In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » خطبات » حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ » 2009ء »

آنحضرت ﷺ کی سچی اتباع خدا تعالیٰ کا محبوب بنانے کا ذریعہ اور اصل باعث ہے

آنحضرت ﷺ کی سیرت کاتذکرہ کرنا بہت عمدہ اورموجب ثواب و رحمت ہے۔ ہر احمدی کو دعاؤں پر زور دیتے ہوئے اسوۂ رسولؐ کے مطابق اپنی اور دنیا کی ابدی زندگی کے سامان کرنے والابننا چاہئے۔ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ فرمودہ13؍مارچ 2009ء بمقام بیت الفتوح مورڈن لندن کاخلاصہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 13؍مارچ 2009ء کو بمقام بیت الفتوح مورڈن لندن خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ جس کو مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔حضور انور نے فرمایا کہ12ربیع الاول آنحضرتﷺکی پیدائش کا دن ہے۔ برصغیر میںیہ دن بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ حضور نے اس ضمن میں بعض فرقوں کے نظریات اورتاریخ بیان فرمائی۔

حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺکا تذکرہ کرنا بہت عمدہ ہے بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ انبیاء اور اولیاء کی یاد سے رحمت نازل ہوتی ہے اور خود خدا نے بھی انبیاء کے تذکرے کی ترغیب دی ہے۔ لیکن اگر اس کے ساتھبدعات شامل نہ ہوں آنحضرتﷺکی بعثت پیدائش اور وفات کا ذکر ہو تو موجب ثواب ہے۔ ہم مجاز نہیں رکھتے کہ اپنی شریعت یا کتاب بنا لیویں۔

حضور انور نے فرمایا کہ آنحضرتؐ کی سچی اتباع خدا تعالیٰ کا محبوب بنانے کا ذریعہ اور اصل باعث ہے۔ جو شخص کسی سے محبت کرتا ہے اس کا تذکرہ کرتا ہے۔جو شخص آنحضرتﷺ کی عظمت کو دل میں جگہ نہیں دیتا وہ بے دین آدمی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کا وجود ایک بارش کی مانند ہوتاہے اوردنیا کے لئے اس میں برکات ہوتے ہیں ۔ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ میرے نزدیک آنحضرتﷺ کا تذکرہ اتباع کی تحریک کیلئے مناسب ہے۔ اگر بدعات نہ ہوں اور جلسہ ہو جس میں آنحضرت ﷺ کی سیرت بیان کی جاتی ہو اور آنحضرتﷺ کی مدح میں خوش الحانی سے نظمیں پڑھ کر سنائی جائیں تو ایسی مجلسیں بڑی اچھی ہیں اور ہونی چاہئیں ۔ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اے لوگو ! اگر تم خدا تعالیٰ کے محبوب بندے بننا چاہتے ہو تو آنحضرت ﷺ کی پیروی کرو۔ آنحضرت ﷺ نے ہر ایک کام کا نمونہ دکھلا دیا، وہ ہمیں کرنا چاہئے۔

حضور انور نے آنحضرت ﷺ کی سیرت کے بعض پہلو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کا وجود خدا تعالیٰ کی محبت سے سرشار تھا۔ جب کفار نے آپؐ کو دین حق کی تبلیغ سے روکنے کے لئے دنیا کی ہر طرح کی آسائشوں کی پیشکش کی تو آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اوربائیں ہاتھ پر چاند بھی لا کر رکھ دیں تب بھی میں اپنے فرض سے بازنہیںآؤں گا۔ میری زندگی اس راہ میں وقف ہے۔ میں وہ آخری نبی ہوں جس نے تمام دنیا پر خدائے قادر و توانا اور واحد ویگانہ کا جھنڈا لہرانا ہے۔ میری نماز ، میری قربانی اورمیری زندگی اورمیری موت اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ حضور انور نے فرمایا کہ یہ اعلان کر کے آنحضرت ؐ نے اپنے ماننے والوں کو بھی یہ تعلیم دی کہ میرے نمونے تو یہ ہیں،تم بھی نیکیوں پر عمل کرتے ہوئے ان راستوں پر قدم مارنے کی کوشش کرو۔ اگر اس ا صل کو ہم سمجھ لیں اور اس بات پر قائم ہو جائیں کہ ہمارا جینا اور مرنا خدا تعالیٰ کیلئے ہے تو جہاں انفرادی طور پر ہم ابدی زندگی کے وارث ہوں گے وہاں ہر احمدی اس دنیا میں بھی ہزاروں مردہ لوگوں کو زندگی بخشنے کے سامان کرنے والا ہوگا۔ پس دعاؤں پر زور دیتے ہوئے اسوۂ رسولؐ کے مطابق دنیا کی زندگی کے سامان کرنے والا ہر احمدی کو بننا چاہئے۔

حضور انور نے فرمایاکہ آنحضرتؐ کی سیرت کا ایک نمایاں پہلو انصاف اورمساوات قائم کرنا بھی تھا۔آپؐ نے فرمایا کہ تم سے پہلی قومیں اس لئے ہلاک ہوئیں کہ جب بڑے آدمی سے کوئی قصور ہوتا تھا تو اسے چھوڑ دیا جاتا تھا اور جب کمزور کسی جرم کا مرتکب ہوتا تو اسے سزا دی جاتی تھی۔حضورانور نے آنحضرت ﷺ کے زمانے میں کسی قبیلے کی ایک عورت کا چوری کرنے اور اس پر سزا قائم کرنے والا واقعہ بیان کیا اور فرمایا کہ یہ تھا انصاف کامعیار جو آپؐ نے قائم فرمایا۔

حضور انور نے فرمایا کہ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ جس کو عہدہ لینے کی خواہش ہو ، ہم اسے عہدہ نہیں دیتے،مگر جب خدا عہدہ دیتا ہے تو پھر اس کو نبھانے کی توفیق بھی دیتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے۔ جب عہدہ مانگ کرلیا جائے تو پھر کام اس پر حاوی کر دیا جاتا ہے۔پس عہدے کی خواہش میں نفس پسندی کا دخل ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ بات بالکل پسند نہیں کہ انسان اپنے نفس کا زیادہ سے زیادہ اظہارکرے۔ عہدہ ایک امانت ہے جس کے بارہ میں پوچھا جائے گا۔ پس اس امانت کا حق اداکرنے کے لئے انتہائی عاجزی سے اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ اس خدمت کو ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس کے لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعامانگے کہ ہرمعاملے میں ، ہرقدم پر اورہر لمحے پر اللہ تعالیٰ میری راہنمائی فرماتا رہے تو تبھی عہدیدار اپنے عہدہ کا حق صحیح طور پر ادا کر سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو آنحضرت ؐ کے اسوۂ پر چلتے ہوئے اپنی زندگیوں کوا س کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین