہ لہرانے کا نام

اے مسیحا تیرا آنا زندگی آنے کا نام

*۔۔۔*۔۔۔*

الفضل انٹرنیشنل ۳۱؍جولائی ۱۹۹۸ء ؁ تا۱۳؍اگست ۱۹۹۸ء ؁