ﷺMirza is equal to Holy prophet Mohmmad
Claims to be the final prophet .
ان عناوین کے تحت اپنے رسالہ(Ghulam Vs Master) میں راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مختلف تحریرات درج کی ہیں اور اپنے تبصروں کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صرف محمّد رسول اللہ ﷺ ہونے کا ہی نہیں بلکہ خاتم الانبیاء ؐ ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے (نعوذ باللہ)
معزّز قارئین ! راشد علی نے یہاں بھی بڑی بے باکی سے بہت بڑا افتراء کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان تحریروں کا نہ وہ مطلب ہے جو راشد علی ازراہِ دجل وافتراء آپ ؑ کی طرف منسوب کرتا ہے اور نہ ہی جماعت احمدیہ وہ عقائد رکھتی ہے۔
جیسا کہ پہلے بھی بروز وغیرہ کی بحث میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ اوّل تو یہ بات بالکل جھوٹ ہے کہ احمدی ، اپنے آقا و مولٰی حضرت محمّد ﷺ کے بنفسہ دوبارہ دنیا میں آنے کے قائل ہیں۔ دوسرے یہ بات بھی جھوٹ ہے کہ اگر معنوی بعثت مرادلی جائے تو دوسرے مسلمان ،محمدّرسول اللہ ﷺ کے معنوی طور پر دوبارہ آنے کے قائل نہیں۔یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔
جہاں تک بنفسہ آنحضرت ﷺ کے دوبارہ آنے کا سوال ہے نہ دوسرے مسلمان اس کے قائل ہیں اور نہ احمدی اس کے قائل ہیں۔ اگر کسی پرانے رسول کا بنفسہ آنے کا کوئی قائل ہے تو خود راشد علی اس کا پیر اور ان کے ہمنوا ہیں۔ جو محمّد رسول اللہ ﷺ کے نہیں عیسیٰ علیہ السلام کے بنفسہ پرانے جسم سمیت دوبارہ دنیا میں آنے کے قائل ہیں۔
اور باقی جہاں تک معنوی بعثت کا تعلق ہے جو کامل غلامی کی صورت میں یا فنافی الرسول کی صورت میں ہونی ممکن ہے تو اس کے نہ صرف یہ کہ احمدی قائل ہیں بلکہ قرآن کریم کی رو سے اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں۔
اور اگر یہ عقیدہ کہ محمّد رسول اللہ ﷺ کا کوئی نائب آپ کی غلامی میں آپ کی بعثت ثانیہ کا مظہر بنے گا ، راشد علی کے نزدیک قابل قبول نہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس کو قرآن سے ہی انحراف ہے۔ اس لئے احادیث صحیحہ کی بھی پرواہ نہیں۔ دیکھئے سورۃ جمعہ میں حضرت محمّد رسول اللہ ﷺ کی امّیّین میں ایک بعثت کا ذکر ہے اور دوسری بعثت کا آخرین میں ۔ اس دوسری بعثت کی پیشگوئی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْؕ (الجمعہ:۴)
ترجمہ:۔اور ان کے سوا ایک دوسری قوم میں بھی (وہ اسے بھیجے گا)جو ابھی تک ان سے ملی نہیں۔
ان آیات کے نزول پر صحابہؓ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کی ۔ من ھم یا رسول اللّٰہ ؟یا رسول اللہ! یہ دوسرے لوگ کون ہیں( جن میں یہ دوسری بعثت ہو گی)؟ تو اس پیشگوئی کی تشریح میں خود حضرت اقدس محمّد رسول اللہ ﷺ کی یہ گواہی بخاری کی حدیث صحیح میں درج ہے کہ آپ ؐ نے حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا ۔’’ لوکان الایمان معلّقاً بالثّریّا لنالہ رجلٌ او رجالٌ من ھٰولٓاء‘‘ ( بخاری کتاب التفسیر۔ تفسیر سورۃ الجمعہ)
کہ اگر آخری زمانہ میں ایمان ثریّا پر بھی چلا گیا تو سلمان فارسیؓ ( یعنی عجمیوں )میں سے ایک شخص یا ایک اور روایت کے مطابق بعض اشخاص اسے واپس زمین پر کھینچ لائیں گے۔ اب بتائیے کہ اگر محمّد رسول اللہ ﷺ کی معنوی بعثت ثانی کا ذکر نہیں تو پھر اور کیا ذکر ہے؟ کیا محمّد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر عبدالحفیظ اور راشد علی کو فہمِ قرآن کا دعویٰ ہے؟ کیا یہ قطعی اور سب سے بالا گواہی سننے کے باوجود یہ پیر اور مرید اب بھی یہ دعویٰ کرنے کی جرات کریں گے کہ محمّد رسول اللہ ﷺ کی معنوی اور تمثیلی بعثت کا دنیا میں کوئی مسلمان قائل نہیں؟ کیا محمّد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر بھی اور کوئی گواہی ہو گی ؟
اس وضاحت کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے جب ’محمّد ؐ ‘ کا لفظ بروزی اور ظلّی طور پر اپنے پر چسپاں کیا۔ تو کن معنوں میں استعمال کیا؟ ان اصطلاحوں کے تین ہی معنی عقلاً ممکن ہیں ۔
اوّل یہ کہ حضرت مرزا صاحب نے اپنے آپ کو یہ اصطلاح استعمال کر کے حضرت محمّد رسول اللہ ﷺ کا ہم مرتبہ ظاہر کیا (نعوذ باللہ) اور یہ بتایا کہ میں آپ ؐ کے درجہ کے برابر ہوں اگرچہ محمّد رسول اللہ ﷺ نہیں ہوں۔ پس ہم مرتبہ ہونے کی وجہ سے نام محمّد دیا گیا ہے۔
دوسرا یہ معنٰی قرار دیا جا سکتا ہے کہ (نعوذ باللہ) دنیا میں ایک محمّد ؐ نہیں بلکہ دو محمّد ؐ ہیں۔ یعنی ایک عرب میں پیدا ہوا تھا۔ اور ایک ہندوستان قادیان میں۔اور اس طرح ہم مرتبہ ہونے کا ہی دعویٰ نہیں بلکہ کلّیۃً علیحدہ محمّد ؐ ہونے کا دعویٰ کر دیا ۔
تیسرا یہ معنٰی ہو سکتا ہے کہ ان معنوں میں اسم ِ محمّد ؐ کا اپنے اوپر اطلاق کیا جن معنوں میں اللہ کے لفظ کا حضرت محمّد مصطفی ﷺ کے اوپر اطلاق کیا گیا جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا ۔وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ رَمٰىۚ (الانفال : ۱۸) یعنی اے محمد ؐ جب تو نے مٹھی بھر کنکریاں کفّار کی طرف پھینکیں تو تو نے نہیں بلکہ اللہ نے پھینکیں اور پھر فرمایا کہ اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ ؕ يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ (الفتح : ۱۱) کہ یہ لوگ جو تیری بیعت کر رہے ہیں ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ کا ہاتھ ہے۔ (وہ ہاتھ جو ان کے ہاتھوں پر تھا یعنی محمّد رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ تھا) ظاہر ہے کہ ان دونوں مواقع پر خدا تعالیٰ ہرگز یہ بیان نہیں فرماتا کہ نعوذ باللہ ، رسول اللہ ﷺ ، اللہ تعالیٰ کے ہم مرتبہ ہیں ، نہ ہی یہ دعویٰ فرمایا ہے کہ دو خدا ہیں۔ ایک وہ جو مکّہ میں ظاہر ہوا اور ایک وہ اللہ جو زمین وآسمان میں ہر جگہ ہے۔
اگر کوئی شخص ان آیات کا یہ مطلب نکالے تو یقیناًمفسد اور شیطان ہو گا ۔اور اِسی طرح جوکلام اللہ کو اس کے محل سے الگ کر کے نہایت خبیثانہ معنے اس کی طرف منسوب کرے۔ تواُس کا یہ فعل انتہائی مفسدانہ اور شیطانی فعل کہلائے گا۔ پس اگر آریوں ، عیسائیوں ، بہائیوں میں سے کوئی قرآن کریم پر اس قسم کا بے باکانہ حملہ کرے تو یقیناًاس کی جسارت نہایت مکروہ اور مردود ہو گی۔
جماعت احمدیہ بغیر کسی شک کے قطعی طور پر اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی تحریروں میں جہاں جہاں بھی لفظ محمّدؐ ظلّی وبروزی طور پر استعمال کیا گیا ہے بعینہ ان معنوں میں ہے ، جن معنوں میں آیاتِ مذکورہ میں اللہ کے لفظ کا حضرت محمّد رسول اللہ ﷺ پر اطلاق ہوا ہے۔ جس کے معنی تمام شرفاء اور متقیوں کے نزدیک یہ بنتے ہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کامل طور پر اپنے رب میں فناہو گئے اور اپنی کوئی مرضی نہ رہی۔ آپ ؐ کا اٹھنا بیٹھنا ۔ آپ کی حرکت وسکون کچھ بھی اپنا نہ رہا ۔ یہ تعلق ایسا کامل ہو گیا تھا کہ آپ نے اپنا سب کچھ خدا میں مٹا دیا۔ آپ کا ہر عمل اور ہر ارادہ اس طرح خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہو گیا کہ دیکھنے والے کو آپ کے ہر ارادہ میں خدا کا ارادہ دکھائی دینے لگا اور ہر عمل میں خدا ئی عمل ۔ اسی کامل غلامی کی ایک نہایت ہی حسین تصویر ان آیات میں کھینچی گئی ہے۔ اسی وجہ سے قرآن کریم نے آپ کو عبداللہ کا لقب عطا فرمایا یعنی اللہ کا کامل غلام۔ پس جب آقا کا لقب غلام کو عطا ہوتا ہے ۔ تو نہ ہم مرتبہ بنانے کے لئے، نہ دو الگ وجود بنانے کے لئے۔ بلکہ ان معنوں میں کہ غلام نے کلّیۃً اپنے آپ کو اپنے آقا میں مٹا دیا۔ پس عجز بتانے کے لئے ایسا کیا جاتا ہے ،کِبر بتانے کے لئے نہیں۔
اس مضمون کو ہم اچھی طرح سمجھانے کے بعد اب بڑی تحدّی کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ راشد علی ، عبدالحفیظ اور ان کے ہم فکر معترضین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں سے ویسی ہی زیادتی کر رہے ہیں جس طرح دشمنانِ اسلام قرآن کریم کی مذکورہ آیات سے کرتے ہیں۔ حضرت مرزا صاحب نے رسول اللہؐ سے اپنی جو نسبت بیان فرمائی ہے وہ ایک دو جگہ تو نہیں ، نظم اور نثر کے سینکڑوں صفحات پر پھیلی ہوئی اتنی واضح اور قطعی ہے اور یہ ایک ایسا کھلا کھلا کلام ہے کہ ایک ادنیٰ سی سمجھ رکھنے والا انسان بھی یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ آپ ؑ نے اپنے آپ ؑ کو محمّد رسول اللہ ﷺ کے ہم مرتبہ وجود کے طور پر پیش کیا ہے۔ یا آپ ؐ سے بھی بڑا ہونے کا کوئی نظریہ پیش کیا ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ایسی تحریرات میں جو نظریہ پیش کیا ، یا مسیح موعود ومہدی معہود کے جس مقام کے اظہار کے لئے جن اصطلاحات کا استعمال فرمایا ، وہ امّتِ مسلمہ کے مسلّمہ عقائد میں سے ہیں اور آئمہ سلف نے بھی آنے والے مسیح ومہدی کے لئے بعینہ انہیں اصطلاحات کا استعمال کر کے اس مسئلہ کو واضح کیا ہے ۔ اس لئے ایسی تحریرات پر اعتراض اٹھ ہی نہیں سکتا بلکہ اعتراض کرنے والا یقیناًجھوٹا ٹھہرتا ہے ۔ اس سلسلہ میں کچھ بحث، عنوان ’’ تمام نبیوں کا مظہر ہونے پر اعتراض‘‘ کے تحت بھی کی گئی ہے ۔ اب یہاں بھی دیکھیں،کیا فرماتے ہیں
۱:۔ حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ چاچڑاں شریف والے جن کے مرید سرائیکی علاقہ میں کثرت سے موجود ہیں۔ آپ فرماتے ہیں۔
’’ بروز یہ ہے کہ ایک روح دوسرے اکمل روح سے فیضان حاصل کرتی ہے۔ جب اس پر تجلیات کا فیضان ہوتا ہے ۔ تو وہ اس کا مظہر بن جاتی ہے اور کہتی ہے کہ میں وہ ہوں۔ ‘‘ (مقابیس المجالس المعروف بہ اشارات فریدی ۔مولفہ رکن الدین حصہ دوم صفحہ ۱۱۱ مطبوعہ مفید عام پریس آگرہ ۱۳۲۱ھ)
۲:۔ دیوبندیوں کے پیرو مرشد ، مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے بانی حضرت مولانا محمّدقاسم نانوتوی ؒ فرماتے ہیں ۔
’’ انبیاء میں جو کچھ ہے وہ ظل اور عکس ِ محمّدی ہے۔ ‘‘ (تحذیر النّاس ۔از مولانا قاسم نانوتوی ۔صفحہ ۵۳مطبوعہ مکتبہ قاسم العلوم کورنگی کراچی)
اس عبارت میں حضرت مولانا موصوف نے تمام انبیاء کو آنحضرت ﷺ کا ظل اور بروز قرار دیاہے ۔
۳:۔ شاہ محمّد مبارک علی صاحب نے ’’خزائن اسرار الکلم مقدمہ فی شرح فصوص الحکم‘‘ میں یہ عنوان باندھا ہے ۔ ’’ اٹھارواں مراقبہ مسئلہ بروز اور تمثّل کے بیان میں ‘‘ جس میں یہ لکھا ہے ۔ بروز کو تناسخ نہیں سمجھنا چاہئے۔ یہ نہیں ہوتا کہ پرانی روح ایک نئے وجود میں آجائے اسے تناسخ کہا جاتا ہے ۔انہوں نے بات کھول دی ہے کہ بروز تناسخ نہیں۔ مثال پیش کرتے ہوئے ہم ان کی یہ عبارت من وعن نقل کرتے ہیں۔ دیکھئے اس بزرگ کی سوچ کتنی عمدہ اور صاف تھی ۔ کہتے ہیں کہ بروز کی مراد ایسی ہے جیسے ایلیا کے دوبارہ آنے کا عقیدہ یہودیوں میں رائج تھا۔ جب یحیٰ ؑ آگئے تو صفات کے لحاظ سے ایلیا کہلائے۔ ایسا ہی عیسیٰ ؑ کا نزول ہو گا ۔ گویا ان کے نزدیک نہ وہی عیسیٰ بدنِ آخر میں حلول کریں گے۔ بلکہ بصورتِ صفات جلوہ گر ہوں گے اور ان کے نزدیک صفات کی جلوہ گری یہ نہیں کہ تمام صفات میں ہو بلکہ چند صفات کی جلوہ گری بروز بنانے میں کافی ہے ۔ حتیّٰ کہ بعض اوقات ایک صفت کی وجہ سے بروز ہو جاتا ہے ۔ فرمایا
’’ اور ایسا ہی حکم بروز ادریس علیہ السلام کا بنا مزد الیاس علیہ السلام کے ۔ اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اور یہ کبھی بہ سبب غلبہ کسی ایک صفت کے ہوتا ہے ۔ اور کبھی بغلبہ جمیع صفاتِ کمالیہ کے ۔ اس صورت میں کمال اتحاد مظہر کا، بارز کے ساتھ ہوگا اور یہ قسم اعلیٰ مرتبہ بروز کا ہے ۔‘‘ (خزائن اسرار الکلم مقدمہ فی شرح فصوص الحکم۔ صفحہ ۴۷مصنفہ شاہ محمد مبارک علی صاحب حیدر آبادی)
۴:۔ امام ربّانی حضرت مجدّد الف ثانی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
’’ کمّل تابعان انبیاء علیھم الصلوۃ واتسلیمات بجہت کمال متابعت وفرط محبت بلکہ بمحض عنایت وموہبت جمیع کمالات انبیاء متبوعہ خود را جذب می نمایند وبکلّیت برنگ ایشاں منصبغ می گردند حتی کہ فرق نمی ماند درمیان متبوعان وتابعان الاّ بالاصالت والتبیعۃ والاوّلیّۃ والاٰ خریّۃ ‘‘
ترجمہ:۔ انبیاء علیھم السلام کے کامل متبع بہ سبب کمال متابعت محبتانہیں میں جذب ہو جاتے ہیں اور ان کے رنگ میں ایسے رنگین ہوتے ہیں کہ تابع اور متبوع یعنی نبی اور امتی میں کوئی فرق نہیں رہتا سوائے اوّل وآخر اور سوائے اصل اور تابع ہونے کے۔ ‘‘ (مکتوبات امام ربّانی مکتوب نمبر ۲۴۸حصہ چہارم دفتر اول صفحہ ۴۹مطبوعہ مجدّدی پریس امرتسر)
یہ من وعن حضرت مجدّد الف ثانی ؒ کی تحریر ہے ۔ اگر کوئی مفتریانہ ذہنیت سے یہ تحریر پڑھے تو بھڑک اٹھے اور اوّل وآخر کے بارہ میں یہ کہے کہ محض زمانی ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں ۔ مجدّد الف ثانی ؒ کی اس تحریر میں اوّل ،اوّل ہی ہے۔ خواہ کوئی کتنی ہی مشابہت رکھے مگرمشابہت والا بعینہ اوّل کا ہم مرتبہ نہیں ہو سکتا ہم صفات تو بن سکتا ہے ہم مرتبہ نہیں۔ بہر حال راشد علی اور عبدالحفیظ کیونکہ ایسی ذہنیت رکھتے ہیں کہ اس قسم کی تحریرات پر آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ان پر لازم ہے کہ حضرت مرزا صاحب پر زبان دراز کرنے کی بجائے حضرت مجدد الف ثانی ؒ پر زبان دراز کر کے دیکھیں۔ حضرت مجدد الف ثانی ؒ کی محبّت تو ایسے دلوں پر بھی جاگزیں ہے جو صبر وضبط نہیں جانتے۔ اس لئے ہمیں یہ یقین ہے کہ راشد علی وغیرہ حضرت مجدّد الف ثانی ؒ پر ہرگز ایسی بے باکی نہیں کریں گے اور اس مصلحت آمیز خاموشی کی وجہ سے اپنا جھوٹا اور دوغلہ ہونا ثابت کر دیں گے۔
پس اگر ان پیر ومرید کو اسلامی لٹریچر میں کہیں بروز کی اصطلاح دکھائی نہیں دی تو ان کی نظر کا قصور ہے اسلامی لٹریچر کا قصور نہیں۔ لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ اسلامی لٹریچر میں تو’ بروز‘ سے آگے بڑھ کر’ عین‘ کی اصطلاح بھی موجود ہے۔ اور ایسے بزرگ موجود ہیں جن کے متعلق ان سے عقیدت رکھنے والوں نے عین محمّد ؐ کے لفظ لکھے ہیں۔ ان پر یہ لوگ کیوں اپنی قلم کا زہر نہیں اگلتے۔ دیکھئے حضرت بایزید ؒ کے متعلق لکھا ہے کہ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ چونکہ قطب زمانہ تھے ۔ اس لئے آپ عین رسول علیہ السلام تھے۔ چنانچہ بحر العلوم مولوی عبدالعلی ،مثنوی مولانا روم کے شعر
کاندریں در شہر یارے میر سد
کی شرح میں فرماتے ہیں :۔
’’ ابو یزید قدّس سرّہ قطب الاقطاب بود وقطب نمی باشد مگر بر قلب آں سرور صلعم پس بایزید قلبِ آں سرور صلعم وعین آں سرور ﷺ بود ۔ ‘‘(شرح مثنوی ۔ دفتر چہارم صفحہ ۵۱)
ترجمہ:۔ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ چونکہ قطب زمانہ تھے اس لئے آپ عین رسول علیہ السلام تھے۔ کیونکہ قطب وہی ہوتا ہے جو محمد مصطفی ﷺ کے دل پر رہتا ہو۔ اور جو بھی کسی کے دل پر ہو وہ اس کا عین ہوتا ہے ۔ اور حضرت بایزید بسطامی عین رسول اللہ ﷺ تھے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں :۔
’’ کاتب الحروف نے حضرت والد ماجد کی روح کو آنحضرت ﷺ کی روح مبارک کے سائے (ضمن) میں لینے کی کیفیت کے بارے میں دریافت کیا تو فرمانے لگے یوں محسوس ہوتا تھا ۔ گویا میرا وجود آنحضرت ﷺ کے وجود سے مل کر ایک ہو گیا ہے ۔ خارج میں میرے وجود کی کوئی الگ حیثیت نہیں تھی۔ (انفاس العارفین ۔اردو ۔صفحہ ۱۰۳ ۔از حضرت شاہ ولی اللہ ترجمہ سید محمد فاروق القادری ایم اے ناشر المعارف گنج بخش روڈ لاہور)
ضمناً ہم ان پیر ومرید کو بتاتے چلیں کہ سائے کو ہی عربی زبان میں’ ظلّ ‘ کہتے ہیں۔
پھر فرماتے ہیں کہ میرے چچا حضرت شیخ ابو الرضا محمّد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ۔
’’ حضرت پیغمبر ﷺ کو میں نے خواب میں دیکھا جیسے مجھے اپنی ذات مبارک کے ساتھ اس انداز سے قرب واتصال بخشا کہ جیسے ہم متحد الوجود ہو گئے ہیں اور اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا عین پایا۔ ‘‘ (انفارس العارفین ۔صفحہ ۱۹۶ حصہ دوم در حالات شیخ ابو الرضا محمّد)
اب اس کے بعد ہم حضرت مرزا صاحب کی وہ تحریرات پیش کرتے ہیں ۔ جن سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ حضرت مرزا صاحب حضرت محمّد رسول اللہ ﷺ کے مقابل پر اپنا کیا مقام ومرتبہ سمجھتے تھے ۔ ان تحریروں پر غور فرما لیجئے ۔ اگر پھر بھی راشد علی وغیرہ بہتان طرازی سے باز نہ آئے تو خدا کے سامنے جواب دہ ہوں گے ۔ اور یاد رکھیں کہ موت کے بعد توبہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔
’’ خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت نے اس زمانہ میں ان دونوں لقبوں کا مجھے وارث بنا دیا۔ اور یہ دونوں لقب میرے وجود میں اکٹھے کر دئیے۔ سو میں ان معنوں کے رو سے عیسیٰ مسیح بھی ہوں اور محمد ؐ مہدی بھی ۔ اور یہ وہ طریق ِ ظہور ہے جس کو اسلامی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں۔ سو مجھے دو بروز عطا ہوئے ہیں۔ بروزِ عیسیٰ ؑ اور بروزِ محمّدؐ ۔ ‘‘(ضمیمہ رسالہ جہاد۔ صفحہ ۶ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۷ صفحہ ۲۸)
آپ اپنے ایک شعر میں اسی مضمون کو یوں بیان فرماتے ہیں ۔
از پئے صورت مہِ مدَنی
(نزول المسیح ۔روحانی خزائن جلد ۱۸صفحہ۴۷۸)
کہ میں مدینہ کے چاند حضرت محمد عربی ﷺ کی تصویر دکھانے کے لئے خدا کی طرف سے آئینہ بن کر آیا ہوں۔نیز فرماتے ہیں :۔
شدم رنگین بہ رنگ یار حسیں
(نزول المسیح روحانی خزائن جلد نمبر ۱۸صفحہ ۴۷۷)
کہ میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کا وارث بن کر آیا ہوں (آپ کا امّتی اور روحانی بیٹا ہونے کے سبب) اور میں اپنے اس حسین محبوب کے رنگ میں رنگین ہو کر آیا ہوں۔
نیز فرماتے ہیں :۔
’’ آنحضرت ﷺ کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیا جو خلق اور خوُ اور ہمّت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمّد اس کو عطا کیا تا یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہ آنحضرتﷺ کا ظہور تھا۔ ‘‘ (تحفہ گولڑویہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۷صفحہ ۲۶۳)
جیسا کہ پانی یا آئینہ میں ایک شکل کا جو عکس پڑتا ہے اس عکس کو مجازاً کہہ سکتے ہیں کہ یہ فلاں شخص ہے۔ ایسے شخص کو مثیل ، عکس ، ہم صفت ہونے کے سبب بروزی طور پر اصل کا نام دینے کا محاورہ امّت میں ابتداء سے آج تک مستعمل ہے۔ چنانچہ اسی محاورہ کو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنے بارے میں استعمال فرمایا ہے۔
راشد علی اور اس کے پیر کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان تحریروں سے سخت تکلیف ہے جن میں آپ نے خود کو آنحضرت ﷺ کا ظلّ اور بروز اور پھر اپنی بعثت کو آنحضرت ﷺ کی دوسری بعثت قرار دیا ۔ اس لئے ان کی تکلیف کو دور کرنے کے لئے ان کی توجّہ ہم ایک بار پھر آئمہ سلف اور بزرگانِ امّت کے ان اقوال کی طرف مبذول کراتے ہیں جو ہم اسی باب میں ’’ نبی اللہ محمّد اور احمد ‘‘ کے عنوان کے تحت درج کر آئے ہیں ۔ تاکہ یہ مسئلہ ایک بار اچھی طرح ان کی سمجھ میں داخل ہو جائے۔
قارئین کرام ! ایسی تحریریں امّتِ مسلمہ کے لٹریچر میں کثرت سے موجود ہیں جن میں آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانیہ کا ذکر ہے۔ اور آنے والے موعود کو اپنے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ظل اور بروز قرار دیا گیا ہے۔
معزّز قارئین ! راشد علی وغیرہ کو چونکہ امّتِ محمّدیہ میں ایسی شان کے آدمی پیدا ہونے پر شدید اعتراض ہے۔ اس لئے ہم اب دیوبندیوں کے بزرگ قاری محمّد طیّب صاحب مہتمم دار العلوم دیوبندکے الفاظ یاد دلاتے ہیں کہ ان سب کا یہ عقیدہ ہے کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائے تو نہ صرف حضرت محمد ﷺ کے عین اور بروز ہوں گے بلکہ مناسبتِ کاملہ کی وجہ سے شانِ خاتمیت بھی رکھتے ہوں گے۔چنانچہ آپ امّت میں آنے والے مسیح کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
’’ بہر حال اگر خاتمیت میں حضرت مسیح علیہ السلام کو حضور ؐ سے کامل مناسبت دی گئی تھی تو اخلاق خاتمیت اور مقام خاتمیت میں بھی مخصوص مشابہت ومناسبت دی گئی جس سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت عیسوی کو بارگاہ محمدی سے خلقاً وخلقاً رتباً ومقاماً ایسی ہی مناسبت ہے جیسی کہ ایک چیز کے دو شریکوں میں یا باپ بیٹوں میں ہونی چاہئے۔ ‘‘(تعلیمات اسلام اور مسیحی اقوام ۔صفحہ ۱۲۹ از قاری محمد طیّب مہتمم دارالعلوم دیوبند پاکستان ایڈیشن اول مطبوعہ مئی ۱۹۸۶ ء)
پس اب تو راشد علی وغیرہ کے سارے رنگ دُھل جانے چاہئیں اور طبیعت صاف ہو جانی چاہئے کیونکہ جس ذات کو اپنے آقا ومولیٰ رسول اللہ ﷺ سے خلقاً ، خلقاً ، رتباً اورمقاماً مناسبت ہو اس پر ان کا اعتراض جھوٹا ہی نہیں منافی اسلام بھی ہے۔
حضرت مسیح موعود ومہدی معہود علیہ السلام کو خلقاً، خلقاً ، رتباً اورمقاماً جو کچھ بھی میسر آیا وہ آپ کے سیّد ومولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ہی فیض تھا جس کے بارہ میں آپ فرماتے ہیں۔
’’ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرارِ افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں بلکہ ذرّیتِ شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے ۔ جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محرومِ ازلی ہے ۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے؟ ہم کافر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحیدِ حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی ؐ کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔ ‘‘(حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد نمبر۲۲ صفحہ ۱۱۹)
اسی طرح آپ اپنی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’ آخری وصیّت یہی ہے کہ ہر ایک روشنی ہم نے رسول نبی امی کی پیروی سے پائی ہے اور جو شخص پیروی کرے گا وہ بھی پائے گا۔ ‘‘(سراج منیر ۔ روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۸۲)
نیز آپ فرماتے ہیں
’’ یہ تمام شرف مجھے صرف ایک نبی کی پیروی سے ملا ہے جس کے مدارج اور مراتب سے دنیا بے خبر ہے یعنی سیّدنا حضرت محمد مصطفی ﷺ ۔ ‘‘ (چشمہ مسیحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰صفحہ ۳۵۴ )
پھر آپ فرماتے ہیں :۔
’’ میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصّہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔ اور میرے لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا اگر میں اپنے سیّد ومولیٰ فخر الانبیاء اور خیر الوریٰ حضرت محمّد مصطفی ﷺ کے راہوں کی پیروی نہ کرتا۔ سو میں نے جو کچھ پایا اس پیروی سے پایا اور میں اپنے سچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس نبی ﷺ کے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کاملہ کا حصہ پا سکتا ہے۔ ‘‘ (حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۴ ، ۶۵)
قارئین کرام ! آپ خود ہی اندازہ فرمائیں کہ راشد علی وغیرہ تو سالہا سال سے جماعت احمدیہ کے خلاف جھوٹ اگل رہے ہیں اور بزعمِ خویش حضرت بانی جماعت احمدیہ ؑ کی تحریرات سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں اور جن کتب کے اقتباسات ہم نے درج کئے ہیں وہ کتب انہوں نے پڑھی ہوئی ہیں اور ان میں سے بعض فقرات کو اچک کر اپنے مضامین میں اعتراضات کے لئے درج کرتے رہتے ہیں ۔ وہ حقیقت حال سے پوری طرح واقف ہونے کے باوجود محض لوگوں کو احمدیت سے متنفّر کرنے اور انہیں دھوکہ دینے کے لئے کس طرح کھلم کھلا جھوٹ بول رہے ہیں۔