In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » اعتراضات، وساوس کا جواب » حضرت مسیح موعود ؑ پر اعتراضات » حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور انگریز »

سرکاری خدمات یا وضع حرب

راشد علی کی تعلّی ملاحظہ فرمائیں ۔ وہ اپنی ’’بے لگام کتاب‘‘ میں لکھتا ہے ۔

’’سرکاری خدمات :۔

غرضیکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ذہنی بیماری ، افیون اور شراب کے زیر اثر اپنے مالکوں کے لئے وہ خدمات انجام دیں جو امّتِ مسلمہ کے غدّاروں میں سے آج تک کسی نے انجام نہیں دیں ۔ مرزا صاحب کو خود بھی اپنی اس کارگزاری پر بہت ناز تھا۔‘‘

اپنی اس یاوہ گوئی کے ثبوت کے طور پر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ تحریر پیش کرتا ہے ۔

’’ (میری کتابوں کا ) نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ دئیے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا ۔۔۔ ‘‘(ستارہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۵صفحہ ۱۱۴)‘‘

چونکہ جہاد کا مسئلہ ایک وسیع مضمون ہے اس لئے یہاں بھی راشد علی کی یاوہ گوئی کے جواب میں اس پر تفصیلی روشنی ہی ڈالنی ضروری ہے اور کھول کر بتانا ضروری ہے کہ جہاد کے تو مختلف پہلو ہیں مثلاً تلوار کا جہاد ہے ، وقت کی قربانی پیش کرنے کا جہاد ہے ، تبلیغ اسلام کا جہاد ہے اور نفس کا جہاد ہے وغیرہ وغیرہ ۔ بہر حال دیکھنا یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کس جہاد کو منسوخ قرار دیا ؟ نیز یہ کہ کیا اسلامی جہاد کے تصور کو منسوخ کہا یا لوگوں کے بگڑے ہوئے تصوّرِ جہاد کو حرام قرار دیا ؟ تو آئیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی زبان سے اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں ۔ لیکن قبل اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اقتباس پیش کیا جائے یہ بتانا ضروری ہے کہ اس اقتباس میں جس پادری کا ذکر ہے اس کا پس منظر کیا ہے ؟

اس* (یہ مفصّل مضمون امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمدؒ کے خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۵ فروری ۱۹۸۵ء سے ماخوذ ہے۔) کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں پادری خصوصاً وہ جو مسلمانوں سے مرتد ہوئے تھے اسلام پر شدید حملے کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اسلام تلوار کے جہاد کی تلقین کرتا ہے اور ادھر انگریزی حکومت کو انگیخت کر رہے تھے کہ مسلمانوں کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دو۔ ان میں اٹھنے کی طاقت سلب کر لو ۔ یہ وہ دور تھا جبکہ عیسائی پادری بڑھ بڑھ کر انگریزوں کو مسلمانوں کے عقیدہ جہاد کی وجہ سے بھڑکاتے تھے۔ یہ پادریوں کا ظالمانہ حملہ تھا اور ان کی اسلام دشمنی کا ثبوت تھا ۔ وہ چاہتے تھے کہ اس بہانے سے مسلمانوں کو ہندوستان میں کچل دیا جائے اور ہندو طاقت کی سرپرستی کی جائے اور اسے ابھارا جائے جبکہ ہندوؤں کا بھی یہی طریق تھا کہ وہ بار بار انگریز حکام کو مخاطب کر کے توجہ دلاتے تھے کہ اصل خطرہ تمہیں مسلمانوں سے ہے اس لئے ان مرے مٹوں کو اور بھی بالکل مٹا دو ، برباد کر دو ، اٹھنے کی طاقت کا خیال ہی ان کے دل سے نکال دو ۔ پادری عماد الدین سابق واعظ وخطیب جامع مسجد آگرہ جس کا پہلے بھی ذکر آچکا ہے اس کے ایسے ہی الزامات کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔

’’ اس نکتہ چین نے جو جہاد اسلام کا ذکر کیا ہے اور گمان کرتا ہے کہ قرآن بغیر لحاظ کسی شرط کے جہاد پر برانگیختہ کرتا ہے سو ا س سے بڑھ کر اور کوئی جھوٹ اور افتراء نہیں ۔اگر کوئی سوچنے والا ہو ۔ سو جاننا چاہئے کہ قرآن شریف یوں ہی لڑانے کے لئے حکم نہیں فرماتا بلکہ صرف ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کا حکم فرماتا ہے جو خدا تعالیٰ کے بندوں کو اس پر ایمان لانے سے روکیں اور اس کے دین میں د اخل ہونے سےروکتے ہیں اور اس بات سے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر کار بند ہوں اور اس کی عبادت کریں اور وہ ان لوگوں سے لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو مسلمانوں سے بے وجہ لڑتے ہیں اور مومنون کو ان کے گھروں اور وطنوں سے نکالتے ہیں اور خلق اللہ کو جبراً اپنے دین میں داخل کرتے ہیں اور دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو مسلمان ہونے سے روکتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا غضب ہے اور مومنون پر واجب ہے کہ ان سے لڑیں اگر وہ باز نہ آویں۔ ‘‘(نور الحق حصہ اول ۔ترجمہ از عربی عبارت ۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۶۲ )

یعنی بنفسہ جہاد نہیں،جہاد کے غلط تصوّرات اسلام کے لئے خطرناک تھے۔

یہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ’’ تنسیخ جہاد ‘‘ اب اور سنئے ! کس چیز کو حرام قرار دیا ، کس چیز کے خلاف آپ نے جہاد کا علم بلند کیا ۔ سو واضح ہو کہ بعض جاہل علماء اور پادریوں کے غلط تصورات تھے جن کے خلاف آپ ؑ نے آواز بلند کی ہے ۔ ان علماء کے غلط تصوّرات کے نتیجہ میں اسلام کو تو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچنا تھا کیونکہ ان میں لڑنے کی کوئی طاقت ہی نہیں تھی ہاں نقصان کے بہت سے اندیشے اور خطرات تھے جو اُن کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے تھے ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔

’’ سبحان اللہ! وہ لوگ کیسے راست باز اور نبیوں کی روح اپنے اندر رکھتے تھے کہ جب خدا نے مکہ میں ان کو یہ حکم دیا کہ بدی کا مقابلہ مت کرو اگرچہ ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ۔ پس وہ اس حکم کو پا کر شِیر خوار بچوں کی طرح عاجز اور کمزور بن گئے گویا نہ ان کے ہاتھوں میں زور ہے نہ ان کے بازوؤں میں طاقت۔ بعض ان میں سے اس طور سے بھی قتل کئے گئے کہ دو اونٹوں کو ایک جگہ کھڑا کر کے ان کی ٹانگیں مضبوط طور پر ان اونٹوں سے باندھ دی گئیں اور پھر اونٹوں کو مخالف سمت میں دوڑایا گیا ۔ پس وہ اک دم میں ایسے چر گئے جیسے گاجر یا مولی چیری جاتی ہی۔ مگر افسوس کہ مسلمانوں اور خاص کر مولویوں نے ان تمام واقعات کو نظر انداز کر دیا ہے اور اب وہ خیال کرتے ہیں کہ گویا تمام دنیا ان کا شکار ہے اور جس طرح ایک شکاری ایک ہرن کا کسی بن میں پتہ لگا کر چھپ چھپ کر اس کی طرف جاتا ہے اور آخر موقع پا کر بندوق کا فائر کرتا ہے یہی حالات اکثر مولویوں کے ہیں ۔ انہوں نے انسانی ہمدردی کے سبق میں سے کبھی ایک حرف بھی نہیں پڑھا بلکہ ان کے نزدیک خواہ مخواہ ایک غافل انسان پر پستول یا بندوق چلا دینا اسلام سمجھا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ لوگ کہاں ہیں جو صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرح ماریں کھائیں اور صبر کریں۔ کیا خدا نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ بغیر ثبوت کسی جرم کے ایسے انسان کو کہ نہ ہم اسے جانتے ہیں اور نہ وہ ہمیں جانتا ہے غافل پاکر چھری سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں یا بندوق سے اس کا کام تمام کریں ۔ کیا ایسا دین خدا کی طرف سے ہو سکتا ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ یونہی بے گناہ ، بے جرم ، بے تبلیغ خدا کے بندوں کو قتل کرتے جاؤ ، اس سے تم بہشت میں داخل ہو جاؤ گے ۔ افسوس کا مقام ہے اور شرم کی جگہ ہے کہ ایک شخص جس سے ہماری کچھ سابق دشمنی بھی نہیں بلکہ روشناسی بھی نہیں وہ کسی دوکان پر اپنے بچوں کے لئے کوئی چیز خرید رہا ہے یا اپنے کسی اور جائز کام میں مشغول ہے اور ہم نے بے وجہ بے تعلق اس پر پستول چلا کر ایک دم میں اس کی بیوی کو بیوہ اور اس کے بچوں کو یتیم اور اس کے گھر کو ماتم کدہ بنا دیا ۔یہ طریق کس حدیث میں لکھا ہے یا کس آیت میں مرقوم ہے ؟ کوئی مولوی ہے جو اس کا جواب دے ؟ نادانوں نے جہاد کا نام سن لیا ہے اور پھر اس بہانہ سے اپنی نفسانی اغراض کو پورا کرنا چاہا ہے۔ ‘‘ (گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۱۲ ، ۱۳)

جہاد بالسیف کی شرائط مفقود ہیں

پس یہ وہ جہاد کا تصوّر ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے حرام قرار دیا ہے علماء میں سے آج کون ہے جو اس کو آج بھی حلال کہہ سکتا ہے۔ اس لئے جھوٹے الزام لگا رہے ہیں ۔ جس چیز کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حرام کیا ہے وہ مخالفین کے اپنے تصورات تھے ۔ لیکن ان کے یہ تصورات اب ظاہر ہو رہے ہیں اس وقت وہ خفیہ باتیں کیا کرتے تھے اور جہاں تک انگریزی حکومت کا تعلق ہے اس کو مخاطب کر کے جہاد کا وہی تصور بتاتے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے، اس مضمون کے متعلق ابھی چند اقتباس آگے پیش کئے جائیں گے تب آپ اندازہ کر سکیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کیسے کیسے مخالفین سے واسطہ پڑا تھا۔ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو یونہی تو نہیں چنا کرتا اور ان سے پیار کیا کرتا بلکہ وہ انہیں نہایت ہی دکھوں اور مصیبتوں کے ابتلاء میں ڈالتا ہے، انہیں نہایت ہی ظالموں کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے اور وہ صبر سے کام لیتے ہیں تب خدا کے حضور مقدس اور پاکیزہ گنے جاتے ہیں اور ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جو خدا کو پیارے ہوا کرتے ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :۔

’’ فرفعت ھٰذہ السنّۃ برفع اسبابھا فی ھٰذہ الا یّام ‘‘

کہ تلوار کے ساتھ جہاد کے شرائط پائے نہ جانے کے باعث موجودہ ایام میں تلوار کا جہاد نہیں رہا۔پھر فرمایا :۔

’’ واُمرنا ان نعدّ للکافرین کما یعدّون لنا ولا نرفع الحسام قبل ان نقتل بالحسام ‘‘

اور ہمیں یہی حکم ہے کہ ہم کافروں کے مقابل میں اس قسم کی تیاری کریں جیسی وہ ہمارے مقابلہ کے لئے کرتے ہیں یا یہ کہ ہم کافروں سے ایسا ہی سلوک کریں جیسا وہ ہم سے کرتے ہیں اور جب تک وہ ہم پر تلوار نہ اٹھائیں اس وقت تک ہم بھی ان پر تلوار نہ اٹھائیں۔ ‘‘ (حقیقۃ المہدی ۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۴۵۴)

پھر فرماتے ہیں :۔

’’ اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور اس زمانہ میں جہاد یہی ہے کہ اعلاء کلمہ اسلام میں کوشش کریں ۔‘‘ (مکتوب بنام حضرت میر ناصر نوابؓ ۔مندرجہ پیش لفظ صفحہ ۱۷۔روحانی خزائن جلد ۱۷)

پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صرف جہاد کا وہ تصوّر منسوخ فرمایا ہے جو علماء نے اپنی طرف سے گھڑ لیا تھا۔ جب تک شرائط جہاد پوری نہ ہوں اس وقت تک جہاد کرنا منع ہے اور وہ بھی جہاد کا صرف ایک حصہ ہے جو شرط پوری نہ ہونے کی وجہ سے منع ہے۔

اعلائے کلمہ اسلام کا میدان کھلا ہے

جہاں تک جہاد کے وسیع تر مضمون کا تعلق ہے جہاد فی ذاتہ تو کبھی منسوخ ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ ہر حال میں لازما ہمیشہ جاری رہے گا اور اس کی کوئی نہ کوئی صورت ضرور ایسی ہو گی جسے مومن سر انجام دے سکتا ہے۔ چنانچہ آپ ؑ مزید فرماتے ہیں :۔

’’اعلاء کلمہ اسلام میں کوشش کریں ، مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں ، دین ِ متین اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلائیں۔ آنحضرت ﷺ کی سچائی دنیا پر ظاہر کریں ۔ یہی جہاد ہے جب تک کہ خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کرے۔‘‘ (مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بنام حضرت میر ناصر نوابؓ ۔حوالہ مذکورہ بالا)

یعنی جہاد کی یہ صورت ہمیشہ کے لئے نہیں ۔’’دوسری صورت ‘‘سے مراد یہ ہے کہ جب دشمن ِ اسلام مذہب کے خلاف جبر سے کام لے گا تو تمہیں بھی اجازت ہو جائے گی لیکن جب تک ایسی صورت ظاہر نہیں ہوتی اس وقت تک جہاد کی دوسری شکلیں ہیں جو تمہارے سامنے ہیں ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔

’’اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے (ہر جہاد کا نہیں ۔ وہ کیوں ؟ اس کی وضاحت پہلے فرما چکے ہیں ۔ ناقل ) مگر اپنے نفسوں کے پاک کرنے کا جہاد باقی ہے۔ یہ بات میں نے اپنی طرف سے نہیں کی بلکہ خدا کا یہی ارادہ ہے ۔ صحیح بخاری کی اس حدیث کو سوچو جہاں مسیح موعود کی تعریف میں لکھا ہے کہ یضع الحرب یعنی مسیح جب آئے گا تو دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا۔ ‘‘ ( گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۱۵ )

جہاد کے بارہ میں قرآنی تعلیم سے ہٹے ہوئے تصوّرات

پس یہ تو آنحضرت ﷺ کا ہی ارشاد ہے ۔ پھر آپ ؑ ’’ تحفہ قیصریہ ‘‘ کے صفحہ ۱۰پر تحریر فرماتے ہیں :۔

’’ اور دوسرا اصول جس پر مجھے قائم کیا گیا ہے وہ جہاد کے اس غلط مسئلہ کی اصلاح ہے جو بعض نادان مسلمانون میں مشہور ہے۔ سو مجھے خدا تعالیٰ نے سمجھا دیا ہے کہ جن طریقوں کو آجکل جہاد سمجھا جاتا ہے وہ قرآنی تعلیم سے بالکل مخالف ہیں۔ بیشک قرآن شریف میں لڑائیوں کا حکم ہوا تھا جو موسیٰ کی لڑائیوں سے زیادہ معقول اور یشوع بن نون کی لڑائیوں سے زیادہ پسندیدگی اپنے اندر رکھتا تھا اور اس کی بناء صرف اس بات پر تھی کہ جنہوں نے مسلمانوں کے قتل کرنے کے لئے ناحق تلواریں اٹھائیں اور ناحق کے خون کئے اور ظلم کو انتہاء تک پہنچایا ان کو تلواروں سے ہی قتل کیا جائے۔‘‘ (تحفہ قیصریہ ۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۲۶۲)

یہ ہے خلاصہ اس قرآنی تعلیم کا جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں ملتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔

اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا‌ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَـصْرِهِمْ لَـقَدِيْرُۙ‏ ۔ ۨالَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ يَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ‌ؕ (الحج :۴۰ ، ۴۱)

ترجمہ :۔ وہ لوگ جن سے (بلاوجہ) جنگ کی جا رہی ہے ان کو بھی (جنگ کرنے کی) اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور اللہ ان کی مدد پر قادر ہے (یہ وہ لوگ ہیں ) جن کو ان کے گھروں سے صرف ان کے اتنا کہنے پر کہ اللہ ہمارا رب ہے بغیر کسی جائز وجہ کے نکالا گیا۔

کوئی عالمِ دین ہے ؟ جو ان باتوں میں سے آج بھی کوئی غلط ثابت کر کے دکھائے اور بتائے کہ کہاں اعتراض کی گنجائش ہے محض ایک فرضی اور جھوٹی بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف دیدہ دانستہ منسوب کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے خود آپ کی کتابوں کو پڑھا ہوا ہے مگر پھر بھی یہ سارے پہلو چھپاتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو انگریزوں نے جہاد کی تنسیخ کے لئے کھڑا کیا تھا اور اگر آپ کھڑے نہ ہوتے تو انگریز مارا جاتا اور مسلمانوں نے سلطنت انگریزی کو تباہ کر کے رکھ دینا تھا اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ان سے جہاد کرنا منع نہ فرماتے ۔

انگریزوں سے لڑنے والے مفسد اور باغی

اب ان کے بڑوں کا حال سنیئے ۔ جو آج بڑھ بڑھ کر یہ الزام لگا رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اس وقت یہی باتیں مسلمانوں میں خفیہ طور پر پھیلایا کرتے تھے ۔۔۔ جہاں تک دنیا کے سامنے باتوں کا تعلق ہے وہ کچھ اور کہا کرتے تھے لیکن انگریزی حکومت کو اپنے عقائد سے بالکل مختلف زبان میں آگاہ کرتے تھے ، ان کے سامنے ان کے عقائد بالکل کچھ اور نظر آتے تھے۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سب سے بڑے دشمن اور جہاد کے معاملہ میں معترض تھے لکھتے ہیں:۔

’’ مفسدہ ۱۸۵۷ء میں جو مسلمان شریک ہوئے تھے وہ سخت گناہ گار اور بحکم قرآن وحدیث وہ مفسد باغی بدکردار تھے۔ ‘‘

پھر فرماتے ہیں :۔

’’ اس گورنمنٹ سے لڑنا یا ان سے لڑنے والوں کی (خواہ ان کے بھائی مسلمان کیوں نہ ہوں) کسی نوع سے مدد کرنا صریح غدر اور حرام ہے۔ ‘‘ (اشاعۃ السنّۃ۔ جلد ۹نمبر ۱۰صفحہ ۴۹ )

پھراپنی کتاب ’’ اقتصاد فی مسائل الجہاد ‘‘ کے صفحہ ۲۵پر رقم طراز ہیں :۔

’’ اس مسئلہ اور اس کے دلائل سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ملک ہندوستان باوجودیکہ عیسائی سلطنت کے قبضہ میں ہے دارالاسلام ہے اس پر کسی بادشاہ کو عرب کا ہو خواہ عجم کا مہدی سوڈانی ہو یا حضرت سلطان شاہ ایرانی خواہ امیر خراسان ہو مذہبی لڑائی وچڑھائی کرنا ہرگز جائز نہیں ۔‘‘

یعنی ملک کے اندر جو بستے ہیں ان پر تو بادشاہ وقت کی اطاعت کرنا اور حکومت وقت کی بات ماننا فرض ہے ہی لیکن مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یہ فتویٰ دوسرے ممالک کے لئے بھی دے رہے ہیں کہ تم جو انگریزی حکومت سے باہر بس رہے ہو تم بھی اگر انگریزی حکومت سے لڑو گے تو یہ تمہارے لئے بھی حرامہے۔

پھر فرماتے ہیں :۔

’’ اہل اسلام کو ہندوستان کے لئے گورنمنٹ انگریزی کی مخالفت وبغاوت حرام ہے۔ ‘‘ (اشاعۃ السنۃ جلد۶نمبر۱۰ صفحہ ۳۸۷)

’’ اس زمانہ میں بھی شرعی جہاد کی کوئی صورت نہیں ہے کیونکہ اس وقت نہ کوئی مسلمانوں کا امام موصوف بصفات وشرائط امامت موجود ہے اور نہ ان کو ایسی شوکت جمعیت حاصل ہے جس سے وہ اپنے مخالفوں پر فتح یاب ہونے کی امید کر سکیں۔ ‘‘ (الاقتصاد فی مسائل الجہاد صفحہ۷۲)

سرسید احمد خان صاحب نے ۱۸۵۷ء کے غدر میں جو لوگ شریک ہوئے ان کے متعلق فرمایا کہ :۔

’’ البتہ چند بد ذاتوں نے دنیا کی طمع اور اپنی منفعت اور اپنے خیالات پورا کرنے اور جاہلوں کے بہکانے کو اور اپنے ساتھ جمعیت جمع کرنے کو جہاد کا نام لے دیا۔ پھر یہ بات مفسدوں کی حرام زدگیوں میں سے ایک حرامزدگی تھی نہ واقع جہاد۔ ‘‘ (رسالہ بغاوتِ ہند ۔مؤلفہ سرسید احمد خان صفحہ ۱۰۴)

اعلیٰ حضرت سید احمد رضا خان صاحب بریلوی امام اہل ِ سنّت بریلوی فرقہ فرماتے ہیں

’’ ہندوستان دارالاسلام ہے اسے دارالحرب کہنا ہرگز صحیح نہیں۔ ‘‘(نصرت الابرار ۔صفحہ۲۹مطبوعہ لاہور)

انگریزوں کے خلاف جہاد نہ کرنے کا شرعی عذر

حضرت سیّد احمد صاحب بریلوی شہید جنہوں نے جہاد کیا اور جہاد کے لئے آپ سرحد کی طرف روانہ ہوئے اور سکھوں سے بھی لڑائی کی وہ ایک مقدس دل ضرور تھا جس میں مسلمانوں کی غیرت موجزن تھی لیکن جہاں تک انگریزی حکومت کا تعلق ہے اس کے متعلق وہ کیا سمجھتے تھے اس بارہ میں آپ کے سوانح نگار محمد جعفر تھانیسری کی زبانی سنئے۔ وہ ’’ سوانح احمدی کلاں ‘‘ کے صفحہ ۷۱ پر لکھتے ہیں :۔

’’ کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ آپ اتنی دور سکھوں پر جہاد کرنے کیوں جاتے ہو ؟ انگریز جو اس ملک پر حاکم ہیں اور دین اسلام سے کیا منکر نہیں ہیں۔ گھر کے گھر میں ان سے جہاد کر کے ملک ہندوستان کو لے لو۔ آپ نے فرمایا ۔۔۔ سرکار انگریزی گو منکر اسلام ہے مگر مسلمانوں پر کچھ ظلم اور تعدی نہیں کرتی ۔۔۔ اور نہ ان کو فرض مذہبی اور عبادت لازمی سے روکتی ہے ہم ان کے ملک میں اعلانیہ وعظ کہتے ہیں اور ترویج مذہب کرتے ہیں وہ کبھی مانع اور مزاحم نہیں ہوتی۔۔۔ ہمارا اصل کام اشاعت توحیدِ الٰہی ہے ۔ اور احیاءِ سنن سیّد المرسلینؐ ہے ۔سو ہم بلا روک ٹوک اس ملک میں کرتے ہیں ۔ پھر ہم سرکار انگریزی پر کس سبب سے جہاد کریں اور خلاف اصول طرفین کا خون بلاسبب گراویں یہ جواب باصواب سن کر سائل خاموش ہو گیا اور اصل غرض جہاد کی سمجھ لی۔ ‘‘

لیکن ان علماء کو جو آج احمدیت کے خلاف بول رہے ہیں ان کو آج تک سمجھ نہیں آئی۔

علامہ شبلی نعمانی فرماتے ہیں :۔

’’ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ زرّیں سے لے کر آج تک مسلمانوں کا ہمیشہ یہ شعار رہا کہ وہ جس حکومت کے زیر سایہ رہے اس کے وفادار اور اطاعت گزار رہے یہ صرف ان کا طرز عمل نہ تھا بلکہ ان کے مذہب کی تعلیم تھی جو قرآن مجید ، حدیث ، فقہ سب میں کنایۃً اور صراحتاً مذکور ہے۔ ‘‘ (مقالاتِ شبلی ۔جلد اول صفحہ۱۷۱مطبع معارف اعظم گڑھ ۱۹۵۴ء)

خواجہ حسن نظامی صاحب فرماتے ہیں :۔

’’ جہاد کا مسئلہ ہمارے ہاں بچے بچے کو معلوم ہے۔ ‘‘

(یعنی جب تک انگریزی حکومت تھی اس وقت بچے بچے کو وہی مسئلہ معلوم تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے۔ لیکن جس دن سے وہ حکومت گئی اس دن سے سارا مسئلہ ہی بدل گیا ہے اور اب ہر بچے کو کچھ اور ہی بتایا جا رہا ہے کہ ہمارے ماں باپ یہ کہا کرتے تھے ۔ تو بچے بچے کو کیا معلوم تھا ؟)

خواجہ صاحب فرماتے ہیں :۔

’’ وہ جانتے ہیں کہ جب کفّار مذہبی امور میں حارج ہوں اور امام عادل جس کے پاس حرب وضرب کا پورا سامان ہو لڑائی کا فتویٰ دے تو جنگ ہر مسلمان پر لازم ہو جاتی ہے ۔ مگر انگریز نہ ہمارے مذہبی امور میں دخل دیتے ہیں اور نہ اور کسی کام میں ایسی زیادتی کرتے ہیں جس کو ظلم سے تعبیر کر سکیں، نہ ہمارے پاس سامان حرب ہے، ایسی صورت میں ہم ہرگز ہرگز کسی کا کہنا نہ مانیں گے اور اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالیں گے۔ ‘‘(رسالہ ۔شیخ سنوسی ۔صفحہ ۱۷مؤلفہ خواجہ حسن نظامی )

مسلمان اکابرین انگریزوں کی وفاداری کا دم بھرتے تھے

اس حوالہ کو راشد علی اور اس کا پیر ذرا غور سے پڑھیں تا کہ انہیں اپنے جھوٹ کی حقیقت معلوم ہو سکے کہ احمدیت کے دورِ حاضر کے معاندین میں سے بھی بعض یہی بات تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ۔ چنانچہ ملک محمد جعفر صاحب ایڈووکیٹ نے ’’ احمدیہ تحریک ‘‘ کے نام پر جماعت احمدیہ کے خلاف ایک کتاب لکھی تھی اس میں وہ فرماتے ہیں :۔

’’ مرزا صاحب کے زمانہ میں ان کے مشہور مقتدر مخالفین مثلا مولوی محمد حسین بٹالوی ، پیر مہر علی شاہ گولڑوی ، مولوی ثناء اللہ صاحب اور سر سید احمد خان سب انگریزوں کے ایسے ہی وفادار تھے جیسے مرزا صاحب ۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ میں جو لٹریچر مرزا صاحب کے ردّ میں لکھا گیا اس میں اس ا مر کا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ مرزا صاحب نے اپنی تعلیمات میں غلامی پر رضامند رہنے کی تلقین کی ہے۔ ‘‘ (احمدیہ تحریک ۔صفحہ ۲۴۳شائع کردہ سندھ ساگر اکیڈمی لاہور)

پس بعض مخالفین نے بھی یہ تسلیم کر لیا ہے کہ مسلمان علماء پر دو دور آئے ہیں ایک وہ جو انگریزی حکومت کا دور تھا اور ایک بعد کا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں وہ کچھ اور مسئلے پیش کیا کرتے تھے یعنی سارے علماء جہاد سے متعلق وہی مسائل پیش کرتے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرما رہے تھے مگر آج ان کے مسائل بالکل بدل چکے ہیں مشرق سے مغرب کی طرف رخ کر بیٹھے ہیں۔

ہندوستان کے دارالاسلام ہونے کے متعلق فتوے

راشد علی ، آغا شورش کاشمیری کو مشہور مؤرّخ قرار دیتا ہے اور ان کی اندھی تقلید بھی کرتا ہے۔

چنانچہ آغا شورش کاشمیری صاحب جو احمدیوں کے شدید معاندین میں سے تھے کتاب ’’ سید عطا اللہ شاہ بخاری ‘‘ صفحہ ۱۴۱ پر یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے کہ :

’’ جمال دین ابن عبداللہ شیخ عمر حنفی مفتی مکّہ معظمہ ، احمد بن ذہنی شافعی مفتی مکّہ معظمہ اور حسین بن ابراہیم مالکی مفتی مکّہ سے بھی فتاویٰ حاصل کئے گئے جن میں ہندوستان کے دارالاسلام ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ‘‘

اب کون سی بات باقی رہ گئی ہے کہ جس کی بناء پر راشد علی احمدیت پر حملہ کر سکے۔

مولوی مودودی جنہوں نے کتاب ’’حقیقت جہاد ‘‘ لکھی اور اپنی بعض اور کتب میں بھی جہاد کے متعلق ایسی تعلیم دی جس کا کوئی ہوش وحواس والا مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتا کہ آنحضرت ﷺ کے جہاد کے متعلق ایسے ظالمانہ خیالات کا اظہار ہو سکتا ہے۔ جہاد سے متعلق سب سے متشدّد نظریہ رکھنے والے مولوی مودودی صاحب ہیں ۔۔۔ جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ کے ہندوستان کا تعلق ہے مولوی مودودی صاحب اپنی کتاب ’’ سو د۔ حصہ اول ‘‘ میں اس کے متعلق فرماتے ہیں :۔

’’ ہندوستان اس وقت بلاشبہ دارالحرب تھا۔ ‘‘

دارالاسلام نہیں کہہ رہے ۔ کس وقت دارالحرب تھا ؟

’’ جب انگریزی حکومت یہاں اسلامی سلطنت کو مٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ‘‘

(بعینہ یہی تعلیم جماعت احمدیہ کی ہے کہ جب کوئی غیر پہلے حملہ کرتا ہے تو اس سے لڑو ، اپنی عزتوں کی حفاظت کر و ، اپنے مال کی حفاظت کرو ، اپنے دین کی حفاظت کرو اور ایک ایک بچہ بھی کٹ کر مر جائے تو تم نے ہھتیار نہیں ڈالنے ، اس وقت دارالحرب ہوتا ہے اس وقت ہر قسم کا دفاع جہادِ اسلام کہلا سکتا ہے ۔چنانچہ مولوی مودودی صاحب بھی یہی بات کہتے ہیں ۔)

’’ اس وقت مسلمانوں پر فرض تھا کہ یا تو اسلامی سلطنت کی حفاظت میں جانیں لڑاتے یا اس میں ناکام ہونے کے بعد یہاں سے ہجرت کر جاتے لیکن جب وہ مغلوب ہو گئے اور انگریزی حکومت قائم ہو چکی اور مسلمانوں نے اپنے پرسنل لاء پر عمل کرنے کی آزادی کے ساتھ یہاں رہنا قبول کر لیا تو اب یہ ملک دارالحرب نہیں رہا۔ ‘‘(سود حصہ اول صفحہ ۷۷ ، ۷۸حاشیہ شائع کردہ مکتبہ جماعت اسلامی لاہور)

دعوت الی اللہ بھی جہاد میں شامل ہے

جلالۃ الملک شاہ فیصل نے ۱۳۸۵ ہجری حج کے موقع پر رابطہ العالم الاسلامی مکہ مکرمہ کے اجتماع میں فرمایا :۔

’’ اے معزز بھائیو ! تم سب کو جہاد فی سبیل اللہ کا علم بلند کرنے کے لئے بلایا گیا ہے ۔ جہاد صرف بندوق اٹھانے یا تلوار لہرانے کا نام نہیں بلکہ جہاد تو اللہ کی کتاب اور رسول مقبول ؐ کی سنت کی طرف دعوت دینے، ان پر عمل پیرا ہونے اور ہر قسم کی مشکلات ، دقّتوں اور تکالیف کے باوجود استقلال سے اس پر قائم رہنے کا نام ہے۔ ‘‘ (رسالہ امّ القریٰ ۔مکہ معظمہ ۲۴ اپریل ۱۹۶۵ء)

پر امن حکومت میں تخریب کاری منع ہے

پھر فرماتے ہیں :۔

’’ ان (غیر مسلم حکومتوں میں رہنے والے مسلمانوں ) پر جو خدمت دین اور اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اتباع واجب ہے انہیں اسے ادا کرنا چاہئے ہم ان بھائیوں کو ہرگز یہ نہیں کہتے کہ اپنی حکومت کے نظام کے خلاف کھڑے ہو جائیں اور بغاوت کریں ۔ ہاں انہیں باہمی طور پر اپنے عقائد اور نیتوں کی حد تک اللہ تعالیٰ کی کتاب اور سنت نبوی ؐ کو حکم ٹھہرانا چاہئے نیز جو حکومتیں انہیں امن دیتی ہیں انہیں ان سے صلح سے رہنا چاہئے وہ اپنے ممالک میں نظام کو توڑنے والے یا تخریبی عنصر ہرگز نہ بنیں۔ ‘‘(رسالہ ام القریٰ ۔مکہ معظمہ ۲۴ اپریل ۱۹۶۵ء)

احمدیّت دوغلے پن اور دورنگی سے مبرّا ہے

پس وہ علماء کہاں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جہاد کا منکر اور منسوخ کرنے والے اور نعوذ باللہ من ذالک انگریزوں کے خوشامدی اور ان کی خاطر ایک فساد کھڑا کرنے والے بتاتے ہیں۔ جو باتیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائیں وہ ساری باتیں آپ ؑ کے زمانہ کے علماء اس وقت کہہ رہے تھے ۔

آپ ؑ جو بات دوسروں سے کہتے تھے وہی بات اپنوں سے بھی کہتے تھے اور جو انگریزوں سے کہتے تھے وہی اپنی جماعت کو بھی مخاطب کر کے کہتے تھے۔ آپ کی ذات یا جماعت میں کوئی دوغلا پن یا کوئی دو رنگی نہیں تھی، اور جس جہاد کا اعلان کرتے تھے اس پر قائم بھی تھے اور جہاد کے اس تصور پر صرف زبانی جمع خرچ نہیں تھا بلکہ آپ ؑ نے اپنی ساری زندگی، اپنا سارا وجود اس جہاد کی پیروی میں خرچ کیا اور تمام جماعت کو بھی اسی کی تلقین فرمائی ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ملکہ وکٹوریہ کی تعریف اور اسے رحمت کا سایہ قرار دینے کا جو علماء الزام لگاتے ہیں ۔ کون ہے ان علماء میں سے جن کے نام اوپر درج کئے گئے ہیں یا کوئی اور مخالف عالم جس نے ملکہ وکٹوریہ کو اسلام کا پیغام پہنچایا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بڑی جرات کے ساتھ عیسائیت پر کھلی تنقید کرتے ہوئے اور اسے ایک جھوٹا اور ایک مردہ مذہب قرار دیتے ہوئے اس وقت کی ملکہ کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ جس ملکہ کی حکومت پر سورج غروب نہیں ہوا کرتا تھا۔ ایک طرف اس کے انصاف کی تعریف فرمائی تو دوسری طرف اسے کھلم کھلا اسلام کی طرف آنے کی دعوت دی۔

مسیح موعود ؑ نے عیسائیوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا

اب دیکھئے دیگر علماء کا کیا کردار تھا وہ ہندوستان کو دارالاسلام قرار دیتے تھے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عارف باللہ نگاہ نے اسے دارالاسلام کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ دارالحرب سمجھا کیونکہ آپ جہاد کا حقیقی عرفان رکھتے تھے، آپ ؑ جانتے تھے کہ جہاد کس کو کہتے ہیں کیونکہ جہاں جہاد فرض ہے وہ دارالاسلام نہیں ہو سکتا وہ تو دارالحرب ہے لیکن کن معنوں میں ؟ اس کی آپ ؑ خود تشریح فرماتے ہیں :۔

’’یہ مقام دارالحرب ہے پادریوں کے مقابلہ میں ۔ اس لئے ہم کو چاہئے کہ ہرگز بیکار نہ بیٹھیں۔ مگر یاد رکھو کہ ہماری حرب ان کے ہم رنگ ہو ۔ جس قسم کے ہتھیار لے کر میدان میں وہ آئے ہیں اسی طرز کے ہتھیار ہم کو لے کر نکلنا چاہئے اور وہ ہتھیار ہے قلم ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سلطان القلم اور میرے قلم کو ’’ ذوالفقار ‘‘ علی فرمایا ہے اس میں یہی سر ہے کہ یہ زمانہ جنگ وجدل کا نہیں بلکہ قلم کا زمانہ ہے۔ ‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۲۲۴)

پھر آپ ملکہ معظمہ وکٹوریہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔

’’ اے معزّز ملکہ مجھے تعجّب ہے کہ تو باوجود کمال فضل اور علم وفراست کے دین اسلام کی منکر ہے (کیا یہ خوشامدی کی زبان ہوا کرتی ہے اگر تم خوشامدی نہیں تھے تو تمہیں ایسے الفاظ کی توفیق کیوں نہ ملی۔ناقل) ۔۔۔ اور جس غور وفکر کی آنکھ سے سلطنت کے امور سرانجام دیتی ہے اس آنکھ سے اسلام کے بارے میں غور کیوں نہیں کرتی۔ سخت تاریکی کے بعد اب جب کہ آفتاب طلوع ہو چکا ہے تو کیا اب بھی تو نہیں دیکھتی ۔ تو جان لے (اللہ تیری مدد کرے) یقیناًدین اسلام ہی انوار کا مجموعہ ہے ، نہروں کا منبع اور پھلوں کا بستان ہے ۔ تمام ادیان اسی کا ایک حصہ ہیں۔ پس تو اس کی خوبصورتی کو دیکھ اور ان لوگوں میں سے ہو جا کہ جو اس سے بافراعت رزق دئیے جاتے ہیں اور اس کے باغات سے کھاتے ہیں ۔ یقیناًیہ دین ہی زندہ ہے ، برکات کا مجموعہ اور نشانات کا مظہر ہے جو پاکیزہ باتوں کا حکم دیتا ہے اور بدیوں سے روکتا ہے اور جو کوئی اس کے خلاف کہتا ہے یا نافرمانی کرتا ہے وہ نامراد رہتا ہے ۔ اے معزز ملکہ ! دنیاوی نعماء کے لحاظ سے خدا کا بہت بڑا فضل تجھ پر ہے۔ پس اب تو آخرت کی بادشاہت میں بھی دلچسپی پیدا کر اور توبہ کر اور اس خدائے واحد ویگانہ کی فرمانبرداری اختیار کر کہ نہ تو اس کا کوئی بیٹا ہے اور نہ ہی بادشاہت میں اس کا کوئی شریک ۔ پس تو اسی کی بڑائی بیان کر ۔ کیا تم اس کے علاوہ معبود بناتے ہو ان کو جو کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے اور وہ خود پیدا کئے گئے ہیں پس اگر تو کسی شک میں ہے تو آ ! میں اس کی سچائی کے نشانات دکھانے کو تیار ہوں وہ ہر حال میں میرے ساتھ ہے ۔ جب میں اسے پکارتا ہوں تو وہ میری پکار کا جواب دیتا ہے اور جب اسے بلاتا ہوں تو میری مدد کو پہنچتا ہے اور جب اس سے مدد کا طلبگار ہوتا ہوں تو میری نصرت فرماتا ہے ۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ ہر مقام پر میری مدد فرمائے گا اور مجھے ضائع نہیں کرے گا ۔ پس کیا تو جزا وسزا کے دن کے خوف سے میرے نشانات اور صدق وسداد کے ظہور کو دیکھنا پسند کرے گی۔ اے قیصرہ ! توبہ کر، توبہ کر اور سن تا کہ خدا تیرے مال میں اور ہر اس چیز میں جس کی تو مالک ہے برکت بخشے اور توان لوگوں میں سے ہو جائے جن پر خدا کی رحمت کی نظر ہوتی ہے۔‘‘ ( آئینہ کمالات اسلام ترجمہ از عربی عبارت ، روحانی خزائن جلد ۵صفحہ ۵۳۰ تا ۵۳۳ )

مسیح موعود ؑ کے جرات مندانہ اسلامی جہاد کا اعتراف

یہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کلام اور یہ ہے آپ ؑ کا تصوّرِ جہاد اور پھر اس پر عمل درآمد ۔ اس زمانہ کے کسی عالم دین کی ایک آواز بھی آپ کو نہیں ملے گی جس کو اتنی جرات ہو کہ ملکہ وکٹوریہ کو سوائے خوشامدی الفاظ کے خطاب کر سکے ۔ پس ’’ توبہ کر ‘‘ کے الفاظ تو اس زمانہ کی سلطنت کے لئے ایک بم کا درجہ رکھتے تھے ۔ یہ بہت عظیم الشان کلام ہے اور بڑے واضح الفاظ میں ملکہ وکٹوریہ کو اسلام کی دعوت دی ہے اور اس جھوٹے دین سے توبہ کرنے کی دعوت دی ہے اور اسلام کی طرف بلایا ہے اور یہی وہ جہاد کا جذبہ ہے ، یہی وہ روحِ جہاد ہے جس کو سمجھنے کے نتیجہ میں حضرت مسیحِ موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی جماعت کو ایک نہ ختم ہونے والے جہاد کے رستہ پر ڈال دیا ہے اور دن رات بلکہ ہمارا ہر لمحہ جہاد بن گیا ہے ۔ چنانچہ پاکستان کے ایک نامور مورخ شیخ محمد اکرم صاحب اس بات کو محسوس کرتے ہوئے اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :۔

’’ دنیا کے مسلمانوں میں سب سے پہلے احمدیوں ۔۔۔۔۔۔ نے اس حقیقت کو پایا کہ اگرچہ آج اسلام کے سیاسی زوال کا زمانہ ہے لیکن عیسائی حکومتوں میں تبلیغ کی اجازت کی وجہ سے مسلمانوں کو ایک ایسا موقع بھی حاصل ہے جو مذہب کی تاریخ میں نیا ہے اور جس سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ‘‘(موج کوثر ۔صفحہ ۱۸۶ ، ۱۸۷)

پھر فرماتے ہیں :۔

’’ عام مسلمان تو جہاد بالسیف کے عقیدے کا خیالی دم بھرتے،نہ عملی جہاد کرتے ہیں نہ تبلیغی جہاد لیکن احمدی ۔۔۔۔۔۔ دوسرے جہاد یعنی تبلیغ کو فریضہ مذہبی سمجھتے ہیں اور اس میں انہیں خاصی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ‘‘(موجِ کوثر ۔صفحہ ۱۷۹)

خاصی کامیابی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے عظیم الشان فتوحات نصیب ہو رہی ہیں لیکن راشد علی اور ان کے پیر اور ان پر مسلّط شیطان کے نصیب میں تو صرف احمدیت سے حسد کی آگ میں جل جل کر راکھ ہونا ہی رہ گیا ہے۔