سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 3؍اپریل 2009ء بمقام بیت الفتوح مورڈن لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو کہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔
حضور انور نے فرمایا کہ قرآن شریف میں متعدد جگہ پر اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی غلطیوں کو معاف اور ان سے صرف نظر کرتے ہوئے ستاری کا سلوک فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کی کسی غلطی کو فوری طور پر نہیں پکڑتا بلکہ موقع عطا فرماتا ہے کہ ایک حقیقی مومن اللہ تعالیٰ کے اس سلوک سے فائدہ اٹھا کر اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا احساس کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی کوشش کرے اور خدا تعالیٰ کی حفاظت کے حصار میں آجائے۔
حضور انور نے بعض آیات کریمہ کے حوالے سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے صفت ستار سے حصہ لینے کے لئے بعض امور کی طرف توجہ دلائی ہے۔ فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے ہم لازماً ان کی بدیاں ان سے دور کر دیں گے۔ پس حقیقی مومن وہی ہے جو خدا تعالیٰ سے اس کی ستاری طلب کرے، اپنی برائیوں کا احساس ہونے کے بعد ان سے دور ہٹنے اور انہیں ختم کرنے کی کوشش کرے، غلطیوں کی صورت میں توبہ و استغفار کی طرف متوجہ ہو۔
حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ خدا فرماتا ہے کہ اے بندو! مجھ سے ناامید مت ہو، میں رحیم ، کریم ، ستار اور غفار ہوں، اپنے باپوں سے زیادہ میرے ساتھ محبت کرو کہ درحقیقت میں محبت میں ان سے زیادہ ہوں۔ اگر تم میری طرف آؤ تو میں سارے گناہ بخش دوں گا اور اگر تم توبہ کرو تو میں قبول کروں گا، جو شخص مجھے ڈھونڈے گا وہ مجھے پائے گا، میرا رحم تم پر زیادہ اور غضب کم ہے کیونکہ تم میری مخلوق ہو اس لئے میرا رحم تم سب پر محیط ہے۔
حضور انور نے میاں بیوی کے باہمی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض دفعہ آپس کے اختلافات کی صورت میں ایک دوسرے پر گند اچھالنے سے بھی دونوں فریق باز نہیں رہتے اور یہ بات خدا تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی دونوں کو ایک دوسرے کا لباس ٹھہرایا ہے جس کے مقاصد میں ننگ کو ڈھانکنا ، زینت کا باعث اور گرمی سردی سے انسان کو محفوظ رکھنا ہے۔ پس اس حکمت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے عیب چھپائیں اور بہترین تعلقات کی بنا پر ایسی زینت ہر احمدی جوڑے میں نظر آئے کہ دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں ۔ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک دوسرے کے لئے تسکین کا باعث بنتے رہیں اور اس کے لئے جوش اور غیظ و غضب کو دبانے اور اپنے اندر برداشت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ قرآن کریم کی رو سے اصل لباس لباسِ تقویٰ ہے ایک مومن اور غیر مومن کے لباس کی زینت کا معیار مختلف ہوتا ہے۔ حضور انور نے فرمایا کہ ایک مومن جسے اللہ تعالیٰ کا خوف ہے چاہے مرد ہو یا عورت وہ یہی چاہیں گے کہ وہ لباس پہنیں جو خدا کی رضا کے حصول کا ذریعہ بھی بنے اور وہ لباس اس وقت ہو گا جب تقویٰ کے لباس کی تلاش ہو گی اور وہ اس طرح کہ جب اپنے ظاہری لباس کا بھی خیال رکھا جا رہا ہو، تقویٰ کے ساتھ میاں بیوی کے حقوق کا جو ایک دوسرے کے لباس ہیں اس کا بھی خیال رکھا جائے گا اور اسی طرح معاشرے میں ایک دوسرے کے عیب پوشی کرنے کے لئے آپس کے تعلقات میں بھی اونچ نیچ کی صورت میں تقویٰ کو مدنظر رکھا جائے گا۔ پس یہ تقویٰ کا لباس ہے جس کا حصول اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے بغیر ممکن نہیں ۔
حضور انور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کی بیعت کے بعد ہم پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنی حالتوں کے بدلنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور زمانے کے بہاؤ میں بہنے والے نہ بنیں بلکہ ہر روز ہمارا تعلق خدا تعالیٰ سے مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ سے انسان کا سچا تعلق ہو جاوے تو وہ کل خطائیں بخش دیتا ہے۔ پھر ایک اور جگہ پر فرماتے ہیں کہ ہماری جماعت کو سرسبزی نہیں آئے گی جب تک وہ آپس میں سچی ہمدردی نہ کریں، جماعت تب بنتی ہے کہ بعض بعض کی ہمدردی کریں ، پردہ پوشی کی جاوے، جب یہ حالت پیدا ہو تب ایک وجود ہو کر ایک دوسرے کے جوارح ہو جاتے ہیں اور اپنے تئیں حقیقی بھائی سے بڑھ کر سمجھتے ہیں ۔ اللہ کرے کہ ہم اس کی ستاری سے حصہ لینے والے بنیں اور دنیا کے لئے ایک نمونہ بن جائیں ۔