راشد علی نے اپنی ’’ بے لگام کتاب‘‘ میں ’’ نبوّت کی بنیاد ۔۔۔ توہین رسالت یا عشق رسول ؟ کے عنوان کے تحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ’’ نزول المسیح ‘‘ کے ضمیمہ سے حسبِ ذیل عبارت پیش کی ہے اور شاید یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس عبارت میں (نعوذ باللہ) رسول اللہ ﷺ کی توہین کی گئی ہے۔
’’میرے دعوے کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآنِ شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردّی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔ اگر حدیثوں کا دنیا میں وجود بھی نہ ہوتا تب بھی میرے اس دعوے کو کچھ حرج نہ پہنچتا تھا ہاں خدا نے میری وحی میں جابجا قرآنِ کریم کو پیش کیا ہے۔ چنانچہ براہین احمدیہ کو اٹھا کر دیکھو گے کہ اس دعوے کے متعلق کوئی حدیث نہیں بیان کی گئی۔ جابجا میری وحی میں خدا تعالیٰ نے قرآن کو پیش کیا ہے۔ ‘‘ (روحانی خزائن جلد ۱۹صفحہ ۱۴۰)
اس جگہ بھی راشد علی نے تلبیسانہ کارروائی کی ہے اور اس عبارت سے پہلے کی چند سطور تحریر نہیں کیں۔ جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی ثناء اللہ امرتسری کی طرف سے پیش کردہ ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مذکورہ بالا وضاحت کی ہے۔ اسی وجہ سے جو عبارت راشد علی نے پیش کی ہے اس کے پہلے دو الفاظ کے درمیان سے ’’ اس ‘‘ حرف کو حذف کر دیا ہے اصل عبارت اس طرح ہے ’’ میرے اس دعوی کی ۔۔۔۔۔۔ ‘‘ چونکہ لفظ ’’ اس ‘‘ اس مخصوص مسئلہ کی وضاحت کی طرف اشارہ کرتا تھا اس لئے راشد علی نے اس کی تحریف کر دی۔
اب ملاحظہ فرمائیں مذکورہ بالا عبارت سے پہلے کی چند سطور ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
’’ پھر مولوی ثناء اللہ صاحب کہتے ہیں کہ آپ کو مسیح موعود کی پیشگوئی کا خیال کیوں دل میں آیا۔ آخر وہ حدیثوں سے ہی لیا گیا پھر حدیثوں کی اور علامات کیوں قبول نہیں کی جاتیں۔ یہ سادہ لوح یا تو افتراء سے ایسا کہتے ہیں اور یا محض حماقت سے، اور ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ ۔۔۔۔۔۔۔ (نزول المسیح ضمیمہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۹صفحہ۱۴۰)
اس عبارت میں صاف واضح ہے کہ یہاں صرف مسئلہ مسیحِ موعود ؑ کی بابت حدیثوں کا تھا۔ اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے آپ ؑ نے فرمایا کہ میرے اس دعویٰ کی بنیاد حدیث نہیں۔ ہاں جو احادیث اس دعویٰ کی تائید میں قرآنِ کریم کے مطابق ہوں یا الہامِ الٰہی کے مطابق ہوں ان کوآپ نے جگہ جگہ بار بار اپنی تائید میں پیش کیا ۔اور اس حقیقت سے کوئی انکا رنہیں کر سکتا کہ آنحضرت ﷺ کی احادیثِ مبارکہ نہ قرآنِ کریم کے منافی ہو سکتی ہیں اور نہ ہی بعد میں کسی ملہم من اللہ بزرگ کی وحی کے معارض ہو سکتی ہیں۔ ہاں وہ وضعی باتیں جو بعد میں آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کی گئیں اور انہیں احادیث قرار دیا گیا وہ واقعۃً ردّی کی طرح پھینکی جانے والی ہیں کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے فرمودات ہی نہیں ہیں۔ آخر ایسی وضعی احادیث کو تحفّظ دینے پر راشد علی وغیرہ مصرّ کیوں ہیں ؟ یہ بیچارے اس حد تک مسخ ہو چکے ہیں کہ ایک طرف قرآن کریم کے منافی حدیثوں پر ان کی غیرت بھڑک اٹھتی ہے لیکن اسی لمحے یہ ان احادیث رسول ؐ کو جو قرآن کریم کے عین مطابق ہیں اور خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت بھی ان پر مہر تصدیق ثبت کر چکی ہے ، بڑی دیدہ دلیری سے ردّی کوڑے کرکٹ کی طرح نہ صرف حقیر سمجھ کر ترک کرتے ہیں بلکہ اسے نشانہ تضحیک وتمسخر بھی بناتے ہیں۔ چنانچہ دارقطنی والی حدیثِ کسوف وخسوف پر جس طرح انہوں نے اپنی تحریروں میں استہزاء کیا ہے اور اسے ردّی قرار دیا ہے ، بجائے خودوہ ان کے جھوٹا ہونے کا کھلا کھلا ثبوت ہے۔
چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعصّب اور بغض نے ان کو اندھا کیا ہوا ہے اس لئے یہ اصل بحث کو نظر انداز کر کے عبارت کا ایک ایسا ٹکڑا چن لیتے ہیں جو ان کی دانست میں موردِ اعتراض ٹھہر سکتا ہے۔ حالانکہ اس پیش کردہ اقتباس میں کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس پر توہینِ رسالت کا عنوان لگایا جا سکے۔ بلکہ یہ تو توقیرِ رسالت کا مسئلہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہونے والی ہر اس وضعی بات کو دلائل وبصیرت کے ساتھ قرآن کریم کے آئینہ میں پرکھ کر ردّ کر دیا جائے اور کوئی بات آپ ؐ کی طرف ایسی منسوب نہ ہونے دی جائے جو آپ ؐ کے مقامِ برترگمان ووہم کے خلاف ہو۔
اگر راشد علی کو اعتراض اس بات پر تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآنِ کریم سے مخالف ومعارض حدیثوں کو ردّی کی طرح پھینک دینے کے بارہ میں لکھا ہے تو پھر انہیں چاہئے کہ یہ بھی ساتھ لکھتے کہ اس کے برخلاف ان کا اپنا مسلک یہ ہے کہ وہ قران کریم کے خلاف حدیث کو قبول کرتے ہیں اور قرآنِ کریم کو ردّی کی طرح چھوڑ دیتے ہیں (نعوذ باللہ) ۔اگر وہ اپنے مؤقف میں سچے ہیں تو ایسا اعلان کر دیں ۔
چونکہ یہ لوگ اپنی کارروائیوں میں جھوٹے اور فریبی ہیں اس لئے انہوں نے اسی کتاب میں سے اِردگرد کی دیگر عبارتیں پیش نہیں کیں جو ان کے پیش کردہ اقتباس کی وضاحت بھی کرتی ہیں۔ مثلاً حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام نے اس عبارت سے پہلے یہ بھی فرمایا ہے کہ
’’علاوہ اس کے ان حدیثوں کے درمیان اس قدر تناقض ہے کہ اگر ایک حدیث کے برخلاف دوسری حدیث تلاش کرو تو فی الفور مل جائے گی۔ پس اس سے قرآن شریف کے بیّنات کو چھوڑنا اور ایسی متناقض حدیثوں کے لئے ایمان ضائع کرنا کسی ابلہ کا کام ہے نہ عقلمند کا۔
پھر یہ بھی سوچو کہ اگر قرآن کے مخالف ہو کر حدیثیں کچھ چیز ہیں تو نماز کی حدیثوں کو تو سب سے زیادہ وقعت ہونی چاہئے تھی اور تواتر کے رنگ میں وہ ہونی چاہئے تھیں مگر وہ بھی آپ لوگوں کے تنازع اور تفرقہ سے خالی نہیں ہیں۔ یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ ہاتھ کہاں باندھنے چاہئیں اور رفع یدین اور عدمِ رفع اور فاتحہ خلف امام اور آمین بالجہر وغیرہ کے جھگڑے بھی اب تک ختم ہونے میں نہیں آئے اور بعض بعض کی حدیثوں کو ردّ کر رہے ہیں۔ اگر ایک وہابی حنفیوں کی مسجد میں جا کر رفع یدین کرے اور امام کے پیچھے فاتحہ پڑھے اور سینہ پر ہاتھ باندھے اور آمین بالجہر کرے تو گو اس عمل کی تائید میں چار سو صحیح حدیث سنا دے تب بھی وہ ضرور مار کھا کر آئے گا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابتداء سے ہی حدیثوں کو بہت عظمت نہیں دی گئی اور امام اعظم جو امام بخاری سے پہلے گذر چکے ہیں بخاری کی حدیثوں کی کچھ پروا نہیں کرتے اور انکا زمانہ اقرب تھا۔ چاہئے تھا کہ وہ حدیثیں ان کو پہنچتیں۔ اس لئے مناسب ہے کہ حدیث کے لئے قرآن کو نہ چھوڑا جائے۔ ورنہ ایمان ہاتھ سے جائے گا۔ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغنِی مِنَ الحَقِّ شَیءًا پھر اگر حَکَم کا فیصلہ بھی نہ مانا جائے تو پھر وہ حَکَم کس چیز کا۔
ماسوا اس کے اگر نہایت ہی نرمی کریں تو ان حدیثوں کو ظنّ کا مرتبہ دے سکتے ہیں اور یہی محدّثین کا مذہب ہے۔ اور ظنّ وہ ہے جس کے ساتھ کذب کا احتمال لگا ہوا ہے پھر ایمان کی بنیاد محض ظنّ پر رکھنا اور خدا کے قطعی یقینی کلام کو پس ِ پشت ڈال دینا کونسی عقلمندی اور ایمانداری ہے ہم یہ نہیں کہتے کہ تمام حدیثوں کو ردّی کی طرح پھینک دو بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ان میں سے وہ قبول کرو جو قرآن کے منافی اور معارض نہ ہوں تا ہلاک نہ ہو جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماسوا اس کے مولوی محمد حسین صاحب جو مؤحّدین کے ایڈوکیٹ کہلاتے ہیں اپنے اشاعۃ السنّہ میں جس میں انہوں نے براہین احمدیہ کا ریویو لکھا ہے تحریر فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کو بذریعہ کشف کے آنحضرت ﷺ کی حضوری ہوتی ہے وہ محدّثین کی تنقید کے پابند نہیں ہو سکتے بعض حدیثیں جو محدّثین کے نزدیک صحیح ہیں وہ اپنے کشف کے رو سے ان کو موضوع قرار دیتے ہیں اور بعض حدیثیں جو محدّثین کے نزدیک موضوع ہیں وہ ان کی نسبت اپنے کشف کی شہادت سے صحت کا یقین رکھتے ہیں۔ پس جبکہ یہ بات ہے تو پھر وہ جو مسیح موعود اور حَکَم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کیوں مولوی صاحب اس پر اس قدر ناراض ہیں کہ اس کا کشف دوسروں کے کشف کے برابر بھی نہیں مانتے حالانکہ وہ قرآن کے مطابق ہے جب قرآن وکشف کا تظاہر ہو گیا بلکہ بعض حدیثوں نے بھی اس کی تائید کی تو پھر تو اس کے قول کو قبول کرنا چاہئے ورنہ مسیح موعود کا نام حکم رکھنا کیا فائدہ۔‘‘ (ضمیمہ نزول المسیح ۔ روحانی خزائن جلد ۱۹صفحہ ۱۳۷ تا ۱۳۹)
امّت میں آنے والے مسیح موعود کا مقام ومرتبہ تو بہت بلند ہے۔ اس پر خدا تعالٰی کی وحی پرراشد علی چیں بجیں ہے لیکن ادھر مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے تو احادیث کی چھان پھٹک کی بناء بزرگانِ امّت کے کشوف پر ہی رکھدی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس اصول سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے خود اپنے اختیار سے مہدی کے بارہ میں ساری احادیث کو ردّ بھی کر دیا۔ چنانچہ اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
’’ابھی تھوڑے دن گذرے ہیں کہ مولوی محمد حسین صاحب نے سرکار انگریزی کو مہدی کے بارے میں ایک کتاب پیش کر کے خوش کر دیا ہے جس میں لکھا ہے کہ مہدی کے بارے میں کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں ہوئی اور زمین کا انعام بھی پایا ہے معلوم نہیں کہ کس صلہ میں۔ مگر خدمت تو یہی ہے کہ مہدی کے وجود پر قلم نسخ پھیر دیا ہے۔ ‘‘(ضمیمہ نزول المسیح ۔ روحانی خزائن جلد۱۹صفحہ ۱۳۶)
راشد علی نے ازراہِ تلبیس، سیاق و سباق سے الگ کرکے صرف اس تحریر کو لیا ہے جو اس کے زعم میں اعتراض کے قابل تھی۔ اگر اس میں ذرّہ برابر بھی دیانتداری ہوتی تو اپنے بزرگوں کے کارناموں کو دیکھ کر شرم کرتا نہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض ۔