’’ گستاخی رسولؐ ‘‘ کے عنوان کے تحت راشد علی کے پیر عبدالحفیظ نے لکھا ہے۔
’’ اپنے آپ کو دیگر انبیائے کرام کا ہم پلّہ بلکہ ان سے بہتر سمجھتے تھے۔ چنانچہ اپنے آپ کو حضور ﷺ سے افضل قرار دینے کی جدوجہد میں پہلے تو ان آیتوں کو اپنے اوپر چسپاں کیا جو اوپر دی گئیں ہیں۔ پھر بھی تسلی نہ ہوئی تو کہا۔
لہ خسف القمر المنیر وان لی
غسا القمران المشرقان اتنکر
اس کے لئے صرف چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا ۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔ (روحانی خزائن جلد ۱۹صفحہ ۱۸۳)
* اپنی دوسری کتاب خطبہ الہامیہ میں حضور ﷺ کے زمانے کے اسلام کو ہلال اور اپنے اسلام کو بدر سے تعبیر کیا۔ (روحانی خزائن جلد ۱۶صفحہ ۱۸۴)‘‘(الفتوٰی نمبر
راشد علی اور اس کا پیر اتنے کور باطن انسان ہیں کہ انہیں پتہ نہیں چلتا کہ اعتراض کس پر کر رہے ہیں۔ حقیقت میں یہ آنحضرت ﷺ کی حدیث پر اعتراض کر رہے ہیں۔تمام علماء جانتے ہیں کہ چاند ، سورج گرہن کی پیشگوئی حضرت مرزا صاحب نے نہیں کی بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی تھی۔ اور یہ بھی جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے وقت میں چاند کا گرہن ہوا تھا۔ یہی بات حضرت مرزا صاحب نے حضرت محمّد رسول اللہ ﷺ کی صداقت کے اظہار کے لئے بیان کی ہے۔ اور چاند اور سورج کے گرہن کو نہ تو کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اور نہ ہی کبھی آپ کے کسی خلیفہ نے اور نہ ہی کسی احمدی عالمِ دین نے اور نہ ہی کسی عام احمدی نے آج تک حضرت مرزا صاحب کی آنحضرت ﷺ پر فضیلت کے طور پر پیش کیا۔ آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی پر،جو ایک روشن حقیقت کی طرح چلی آرہی ہے، گزشتہ چودہ سو سال میں دین کے مفکّرین میں سے بھی کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ حضرت محمّد رسول اللہ ﷺ کے لئے تو ایک چاند ہی کو گرہن لگا تھا تو مہدی ؑ کے لئے دو نوں کو کیوں گرہن لگے گا اور کسی نے اس وجہ سے مہدی ؑ کی حضرت محمّد ﷺ پر فضیلت کا نہیں سوچا۔ لیکن پیر عبدالحفیظ اور اس کے مرید کے ذہن میں یہ فتنہ کوندا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنی تائید میں یہ نشان پیش کر کے محمّد رسول اللہ ﷺ پر اپنی فضیلت کا اعلان کیا ہے یہ پیر ومرید کی نیّت کی کجی نہیں تو اور کیا ہے حملہ تو بظاہر حضرت مرزا صاحب پرکرتے ہیں لیکن عملًا ان باتوں پر کرتے ہیں جو حضرت مرزا صاحب کی تخلیق نہیں بلکہ وہ مسائلِ دینیّہ ہیں جن کی سند محمد مصطفی ﷺ سے ہے۔
اگرچہ کثرت کے ساتھ علماء نے چاند سورج گرہن کی پیشگوئی والی حدیث کو قبول کیا ہے اور ہندو پاکستان میں حضرت مرزا صاحبؑ سے پہلے اس کا خوب چرچا تھا کہ چاند اور سورج کو گرہن لگے گا۔ لیکن اب آپؑ کے بعد یہ اسے امام باقر ؒ کا قول قرار دینے لگے ہیں تا کہ آپؑ سے کسی نہ کسی طریق سے چھٹکارا مل جائے جن کے زمانہ میں ۱۸۹۴ء میں معیّنہ تاریخوں میں چاند اور سورج کو گرہن لگا۔
یہ تو ایک الگ بحث ہے، لیکن اس وقت بحث یہ ہے کہ چاند اور سورج دو کا گرہن ہونا حضرت مرزا صاحب ؑ کی ایجاد نہیں کہ ان پر الزام دیا جائے کہ اپنی فضیلت کی خاطر ایک کی بجائے دو گرہن بنا لئے ہیں۔
اسے اگر حدیثِ نبویؐ نہ بھی مانیں تو یہ امام باقر ؒ جو تقریباً ۱۲۳۶سال قبل گزرے ہیں ، کی پیشگوئی توثابت ہے جو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پوتے اور امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے تھے۔ کروڑہا شیعہ انہیں امام مانتے ہیں ان کی طرزِ روایت یہ نہ تھی کہ سلسلہ وار واقعات سناتے کہ انہوں نے فلاں سے سنا اور فلاں نے فلاں سے سنا بلکہ اہل بیتِ نبوی ﷺ میں ان کی پرورش ہوئی اور جو باتیں وہ وہاں سنتے تھے وہی بیان فرما دیتے تھے اس لئے ان کی بیان فرمودہ روایت کو دوسرے پیمانے سے نہیں پرکھا جائے گا۔ بلکہ ان بزرگ آئمہ کے مقام اور ان کی نیکی اور تقویٰ کے اعلیٰ مقام اور مرتبہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے، جو یہ آنحضرت ؐ کی طرف منسوب کریں اسے بدرجہ اولیٰ ملحوظ رکھنا ہو گا۔ اب راشد علی اور عبدالحفیظ مانیں یانہ مانیں کروڑہا شیعہ امام باقر ؒ کی اس روایت کو ہی ماننے پر مجبور ہیں اور سنّی علماء میں سے بھی ایک تعداد اس روایت کا نہ صرف احترام کرتی آئی ہے بلکہ اس کے پورا ہونے کی منتظر بھی رہی ہے ۔اور ان پیر و مرید جیسے کج بحث بھی اس حقیقت سے بہر حال انکار نہیں کر سکتے کہ یہ حضرت مرزا صاحب کی بنائی ہوئی پیشگوئی نہیں۔ اگر بنائی ہے تو پھر ضرور امام باقر ؒ نے بنائی ہے ۔ پس کیا امام باقر ؒ نے امام مہدی علیہ السلام کی رسول اللہ ﷺ پر فضیلت ثابت کرنے کے لئے ایساکیا تھا؟
ضمناً یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ یہ روایت حدیث کی کتاب دار قطنی میں موجود ہے ۔جسے نہ صرف یہ کہ سنّی علماء ایک پائے کی کتاب تسلیم کرتے ہیں بلکہ اس مذکورہ بالا حدیث پر کبھی کسی نے کلام نہیں کیا۔
علاوہ ازیں سیّد عبدالحفیظ نے اس شعر سے آگے جوشعر اس کی وضاحت کرتا تھا ، جاننے کے باوجود اس کو نظر انداز کر کے قارئین کے سامنے پیش کیا ہے تاکہ انہیں گمراہ کر سکیں۔ا س اگلے شعر میں حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔
وانّٰی لظلٍّ ان یخالف اصلہ * فمافیہ فی وجھی یلوح ویزھر
یعنی سایہ کیونکر اپنے اصل سے مخالف ہو سکتا ہے پس وہ روشنی جو اس میں ہے وہ مجھ میں چمک رہی ہے۔
نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
’’ جو کچھ میری تائید میں ظاہر ہوتا ہے دراصل وہ سب آنحضرت ﷺ کے معجزات ہیں۔ ‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲صفحہ ۴۶۹)
پس اس باب میں آخری کلام یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ مذکورہ بالا تحریر فیصلہ کن ہے جو راشد علی اور اس کا پیر لوگوں سے چھپاتے ہیں اور ان کے لئے گمراہی کے سامان کرتے ہیں۔
اسی ذیل میں انہوں نے ’’ گستاخی رسول ؐ ‘‘ کی دلیل کے طور پر لکھا ہے کہ ’’خطبہ الہامیہ میں حضور ﷺ کے زمانے کے اسلام کو ہلال اور اپنے اسلام کو بدر سے تعبیر کیا ہے۔ ‘‘ اس کا حوالہ انہوں نے روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۱۸۴ دیا ہے۔
یہ حقیقت افروز تفصیلی مضمون صفحہ ۱۸۴ پر نہیں بلکہ صفحہ ۲۷۳سے لیکر آگے چند صفحات پر پھیلا ہوا ہے جس میں سے ایک حصّہ کو لے کر اس پیر نے ہدفِ اعتراض بنایا ہے یہ ان لوگوں کی بدیانتی ہے کہ مضمون کی تفصیل کو چھوڑ کر صرف ایک حصّہ کو اچک لیتے ہیں اور اپنے جھوٹے اعتراضات کا نشانہ بناتے ہیں نیز یہ بھی کہ اعتراضات کرتے وقت یہ اپنے سے پہلے جھوٹوں کی نقل کرتے ہیں اور جو غلط سلط حوالہ پہلوں نے درج کیا ہوتا ہے وہی یہ بھی درج کر دیتے ہیں۔
مذکورہ بالا مسئلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آیتِ کریمہ ’’ وَلَقَد نَصَرَکُم اللّٰہ بِبَدرٍ وَّاَنتُم اَذِلَّۃً ‘‘ کی تشریح میں بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’فانظر الی ھذہ اآایۃ کالمبصّرین فانّہا تدلّ علٰی البدرین بالیقین بدر مضت لنصر الاوّلین وبدر کانت آیۃ للٓاخرین ‘‘
پھر آگے جا کر یہ تحریر فرماتے ہیں کہ
’’فان للآیۃ وجہین، والنصر نصران، والبدر بدران ۔ بدر تتعلق بالماضی وبدر تتعلّق بالاستقبال من الزمان ‘‘
اسی کتاب میں اس کا ترجمہ یہ تحریر ہے کہ
’’ پس بیناؤں کی طرح اس آیت میں نگاہ کر۔ کیونکہ یہ آیت یقیناًدو’ بدر‘ پر دلالت کرتی ہے۔ اوّل وہ ’بدر‘ جو پہلوں کی نصرت کے لئے گذرا اور دوسرا وہ’ بدر‘ جو پچھلوں کے لئے ایک نشان ہے ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اس آیت کے دو رُخ ہیں اور نصرت دو نصرتیں اور بدر دو بدر ہیں۔ ایک بدر گذشتہ زمانہ سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا بدر آئندہ زمانہ سے۔
پھر فرمایا۔
وکان الاسلام بدء کالہلال وکان قُدّر انّہ سیکون بدراً فی اخر الزمان والمآل باذن اللہ ذی الجلا ل (صفحہ ۲۷۵)
کہ اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدّر تھا کہ انجام کارآخر زمانہ میں بدر ہو جائے خدا تعالیٰ کے حکم سے۔
اس مذکورہ بالا ساری عبارت میں اور سارے مضمون میں کہیں بھی یہ مضمون نہیں ہے کہ ’’ حضور ﷺ کے زمانے کے اسلام کو ہلال اور اپنے زمانے کے اسلام کو بدر سے تعبیر کیا۔ ‘‘ یہ راشد علی اور اس کے پیر کی خرافات ہیں اور ان کی تلبیس کا شاہکار ہے کہ ایک پر معارف عبارت کو اپنے تلبسیانہ معنے پہنانے کی کوشش کی ہے۔
اس مضمون سے جو ثابت ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ سارا زمانہ اسلام ہی کا زمانہ ہے۔ اس کا پہلا دور بھی بدر تھا اور دوسرا بھی بدر کیونکہ اسلام کو ملنے والی خاص نصرتیں بھی دو ہیں۔ ایک بدر کے موقع پر اور دوسری اس صدی کے موقع پر جو بدر سے مشابہہ ہے یعنی چودھویں صدی۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کی ایک عمومی تقدیر کا ذکر فرمایا ہے جس کے تحت ہر چیز اپنی ارتقائی منازل طے کرتی ہے ۔ چنانچہ اسلام نے بھی اسی قانونِ قدرت کے تحت ترقی کی منازل طے کیں۔ وہ مکّہ سے نکل کر مدینہ آیا اور پھر وہاں سے اردگرد کے علاقوں میں پھیلا اور پھر رفتہ رفتہ دنیا کے کناروں تک محیط ہو گیا۔ اسلام کی حدود کی ان وسعتوں پر چودہ صدیوں کا زمانہ صرف ہوا۔ اسلام کی ترقی کے اس ارتقائی سفر کو بزرگانِ امّت نے بھی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ مثلا تفسیر روح المعانی ، تفسیر کبیر رازی ؒ اور تفسیر قرطبی وغیرہ میں زیر آیت لِیُظھِرَہٗ عَلَی الدِّینِ کُلِّہ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے حضرت مولانا محمد اسماعیلؓ شہید (بالاکوٹ) ، آیت’’لِیُظھِرَہٗ عَلَی الدِّینِ کُلِّہ ‘‘کے متعلق فرماتے ہیں۔
’’ و ظاہر است کہ ابتدائے ظہور دین در زمان پیغمبر ﷺ بوقوع آمدہ واتمام آں از دست حضرت مہدی واقع خواہد گردید ‘‘ (منصبِ امامت ۔از مولانا محمد اسماعیلؓ شہید۔ صفحہ ۷۰۔ آئینہ ادب چوک مینار انار کلی لاہور ۱۹۶۷ء)
یعنی ظاہر ہے کہ دین کی ابتداء حضرت رسولِ مقبول ﷺ سے ہوئی لیکن اس کا اتمام مہدی کے ہاتھ پر ہو گا۔
پھر آیتقُل یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّی رَسُولُ اللّٰہِ اِلَیکُم جَمِیعًا کے ماتحت لکھتے ہیں :۔
’’ و ظاہر است کہ تبلیغ رسالت بہ نسبت جمیع ناس از آنجناب متحقق نگشتہ بلکہ امر دعوت از شروع گردیدہ یوماً فیوماً بواسطہ خلفاء راشدین وائمّہ مہد یّین روبہ تزاید کشیدتا اینکہ بواسطہ امام مہدی باتمام خواہد رسید ‘‘(منصب امامت۔ صفحہ ۷۱ )
یعنی آنحضرت ﷺ کی رسالت کی تبلیغ حضور ﷺ کے زمانہ میں تمام لوگوں کو نہیں ہوئی بلکہ آہستہ آہستہ خلفاء راشدینؓ اور دیگر ائمہ ؒ کے ذریعہ بڑھتی رہی اور اب امام مہدی ؑ کے ذریعہ اس کی تکمیل ہو گی۔
یہ عبارت ایک حقیقت افروز عبارت ہے۔ لیکن اس کے تناظر میں اگر راشد علی کے اعتراض کو دیکھا جائے تو وہ خلفائے راشدینؓ، اور ان تمام آئمّہ سلف ؒ کو اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے جو اسلام کی ترقی اور اشاعت کے لئے کام کرتے تھے۔
پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت کو ہدفِ اعتراض بنایا جا سکتا ہے تو مذکورہ بالا عبارتیں بدرجہ اولیٰ قابلِ اعتراض ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے لئے یہی مقدّر تھا کہ وہ بھی قانونِ قدرت کے تحت ارتقائی منازل طے کرے۔ ترقی اسلام کے اس سفر کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چاند کے سفر سے تشبیہہ دی ہے کہ وہ گویا ہلال کی طرح طلوع ہوا اور آسمان ِ زمانہ کی وسعتوں پر اپنی پوری کرنیں پھیلا دینے میں اس نے چودہ راتوں کا سفر طے کیا ۔ یہ چودہ راتیں ،چودہ صدیوں کے لئے بطور تمثیل کے ہیں مگر راشد علی اور اس کا پیر یہ تاثّر پیدا کر رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نعوذ باللہ اپنے آپ کو بدر قرار دے رہے ہیں اور مقابل پر آنحضرت ﷺ کو ہلال۔ ہم ایسا بہتان لگانے والے پر اللہ تعالیٰ ،اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت بھیجتے ہیں اور تف بھیجتے ہیں ان کی اس جسارت پر ۔یہ اس شخص کے بارہ میں بات کر رہے ہیں کہ جب وہ اپنے لئے چاند کی تشبیہ بیان کرتا ہے تو مقابل پر محمّد ﷺ کو سورج قرار دیتا ہے اور خود کو محمّد رسول اللہﷺ سے روشنی اخذ کرنے والا چاند قرار دیتا ہے۔ ناممکن ہے کہ راشد علی یا اس کے پیر کی نظر سے یہ عبارتیں نہ گذری ہوں جو اس بات پر شاہد ناطق ہیں کہ یہاں ہلال سے رسول اللہﷺ اور بدر سے اور حضرت مرزا صاحبؑ مراد نہیں بلکہ’ سراجاً منیراً ‘کی وہ روشنی مرادہے جس نے اسلام کو ہلالی حالت سے بدر میں تبدیل کرنا ہے۔
چنانچہ مرزا صاحب فرماتے ہیں۔
وانّ رسول اللّٰہ شمسٌ منیرۃٌترجمہ :۔ رسول اللہ ﷺ تو یقیناًروشنی دینے والے سورج ہیں اور آپؐ کے بعد تو بدر اور کوکب کا زمانہ ہے۔وبعد رسول اللّٰہ بدرٌ وکوکب
(کرامات الصادقین ۔روحانی خزائن جلد نمبر۷صفحہ ۱۰۳ )
ایک اور جگہ فرماتے ہیں :۔
’’وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرارِ افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذرّیتِ شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محرومِ ازلی ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے ہم کافرِ نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحیدِ حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے ۔ اس آفتابِ ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور جس وقت تک ہم پر پڑتی ہے ۔اسی وقت تک ہم منوّر رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔ ‘‘(حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲صفحہ ۱۱۹)
نیز فرماتے ہیں۔
’’ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ ادنیٰ درجہ صراطِ مستقیم کا بھی بغیر اتّباع ہمارے نبی ﷺ کے ہرگز انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ راہِ راست کے اعلیٰ مدارج بجز اقتداء اس امام الرّسل کے حاصل ہو سکیں کوئی مرتبہ شرف وکمال کا اور کوئی مقام عزّت اور قرب کا بجز سچّی اور کامل متابعت اپنے نبی ﷺ کے ہم ہرگز حاصل کر ہی نہیں سکتے۔ ہمیں جو کچھ ملتا ہے ظلّی اور طفیلی طور پر ملتا ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام حصہ اول ۔ روحانی خزائن جلد۳صفحہ ۱۷۰)