In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » خطبات » حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ » 2009ء »

ہر قسم کی خیر اور بھلائی خدا کے وجود سے ہی ملتی ہے

خدا کے اسم النافع کا بیان۔ حقیقی نافع الناس خدا کی ذات ہی ہے،اپنے آپ کو نافع بنانے کے لئے نیک اعمال کے ساتھ ساتھ دعاؤں سے خدا کی مدد حاصل کریں، سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ فرمودہ24؍اپریل 2009ء بمقام بیت الفتوح مورڈن لندن کاخلاصہ۔

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 24؍اپریل 2009ء کو بیت الفتوح لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ جو کہ ایم ٹی اے پر براہ راست مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ نشر کیا گیا۔ اس میں حضور انور نے انسانی ہمدردی اور نیک اعمال بجالانے نیز بدیوں سے بچنے اور ترک شر کی تلقین فرمائی۔

حضور انور نے فرمایا کہ نفع کا لفظ ہم اکثر استعمال کرتے ہیں۔ لوگ دنیاوی کاروباری معاملات میں بھی اس لفظ کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ جس کے عمومی معانی فائدہ اٹھانے اور فائدہ پہنچانے کے ہیں۔ دینی معاملات میں بھی اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے۔ جس کے معنی فائدہ پہنچانا یا قابل استعمال ہونا یا کسی چیز کے استعمال سے فائدہ ہونا ہوتے ہیں۔ لیکن حقیقی نافع تو خدا کی ذات ہی ہے اور النافع اس کے اسماء میں سے ہے۔

حضور انور نے احادیث بیان کرتے ہوئے نافع الناس وجود بننے کے ذرائع اور طریق کی وضاحت فرمائی کہ کس طرح ہم نافع الناس وجود بن سکتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ صدقہ کیا کرو۔ صحابہؓ نے عرض کی کہ یارسولؐ اللہ جس کو اس کی طاقت نہ ہو فرمایا وہ محنت کرے اپنے ہاتھ سے کچھ کمائے خود بھی اس سے فائدہ اٹھائے اور صدقہ بھی کرے۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہؐ اگر کسی کو اس کی طاقت بھی نہ ہو تو فرمایا کہ وہ نیک اعمال کرے اور بدی سے بچتا رہے۔ گویا کہ لوگوں کو ان کی مدد کرکے بھی نفع پہنچایا جاسکتا ہے اور اگر کچھ نہیں تو کم ازکم لوگوں کو تکلیف پہنچانے والے عمل اور اشیاء کو ہی دور کرے۔ جیسے کہ ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے راستے میں پڑی ہوئی ایک لکڑی اس نیت اور خلوص سے اٹھائی کہ اگر یہ یہاں رہی تو راہ چلتے لوگوں کو تکلیف ہوگی اور اس کی نیکی کی وجہ سے ہی خداتعالیٰ نے اسے جنت میں داخل کردیا۔

حضور انور نے فرمایا کہ صدقہ کی تلقین کی غرض یہ ہے کہ بھوک اور ننگ کو دور کیا جائے۔ لوگوں کے فائدہ کے لئے اپنا مال خرچ کرنا چاہئے اور یہی اصل بچت اور منافع ہے۔ حضرت عائشہؓ کی روایت ہے بکری ذبح کی گئی اور ساری تقسیم ہو گئی صرف دستی بچی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس دستی کے علاوہ سارا گوشت بچ گیا۔ اس کا مطلب یہی تھا کہ حقیقی منافع وہی ہے جو خدا کی طرف سے آتا ہے۔ ہر قسم کی خیر اور بھلائی خدا کی ذات سے ملتی ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ اس کے ساتھ ساتھ یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ قوم پر بوجھ نہیں بننا چاہئے۔ خود محنت کریں، اپنے ہاتھ سے کمائیں، کھائیں اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائیں۔ لینے والے ہاتھ سے دینے والا ہاتھ بہتر ہے۔ اوپر والا ہاتھ بننا چاہئے۔ یورپ میں سوشل الاؤنس ملتا ہے۔ ہر احمدی کو حتی الوسع کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اس سے بچیں۔

حضور انور نے فرمایا کہ صدقہ دینا اور لوگوں کو نفع پہنچانا اور انسانوں کی ہمدردی کرنا ہر ایک کا فرض ہے۔ اگر مال سے کسی کی مدد نہیں ہوسکتی تو کسی کی کام میں مدد کردیں۔ جیسے رسولؐ اللہ نے بوڑھی عورت کا سامان اٹھا کر اس کی منزل تک پہنچایا تھا۔ اگر اس کی بھی توفیق نہیں ہے تو نیکیاں کریں۔ اس طرح بھی نفع رساں وجود بنا جاسکتا ہے۔ نیکی کے دو پہلو ہیں۔ ایک ترک شر ہے کہ کسی کو نقصان نہ پہنچایا جائے دوسرا افاضہ خیر ہے صرف ترک شر کافی نہیں۔ فائدہ پہنچانا نیکی کو کامل کرتا ہے اور اس کے لئے دعائیں بھی سکھائی ہیں۔ پس اپنے آپ کو نافع وجود بنانے کے لئے نیک اعمال کے ساتھ خدا کی مدد کی ضرورت ہے اور خدا دعائیں کرنے والے کی مدد کرتا ہے۔ اس کے بعد حضور نے بعض دعاؤں کا ذکر فرمایا۔

حضور انور نے فرمایا کہ حقیقی نافع الناس خدا کی ذات ہے۔ جس کا رنگ اپنے اوپر چڑھانے کی بندے کو کوشش کرنی چاہئے۔ ایمان کی کمزوری اور دھوکے سے پاک ہو۔ بے راہ روی سے پاک ہو۔ بتوں کی عبادت بھی غیر نفع بخش ہے کہ نہ تو وہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انسان کو دوسروں کو نقصان نہ پہنچانے والا بننا چاہئے۔ قلب سلیم والا بننا چاہئے۔ عبادت اور نیک اعمال کرنے والے ہی لوگ ہیں جو خدا کی رضا حاصل کرنے والے ہیں۔ نہ مال انسان کے کام آئے گا اور نہ ہی اولاد کسی کام آئے گی۔ سوائے اس اولاد کے جو ماں باپ کی نیکیاں ان کے بعد جاری رکھیں گی۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ جو حالت میری توجہ کو جذب کرتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ میں یہ معلوم کرلوں کہ وہ دینی خدمت کا سزا وار ہے اور لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے۔ خدا تعالیٰ ہم کو وہ معیار حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو قرآن و سنت کی روشنی میں حضرت مسیح موعود ہم میں دیکھنا چاہتے ہیں۔