In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » اعتراضات، وساوس کا جواب » حضرت مسیح موعود ؑ پر اعتراضات » رسول اللہﷺ کی توہین اورگستاخی کا الزام »

آنحضرت ﷺ کے الہامات بھی غلط نکلے (نعوذ باللہ)

جھوٹا راشد علی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف نعوذ باللہ یہ بات بھی منسوب کرتا ہے کہ آپ ؑ نے ازالہ اوہام میں لکھا ہے کہ

"Hazrat Mohammad ﷺ revelations also became wrong." ( Beware....)

کہ حضرت محمّد ﷺ کے الہامات بھی غلط ثابت ہوئے۔

یہ قطعی جھوٹ ہے جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کیا ہے۔ اس پر ہم کہتے ہیں ’’ لعنۃ اللہ علی الکاذبین ‘‘

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ’ازالہ اوہام‘ الف سے لے کر یاء تک پڑھ ڈالیں۔ کسی ایک جگہ بھی آپ کو یہ بات نہیں ملے گی کہ نعوذ باللہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے الہامات غلط ہو گئے تھے۔ جس نے بھی ایسی بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کی ہے وہ لعنتی ہے ۔کیونکہ سیّد الانبیاء حضرت محمّد رسول اللہ ﷺ کے بارہ میں ایسی بات لکھنا انسان کو خدا تعالیٰ کی لعنت کا مورد بنا دیتا ہے۔ پس یہ لعنت راشد علی نے خود اپنے لئے پسند کی ہے۔

اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عقیدہ اور مذہب اپنے آقا ومولیٰ آنحضرت ﷺ کے بارہ میں یہ تھا ۔ آپؑ فرماتے ہیں۔

’’ میرا یہ مذہب ہے کہ آنحضرت ﷺ کی خالص کلام لعل کی طرح چمکتی ہے لیکن بایں ہمہ قرآنِ شریف آپ ؐ کی خالص کلام سے بالکل الگ اور ممتازنظر آتا ہے۔ (الحکم ۲۴اپریل ۱۹۰۳ء)

جہاں تک آنحضرت ﷺ کا الہامات پر اپنے اجتہاد کا تعلق ہے تو اس بارہ میں سورہ فتح کی آیت نمبر ۲۸میں جس رؤیا کا ذکر ہے اس میں آنحضرت ﷺ کے اپنے عمل سے ایک راہنما اصول قائم ہوا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کو خدا تعالیٰ نے رؤیا میں دکھایا کہ مسلمان بے خوف ہو کر بالکل امن سے خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں اور سر منڈوا کر احرام کھول رہے ہیں اس پر آنحضرت ﷺ صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق چودہ سو صحابہ کی جماعت کے ساتھ عمرہ (چھوٹے حج) کے لئے روانہ ہو گئے جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مشرکینِ مکّہ نے آپ کا داخلہ روک دیا۔ چونکہ رؤیا بتاتی تھی کہ مکّہ میں داخلہ امن سے ہو گا اور کوئی خوف نہیں ہو گا۔ اس لئے صحابہ کو تلوار کے علاوہ دیگر اسلحہ ساتھ لے جانے کی اجازت نہ تھی۔ حدیبیہ کے مقام پر مشرکین ِ مکّہ سے آنحضرت ﷺ کو مشرکین کی خواہش پر ایک صلح کا معاہدہ کرنا پڑا جس میں شرط تھی کہ مسلمان اگلے سال آئیں تو اجازت دی جائے گی۔ صلح کی شرائط میں مشرکین نے یہ شرط بھی پیش کی کہ اگر مکّہ کا کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ جائے گا تو اسے واپس کرنا پڑے گا اور اگر مدینہ سے کوئی مکّہ آئے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا یہ شرط مساویانہ نہ تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ مسلمان اگر اس شرط کو قبول کر لیں تو گویا وہ مشرکین سے دب کر صلح کرنے والے ہوں گے مگر آنحضرت ﷺ نے منشاء الٰہی سے یہ شرطیں مان لیں۔ اور مشرکین سے صلح کا معاہدہ ہو گیا۔ اس وقت آنحضرت ﷺ پر خدا تعالیٰ نے منکشف فرمایا کہ یہ شرائط مسلمانوں کے لئے کوئی نقصان دہ نہیں۔ چنانچہ بالآخر یہی شرائط خود مشرکین کے لئے وبال بن گئیں۔ انہوں نے اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور اس کے نتیجہ میں مکّہ پر آنحضرت ﷺ نے چڑھائی کی اور مکّہ فتح ہو گیا۔ لیکن چونکہ بظاہر شرائط سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ صلح دب کر کی جا رہی ہے اس لئے بعض صحابہ کرام پر یہ معاہدہ بہت شاقّ گذرا۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اس موقع پر آنحضرت ﷺ سے ایسی گفتگو کی جس کا وہ بعد میں کفّارہ دیتے رہے چنانچہ صحیح بخاری کتاب التفسیر ، تفسیر سورۃ فتح جلد۳صفحہ ۱۳۷مصری میں حدیث ہے۔

جاء عمر فقال السنا علی الحق وھم علی الباطل؟ الیس قتلانا فی الجنۃ وھم فی النار؟ قال بلٰی قال ففیما اعطی الدَنیّۃ فی دیننا؟ ونرجع ولم یحکم اللّٰہ فینا۔ فقال یا ابن الخطاب انی رسول اللّٰہ ولن یضیعنی اللّٰہ ابداً فرجع متغیّظاً

کہ حضرت عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ کیا ہم سچائی پر اور وہ لوگ (مشرکین ِ مکّہ) باطل پر نہیں ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہاں (یعنی ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر) حضرت عمرؓ نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مقتولین جنّتی اور ان کے مقتولین ناری نہیں ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہاں۔ (یعنی ہمارے مقتولین جنّتی اور ان کے ناری ہیں) حضرت عمرؓ نے کہا تو پھر کس وجہ سے ہمارے دین کے معاملہ میں کمزوری دکھائی گئی ہے (یعنی جنگ نہیں کی جا رہی اور ایسی شرائط پر صلح کی جا رہی ہے جس میں مشرکین کی طرف سے ہم پر ناجائز دباؤ ڈالا گیا ہے ) اور ہم واپس جا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اے ابن خطاب میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھے ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ پس حضرت عمرؓ ناراض ہونے کی حالت میں واپس ہوئے۔ ‘‘

پھر ان کی یہ گفتگو صحیح بخاری ۔جلد ۲صفحہ۸۱مطبوعہ مصر ۔کتاب الشروط باب الشرط فی الجہاد والمصالحۃ میں یوں درج ہے :۔

’’ حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے کہا الست نبی اللّٰہ حقّاً کیا آپ سچے نبی نہیں ؟ آپ نے فرمایا بلٰی ہاں میں سچا نبی ہوں۔ پھر کہا کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ؟ آپؐ نے فرمایا ۔ہاں( یعنی ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر ہے ) میں نے کہا فلم نعطی الدنیّۃ فی دیننا اذاً کہ ہم اپنے دین میں کیوں کمزوری دکھائیں (یعنی کیوں دب کر صلح کریں)۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اس کی نافرمانی کرنے والا نہیں وہ میرا مددگار ہے۔ میں نے کہا ۔اولیس کنت تحدّثنا انّا سناتی البیت فنطوف کہ آپ ہم سے بیان نہیں کرتے تھے کہ ہم عنقریب بیت اللہ میں آئیں گے اور اس کا طواف کریں گے ؟ آپ ؐ نے فرمایا ۔ ہاں تو کیا میں تمہیں یہ خبر دیتا تھا کہ ہم اسی سال ہی آئیں گے ؟ میں نے کہا نہیں۔ تو آپ ؐ نے فرمایا تم بیت اللہ میں آنے والے ہو اور اس کا طواف کرنے والے ہو اس کے بعد اسی مضمون کی گفتگو حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ سے بھی کی اور انہوں نے ایسے ہی جوابات دئیے جیسے رسول اللہ ﷺ نے دئیے تھے۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں اس گفتگو کے بعد مجھے کئی اعمال کرنے پڑے۔ (یعنی کفّارہ ادا کرنا پڑا)

’’زادالمعاد‘‘ میں امام ابن قیّمؒ یہ روایت بھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے کہا :۔

’’ماشککت منذ اسلمت الّا یومئذٍ‘‘ (زادالمعاد ۔جلد اول الجزء الثانی۔صفحہ ۲۰۳۔ناشر المکتبہ القیّمہ القاہرہ)

’’ کہ میں جب سے مسلمان ہوا مجھے صرف اسی دن شک پیدا ہوا۔ ‘‘

پھر آگے بخاری کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کہا اٹھو قربانی دو پھر سرمنڈواؤ (یعنی احرام کھول دو) راوی کہتا ہے۔

فواللّٰہ ما قام منھم رجل حتی قال ذلک ثلاث مرّات کہ خدا کی قسم کوئی صحابہؓ سے نہ اٹھا یہاں تک کہ آپ ؐ نے تین دفعہ یہ حکم دیا۔

جب کوئی بھی نہ اٹھا تو آپ حضرت ام سلمہؓ (اپنی زوجہ) کے پاس گئے اور لوگوں کے اس معاملہ کا ذکر کیا۔ ام سلمہؓ نے کہا۔ اے نبی اللہ کیا آپ ایسا چاہتے ہیں ؟ آپ ؐ ان میں سے کسی سے ایک کلمہ بھی نہ کہئے۔ اپنی قربانی دیجئے پھر مونڈنے والے کو بلائیے کہ وہ آپ ؐ کا سر مونڈ دے۔ آپ ؐ نے ایسا ہی کیا۔ باہر نکلے کسی سے کلام نہ کی اپنی قربانی دی اور سرمنڈایا جب صحابہؓ نے یہ دیکھا تو وہ بھی اٹھے اور انہوں نے قربانیاں دیں اور بعض بعض کا سرمونڈنے لگے حتی کاد بعضھم یقتل بعضا غمّا کہ قریب تھا کہ غم کے مارے (یعنی بد حواسی میں) ایک دوسرے کو قتل کر دیں (کیونکہ ان کے دل ان شرائط کی وجہ سے مغموم تھے )۔

پس آنحضرت ﷺ کا رؤیا کے بعد عمرہ کے لئے چلے جانا محض اپنے اجتہاد کی بناء پر تھا آپ ؐ نے تعبیر یہی خیال کی تھی کہ عمرہ امن سے ہو جائے گا۔ گو اس سال تو عمرہ نہ ہو سکا مگر یہ اجتہادی سفر بھی ایک لطیف حکمت کا حامل ثابت ہوا گو اس سال طواف وزیارتِ کعبہ تو نہ ہو سکی مگر مشرکوں سے صلح کا معاہدہ ہو گیا۔ جس کے نتیجہ میں بالآخر مشرکین کے خود معاہدہ کی شرائط توڑ دینے پر یہ معاہدہ، فتح مکّہ پر منتج ہوا۔ چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔

لَـقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بِالْحَـقِّ‌ ( الفتح :28)

کہ خدا تعالیٰ نے رسول کو جو رؤیا دکھائی تھی اسے سچا کر دکھایا ہے کہ تم ضرور مسجدِ حرام میں امن سے داخل ہو گے اپنے سر منڈاتے ہوئے یا بال تراشتے ہوئے اور کسی سے نہ ڈرتے ہوئے فَعَلِمَ مَالَمْ تَعْلَمُوْا اللہ تو وہ کچھ جانتا تھا (یعنی وقت میں تاخیر کی مصلحت ) جو تمہارے علم میں نہ تھا تو خدا تعالیٰ نے قریب ہی کے زمانہ میں فتح دیدی۔ پس نبی کی اجتہادی خطا میں بھی بعض اوقات خدا تعالیٰ کی کوئی لطیف حکمت ہوتی ہے ۔گو اس اجتہادی خطا کے نتیجہ سے مسلمانوں کے دل ٹوٹ گئے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کو بھی سخت دھکا لگا تھا ۔مگر آخر خدا کی حکمت ظاہر ہوئی اور اس کے رسول ؑ کی بات بھی پوری ہوئی اور اس صلح کے نتیجہ میں جو مسلمانوں کا دل توڑ رہی تھی، خدا تعالیٰ نے مکّہ فتح کرا دیا چونکہ یہ وعدہ کی پیشگوئی تھی اس لئے ٹل نہیں سکتی تھی۔

الغرض یہ رؤیا جوطوافِ کعبہ کے متعلق تھی ۔اس میں آنحضرت ﷺ کو اگلے سال اس کے پورا ہونے کی شرط سے اطلاع نہیں دی گئی تھی ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے مدِّنظر یہی تھا کہ صلح واقعہ ہو جانے کے بعد اگلے سال یہ رؤیا پوری ہو گی ۔ اس شرط پر اطلاع نہ دئیے جانے کی وجہ سے ہی لوگوں کو ابتلاء پیش آیا ۔ اس سے ظاہر ہے بعض اوقات وعدہ عنداللہ مشروط ہوتا ہے مگر ملہم کو خاص مصلحت کے تحت شرط سے آگاہ نہیں کیا جاتا۔

صلح حدیبیہ کے متعلق مفسّرین کے اقوال

۱۔ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ تفسیر جلالین تفسیر سورۃ الفتح میں سورۃ الفتح کے شان نزول میں لکھتے ہیں :۔

’’ رای رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم فی النوم عام الحدیبیۃ قبل خروجہ انّہ یدخل مکّۃ ھو واصحابہ آمنین یحلقون و یقصرون فاخبر بذلک الصحابۃ ففرحوا فلما خرجوا معہ وصدھم الکفار بالحدیبیۃ رجعوا وشق علیھم بذلک و راب بعض المنافقین فنزلت ‘‘

ترجمہ:۔ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ والے سال (سفر پر) باہر نکلنے سے پہلے خواب میں دیکھا کہ آپ ؐ مع صحابہؓ مکّہ میں امن سے داخل ہوئے سر منڈاتے یا تراشتے ہوئے تو آپ ؐ نے اس امر کی صحابہؓ کو خبر دی جس پر وہ خوش ہوئے پس جب وہ آپ ؐ کے ساتھ نکلے اور کفار نے انہیں حدیبیہ پر روک دیا تو وہ ایسی حالت میں واپس ہوئے کہ یہ امر ان پر شاق تھا اور بعض منافقوں نے شک کیا تو سورۃ فتح نازل ہوئی۔

۲۔ امام ابنِ قیّم ؒ آیت کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں :۔

’’ اخبر سبحانہ انّہ صدق رسولہ رؤیاہ فی دخولھم المسجد آمنین وانّہ سیکون ولا بد ولکن لم یکن قد آن وقت ذلک فی العام واللّٰہ سبحانہ علم من مصلحۃ تاخیرہ الی وقتہ مالم تعلموا انتم فانتم احببتم استعجال ذلک والربّ تعالی یعلم مصلحۃ التاخیر ‘‘ (زادالمعاد۔ جلد اول الجزء الثانی صفحہ ۲۱۵۔المکتبہ القیّمہ القاہرہ)

ترجمہ:۔ اللہ سبحانہ نے اپنے رسولؐ کو سچی خواب دکھائی جو ان کے مسجد (حرام) میں امن سے داخل ہونے کے متعلق تھی کہ ایسا عنقریب ہو گا۔ یہ ضرور واقع ہو گا لیکن اس سال ابھی اس کا وقت نہ آیا تھا اور اللہ سبحانہ اس کے وقت کی تاخیر کی مصلحت جانتا تھا جو تم لوگوں نے نہ جانی پس تم نے تو اس بات کا جلدی وقوع میں آنا چاہا اور خدا تعالیٰ اس میں تاخیر کی مصلحت جانتا ہے۔

۳۔ تفسیر روح البیان جلد ۴ صفحہ ۵۰۱میں لکھا ہے :۔

’’ انّ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم رای فی المنام انّہ دخل مکّۃ واصحابہ آمنین ۔۔۔۔۔۔ واخبر بذلک الصّحابۃ ففرحوا ثم اخبر اصحابہ انّہ یرید الخروج للعمرۃ ۔۔۔۔۔۔ کان المسلمون لا یشکون فی دخلولھم مکّۃ وطوافھم البیت ذلک العام للرؤیا التی راھا النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فلما راوا الصلح دخلھم من ذلک امر عظیم ‘‘

ترجمہ:۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپ ؐ اور صحابہؓ مکّہ میں امن سے داخل ہو رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ آپ ؐ نے اس کی خبر صحابہ کو دی وہ خوش ہوئے پھر آپ ؐ نے بتایا کہ آپ عمرہ کے لئے جانا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کے اس رؤیا کی وجہ سے اسی سال مکّہ میں داخل ہونے اور بیت اللہ کا طواف کرنے کے بارہ میں کوئی شک نہ تھا۔ جب انہوں نے صلح (کا وقوع) دیکھا تو اس سے انہیں سخت صدمہ ہوا۔ ‘‘

پس اس اجتہادی غلطی سے گو مسلمانوں کو بہت سخت صدمہ ہوا لیکن اجتہادی غلطی کوئی قابلِ اعتراض امر نہیں بلکہ اس پر اعتراض کرنا قابلِ اعتراض ہے۔

اجتہادی خطا کا ایک اور واقعہ ملاحظہ ہو

آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں :۔

’’رایت فی المنام انی اھاجر من مکّۃ الی ارض ذات نخل فذھب وھلی انھا الیمامۃ اوالحجر فاذا ھی مدینۃ یثرب۔‘‘ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ باب اذا رای بقراً تنحر)

ترجمہ:۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکّہ سے ایک کھجوروں والی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں تو میرا خیال (اجتہاداً) اس طرف گیا کہ یہ سر زمین یمامہ یا حجر ہو گی لیکن اچانک وہ زمین مدینہ، یثرب نکلی۔

پس اجتہادی غلطی اگر نبی سے سرزد ہو تو یہ شانِ نبوّت میں حارج نہیں اور اس پر اعتراض کرنا درست نہیں۔ چنانچہ اسلامی عقائد کی کتابوں میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ

’’ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قد یجتہد فیکون خطا ‘‘ (نبراس ۔ شرح الشرح لعقائد نسفی صفحہ ۳۹۲۔ناشر مکتبہ رضویہ لاہور)

ترجمہ:۔ نبی کریم ﷺ بعض اوقات اجتہاد فرماتے تھے تو اس میں غلطی بھی ہو جاتی تھی۔

ظاہر بات ہے راشد علی اور اس کا پیر اسلامی لٹریچر سے کلّیۃً ناواقف ہیں جو ایسے اعتراض کرتے ہیں کہ اپنی ہی جہالت کی قلعی کھول کر رکھ دیتے ہیں۔

اسی مذکورہ بالا کتاب میں یہ بھی لکھا ہے

’’وفی الحدیث قال صلی اللّٰہ علیہ وسلم ماحدثتکم عن اللّٰہ سبحانہ فہو حق وما قلت فیہ من قبل نفسی فانما انا بشر اخطی واصیب۔‘‘ (نبراس شرح الشرح العقائد نسفی۔ صفحہ ۳۹۲)

ترجمہ : ۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو بات میں خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے کہوں وہ بات بہرحال سچی ہے لیکن جو میں اپنی طرف سے اس کی تشریح بیان کروں تو چونکہ میں بشر ہوں اس لئے مجھ سے غلطی بھی ہو سکتی ہے اور اسی طرح میری بیان کردہ تشریح درست بھی ہو سکتی ہے۔

اسی بات کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شانِ بلند کا خیال رکھتے ہوئے کمال ادب کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور یہ صرف اجتہاد کی بات کی ہے۔ لیکن جہاں تک الہام وکلامِ الٰہی کا تعلق ہے اس بارہ میں آپ ؑ کا مذہب اوپر کی سطور میں بیان کیا جا چکا ہے۔ مذکورہ بالا امر کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ

’’ جس حالت میں ہمارے سیّد ومولیٰ محمد مصطفی ﷺ کے دس لاکھ کے قریب قول وفعل میں سراسر خدائی کا ہی جلوہ نظر آتا ہے اور ہر بات میں ،حرکات میں سکنات میں ، اقوال میں ، افعال میں روح القدس کے چمکتے ہوئے انوار نظر آتے ہیں تو پھر اگر ایک آدھ بات میں بشریّت کی بھی بو آوے تو اس سے کیا نقصان۔ بلکہ ضرور تھا کہ بشریّت کے تحقق کے لئے کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ۔ تا لوگ شرک کی بلا میں مبتلا نہ ہو جائیں۔‘‘(آئینہ کمالات اسلام ۔ روحانی خزائن جلد ۵صفحہ ۱۱۶)