In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » اعتراضات، وساوس کا جواب » حضرت مسیح موعود ؑ پر اعتراضات » رسول اللہﷺ کی توہین اورگستاخی کا الزام »

قبل از وقت بعض حقائق کی تفصیلات کا انکشاف نہ ہونا

مکذّب مذکور ،حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کر کے یہ بات بھی تحریر کرتا ہے کہ

"Revelation did not inform Hazrat Mohmmad

about Ibn-e-Maryam Dajjal, Khar-e-Dajjal,Yajooj Majooj ﷺ

and Dabbatul Ard." (Beware...)

یہ بھی صریح جھوٹ ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی جگہ ایسا تحریر نہیں فرمایا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جس تحریر سے اس نے غلط اور جھوٹا نتیجہ نکال کر سادہ لوح عوام کے لئے گمراہی کا جالا بننا چاہا ہے اس میں وہ خود ہی پھنس کر اپنے جھوٹا ہونے کا ثبوت مہیّا کر رہا ہے۔

اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غالباً اس تحریر سے اپنا جھوٹ تراشا ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں

’’ جس قدر الفاظ وحی کے ہوتے ہیں وہ تو بلا شبہ اوّل درجہ کے سچے ہوتے ہیں مگر نبیوں کی عادت ہوتی ہے کہ کبھی اجتہادی طور پر بھی اپنی طرف سے ان کی کسی قدر تفصیل کرتے ہیں اور چونکہ وہ انسان ہیں ۔ اس لئے تفسیر میں کبھی احتمال خطا کا ہوتا ہے ۔لیکن امورِ دینیّہ ایمانیہ میں اس خطاکی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ ان کی تبلیغ میں منجانب اللہ بڑا اہتمام ہوتا ہے اور وہ نبیوں کو عملی طور پر سکھلائی بھی جاتی ہے۔ چنانچہ ہمارے نبی ﷺ کو بہشت اور دوزخ بھی دکھایا گیا اور آیاتِ متواترہ محکمہ بیّنہ سے جنّت اور نار کی حقیقت بھی ظاہر کی گئی ہے پھر کیونکر ممکن تھا کہ اس کی تفسیر میں غلطی کر سکتے۔ غلطی کا احتمال صرف ایسی پیشگویؤں میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ خود اپنی کسی مصلحت کی وجہ سے مبہم اور مجمل رکھنا چاہتا ہے اور مسائلِ دینیّہ سے ان کا کچھ علاقہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک نہایت دقیق راز ہے جس کے یاد رکھنے سے معرفتِ صحیحہ مرتبہ نبوّت کی حامل ہوتی ہے اور اسی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجّال کی حقیقتِ کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجّال کے ستّرباع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہہ تک وحی الہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دآبّۃ الارض کی ماہیت کماہی ہی ظاہر فرمائی گئی اور صرف امثلہ قریبہ اور صورِ متشابہ اور امورِ متشا کلہ کے طرزِ بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قویٰ ممکن ہے اجمالی طور پر سمجھایا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں اور ایسے امور میں اگر وقتِ ظہور کچھ جزئیات غیر معلومہ ظاہر ہو جائیں تو شان ِ نبوّت پر کچھ جائے حرف نہیں۔ ‘‘(ازالہ اوہام ۔ روحانی خزائن جلد ۳صفحہ ۴۷۲ ، ۴۷۳)

شاید یہ وہ تحریر ہے جسے معترض نے اپنے بغض کا نشانہ بنایا ہے۔ اوّل تو اس پر معارف تحریر کو سمجھنے کے لئے بصیرت اور نورِ قلب درکار ہے۔ دوم یہ کہ اگر اس کا عمومی طور پر بھی تجزیہ کیا جائے تو اس سے حسب ذیل امور واضح طور پر نظر آتے ہیں۔

۱۔ وحی الہی کے الفاظ بلاشبہ اول درجہ کے سچے ہوتے ہیں۔

۲۔ انبیاء ؑ بعض اوقات جب اجتہادی طور پر اس وحی الٰہی کی تفصیل اپنی طرف سے بیان فرماتے ہیں تو انسان ہونے کی وجہ سے اس اجتہاد میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے۔

۳۔ لیکن امور دینیہ ایمانیہ میں ایسی خطا کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

۴۔ ایسی پیشگوئیاں جن کو اللہ تعالیٰ خود اپنی کسی مصلحت کی وجہ سے مبہم اور مجمل رکھنا چاہے ، نبی سے ان کی تفصیل کے بیان میں اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے۔

۵۔ خدا تعالیٰ کی کسی خاص مصلحت کی وجہ سے اگر آنحضرت ﷺ پر کسی نمونہ کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے مو بمو پوری تفصیلات ابن مریم ، دجّال ، خرِدجّال ،یاجوج ماجوج اور دآبّۃ الارض وغیرہ کی نہ کھلی ہوں اور جس حد تک بذریعہ انسانی قویٰ کے ممکن ہے آنحضرت ﷺ نے ان چیزوں کی تفصیل بیان فرمائی ہو تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ان پیشگوئیوں کے ظہور کے وقت اگر کچھ تفصیلات وجزئیات جو پہلے معلوم نہ تھیں مزید ظاہر ہو جائیں ۔

معزّز قارئین ! ملاحظہ فرمائیں کہ اس عبارت میں کہاں ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر مذکورہ بالا چیزوں کی حقیقت نہ کھولی گئی تھی ۔ اس عبارت سے تو یہ واضح ہے کہ ان چیزوں کی حقیقت و اصل کیفیت آنحضرت ﷺ پر کھولی گئی تھی مگر اب وقتِ ظہور ان کی تفصیلات زیادہ ظاہر ہوئی ہیں اور اس سے آپؐ کی شانِ نبوّت پر کچھ جائے حرف نہیں بلکہ ہر زیادہ ظاہر ہونے والی تفصیل اور حقیقت آنحضرت ﷺ کی صداقت اور آپ کی پیشگوئیوں کے عظیم الشّان ہونے پر واضح ثبوت مہیّا کرتی ہے۔ اور یہ امر راشد علی کے نزدیک سخت اعتراض کا موجب ہے اس کی شاید وجہ یہ ہے کہ خود ان لوگوں کا اپنا عقیدہ یہ ہے کہ نعوذ باللہ نعوذ باللہ

’’آنحضرت ﷺ کا علم بچوں ، مجنونوں اور جانوروں کے برابر ہے۔ ‘‘ (حفظ الایمان ۔مصنّفہ اشرف علی تھانوی ۔مطبوعہ دیوبند صفحہ ۹)

نیز یہ کہ نعوذ باللہ نعوذ باللہ

’’شیطان کا علم حضور علیہ السلام سے وسیع تر تھا ‘‘ (براہین قاطعہ۔ مصنفہ خلیل احمد ۔ مصدّقہ رشید احمد گنگوہی صفحہ ۵۱)