In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » خطبات » حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ » 2009ء »

سچی فراست اور سچی دانش اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کئے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی

کائنات پر غور کرنے سے ہستی باری تعالیٰ پر یقین اور ایمان مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے، سچی فراست اور سچی دانش اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کئے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی، عقلمند ہیں وہ لوگ جو تصرف ایام پر غور کرتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنیں ، سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ فرمودہ10؍اپریل 2009ء کاخلاصہ۔

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 10؍اپریل 2009ء کو خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا ۔ حضور انور کا یہ ریکارڈ شدہ خطبہ جمعہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ مورخہ 15؍اپریل 2009ء کو ایم ٹی اے انٹر نیشنل پر نشر کیا گیا۔

حضور انور نے خطبہ جمعہ کے آغاز میں سورۃ آل عمران کی آیات 192,191کی تلاوت کی اور پھر فرمایا کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں توجہ دلائی ہے کہ ہر قسم کی پیدائش اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس میں زمین و آسمان کی ہر چیز سمیت انسان بھی اس پیدائش کا حصہ ہے۔ انسان کی بہتری اور آرام کے لئے دن اور رات رکھے اور مختلف موسم پیدا کئے ، دن رات کے آگے پیچھے آنے اور موسموں کے ادلنے بدلنے میں حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ چونکہ انسان کی طبیعت ایک تبدیلی کو چاہتی ہے اس لئے خدا نے چاہا کہ اس کا بھی اظہار ہوتا رہے۔ پس عقلمند وہی ہیں جو ان تصرف ایام کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احسان مند اور شکر گزار ہوں کہ اس نے جس طرح انسان کی فطرت بنائی اسی کے موافق موسموں کو بھی ڈھال دیا۔

حضور انور نے فرمایا کہ وہ روحانی روشنی جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے ذریعہ دنیا میں بھیجتا ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے، ہم خوش قسمت ہیں کہ اس روحانی روشنی کو پہچان کر اس سے حصہ پا رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہماری روحانی ترقی کے لئے بھیجی ہے اور اس کا حصول خدا تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ مشروط ہے۔ زمین و آسمان کی پیدائش پر غور کرنے سے خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین محکم ہوتا ہے اور اس پر ایمان مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے، اونچے پہاڑ ، گہری کھائیاں ، آبشاریں ، ندی نالے او رجھیلیں یہ سب صانع حقیقی یعنی خدا کا تصور پیش کرتی ہیں او رانسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور جن سے قدرت کے جلوے نئی شان سے ظاہر ہو رہے ہوتے ہیں ۔ یہ بھی ایک احمدی کی شان ہے کہ زمانے کے امام کو پہچان کر ان چیزوں کی طرف مزید توجہ پیدا ہوئی۔

حضور انور نے فرمایا کہ مذکورہ بالا آیات چودہ سو سال قبل عرب کے صحرامیں ایک ایسے انسان پر اتریں جس کو دنیا کا علم نہیں تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے علم سے اپنا کلام اتار کر اسے کامل انسان بنا دیا۔ بے اختیار یہ بات دین حق کی سچائی اور آنحضرت ﷺ کی صداقت پر ایک یقین قائم کرتی ہے کہ کس طرح اس زمانے میں جبکہ سائنس کو ترقی نہیں تھی ، زمین و آسمان کی پیدائش کے بارے بڑے گہرے راز بتائے اور اب انسان ان رازوں کی حقیقت آ شکار ہونے پر بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ اے اللہ! تو نے یہ ساری چیزیں ایسی پیدا کی ہیں جو جھوٹ نہیں ہیں پس ہمیں کبھی ایسا نہ بنا جو اس حقیقت کو جھوٹ یا غلط سمجھنے والے ہوں اور پھر ہم اس کی وجہ سے تیری عبادت سے بے اعتنائی کرنے والے ہوں اور نتیجتاً پھر تیرے عذاب کے مورد ٹھہرجائیں ۔

حضور انور نے فرمایا کہ قرآن کریم میں ان لوگوں کو جو عقل سے کام لیتے ہیں اولوالالباب فرمایا ہے۔ سچی فراست اور سچی دانش اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کئے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ حقیقی عقل اسی کو ملتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا ، اس سے مددطلب کرتا ، اس کی صناعی پر، مخلوق پر اور اس کی پیدائش پر غور و فکر کرتا ہے اس لئے اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو عقل سے کام لیتے ہوئے قرآن کریم کو غو ر و تدّبر سے پڑھو اور پارسا طبع ہو جاؤ اور جب ایسا کرو گے تو اس وقت سمجھ آ جائے گا کہ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ صانع حقیقی کی حقانیت اور اثبات پر دلالت کرتی ہے۔ یہ جو طرح طرح کے علوم ہیں یہ بھی دین کی مدد کے لئے ہیں اور یہ بھی اللہ تعالیٰ نے جو انسان کو عقل دی ہے اس کی وجہ سے انسان حاصل کرتا ہے۔ آج سائنس میں بڑی ترقی ہے ، اس کا بھی خد اتعالیٰ نے قرآن کریم میں پہلے بیان کر دیا تھا کہ انسان دنیا میں ہر علم میں ترقی کرے گا لیکن یہ بھی خد اتعالیٰ کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم صحیح رنگ میں اس کے عبادت گزار بنیں اور اس کی پیدائش کو دیکھ کر اس پر غور کرتے ہوئے اس کے وجود پر ایمان مضبوط سے مضبوط تر کرتے چلے جانے والے ہوں۔