In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » خطبات » حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ » 2009ء »

خدا تعالیٰ کا نور سب سے زیادہ انبیاء اور ان میں سب سے بڑھ کر حضرت محمدﷺ کو ملا

خدا تعالیٰ لطیف اور ایسا نور ہے کہ جس پر پڑتا ہے وہ وجود اس کی تائیدات اور نشانات کا مظہر بن جاتا ہے ،روحانی زندگی پانے کے لئے تمام قوتوں کے مالک خدا تعالیٰ کی توحید کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ فرمودہ17؍اپریل 2009ء بمقام بیت الفتوح مورڈن لندن کاخلاصہ۔

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 17؍اپریل 2009ء کو بیت الفتوح مورڈن لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو کہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔

حضور انور نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی متعددآیات میں بعض مضامین بیان فرما کر جن میں مختلف رنگوں میں خدا تعالیٰ کی اپنے بندوں پر مہربانیوں کا ذکر ہے، اس کو اپنی صفت لطیف کے ساتھ باندھا ہے۔ حضور انور نے بعض لغات اور مفسرین کے حوالے سے لفظ لطیف کے معنی اور وضاحت کے بعد فرمایا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفت لطیف کے تحت ہدایت کے نور سے خود منور کرتا ، ہماری جسمانی و روحانی نشوونما کے سامان کرتا، آزمائش کے وقت ہمارا دوست اور ولی ہوتا ، تکالیف کے وقت ہماری حفاظت فرماتا اورہماری پردہ پوشی فرماتا ہے، ہماری تھوڑی سی قربانیوں کا بہت بڑا اجر دیتا ہے اوربڑی باریک بینی اور گہرائی سے ہر معاملہ پر نظر رکھنے والا ہے۔

حضور انور نے سورۃ انعام کی آیت 104کے حوالے سے فرمایا کہ بصارتیں اور بصیرتیں اس کی کُنہ تک نہیں پہنچ سکتیں کیونکہ وہ لطیف ہے، ایک ایسا نور ہے جو ظاہری آنکھ سے دیکھا نہیں جا سکتا ہاں جس پر پڑتا ہے اس کو ایسا روشن کر دیتا ہے کہ وہ وجود خدا تعالیٰ کی تائیدات اور نشانات کا اظہار کرنے والا بن جاتا ہے۔ یہ نور سب سے زیادہ انبیاء کو اور پھر انبیاء میں سب سے بڑھ کر حضرت محمد مصطفی ﷺکو یہ نور ملا ۔ دنیاوی عقل ، تعلیم ، وجاہت ، بادشاہت اور دولت رکھنے والوں کو جو روحانی آنکھ کے اندھے تھے، انہیں تو یہ سب کچھ نظر نہیں آیا مگر وہ غریب لوگ جنہیں خدا کے نور تک پہنچنے کی سچی لگن اور کوشش تھی انہیں آنحضرت ؐ کے وجود میں خدا تعالیٰ کے نور کا پَرتو نظر آ گیا اور ان کے لئے خدا تعالیٰ نے روحانی رزق کے سامان مہیا کر دئیے۔ پس آج خدا تعالیٰ کا کلام وھوید رک الابصار انہیں پر پورا ہوتا ہے جو اپنے دلوں کو پاک کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو پانا چاہتے ہیں ۔

حضور انور نے حضرت یوسف ؑ پر خد اتعالیٰ کی مہربانیوں اور احسانوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت یوسفؑ اور ان کے باپ حضرت یعقوبؑ کی وجہ سے باقی بیٹوں کی اصلاح کے سامان بھی خد اتعالیٰ نے پیدا کر دئیے۔ اس سے یہ مضمون بھی کھلتا ہے کہ ایک دوسرے کے لئے دعاؤں سے اصلاح کے راستے کھلتے ہیں ۔ اسی لئے آنحضرت ؐ نے اپنی قوم کی اصلاح کے لئے بہت دعائیں کی ہیں ۔ پس آج آنحضرت ؐ کے ماننے والوں کیلئے ہمیں بھی دعاؤں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

حضور انور نے سورۃ الحج آیت 64کے تحت زمینی اور روحانی زندگی کے متعلق یہ مضمون بیان فرمایا کہ زندگی روحانی پانی سے ملتی ہے۔ روحانی زندگی پانے کے لئے تمام قوتوں کے مالک خدا تعالیٰ کی توحید کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جس طرح بارش کا پانی بادلوں سے گر کر زمین کو سرسبز بنا دیتا ہے اسی طرح روحانی پانی بھی آسمان سے زمین پر اتر کر لوگوں کیلئے روحانیت پیدا کرنے کا سامان کرتا ہے اور جس طرح بادلوں کا پانی زرخیز زمین کو سرسبز و شاداب بناتا ہے اسی طرح روحانی پانی بھی انہی صاف دلوں کوزرخیز کرتا ہے جس میں نیکی کی کچھ رمق ہوتی ہے نہایت تاریک زمانے میں خدا تعالیٰ نے آنحضرت ؐ کو بھیج کر آپ ؐ کے ذریعے سے وہ کامل دین اور شریعت اتاری جس نے لوگوں کی روحوں کو تازہ اور سیراب کیا۔

حضور انور نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے آپ کو قوی اور عزیز کہہ کر اس بات کی طرف بھی توجہ دلا دی کہ اگر باوجود اللہ تعالیٰ کے لطیف ہونے کے اس کی طرف توجہ نہ کی تو وہ قوی ہے اور تمام طاقتوں کا سرچشمہ ہے، اس کی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے اور غلبہ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے بھیجے ہوؤں کا ہی ہونا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا انبیاء سے وعدہ ہے۔ مخالفتیں کبھی بھی خدا کے نورکو بجھا نہیں سکتیں اورجو جماعت خدا تعالیٰ نے خود قائم فرمائی ہے اس کو کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ حضور انور نے پاکستان سمیت بعض دیگر ممالک میں بسنے والے احمدیوں کے حالات بیان کر کے تمام دنیا کے احمدیوں کو ان کے لئے دعاؤں کی تحریک فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان ممالک میں بسنے والے تمام احمدیوں کے جان و مال کی حفاظت فرمائے اور ہر شر اور فتنہ سے بچائے رکھے اور خدا تعالیٰ اپنی صفت لطیف کا فیض انہیں پہنچاتا رہے۔