In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » خطبات » حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ » 2009ء »

مومنوں پر اللہ تعالیٰ کی ستاری کے پردے اس قدر ہیں کہ شمار سے باہر ہیں

خدا تعالیٰ کا ایک نام ستار ہے جو انسان کی غلطیوں اور کمزوریوں کو چھپانے اور ڈھانپنے والا ہے۔ کسی پر عیب نہ لگاؤ، بدظنی سے اجتناب اور غیبت و تجسس سے پرہیز کرو اور بنی نوع کی ہمدردی اور اسے فائدہ پہنچاؤ۔ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ فرمودہ27؍مارچ 2009ء بمقام بیت الفتوح مورڈن لندن کاخلاصہ۔

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 27مارچ 2009ء کو بیت الفتوح مورڈن لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایاجو کہ متعدد زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔

حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ایک نام ستار ہے جس کے لغوی معنی ہیں وہ ذات جو پردے میں ہے یا چھپی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو انسان کی غلطیوں اور کمزوریوں کو چھپانے والی ہے اور وہ حیا اورپردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے۔ مومنوں پر اللہ تعالیٰ کی ستاری کے پردے اس قدر ہیں کہ وہ شمار سے باہر ہیں ۔ ایک مومن جب گناہ کرتا ہے تو وہ پردے ہٹتے چلے جاتے ہیں لیکن پھر توبہ کرنے اور اپنی حالت میں پاک تبدیلی پیدا کرنے کے نتیجے میں خدا تعالیٰ پھر اس کی ستاری فرماتا ہے۔ پس ہم میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ حقیقی طور پر گناہوں سے توبہ کرنے والا بنائے اور ہمیشہ ہم اس کی ستاری سے حصہ پاتے رہیں۔

حضور انور نے فرمایا کہ دین حق نے وہ خدا پیش کیا ہے جو جمیع محامد کا سزاوار ہے۔ وہ رحمن ہے، بدوں عمل کے انسان پر اپنا فضل کرتا ہے اورنوازتا چلا جاتا ہے اور غلطیوں اور کوتاہیوں کی پردہ پوشی بھی فرماتا ہے۔ فرمایا کہ رحیمیت میں ایک خاصہ پردہ پوشی کا بھی ہے مگراس پردہ پوشی سے پہلے یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی عمل ہو اور اس عمل کے متعلق کوئی کمی یا نقص رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحیمیت سے اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے۔ مگر جو شخص اپنی برائیوں اور ڈھٹائیوں میں بڑھتا چلا جائے تو ایسے ڈھیٹ اور ضد کرنے والے لوگوں کی پھر خدا تعالیٰ حیا نہیں رکھتا۔ پس صفت ستار کے حوالے سے دعا مانگنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ستاری کی چادرمیں ڈھانپ لے ۔

حضور انور نے فرمایا صفت ستار سے حصہ پانے کے لئے آنحضرت ؐنے ہمیں دعا سکھلائی ہے کہ اے اللہ میرے ننگ کو ڈھانپ دے، میرے اندیشوں کو امن میں بدل دے ، میری حفاظت فرما ان خطرات سے جو میرے آگے ہیں ، میرے پیچھے ہیں او رجو میرے دائیں بائیں ہیں اور جو میرے اوپر ہیں اور میں تیری عظمت کی پناہ میں آتا ہوں ان خطرات سے جو مجھے نیچے سے اچک لیں ۔ حضور انور نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہمیں اس روح کو سمجھتے ہوئے ان دعاؤں کو کرنے اور ان کے مطابق عمل کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔

حضرت مسیح موعود نے اس بارے میں ہمیں یہ دعا سکھائی کہ اے میرے محسن میں تیرا ایک ناکارہ بندہ پُرمعصیت اور پُرغفلت ہوں، تو نے مجھ سے ظلم پر ظلم دیکھا اور انعام پر انعام کیا۔گناہ پر گناہ دیکھا اور احسان پر احسان کیا ، تو نے ہمیشہ میری پردہ پوشی کی اور اپنی بیشمار نعمتوں سے مجھے متمتع کیا سو اب بھی مجھ نالائق اور پُرگناہ پر رحم کر اور میری بیباکی اور ناسپاسی کو معاف فرما۔میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کروا جن سے تو راضی ہو جائے۔

اللہ تعالیٰ کی صفت ستار سے فیض پانے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ نے ایک مومن پر کیا ذمہ داری ڈالی ہے اس بارے میں بعض احادیث کے حوالے سے حضور انور نے فرمایا کہ جس نے کسی مومنہ عورت کی حرمت کی پردہ پوشی کی تو اللہ تعالیٰ آ گ سے اسے محفوظ رکھے گااور جو اپنے بھائی کے عیب کو دیکھ کر اس کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے گا۔

حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں باہم نزا عیں بھی ہو جاتی ہیں اورمعمولی نزاع سے پھر ایک دوسرے کی عزت پر حملہ کرنے لگتے ہیں۔ یہ بہت ہی نامناسب حرکت ہے ۔ خدا تعالیٰ کا نام ستار ہے پھر کیوں یہ اپنے بھائی پر رحم نہیں کرتا اور عفو اور پردہ پوشی سے کام نہیں لیتا۔دوسروں پر عیب نہ لگاؤ‘ بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچاؤ اور اپنے بھائیوں سے ہمدردی ، ہمسایوں سے نیک سلوک کرو اور سب سے پہلے شرک سے بچو کہ یہ تقویٰ کی ابتدائی اینٹ ہے۔ بدظنی سے بکثرت اجتناب کرو، تجسس نہ کیا کرو اورتم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے۔

حضور انور نے فرمایا کہ اگر کسی شخص میں کوئی برائی ہے اور وہ معاشرے پر برااثر ڈال رہا ہے تو تمہارا یہ کام ہے کہ اصلاح کی غرض سے اسے سمجھاؤ لیکن اگر وہ برائی پر بضد رہے تو نظام جماعت کو آگاہ کرو اور اس کے متعلق دعاکرو اور پھر عہدیداروں کا کام ہے کہ بصیغہ راز تمام معاملہ رکھ کر اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔یہ سلسلہ چل نہیں سکتا جب تک رحم، دعا، ستاری اور مرحمہ آپس میں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ان تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی صفت ستار سے ہمیشہ حصہ لینے والے بنے رہیں۔