In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » اعتراضات، وساوس کا جواب » حضرت مسیح موعود ؑ پر اعتراضات » رسول اللہﷺ کی توہین اورگستاخی کا الزام »

درود شریف پر اعتراض

راشد علی نے ’’ قادیانی درود شریف ‘‘ کے عنوان کے تحت رسالہ’’ درود شریف‘‘ سے دو اقتباسات کا حسب ذیل انگلش ترجمہ پیش کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے۔

Allah has ordered every Muslim to invoke salaat and salaam on Holy Prophet Muhmmad.This honour was also stolen by Mirza & Co. "Thus according to the verse (of Quran)'O poeple of the faith! send your salaat on Him and salute Him with the salutation (33:56) and according to those Hediths in which there are instructions to send Durood on Holy Prophet pbuh, sending Durood on Hazrat Maseeh Mowood is just as necessary as it is on the Holy Prophet pbuh."

(Risala Durood Shareef by Mohd Ismael Qadiani P.136)

"According to the traditions in Islam and hadith, it is necessary to clearly include his (Holy Prophet pbuh) Family in Durood; Similarly, albeit more importantly it is necessary to clearly send Durood on Maseeh Mowood and not to be contended with that General Durood which reaches him (Mirza) as well when one sends Durood on Holy Prophet pbuh, Thus Hazrat Maseeh Mowood says; " One of the objections of the ignorants is also this that the followers of this man (Mirza) apply on him the words [alaiha assalato wa assalam] and to say this is HARAM. The answer to this is th at I am the Promised Messiah, and leave aside the saying of Salaat and Salaam, Holy Prophet himself said that he who finds him, convey his salaam to him; and in all Hadiths at hundreds of places Salaat-o-sallam is mentioned for the Promised Messiah. When such words about me are said by The Prophet, Sahaba has said, rather God has said, then how can it be Haram for my Jamaat to say such words for me."

(Risala Durood Shareef, Arba`een No 2 Roohani Khazain vol,17 p.349)

یہ سب اس نے اپنے رسالہ" " Ghulam Vs Master میں صفحہ ۱۴،۱۵ پر تحریر کیا ہے۔

ان میں سے پہلا اقتباس رسالہ درود شریف کے صفحہ ۱۳۶پر نہیں بلکہ ۱۶۵ پر ہے۔ اس اقتباس کو درج کرتے وقت راشد علی نے اگلا فقرہ از راہِ خیانت چھپا لیا ہے تا کہ شاید اس طرح اعتراض کی وجہ پیدا کر سکے۔ اس عبارت سے آگے یہ لکھا ہوا ہے کہ

’’ کیونکہ آپ ؑ کا وجود دوسرے پیرا یہ میں آنحضرت ﷺ ہی کا وجود مبارک ہے۔ ‘‘

اس فقرہ سے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام پر درود کی وجہ کھولی گئی ہے کہ آپ ؑ کی بعثت چونکہ سورہ جمعہ کی آیت ’’ وَآخَرِینَ مِنہُم ‘‘ کے مطابق دوسرے پیرایہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہی بعثت ہے اس لئے آپ ؑ پر درود بھیجنا بھی ضروری ہے۔

دوسرا اقتباس جو لفظ According سے شروع ہو کر Says پر ختم ہوتا ہے وہ رسالہ درود شریف میں اس عبارت کے ساتھ نہیں ہے جو راشد علی نے اس کے آگے تحریر کی ہے۔ اس نے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی جس عبارت کا انگریزی ترجمہ تحریر کیا ہے وہ یہ ہے ۔

’’ بعض بے خبر ایک یہ اعتراض بھی میرے پر کرتے ہیں کہ اس شخص کی جماعت اس پر فقرہ علیہ الصلٰوۃ والسلام اطلاق کرتے ہیں اور ایسا کرنا حرام ہے اس کا جواب یہ ہے کہ میں مسیحِ موعود ہوں اور دوسروں کا صلٰوۃ یا سلام کہنا تو ایک طرف خود آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اس کو پاوے میرا سلام اس کو کہے اور احادیث اور تمام شروحِ احادیث میں مسیحِ موعود کی نسبت صدہا جگہ صلٰوۃ اور سلام کا لفظ لکھا ہوا موجود ہے ۔پھر جبکہ میری نسبت نبی علیہ السلام نے یہ لفظ کہا۔ صحابہؓ نے کہا بلکہ خدا نے کہا تو میری جماعت کا میری نسبت یہ فقرہ بولنا کیوں حرام ہو گیا۔ ‘‘(اربعین نمبر ۲ ۔و ۔رسالہ درود شریف صفحہ ۱۶۷ ، ۱۶۸)

اس عبارت کا ترجمہ کرتے وقت راشد علی نے جلی فقرہ کا ترجمہ غلط کیا ہے اس نے لکھا ہے

And in all Hadiths at hundreds of places Salaat- o-Salaam is mentioned for the Promised Mesiah.

ظاہر ہے کہ یہ ترجمہ غلط فہمی پیدا کرتا ہے اور اعتراض کا موجب ہو سکتا ہے کیونکہ تمام احادیث میں ایسا نہیں فرمایا گیا بلکہ شروحِ احادیث میں ایسا لکھا ہوا ہے پس یہ بھی راشد علی کی ایک تلبیسیانہ کارروائی ہے ۔

راشد علی اور اس کا پیر از راہِ کذب وافتراء اپنی طرف سے ہی عقیدے تراش تراش کر جماعتِ احمدیہ کی طرف منسوب کرتے چلے جاتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک بھی احمدی یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ خدا تعالیٰ اور اس کے فرشتے ہمارے آقا ومولیٰ سیّد الانبیاء حضرت محمّد مصطفی ﷺ پر نہیں بلکہ حضرت مرزا صاحب پر سلام اور درود بھیجتے ہیں ۔

دوسرے نمبر پر راشد علی نے اس دجل سے کام لیا ہے کہ گویا قرآنِ کریم کی تعلیم کے مطابق اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے آنحضرت ﷺ پر درود اور سلام بھیجتے ہیں لیکن آپ کے امتیوں کی طرف اس کو منسوب کرنا گویا آنحضرت ﷺ کا اعزاز چرانے کے مترادف ہے۔پتہ نہیں یہ مرید اور اس کا پیر کس مدرسے میں قرآن کریم پڑھے ہیں یا پڑھے بھی ہیں کہ نہیں کہ جن کو اس آیت کا علم ہی نہیں کہ جس میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے ۔ هُوَ الَّذِىْ يُصَلِّىْ عَلَيْكُمْ وَمَلٰٓٮِٕكَتُهٗ لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ؕ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا‏ (احزاب :۴۴)

کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سب مومنوں پر درود بھیجتے ہیں تا کہ وہ اندھیروں سے روشنی میں نکلیں ۔اللہ تعالیٰ مومنوں پر بہت رحم کرنے والا ہے۔

پس عرش کے خدا اور اس کے فرشتوں کا، سب سچے مومنوں پر درود بھیجنا نہ صرف یہ کہ قرآن سے ثابت ہے بلکہ اس درود کے نتیجہ میں وہ قسما قسم کی ظلمتوں سے نکل کر نور میں داخل ہوتے ہیں ۔ جہاں اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے مومنوں پر درود بھیجتے ہیں وہاں ایمان کے لحاظ سے امّت کا مسیح موعود ایک اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہے۔ لہذا اس پر مومنوں کی نسبت درود بدرجہ اولیٰ ثابت ہوتا ہے ۔ پس راشد علی کا یہ کہنا کہ یہ اعزاز حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت نے چرا لیا ہے بالکل جھوٹ اور افتراء ہے ۔ یہ اعزاز تو رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ اور آپ کے طفیل ہر مومن کو عطا ہوا ہے اور وہ ہر نماز میں ’’ السّلام علینا وعلٰی عباد اللّٰہ الصّالحین‘‘کہہ کر خود پر اور خدا تعالیٰ کے صالح بندوں پر درود بھیجتے ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ’’ علیہ السلام‘‘ اور ’’ علیہ الصلٰوۃ و السلام‘‘ کے کلمات کی ادائیگی مذکورہ بالا آیتِ کریمہ اور نماز کی دعا کی حدّ تک تو ہے ہی لیکن ایک بات ان سے الگ اور امتیازی یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل میں مسیحِ موعود ؑ کو آپؐ کا سلام پہنچانا ہر مومن پر فرض ہے۔

اس حکم کی تعمیل سے راشد علی اور اس کا پیر انکاری ہیں۔نیز راشد علی اور اس کی پیر کے یہ بدنصیبی ہے کہ نہ انہیں ایسے مومنون کا علم ہے کہ جن پرخدا اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اور نہ کبھی خود خدا اور اس کے فرشتوں کے درود کے مورد بنے ہیں ۔ تو ہمیشہ کے اندھیروں کی جو زندگی انہوں نے قبول کر لی ہے انہیں کو مبارک ہو ۔

جہاں تک رسول اللہ ﷺ پر خدا کے درود کا تعلق ہے تووہ مومنوں پر درود سے بہت ارفع اور اعلیٰ ہے اور حسبِ مراتب اپنی ایک الگ شکل رکھتا ہے ۔ چنانچہ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ۔

’’ دنیا میں کروڑہا ایسے پاک فطرت گذرے ہیں اور آگے بھی ہوں گے لیکن ہم نے سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ اور سب سے خوب تر اس مردِ خدا کو پایا ہے جس کا نام ہے محمّدصلّی اللہ علیہ آلہ وسلّم ۔ اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓٮِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِىِّؕ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا‏ ‘‘(الاحزاب :۵۷) (چشمہ معرفت ۔ روحانی خزائن۔ جلد ۲۳ صفحہ ۳۰۱ ، ۳۰۲ )

پھر آپ ؑ فر ماتے ہیں ۔

’’ درود شریف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس غرض سے پڑھنا چاہئے کہ تا خداوند کریم اپنی برکات اپنے نبی کریم ؐ پر نازل کرے ۔۔۔ اور اس کی بزرگی اور اس کی شان وشوکت اِس عالم اور اُس عالم میں ظاہر کرے ۔۔۔۔۔۔ اور اس کا جلال دنیا اور آخرت میں چمکے۔ ‘‘ (مکتوباتِ احمد یہ۔جلد اوّل صفحہ ۱۳ ۔بحوالہ رسالہ درود شریف )

آپ ؑ نے اپنی بیعت میں داخل ہونے والوں کے لئے یہ شرط بھی رکھی کہ ’’بلاناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا اور حتی الوسع نماز تہجّد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم ﷺ پر درُود بھیجنےاور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔(اشتہار ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء۔ بحوالہ رسالہ درود شریف صفحہ ۷۲)

اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے آپ ؑ نے فرمایا

’’درود شریف وہی بہتر ہے کہ جو آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے نکلا ہے اور وہ یہ ہے ۔ اللّٰہمّ صلّ علٰی محمّدٍ وّعلٰی آل محمّدٍ کما صلّیت علَی ابراہیم وعلَی آلِ ابراہیم انّک حمیدٌ مجیدٌ اللّٰھمّ بارک علٰی محمّدٍ وعلٰی آلِ محمّدٍ کما بارکتَ علٰی ابراھیمَ وعلٰی آلِ ابراہیمَ انّک حمیدٌ مجیدٌ

جو الفاظ ایک پرہیزگار کے منہ سے نکلتے ہیں ان میں ضرور کسی قدر برکت ہوتی ہے۔ پس خیال کر لینا چاہئے کہ جو پرہیز گاروں کا سردار اور نبیوں کا سپہ سالار ہے۔ اس کے منہ سے جو لفظ نکلے ہیں وہ کس قدر متبرّک ہوں گے۔ غرض سب اقسام درود شریف سے یہی درود شریف زیادہ مبارک ہے ۔ یہی اس عاجز کا وِرد ہے۔ اور کسی تعداد کی پابندی ضروری نہیں۔ اخلاص اور محبّت اور حضور اور تضرّع سے پڑھنا چاہئے اور اس وقت تک ضرور پڑھتے رہیں کہ جب تک ایک حالت رقّت اور بے خودی اور تاثّرکی پیدا ہوجائے اور سینہ میں انشراح اور ذوق پایا جائے۔ ‘‘ (مکتوباتِ احمدیہ ۔جلد اول ۔صفحہ ۱۸ بحوالہ رسالہ درود شریف صفحہ ۹۸)

رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کی برکتوں کے بارہ میں آپ اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

’’ ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان معطّر ہو گیا۔ اس رات خواب میں دیکھا کہ فرشتے آبِ زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں اور ایک نے ان میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمّدؐ کی طرف بھیجی تھیں۔ صلّی اللہ علیہ وسلّم۔ ( براہینِ احمدیہ۔ روحانی خزائن جلد۱ صفحہ ۵۷۶ حاشیہ در حاشیہ۳)