آنحضرت ﷺ کی توہین کے الزام کے تحت راشد علی اور اس کا پیر، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ’’ نزول المسیح ‘‘ سے حسب ذیل عبارت درج کرتے ہیں۔
’’ اس جگہ اکثر گذشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیشگوئیاں موجود ہیں بلکہ بعض گذشتہ انبیاء علیہم السلام کی معجزات اور پیش گوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں اور نیز ان کی پیشگوئیوں اور معجزات اس وقت محض بطور قصّوں اور کہانیوں کے ہیں۔ مگر یہ معجزات (یعنی مرزا صاحب کے نام نہاد معجزات) ہزار ہا لوگوں کے لئے واقعات چشم دید ہیں قصے تو ہندوؤں کے پاس بھی کچھ کم نہیں ۔ قصوں کو پیش کرنا تو ایسا ہے جیسا کہ ایک گوبر کا انبار مشک اور عنبر کے مقابل پر ‘‘ (نزول المسیح ۔ روحانی خزائن ۔جلد ۱۸صفحہ ۴۶۰)
(لاحول ولا قوۃ الا بلا براہ کرم نوٹ فرمائیے کس توہین آمیز انداز میں قرآن پاک کے واقعات کا اپنے قصوں سے موازنہ کیا جا رہا ہے ! )(نقل بمطابق اصل۔از’’بے لگام کتاب‘‘)
بددیانتی اور عبارت تراشی تو ان جھوٹے پیرومرید کی گھٹی میں رچی ہوئی ہے انہوں نے ’’ اس جگہ اکثر ‘‘ سے لیکر ’’ چشم دید ہیں ‘‘ تک عبارت ایک جگہ سے اٹھائی ہے اور ’’ قصے تو ہندوؤں ‘‘ سے لے کر ’’ کے مقابل پر ‘‘ تک کی عبارت دوسری جگہ سے اور دونوں کو ایسے دجل کے ساتھ جوڑ دیا ہے کہ عام قاری کو ان کی یہودیانہ تحریف کا پتہ نہیں چلتا ۔ یہ نہ صرف بدیانتی کرتے ہیں بلکہ عوام الناس کو بھی چکمے دیتے ہیں۔ جس عبارت کو محرّف ومبدّل کر کے انہوں نے اعتراض اٹھایا ہے وہ ملاحظہ فرمائیں۔
’’ جیسا کہ وحی تمام انبیاء علیھم السلام کی آدم ؑ سے لے کر آنحضرتﷺ تک از قبیلِ اضغاث احلام وحدیث النفس نہیں ہے ایسا ہی یہ وحی بھی ان شبہات سے پاک اور منزّہ ہے اور اگر کہو کہ اس وحی کے ساتھ جو اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام کو ہوئی تھی معجزات اور پیشگوئیاں ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ اکثر گذشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیشگوئیاں موجود ہیں بلکہ بعض گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزا ت اور پیشگوئیوں کو ان معجزات اور پیشگوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں اور نیز ان کی پیشگوئیاں او ر معجزات اس وقت محض بطور قصوں اور کہانیوں کے ہیں مگر یہ معجزات اور پیشگوئیاں ہزارہا لوگوں کے لئے واقعاتِ چشم دید ہیں اور اس مرتبہ اور شان کے ہیں کہ اس سے بڑھ کر متصوّر نہیں یعنی دنیا میں ہزارہا انسان ان کے گواہ ہیں مگر گذشتہ نبیوں کے معجزات اور پیشگوئیوں کا ایک بھی زندہ گواہ پیدا نہیں ہو سکتا باستثناء ہمارے نبی ﷺ کے کہ آپ کے معجزات اور پیشگوئیوں کا میں زندہ گواہ موجود ہوں اور قرآن شریف زندہ گواہ موجود ہے اور میں وہ ہوں جس کے بعض معجزات اور پیشگوئیوں کے کروڑہا انسان گواہ ہیں۔ پھر اگر درمیان میں تعصّب نہ ہو تو کون ایماندار ہے جو واقعات پر اطلاع پانے کے بعد اس بات کی گواہی نہ دے کہ درحقیقت اکثر گذشتہ نبیوں کے معجزات کی نسبت یہ معجزات اور پیشگوئیاں ہر ایک پہلو سے بہت قوی اور بہت زیادہ ہیں۔ اور اگر کوئی اندھا انکار کرے تو ہم موجود ہیں اور ہمارے گواہ موجود ہیں ولیس الخبر کا لمعائنۃ پھر جس حالت میں صدہا نبیوں کی نسبت ہمارے معجزات اور پیشگوئیاں سبقت لے گئی ہیں تو اب خود سوچ لو کہ اس وحی الٰہی کو اضغاث احلام اور حدیث النفس کہنا درحقیقت انبیاء علیہم السلام کی نبوّت سے انکار کرناہے ۔ اور اگر شک ہو تو خدا تعالیٰ کا خوف کر کے ایک جلسہ کرو اور ہمارے معجزات اور پیشگوئیاں سنو اور ہمارے گواہوں کی شہادت رویت جو حلفی شہادت ہو گی قلمبند کرتے جاؤ اور پھر اگر آپ لوگوں کے لئے ممکن ہو تو باستثناء ہمارے نبی ﷺ کے دنیا میں کسی نبی یا ولی کے معجزات کو ان کے مقابل پیش کرو لیکن نہ قصّوں کے رنگ میں بلکہ رؤیت کے گواہ پیش کرو۔ کیونکہ قصّے تو ہندووں کے پاس بھی کچھ کم نہیں۔ قصوں کو پیش کرنا تو ایساہے جیسا کہ ایک گوبر کا انبار مشک اور عنبر کے مقابل پر۔ ‘‘ (نزول المسیح۔ روحانی خزائن جلد ۱۸صفحہ ۴۶۰ تا ۴۶۲)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس عبارت میں کسی ایک جگہ بھی قرآنِ پاک کے واقعات سے اپنے معجزات ونشانات کے موازنہ کا ذکر نہیں ملتا۔ یہ صرف راشد علی اور اس کے پیر کا جھوٹ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بہتان ہے۔ ایک سرسری تجزیہ سے ہی اس عبارت سے یہ امور واضح ہوتے ہیں کہ ۔
۱۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ﷺ تک تمام انبیاء علیہم السلام کی وحی اضغاث احلام اور حدیث النفس نہیں ہے۔
۲۔ اس بحث میں ہمارے نبی ﷺ کا استثناء ہے کیونکہ آپ ؐ کے معجزات اور پیشگوئیوں کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام زندہ گواہ موجود ہیں۔ آپ ؑ نے جلی حروف میں آنحضرت ﷺ کا استثناء کیا ہے۔ ا س لئے یہ کہنا کہ ’’ قرآنِ پاک کے واقعات کا اپنے قصّوں سے موازنہ کیا جا رہا ہے ‘‘ بالکل جھوٹ ہے ۔
۳۔ اس عبارت سے یہ صاف ظاہرہے کہ وہ قصے کہانیاں جن کو دوسرے مذاہب والے معجزات اور پیشگوئیوں کے طور پر پیش کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے زندہ معجزات اور جاری پیشگوئیاں جو مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر ظاہر ہوئیں اور ہو رہی ہیں کے مقابل پر ان کی حیثیت ہی کوئی نہیں۔ اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہندوؤں کے قصوں کی مثال دی ہے۔ قرآنِ کریم کے واقعات کا یہاں کوئی ذکر ہی نہیں۔
پس راشد علی اور اس کے پیر نے یہ جو تحریر کیا ہے کہ ’’ لاحول ولا قوۃ الا بلا براہ کرم نوٹ فرمائیے کس توہین آمیز انداز میں قرآن پاک کے واقعات کا اپنے قصوں سے موازنہ کیا ہے۔‘‘
خالصۃً جھوٹ اور دجل ہے جس کی توقع اس جھوٹے جوڑے سے ہی رکھی جا سکتی ہے۔
معزّز قارئین ۔ لاحول ولا قوّۃ الاّ باللّٰہ براہ کرم نوٹ فرمائیے یہ لوگ الزام تو یہ دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نعوذ باللہ توہینِ رسولؐ کا ارتکاب کیا ہے اور ان کی اپنی حالت ایسی خبیثانہ ہے کہ ’’ لاحول ولا قوّۃ الاّ باللّٰہ ‘‘ کی بجائے ’’ لاحول ولا قوۃ الا بلا لکھتے ہیں ۔ یعنی یہاں اﷲ کی بجائے قوّت و قدرت ’بلا‘ کی طرف منسوب کر رہے ہیں ۔ کیا یہ خدا تعالیٰ کی توہین نہیں ؟ اور کیا یہ اسلام کے پاک کلمات سے جو نبی اکرم ﷺ نے بیان فرمائے استہزاء نہیں ؟
( نوٹ) ہم کتابت کی ایسی غلطیوں کو نہیں مانتے۔ چونکہ ان لوگوں نے خود ایسی غلطیوں پر جماعت احمدیہ کی کتب پر الزام عائد کیا ہے اس وجہ سے ہم نے ان کو ملزم کیا ہے۔