In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » اعتراضات، وساوس کا جواب » حضرت مسیح موعود ؑ پر اعتراضات » رسول اللہﷺ کی توہین اورگستاخی کا الزام »

آنحضرت ﷺ سے الگ نہ ہونے پر اعتراض

راشد علی کے پیرِ’خرافات ‘ سیّد عبدالحفیظ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک عارفانہ بیان کو ہدفِ اعتراض بناتے ہوئے بڑی بدتمیزی سے یہ لکھا ہے۔

’’صد افسوس کہ مرزا غلام احمد قادیانی جیسے یہودی صفت لوگ ہمیشہ سرکار دو عالم ﷺ کی اس عظمت وشان کو گھٹانے کی فکر میں رہتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں۔

من فرق بینی وبین المصطفیٰ فما عرفنی وما رانی

’’ جس نے مجھ میں اور مصطفیٰ میں فرق کیا اس نے مجھے نہیں دیکھامجھے نہیں پہچانا۔ ‘‘ (خطبہ الہامیہ روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۲۵۹)

کہاں حضرت محمد ﷺ جیسی عظیم ہستی اور کہاں مرزا غلام کہ نماز میں ایک چھوٹی سی سورۃ پڑھنے سے اختلاج ہونے لگتا تھا۔ چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک !!‘‘( الفتوٰٰی )

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فقرہ جس پر اس پیر کو اعتراض ہے ، دراصل ایک عارفانہ بیان ہے جو ہر امّتی کی منزل اور ہر مسلمان کے دل کی آواز ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ سے ہرگز الگ نہیں ہو سکتا بلکہ آپ ؐ کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ لیکن اس پر اعتراض کر کے پیر عبدالحفیظ نے اپنی حیثیت بہر حال واضح کر دی ہے کہ وہ ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ سے الگ ہے اور بہت فرق رکھتا ہے۔

دوسری بات یہ مدنظر رکھنی ضروری ہے کہ پیر عبدالحفیظ نے جعلی پیروں والی وہی حرکت یہاں بھی کی ہے جس کی اسے عادت ہے۔ وہ کہیں اصل عبارتوں میں تحریف کرتا ہے تو کہیں معنوں میں۔ یہاں مذکورہ بالا عبارت کے معنوں میں اس نے تحریف کی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ’’ خطبہ الہامیہ ‘‘ میں لفظ فرّق کا ترجمہ ’’ فرق ‘‘ نہیں بلکہ ’’ تفریق ‘‘ درج ہے۔ جبکہ پیر مذکور نے یہ ترجمہ بدل کر ’’ تفریق ‘‘ کی بجائے ’’ فرق ‘‘ کر دیا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت کے اصل معنی یعنی ’’اور جو شخص مجھ میں اور مصطفیٰ میں تفریق کرتا ہے ۔ ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص مجھے اور آنحضرت ﷺ کو الگ سمجھتا ہے یعنی ایک دوسرے کا غیر سمجھتا ہے تو اس نے مجھے نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔ لیکن پیر عبدالحفیظ نے لفظ ’’ تفریق ‘‘ کو ’’فرق‘‘ میں بدل کر یہ تاثّر دیا ہے کہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بعینہ محمّد ﷺ ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور ان دونوں کا وجود ایک ہی ہے۔

نیز راشد علی نے لفظ ’’ رای ‘‘ کو ’’ رانی ‘‘ میں بھی بدلا ہے۔

بہر حال اس عبارت سے چند فقرے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود کو غلام کے مقام پر رکھ کر آنحضرت ﷺ کو اپنا آقا قرار دیتے ہوئے لکھا ہے۔ سیّدی خیر المرسلین یعنی (میرا آقا) میرا سردار خیر المرسلین ﷺ

اسی طرح مزید کچھ پہلے یہ لکھا ہے۔

’’ والنسبۃ بینی وبینہ کنسبۃ من علّم وتعلّم ‘‘

کہ میری نسبت اس جناب (حضرت محمّد مصطفی ﷺ) کے ساتھ استاد اور شاگرد کی نسبت ہے۔ (خطبہ الہامیہ ۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۲۵۹)

پس پیر عبدالحفیظ کا جھوٹا اعتراض محض بغض کی بناء پر ہے اس کے علاوہ اس کی کوئی حیثیّت نہیں۔

باقی جہاں تک ایک وجود کا دوسرے وجود میں ہو جانے کے دعویٰ کا تعلق ہے۔ تو پیر عبدالحفیظ نے اپنے اسی زیر بحث مضمون میں یہ مسئلہ خود واضح کیا ہوا ہے اور اس نے ’’ فنا فی الرسول ‘‘ کے مقام کی فلاسفی بھی بیان کی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ

’’ اُنس آگے چل کر یگانگت میں تبدیل ہو جاتا ہے اور یہ محبت کی ابتداء ہے۔ جب اس محبت میں اضافہ ہوتا ہے تو محبت کو ہر لمحہ یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ تو من شدم من تو شدی ۔ ‘‘(الفتوٰی نمبر۲۳۔جنوری ۲۰۰۰ء)

پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فی الواقعہ عشق رسول ﷺ میں یہ انتہائی مقام حاصل تھا اور اپنے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی محبت میں ہر لمحہ یہ محسوس کرتے تھے کہ تومن شدم من توشدی۔ تو اس پر پیر عبدالحفیظ کا چیں بجیں ہونا چہ معنی دارد ؟

اس مضمون کو ایک دوسرے زاویہ سے اگر دیکھا جائے تو رسولوں میں تفریق نہ کرنے کا اصول ایمان کا بنیادی جزو ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے۔

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ‌ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓٮِٕكَتِهٖ وَكُتُبِه وَرُسُلِهٖ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ‌ (البقرہ:286)

ترجمہ :۔ رسول اس پر ایمان لے آیا جو اس کے رب کی طرف سے اس کی طرف اتارا گیا اور مومن بھی۔ (ان میں سے) ہر ایک ایمان لے آیا اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر (یہ کہتے ہوئے کہ) ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کریں گے۔

اسی طرح فرمایا

قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَمَاۤ اُنْزِلَ عَلٰٓى اِبْرٰهِيْمَ وَ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَاۤ اُوْتِىَ مُوْسَىٰ وَ عِيْسٰى وَالنَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ‏ (آل عمران :۸۵)

ترجمہ :۔ تو کہہ دے ہم ایمان لے آئے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اتارا گیا اور جو ابراہیم پر اتارا گیا اور اسماعیل پر اور اسحق پر اور یعقوب پر اور (اس کی) نسلوں پر اور جو موسیٰ اور عیسیٰ کو اور جو نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم اس کی فرمانبرداری کرنے والے ہیں۔

پس ان آیاتِ قرآنیہ کے تحت خدا تعالیٰ کے انبیاء علیہم السلام میں کوئی تفریق نہیں اور خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری اور ایمان کے اس لازمی رکن کا تقاضا یہ تھا کہ راشد علی اور اس کا پیر حضرت محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے غلام ، پاک مسیح کے درمیان بھی تفریق نہ کرتے اور جس سچائی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش فرمایا ہے اسے قبول کرتے۔