In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » اعتراضات، وساوس کا جواب » حضرت مسیح موعود ؑ پر اعتراضات » رسول اللہﷺ کی توہین اورگستاخی کا الزام »

نبی اکرم ﷺ کے پہلو بہ پہلو

نبی اکرم ﷺ کی توہین کے الزام کے تحت راشد علی اور اس کے پیر نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ کی حسب ذیل تحریر پیش کی ہے۔

’’پس ظلّی نبوّت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا ہے اور اس قدر آگے بڑھایا نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لاکھڑا کیا۔ ‘‘

اس مضمون میں آنحضرت ﷺ کی معیّت کا مضمون بیان کیا گیا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے ساتھ ختم تو نہیں ہو گئی۔قرآن کریم تو صاف صاف بتا رہا ہے کہ آخری زمانہ میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کو محمد رسول اللہ ﷺ کی معیّت حاصل ہو گی۔فرمایا۔

وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ‌ؕ ( الجمعہ : ۴)

ترجمہ : اور ان کے سوا ایک دوسری قوم (میں بھی وہ اس کو بھیجے گا )جو ابھی تک ان سے ملی نہیں۔

یعنی بعد کے زمانہ کے کچھ اور لوگ بھی ہیں جو صحابہؓ میں شامل ہو جائیں گے جو ابھی تک ان صحابہؓ سے نہیں ملے۔ پس قرآنِ کریم جس معیّت اور فیض کا ذکر فرماتا ہے اس سے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فیضیاب فرمایا ہے اور یہ سب فیض حضرت محمد مصطفی ﷺ کے در کی غلامی کا ثمرہ ہے جیسا کہ آپ ؑ فرماتے ہیں۔

جب سے یہ نور ملا نورِ پیمبر ؐ سے ہمیں

ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے

مصطفی پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت

اس سے یہ نور لیا بارِ خدایا ہم نے

ہم ہوئے خیر امم تجھ سے ہی اے خیررسل

تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے

( درثمین ۔صفحہ ۱۶ ، ۱۷ مطبوعہ لندن ۔ ۱۹۹۶ء)

جس طرح آنحضرت ﷺ کے صحابہؓ آپ کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہوتے تھے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ کی معیّت نصیب تھی۔

جنگِ بدر کے موقع پر صحابہؓ کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کی

’’یا رسول اللہ ! ہم مو سی ؑ کے اصحاب کی طرح نہیں ہیں کہ آپ ؐ کو یہ جواب دیں کہ جا تو اور تیرا خدا جا کر لڑو ہم یہیں بیٹھے ہیں۔ بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ ؐ جہاں بھی چاہتے ہیں چلیں ہم آپ ؐ کے ساتھ ہیں اور ہم آپ ؐ کے دائیں اور بائیں اور آگے اور پیچھے ہو کر لڑیں گے۔ ‘‘ (بخاری ۔کتاب المغازی ۔باب قول ’’ اذ تستغیثون ربّکم’’)

معلوم ہوتا ہے کہ راشد علی اور اس کے پیر کو اس واقعہ کا علم نہیں ورنہ یہاں وہ صحابہؓ پر توہینِ رسول ؐ کا الزام ضرور لگا دیتے کہ انہوں نے نہ صرف آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہونے بلکہ آپ سے آگے ہونے کا عزم ظاہر کیا۔

قارئین کرام ! آپ کو معلوم ہے کہ یہ سب محاورے ہیں اور پہلو میں کھڑا ہونا تو خدائی صحیفوں کا ایک محاورہ ہے جو ہرگز کسی کو ہم مرتبہ نہیں بناتا۔ برابری کے لئے ہم مرتبہ اور ہم پلّہ کا محاورہ استعمال ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ راشد علی اور اس کے پیر کو اردو محاوروں کا بھی علم نہیں یا پھر یہ جانتے بوجھتے ہوئے لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

پہلو میں کھڑے ہونا تو قرب کو ظاہر کرتا ہے نہ کہ مرتبے کی برابری کو، جس طرح ایک بچّہ، باپ کے پہلو میں کھڑا ہوتا ہے۔ اس قربت کو اناجیل کے ایسے محاورے بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جن میں لکھا ہے کہ مسیحؑ ،خدا تعالیٰ کے دائیں ہاتھ بیٹھ گئے چنانچہ دیکھیں :۔متی باب ۲۶ ، آیت ۶۴۔مرقس باب ۱۶،آیت ۱۹ ۔لوقا باب ۲۲آیت ۶۹وغیرہ وغیرہ

گو حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کا کلام جماعت احمدیہ پر حجّت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن جو لوگ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی تحریرات سے واقف ہیں وہ کامل یقین رکھتے ہیں کہ آپ حضرت مرزا صاحب کو کبھی خواب وخیال میں بھی آنحضرت ﷺ کے ہم مرتبہ نہیں سمجھتے تھے اور ایسے خیال کو کفر قرار دیتے تھے۔ پس

’’ پہلو ‘‘ کے لفظ سے صرف حضرت محمد مصطفی ﷺ کے قرب کا مضمون بیان کیا گیا ہے کہ یہ مقدّر تھا کہ باقی لوگ جہاں پیچھے پیچھے آرہے تھے ،امام مہدی ؑ کو خدا تعالیٰ کمال خلوص کے ساتھ متابعت میں قدم مارنے کی برکت سے اتنا قریب کر دے گا کہ جیسے ایک ہونہار شاگرد اپنے استاد کے پہلو میں چلتا ہے یا ایک فرمانبردار بیٹا اپنے بزرگ باپ کے پہلو میں چلنے کی سعادت پاتا ہے۔ بعینہ حضرت مرزا صاحب اپنے آقا ومولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے پہلو میں کھڑے ہونے کی سعادت پا گئے۔ پس اگر یہ قابلِ اعتراض ہے تو پھر خد اکے پہلو میں اس کے دائیں ہاتھ بیٹھنے پر اس سے بھی زیادہ اعتراض پیدا ہوتا ہے۔ اور اگر پہلو بہ پہلو ہو جانے سے توہینِ رسول ؐ کا الزام لاگو ہوتا ہے تو پھر صحابہؓ پر یہ الزام پہلے صادر ہوتا ہے (نعوذ باللہ من ذلک)