In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » خطبات » حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ » 2009ء »

ایمان اور نجات کے حصول کے لئے دوسری قدرت سے جڑے رہیں

ابتلاؤں اور مشکلات کے دور میں صبر کرنے والوں کو روحانی ترقیات عطا ہوتی ہیں۔ ملتان میں راہ مولیٰ میں قربان ہونے والے دو نافع الناس میاں بیوی ڈاکٹر ز کا ذکر خیر۔ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ فرمودہ20؍مارچ 2009ء بمقام بیت الفتوح مورڈن لندن کاخلاصہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ20؍مارچ 2009ء کو بمقام بیت الفتوح مورڈن لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ جوکہ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر مختلف تراجم کے ساتھ براہ راست ساری دنیا میں نشر کیا گیا۔

حضور انور نے فرمایا کہ آج سے 120سال قبل حضرت مسیح موعود نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر جماعت احمدیہ کے نام سے مادیت پرستی اور بے راہ روی کی غلاظت بھرے طوفانوں سے بچانے کے لئے کشتی تیارکی اور حضرت مسیح موعود کے دورمیں ہی لاکھوں لوگوں نے آپ کی بیعت کی اور بیعت کا حق ادا کیا۔ چنانچہ اس چاند کے ذریعہ سے وہ روشنی عطا ہوئی جو آج بھی شدید ابتلاؤں اور مشکلات کے باوجود ہدایت کی روشنی پھیلا رہی ہے۔ شروع سے ہی اس جماعت کو ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں ۔ لیکن ہمیشہ خدا کی تائید و نصرت سے جماعت پہلے سے بڑھ کر ترقی کرتی رہی۔

حضور انور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے بعد دوسری قدرت کے ظہور کی جو خبر دی تھی۔ خدا تعالیٰ نے اس کو بھی سچا کر دیا اوروہ جو خلافت کو چھوڑ کر الگ ہو گئے انہوں نے یہ نہ سوچا کہ کشتی میں سوار ہو کر غرق ہونے سے وہی نجات پائے گاجو دوسری قدرت سے جڑا رہے گا۔ کوئی انجمن ابتلاؤں سے نہیں بچاسکتی۔یہ خلافت کی ہی برکت ہے کہ احمدیت ترقی کر رہی ہے اور ابتلاء کے وقت خلافت کی ہی برکت سے احمدی صبر کرتے ہیں ۔ متحد رہتے ہیں اور یہ مخالفت احمدی کو ایمان کی مضبوطی میں بڑھاتی ہے۔

حضور انور نے بلغاریہ، ہندوستان او رپاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیشہ مخالفت نے احمدیت کی ترقی کیلئے کھاد کا کام کیا ہے۔ دعائیں کریں اور خدا کے آگے جھکتے ہوئے اللہ کے دین کے مدد گار بن جائیں ۔ آج کے مشکل دور میں احمدی ہی کی دعائیں ہیں جو انسانیت کی نجات کا باعث ہوں گی۔

23مارچ یوم پاکستان کے حوالہ سے پاکستان کے حصول وقیام کے لئے احمدیوں نے جو قربانیاں دیں اور عملی طور پر جو اقدامات کئے ان کے متعلق حضور انور نے بعض غیر ازجماعت کی گواہیاں پیش کیں ۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ احمدی ہمیشہ اپنے ملک سے باوفا رہے اور آج بھی باوفا رہیں گے۔ حضور انور نے مولانا محمد علی جوہر ، م ش اور جسٹس منیر کے بیانات کے حوالہ سے فرمایا کہ تاریخ ہمیشہ گواہی دے گی کہ خلافت احمدیہ نے جماعت کی اخلاقی مادی روحانی ترقیات کے ساتھ ساتھ ملک اور انسانیت کی ترقی کے لئے ہمیشہ کام کیا اور ہمیشہ صف اول میں رہی ہے۔

حضور انور نے ملتان میں احمدی ڈاکٹر جوڑے مکرم ڈاکٹر شیراز باجوہ صاحب اور ان کی اہلیہ مکرمہ نورین رشید صاحبہ کی راہ مولیٰ میں دی گئی قربانی کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا کہ دونوں دھیما مزاج رکھنے والے ، نافع الناس، ہمدردانہ رویہ رکھنے والے ، خدمت خلق کرنے والے ہر دلعزیز ڈاکٹر تھے۔

حضور انور نے ان دونوں ڈاکٹرز کی نماز جنازہ کے ساتھ ڈاکٹر محمد اسلم جہانگیر ی صاحب امیرہری پور ہزارہ اور محترمہ ناصرہ بیگم صاحبہ اہلیہ میاں شریف احمد صاحب کی نماز جنازہ غائب پڑھانے کا اعلان فرمایا۔ محترمہ ناصرہ بیگم صاحبہ حضرت سید عزیز اللہ شاہ صاحب کی بیٹی، حضرت سیدہ مہر آپا صاحبہ کی بہن اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی ماموں زاد بہن اور مخلص خاتون تھیں۔