In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » اعتراضات، وساوس کا جواب » حضرت مسیح موعود ؑ پر اعتراضات » رسول اللہﷺ کی توہین اورگستاخی کا الزام »

کیا رسول اللہ ﷺ آخری نبی نہیں ہیں ؟

راشد علی نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کتاب ’ازالہ اوہام‘ میں فرمایا ہے کہ

is not the last andﷺ"Hazrat Rasool -e- Akramfinal Messenger of God." ( Beware....)

اس بارہ میں ہم زیرِ عنوان (ii)’’ترجمہ و معانی میں تحریف‘‘ سیر حاصل بحث کر آئے ہیں۔ یہاں صرف اتنا عرض ہے کہ

یہ بالکل جھوٹ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بالکل ایسا نہیں فرمایا بلکہ آپ نے اپنی کتب میں عربی ، اردو اور فارسی زبان میں نظم میں بھی اور نثر میں بھی یہ بدلائل قویہّ یہ ثابت فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ مقام ومرتبے کے لحاظ سے بھی آخری نبی ہیں اور شریعت کے لحاظ سے بھی۔ یہی وہ درست عقیدہ ہے جو امّت کے بزرگانِ سلف کا بھی تھا۔ جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پوری منطق اور عرفان کے ساتھ ثابت فرمایا ہے اسی سے آنحضرت ﷺ کا روحانی کمال اور بلند مقام و مرتبہ ثابت ہوتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

’’ خاتم النبیین ہونا ہمارے نبی ﷺ کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع ہے۔ ہاں ایسا نبی جو مشکٰوۃِ نبوّتِ محمّدیہ سے نور حاصل کرتا ہے اور نبوّتِ تامّہ نہیں رکھتا جس کو دوسرے لفظوں میں محدّث بھی کہتے ہیں وہ اس تحدید سے باہر ہے کیونکہ وہ بباعثِ اتباع اور فنا فی الرسول ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہے جیسے جز کل میں داخل ہوتی ہے۔ ‘‘(ازالہ اوہام ۔ روحانی خزائن جلد ۳صفحہ ۴۱۰)

نیز فرمایا :۔

’’مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبییّن نہیں مانتے یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ ہم جس قوّت ،یقین ، معرفت اور بصیرت سے آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اس کا لاکھواں حصہ بھی دوسرے لوگ نہیں مانتے اور ان کا ایسا ظرف بھی نہیں ہے۔ وہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختمِ نبوّت میں ہے سمجھتے ہی نہیں ہیں ، انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سنا ہوا ہے مگر اس کی حقیقت سے بے خبر ہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوّت کیا ہوتا ہے اور اس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ہے ؟ مگر ہم بصیرتِ تامّ سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ) آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہم پر ختمِ نبوّت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذّت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا بجز ان لوگوں کے جو اِس چشمہ سے سیراب ہوں۔ ‘‘ (ملفوظات۔ جلد اول ۔صفحہ ۳۴۲)

وقت اور زمانے کے لحاظ سے سب سے آخر میں مبعوث ہونے میں کسی کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی مدرسہ دارالعلوم دیوبند فرماتے ہیں۔

’’عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانے کے بعد اور آپ سب سے آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدّم یا تاخّرِ زمانی میں بالذّات کچھ فضیلت نہیں۔ پھر مقامِ مدح میں وَلٰکِن رَّسُولَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّین فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے ہاں اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کہئے اور اس مقام کو مقامِ مدح قرار نہ دیجئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تاخّرِ زمانی صحیح ہو سکتی ہے۔ مگر میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہو گی۔ ‘‘(تحذیر الناس۔صفحہ ۷۔مطبوعہ مکتبہ قاسم العلوم کورنگی کراچی۔۱۳۹۶ھ)

اسی طرح نامور صوفی حضرت ابو عبداللہ محمد بن علی حسین الحکیم الترمذی (المتوفی ۳۰۸ھ) فرماتے ہیں۔

’’ یظنّ انّ خاتم النبیّن تاویلہ انّہٗ آخرھم مبعثاً فایّ منقبۃٍ فی ھذا ؟ ھذا تاویل البلہ الجھلۃ ‘‘ (کتاب ۔خاتم الاولیاء ۔صفحہ ۳۴۱۔المکتبہ الکاثولیکیۃبیروت)

ترجمہ:۔ یہ جو گمان کیا جاتا ہے کہ خاتم النبییّن کی تاویل یہ ہے کہ آپ مبعوث ہونے کے اعتبار سے آخری نبی ہیں ۔ بھلا اس میں آپ کی کیا فضیلت وشان ہے ؟ اور اس میں کونسی علمی بات ہے ؟ یہ تو احمقوں اور جاہلوں کی تاویل ہے۔

پس آنحضرت ﷺ مقام اور مرتبہ اور شان اور صفات کے اعتبار سے اور شریعت کے اعتبار سے سب سے آخری نبی ہیں لیکن زمانہ اور وقت اور بعثت کے اعتبار سے نہیں کیونکہ فضیلت اور کمال ، مقام ومرتبہ کے لحاظ سے ہوتا ہے زمانے کے لحاظ سے نہیں۔