In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » اعتراضات، وساوس کا جواب » حضرت مسیح موعود ؑ پر اعتراضات » حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور انگریز »

جھوٹ کی بنیاد ۔ ایک خود ساختہ اور جعلی رپورٹ

راشد علی لکھتا ہے ۔ ’’مسلمان ہندوستان پر ہزار سال سے حکمرانی کر رہے تھے انگریز تاجر بن کر آئے اور بالآخر ہندوستان کے مالک بن بیٹھے۔ جگہ جگہ ان کو مسلمانوں کی طرف سے جہاد کی صورت میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاد کی اس روح کا خاتمہ کرنے کے لئے جو کمیشن انگلستان بھیجا گیا اس نے ۱۸۷۰ء میں اپنی رپورٹ "THE ARRIVAL OF BRITISH EMPIRE IN INDIA" میں برطانوی سرکار کو مشورہ دیا گیا کہ۔

’’ہندوستان کے مسلمانوں کی ذہنیت ایسی ہے کہ جب کسی کو اپنا مذہبی رہنما تسلیم کر لیتے ہیں تو پھر آنکھ بند کر کے اس کی ہر بات کو مان لیتے ہیں ۔ اگر کوئی ایسا شخص تیار کیا جائے جو امتی نبی ہونے کا دعویٰ کر دے تو ہمارا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ ‘‘

مرزا غلام احمد قادیانی کی بھرتی :۔

چنانچہ تلاش وجستجو کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر اس کام کے لئے چنا گیا :۔

۱۔ وہ انگریزوں کے قدیمی خاندانی پکے نمک خوار اور سچے وفادار تھے۔

۲۔ ایک ایسے رئیس خاندان کے چشم وچراغ تھے جس کی ساری ریاست تو چھن چکی تھی مگر جس میں پیسے اور جاہ ومنصب کی طلب اور نام ونمود کی خواہش بڑی شدت سے تھی۔ (گویا رسی تو جل چکی تھی پر بل نہیں گیا تھا)(بے لگام کتاب)

مذکورہ بالا رپورٹ کا ذکر اس نے اپنے انگلش پمفلٹ "MUSLIM PLEASE WAKE UP" میں بھی یوں کیا ہے

"To tackle this spirit of Jehad, A commission of inquiry of MPs, journalists and church officials came from london in 1868. After spending two years,They went back and submitted their report

THE ARRIVAL OF BRITISH EMPIRE IN INDIA` to the british parliament. In this report they recommended that

"We should create an apostolic prophet. who would abrogate the concept of Jehad among the Muslims."

راشد علی کے اس جھوٹ پر ہمارا بنیادی جواب تو یہی ہے کہ

لعنۃ اللّٰہ علٰی الکاذبین

جہاں تک اس رپورٹ کا تعلق ہے تو اس نام کی یا اس نوع کی کوئی رپورٹ برطانیہ وامریکہ تو کیا دنیا کی کسی لائبریری میں موجود نہیں۔ نہ ہی برٹش پارلیمنٹ کے ریکارڈ میں ہے اور نہ ہی یہاں کے چرچ کے ریکارڈ میں ۔ یہ رپورٹ تو تب کسی ریکارڈ میں محفوظ ہوتی اگر اس کا حقیقۃً کوئی وجود بھی ہوتا۔ شیطان کی گود میں بیٹھ کر ایک جھوٹ گھڑ لینا اور پھر اسے خدا کے پاک مامور کی تکذیب میں اچھال دینا شیطانِ مَرید کے کسی مُرید کا ہی افتراء ہو سکتا ہے۔

جب راشد علی کو ایک انگریز متلاشی حق Mr Cox نےبتایا کہ برطانیہ تو کیا دنیا کی کسی لائبریری یا دنیا کے کسی ریکارڈ میں ایسی کسی رپورٹ کا ذکر تک نہیں اور نہ ہی کوئی ایسا وفد اس غرض کے لئے برصغیر پاک وہند گیا تھا ۔ تو راشد علی نے جواب دیا کہ

’’ مشہور مؤرّخ آغا شورش کاشمیری نے اس دستاویز کی موجودگی کا ذکر اپنی کتاب’ The story of Khatm e Nabuwat‘میں کیا ہے۔ انہوں نے اس کے مصدر کا ذکر نہیں کیا لیکن مجھے ان کی اس بات پر شک کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔‘‘

جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ بے بنیاد اور بے حوالہ مؤرّخ کی بے حوالہ بات کو راشد علی نے اپنی بنیاد بنا کر اپنے کذّاب ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔

اس رپورٹ کے جھوٹا اور جعلی ہونے کا اندرونی ثبوت یہ بھی ہے کے راشد علی اور اس کے پیر نے اپنی ’’بے لگام کتاب‘‘ میں یہ۱۸۷۰ء کی رپورٹ بتائی ہے جبکہ فولڈر " Beware..." میں اس کا سال ۱۸۶۸ء بتایا ہے ۔ اس قطعی جھوٹ کی قلعی تو صرف اسی ایک ثبوت سے ہی کھل جاتی ہے۔ لیکن جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ اس جعلی اور جھوٹی رپورٹ کا سطحِ ارض پر وجود ہی کوئی نہیں۔ تو آئیے اب اس رپورٹ کا کچھ اندرونی تجزیہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

۱ :۔ اس نام نہاد رپورٹ کا عنوان ہی اسے جھوٹا اور جعلی ثابت کرتا ہے کیونکہ اس کاعنوان ان جھوٹوں نے خودیہ رکھا ہے۔

"The arrival of British Empire in India"

یہ اختراع کرنے والوں کو یہ بھی علم نہیں کہ برٹش ایمپائر تو حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام سے بیسیوں سال پہلے برصغیر میں پوری طرح قائم ہو چکی تھی۔ وہ ۱۸۶۸ء میں برٹش MPs ،جرنلسٹس اور چرچ کے نمائندوں کے وہاں جانے اور اپنی تجزیاتی رپورٹ پیش کرنے کی وجہ سے وہاں قائم نہیں ہوئی تھی۔

۲:۔ اس جعلی رپورٹ کی عبارت کا تجزیہ کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ انگریز کی بنائی ہوئی رپورٹ ہی نہیں ہے بلکہ کسی دیسی جھوٹے کی اختراع ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس میں جو Apostolic Prophet کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اس کاانگریزی میں وجود ہی کوئی نہیں۔ عربی یا اردو اصطلاح کا ترجمہ کرنے کی یہ ایک ایسی کوشش ہے جو خود اس کے جعلی ہونے کا راز افشاء کر رہی ہے ۔

۳:۔ راشد علی نے اس رپورٹ کے حوالہ کے طور پر آغا شورش کاشمیری صاحب کی کتاب کا نام لکھا ہے ۔ شورش صاحب نے یہ رپورٹ کہاں سے پکڑی ؟ اس کا راشد علی کو علم نہیں ۔ چونکہ جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچانا ضروری ہے اس لئے ہم اسے بتاتے ہیں کہ اس رپورٹ نے جنم کہاں لیا ۔

اصل واقعہ یہ ہے کہ اس جعلی رپورٹ کی اختراع ۱۹۶۷ء میں جمعیّۃ العلماء اسلام سرگودہا نے کی اور خالد پریس سرگودہا سے اسے طبع کرایا گیا ۔ یہ کوئی ۱۸۶۸ء یا ۱۸۷۰ء کی بات نہیں بلکہ پورے سو سال بعد ۱۹۶۷ء کی بات ہے جب یہ رپورٹ سرگودہا میں جمعیّۃ العلماء اسلام نے گھڑی اور شائع کی ۔ اس جھوٹی اور جعلی رپورٹ کو پھر ۱۹۷۳ء میں شورش کاشمیری صاحب نے اپنی کتاب ’’ عجمی اسرائیل ‘‘ میں درج کیا۔ یہ معیار اور یہ حال ہے راشد علی کے مشہور مؤرّخ کا جس نے ایک جھوٹ اور جعلسازی کو جانتے بوجھتے ہوئے تشہیر دی اور یہ شیطنت ہے راشد علی کی کہ اس جھوٹ کو لے کر آج وہ خدا تعالیٰ کے ایک مامور کی تکذیب کرنے لگا ہے !!!

۴:۔ حضرت مسیحِ موعود ومہدی معہود ؑ کی دعوتِ اسلام اور مذاہبِ عالم کو للکارایک آسمانی قرنا اور صورِ اسرافیل تھی جس نے ایک طرف مسلمانوں کے مردہ جسم میں زندگی کی ایک زبردست روح پھونک دی تھی تو دوسری جانب صلیبی افوا ج تابِ مقابلہ نہ لا کر بدحواس ہوچکی تھیں ۔ ان کے قدم اکھڑ گئے اور ترقی کی رفتار یکایک رک گئی ، اسلام کو مٹا دینے کے سارے منصوبے خاک میں مل گئے اور اسلام کی ابھرتی ہوئی نئی قوّت وطاقت نے ان کو بہت جلد احساس دلا دیا کہ صلیبی مذہب خطرے میں ہے ۔ چنانچہ ۱۸۹۴ء میں پادریوں کی ایک عالمی کانفرنس لندن میں منعقد ہوئی جس میں لارڈ بشپ آف گلوسیسٹر دی رائٹ ریورنڈ چارلس جان ایلی کوٹ (LORD BISHOP OF CLOUCESTER, THE RIGHT REVEREND CHARLES JOHN ELLICOT) نے نہایت درجہ تشویش واضطراب کا اظہار کرتے ہوئے پوری مسیح دنیا کو مطلع کیا کہ :۔

"I learn from those who are exprienced in these things that there is now a new kind of Mohammadanism showing itself in many parts of our empire in India, and even in our own island here at home, Mohammadanism now speaks with reverence of our blessed Lord and Master, but is not the less more intensely monotheistic than ever. It discards many of these usages which have made Mohammadanism hateful in our eyes, but the False prophet holds his place no less pre-eminently than before. Changes are plainly to be recognised; but Mohammadanism is not the less aggressive, and alas! to some minds among us God grant that they be not many) even additionally attractive. ( The Official report of the Missionary Conference of the Anglican communion.1894, page 64)

ترجمہ : اسلام میں ایک نئی حرکت کے آثار نمایاں ہیں ۔ مجھے ان لوگوں نے جو صاحبِ تجربہ ہیں بتایا ہے کہ ہندوستان کی برطانوی مملکت میں ایک نئی طرز کا اسلام ہمارے سامنے آرہا ہے ۔۔۔ اس نئے اسلام کی وجہ سے محمّد ؐ کو پھر وہی پہلی سی عظمت حاصل ہوتی جا رہی ہے یہ نئے تغیرات بآسانی شناخت کئے جا سکتے ہیں۔ پھر یہ نیا اسلام اپنی نوعیت میں مدافعانہ ہی نہیں بلکہ جارحانہ حیثیت کا حامل بھی ہے ۔ افسوس ہے تو اس بات کا کہ ہم میں سے بعض کے ذہن اس کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

راشد علی سے کوئی پوچھے کہ کیا ان برطانوی پادریوں نے حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کو اس لئے نبی بنانے کا پروگرام بنایا تھا کہ آپؑ ان کی حکومت کے مذہب کی ایسی بیخ کنی کریں کہ اسے ہمیشہ کے لئے مردہ ثابت کردیں؟ بہر حال لارڈ بشپ آف گلوسسٹر کا مذکورہ بالا بیان راشد علی کے جھوٹ کو کلیّۃً بے نقاب ،اور اس نام نہاد اور جعلی رپورٹ کو بھی خوب ننگا کرتا ہے۔

۵:۔ راشد علی کی اس رپورٹ کوبرصغیر پاک وہند کے ایک نامور عالم جناب مولانا نور محمد صاحب نقشبندی چشتی مالک اصح المطابع دہلی کی یہ گواہی بھی قطعی جھوٹا اور جعلی ثابت کرتی ہے ۔جس میں انہوں نے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے ذریعہ ، عیسائیت کے مقابل پر اسلام کی اس نمایاں فتح کا ذکر نہایت ولولہ انگیز اور پر جوش الفاظ میں فرمایا ہے ۔ آپ نے فرمایا :۔

’’ ۔۔۔۔۔۔ اسی زمانہ میں پادری لیفرائے پادریوں کی ایک بہت بڑی جماعت لے کر اور حلف اٹھا کر ولایت سے چلا کہ تھوڑے عرصہ میں تمام ہندوستان کو عیسائی بنالوں گا ۔ ولایت کے انگریزوں سے روپیہ کی بہت بڑی مدد اور آئندہ کی مددکے مسلسل وعدوں کا اقرار لیکر ہندوستان میں داخل ہو کر بڑا تلاطم برپا کیا ۔۔۔۔۔۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان پر بجسم خاکی زندہ موجود ہونے اور دوسرے انبیاء ؑ کے زمین میں مدفون ہونے کا حملہ عوام کے لئے اس کے خیال میں کارگر ہوا تب مولوی غلام احمد قادیانی کھڑے ہو گئے اور اس کی جماعت سے کہا کہ عیسیٰ جس کا تم نام لیتے ہو دوسرے انسانوں کی طرح سے فوت ہو کر دفن ہو چکے ہیں اور جس عیسیٰ کے آنے کی خبر ہے وہ میں ہوں پس اگر تم سعادت مند ہو تو مجھ کو قبول کر لو ۔ اس ترکیب سے اس نے لیفرائے کو اس قدر تنگ کیا کہ اس کو پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا اور اس ترکیب سے اس نے ہندوستان سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست دے دی۔ ‘‘(دیباچہ قرآن صفحہ ۳۰ از حافظ نور محمد نقشبندی چشتی ۔ اصح المطابع دہلی)

۶:۔ باقی جہاں تک جہاد کے نام پر بغاوت اور جنگ وجدل کی روک تھام کا تعلق ہے تو تاریخی حقائق راشد علی کو جھوٹا اور کذّاب ثابت کرتے ہیں۔

راشد علی۱۸۶۸ء میں برصغیر میں برطانوی کمشن کی آمد کی بات کرتا ہے حالانکہ ۱۸۶۸ء سے بہت پہلے ہی انگریزی حکومت ملک کے طول وعرض میں ایک مثالی امن وامان قائم کر چکی تھی اور پورا عالم اسلام برٹش انڈیا کے دارالاسلام ہونے اور انگریزی حکمرانوں کی شرعی اطاعت پر متحد ہو چکا تھا۔ وہ ان کے خلاف جہاد کو حرام قرار دے کر شرعی فتوے جاری کر چکا تھا۔ لہذا سوچنے کی بات یہ ہے کہ برطانوی حکومت کو استحکام بخشنے کا جو دینی فریضہ خلیفۃ المسلمین ترکی ، مرکزِ اسلام مکّہ معظّمہ کے مفتیانِ عظام ، امیرِ افغانستان ، برٹش ہند کے چوٹی کے دیوبندی ، اہلِ حدیث اور حنفی علماء و آئمّہ کرام ،نیز بہاولپور ، بھوپال ، رام پور اور حیدر آباد دکن کے وفادار حکمران اور پنجاب کے بہت سے نامور اور ممتاز مسلمان خاندان کمال خوبی سے انجام دے چکے تھے۔ اس کے لئے برسوں بعد کسی شخص کو نبی بنا کر کھڑا کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟؟

مذکورہ بالا تاریخی حقائق دنیا کی لائبریریوں میں کثرت کے ساتھ موجود ومحفوظ ہیں اور یہ ایسا تاریخی ریکارڈ ہے جسے کوئی شیطان ختم نہیں کرسکتا۔ اور یہ ریکارڈ ہمیشہ شیطان کی ذریّت کو جھوٹا ثابت کرتا رہے گا۔ انشاء اللہ

حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام سے پہلے ہی نہیں ،آپ ؑ کے ہم عصر اور آپ ؑ کے بعد بھی امت کے بڑے بڑے سیاسی ومذہبی لیڈر برطانوی حکومت کے استحکام کے لئے پوری قوم کو ساتھ لے کر ،مصروف عمل رہے ۔ سر سید احمد خان ، مولوی محمد حسین بٹالوی ، مولانا نذیر احمد دہلوی ، مولوی ظفر علی خان ، مولوی ابو الاعلی مودودی اور علاّمہ اقبال وغیرہم قابل ذکر ہیں۔ جو برطانوی حکومت کو ماں سے بڑھ کر شفیق ، اسلامی سلطنتوں سے بڑھ کر فخر کا محل ، اور ایک غنیمت قرار دیتے تھے وہ اس کے باغی کو مسلمان نہیں سمجھتے تھے ، وہ بادشاہِ عالم پناہ کی پیشانی کے ایک قطرے کی بجائے اپنے جسم کا خون بہا دینے کے لئے تیار تھے۔ اس کے آگے فرطِ عقیدت سے ان کا سر جھکا ہوا تھا۔ وہ اس کی نگاہِ فیض اثر کے ملتجی تھے اور اسے سایہ خدا قرار دیتے تھے۔

الغرض اس قسم کی وفادار قوم اور خوشامدی لیڈروں کے ہوتے ہوئے انگریز کو کسی اور چال کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

جہاں تک جہاد کی صورت میں مزاحمت کا تعلق ہے تو انگریز تو ۱۸۵۷ء کے غدر میں باغی مسلمانوں کو پوری طرح شکست دے چکا تھا۔ اس کی راہ میں تو مزاحمت کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ ویسے بھی مکّہ مکرّمہ کے مفتیوں سے لے کر برصغیر کے چھوٹے چھوٹے علماء تک جہاد کے حرام ہونے اور اس کی دل وجان سے اطاعت کے شرعی فتوے دے چکے تھے۔ اس صورتحال میں اسے کسی ایسی کارروائی کی ضرورت نہیں تھی جو راشد علی کے شیطان نے یا اس کے آقاؤں نے اختراع کی ہے۔

علاوہ ازیں ایک ادنیٰ عقل کا انسان بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ اگر انگریز نے کسی کو کھڑا کرنا تھا تو کسی بڑے پیر اور گدّی نشین کو کھڑا کرتا جس کے لاکھوں مرید اس کے ہمنوا موجود ہوتے۔ یہ اس نے کیا کیا کہ ایسے شخص کو کھڑا کیا جو نہ ڈگری یافتہ ، نہ کسی بڑے اورمرکزی شہر میں آباد عوام سے رابطہ رکھ سکے۔ ایک غیر مشہور اور زاویہ خمول میں مستور شخص سے دعویٰ نبوّت کرایا اور اس سے وفاتِ مسیح کا اعلان کر اکے مسیحِ موعود ہونے کا مدّعی بنایا جسے اکثریت قبول کرنے کو تیار ہی نہیں تھی ۔آخرانگریز مدبّرین راشد علی جیسے بیوقوف تو نہیں تھے کہ ان کے منصوبے ایسے غیر معقول ہوتے ؟ اگر تو ہندوستان کے مسلمان امّتی نبی پیدا ہونے کا عقیدہ رکھتے ، وفاتِ مسیح کے قائل اور امّت میں مثیلِ مسیح کے پیدا ہونے کے منتظر ہوتے تو پھر تو یہ سکیم شایدکامیاب بھی ہوتی اور قابلِ عذر بھی !

پس قطعی شواہد اور تاریخی دستاویزات سے یہ الم نشرح ہے کہ راشد علی اور اس کے ہم مشرب ایک نامعقول جعلی اور جھوٹی رپورٹ پر تکیہ کر کے اپنے مکذّب ہونے کا کھلا کھلا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔ان کا یہ جھوٹ تو بہت ہی کھل چکا ہے اس لئے اب انہیں چاہئے کہ کوئی اور جھوٹی رپورٹ اختراع کریں۔