In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » اعتراضات، وساوس کا جواب » حضرت مسیح موعود ؑ پر اعتراضات » رسول اللہﷺ کی توہین اورگستاخی کا الزام »

’’ محمد ؐ پھر اتر آئے ہیں ہم میں‘‘

’’ گستاخی رسول ؐ ‘‘ کے عنوان کے تحت راشد علی کے پیر عبدالحفیظ نے مضمون میں سے حضرت قاضی ظہور الدین اکملؓ صاحب کے یہ دو شعر

’’محمدؐ پھر اتر آئے ہیں ہم میں۔۔ اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں

محمد ؐ دیکھنے ہوں جس نے اکمل۔۔ غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں ‘‘

درج کئے ہیں تا کہ یہ ثابت کریں کہ گویا جماعت احمدیہ آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرتی ہے ۔

معزّز قارئین !یہ وہ اشعار ہیں جو جماعت احمدیہ کے عقائد سے ہرگز تعلق نہیں رکھتے نہ ہی یہ شاعر جماعت کی طرف سے مجاز سمجھے جا سکتے ہیں کہ وہ جماعتی مسلک کو بیان کریں ۔لیکن صرف یہی بات نہیں ۔اگر اس طرح ہر کس وناکس کے خیالات پر فرقوں اور قوموں کو پکڑا جائے تو پھر تو دنیا میں کسی قوم اور فرقے کا امن قائم نہیں رہ سکتا۔ اب غور سے سن لیں جناب پیر ومرید صاحبان ! اگر اکمل صاحب یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ شخص جو قادیان میں بروز محمد ؐ کے طور پر ظاہر ہوا، وہ اس محمّد ﷺ سے اپنی شان میں بڑھ کر تھا جو مکّہ میں پیدا ہوئے تو ہرگز یہ عقیدہ نہ جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے اور نہ ہی کوئی شریف النفس جو حضرت مرزا صاحب کی تحریرات سے واقف ہو اسے احمدیت کی طرف منسوب کر سکتا ہے ۔ حضرت مرزا صاحب تو زندگی بھر آنحضرت ﷺ کے حضور اس طرح عجز سے بچھے رہے جس طرح قوموں کے لئے راہ بچھی ہو، حتّٰی کہ آپ نے اپنے آپ کو محمد رسول اللہ ﷺ کی آل کے کوچے کی خاک کے برابر قرار دیا ہے ۔دیکھئے کس طرح والہانہ عشق کے ساتھ یوں گویا ہیں۔

جان و دلم فدائے جمال محمد ؐ است ۔۔۔خاکم نثار کوچہ آل محمد ؐ است

اب سنئے اکمل صاحب کے ان اشعار کی بات کہ واقعہ کیا ہوا تھا اور اس کا نتیجہ کیا نکلا۔ درحقیقت شاعر اپنی شعری دنیا میں بسا اوقات ایسی باتیں بیان کر جاتا ہے جو دراصل اس کے مافی الضمیر کو پوری طرح بیان نہیں کر پاتیں۔ اور بارہا ایسا ہوا ہے کہ بعض اوقات شاعر کو خود اپنے شعروں کی وضاحت کرنی پڑتی ہے ۔بہرحال اِن اشعار سے بھی جو غلط تاثّر پیدا ہوتا ہے وہ غلط تاثّر یقیناًہر احمدی کے لئے جس نے یہ پڑھا سخت تکلیف کا موجب بنا ۔جب شاعر سے اس بارہ میں جواب طلبیاں ہوئیں اور مختلف احمدی قارئین نے ان اشعار کی طرز پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو ان صاحب نے ان اشعار کا جو مضمون اور مطلب خود پیش کیا وہ حسب ذیل تھا :۔

’’ مندرجہ بالا شعر دربارِ مصطفوی ؐ میں عقیدت کا شعر ہے۔ اور خدا جو علیمٌ بذات الصدور ہے شاہد ہے کہ میرے واہمہ نے بھی کبھی اس جاہ وجلال کے نبی حضرت ختمیت مآب ؐ کے مقابل پر کسی شخصیت کو تجویز نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہ بات میرے خیال تک میں نہ آئی کہ میں یہ شعر (آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں) کہہ کر حضرت افضل الرسل ؐ کے مقابل میں کسی کو لا رہا ہوں۔ بلکہ میں نے تو یہ کہا کہ محمد ؐ کا نزول ہوا یعنی بعثت ثانیہ اور یہ تمام احمدیوں کا عقیدہ ہے کہ نہ تو تناسخ صحیح ہے نہ دوسرے جسم میں روح کا حلول بلکہ نزول سے مراد اس کی روحانیت کا ظہور ہے اور جو کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَلاٰخِرَۃُ خَیرٌلَّکَ مِنَ الاُولٰی ۔ ہر آنے والے دن میں تیری شان پہلے سے زیادہ نمایاں اور افزوں ہو گی۔ بوجہ درود شریف اور اعمالِ حسنہ امّتِ محمّدیہ جن کا ثواب جیسا کہ عمل کرنے والے کے نام لکھا جاتا ہے ویسا ہی محرّک ومعلّم کے نام بھی۔ اس لئے کچھ شک نہیں کہ نبی کریم ﷺ کی شان ہر وقت بڑھ رہی ہے اور بڑھتی رہے گی اور خدا کے وسیع خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں پس میں نے صرف یہی کہا کہ یہ سیّدنا محمّد مصطفی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی برکات وفیوض کا نزول پھر ہو رہا ہے اور آپ کے اترنے سے یہی مراد ہو سکتی ہے اور آپ کی شان پہلے سے بھی بڑھ کر ظاہر ہو رہی ہے۔ اس شعر میں کسی دوسرے وجود کا مطلق ذکر نہیں ہے بلکہ اسی نظم میں آخری شعر یہ ہے۔

غلامِ احمد ِ مختار ہو کر ۔۔۔یہ رتبہ تو نے پایا ہے جہاں میں

یعنی حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام نے جو رتبہ مسیح موعود ہونے کا پایا ہے وہ حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفی کی غلامی کے طفیل اور ان کی اتباع کا نتیجہ ہے۔ ‘‘ (الفضل ۱۳ اگست ۱۹۴۴ء)

ظاہر ہے کہ یہ مفہوم قابل اعتراض نہیں۔ حضرت قاضی صاحب کے اس بیان کی صداقت آپ کے دوسرے کلام سے بھی ظاہر ہے ۔ آپ فرماتے ہیں۔

اِک پیامی وعظ کرتا تھا ہمارا میرزا۔۔۔امّتی تھا یا مجدّد اس سے بڑھ کر کچھ نہ تھا

وہ مسیح و مہدیء موعود ہوں جس کے لئے ۔۔۔ہے نبی اللہ فرمانِ محمّد مصطفٰے

ان اشعار میں آپ نے بڑے صاف لفظوں میں یہ بیان فرمایا ہے کہ آپ کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام آنحضرت ﷺ کے ارشادات کے مطابق اور آپؐ کی پیشگوئیوں کے مطابق ،آپؐ کا امّتی ہو کر مجدّد، موعودمسیح ، معہود مہدی اور نبی اللہ کا تھا۔

اس وضاحت کے باوجوداگر پھر بھی کوئی کہے کہ یہ مفہوم بعد میں شاعر نے بنا لیا ہے اور دراصل اس کا اصل مفہوم وہ تھا جو بظاہر دکھائی دیتا ہے اور جس پر پیر عبدالحفیظ نے حملہ کیا ہے تو بے شک ایساسمجھے۔ مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ شاعر نے خود جو تشریح پیش کی ہو وہی دراصل اہلِ علم کے نزدیک قابلِ قبول ہوا کرتی ہے اور اگر یہ بات بھی کوئی تسلیم نہیں کرتا تو اکمل صاحب کی طرف گستاخی منسوب کر کے ان پر بے شک ملامت کرے لیکن ان کی طرف منسوب شدہ گستاخی کو ہرگز جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کرنے کا اسے حق نہیں۔ ہم ایک بار پھر یہ اعلان کرتے ہیں کہ قاضی ظہور الدین اکمل صاحب کی بیان کردہ تشریح قابلِ اعتراض نہیں ہے لیکن اس کے باوجود معترض اپنے بنائے ہوئے معنے ہی اس شعر کو پہنانے پر مصرّ ہو تو یقیناًیہ شعر لعنت اور ملامت کا سزاوار ہے لیکن احمدیت ہرگز اس لعنت اور ملامت کا نشانہ نہیں بن سکتی۔ایک دفعہ پھر ہم اس حقیقت کی طرف توجّہ دلانا چاہتے ہیں کہ اکمل صاحب سمیت ہر احمدی کا عقیدہ آنحضرت ﷺ کی نسبت یہی تھا،ہے اور ہمیشہ رہے گا کہ

سب پاک ہیں پیمبر اک دوسرے سے بہتر*لیک از خدائے برتر خیر الورٰی ؐیہی ہے